نئی دہلی//سپریم کورٹ نے ریپبلک ٹی وی کے ایڈیٹر ان چیف ارنب گوسوامی کی عرضی پر پیر کو فیصلہ محفوظ رکھ لیا اور ان کے خلاف کسی بھی قسم کی تادیبی کارروائی نہ کرنے کا اپنا پچھلا حکم برقرار رکھا۔جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس ایم آر شاہ کی بینچ نے ارنب گوسوامی کی جانب سے پیش وکیل ہریش سالوے ،مرکزی حکومت کی جانب سے پیش سالیسیٹر جنرل تشار مہتا اور مہاراشٹر حکومت کی جانب سے سینئر وکیل کپِل سبل کی دلیلیں سننے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔
عدالت نے کہا کہ ارنب کو گزشتہ 24 اپریل کو گرفتاری سے ملی راحت فیصلہ آنے تک جاری رہے گی۔یہ راحت نئی عرضی پر بھی جاری رہے گی۔ارنب نے مہاراشٹر کے پالگھر کے ماب لنچنگ کے واقعہ کے بعد پولیس کے کردار اور کانگریس صدر سونیا گاندھی کی خاموشی پر سوال اٹھائے تھے ،جس کے بعد چھ ریاستوں میں 16 سے زیادہ ایف آئی آر درج کی گئی تھیں،اس کے بعد وہ سپریم کورٹ پہنچے تھے ۔انہیں اس معاملے میں گرفتاری سے عبوری راحت ملی تھی۔پچھلے دنوں ایک اور ایف آر دائر کی گئی تھی،جس کے خلاف ایک بارپھر انہوں نے عدالت کا رخ کیاتھا اور راحت کا مطالبہ کیا تھا۔دونوں ہی معاملوں میں عدالت نے عرضی گزارکو راحت دی ہے ۔اس سے پہلے سماعت کی شروعات کرتے ہوئے مسٹر سالوے نے کہا کہ عرضی گزار کے ٹی وی پروگرام میں فرقہ وارانہ بات نہیں کہی گئی۔اس سے کوئی فساد نہیں ہوا۔پال گھر میں مہاراشٹر پولیس کے کردار پر سوال اٹھائے گئے تھے ۔اب پولیس ہی ارنب کی جانچ کررہی ہے ،اس لئے جانچ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کو سونپ دی جائے ۔مہاراشٹر حکومت کے وکیل کپِل سبل نے کہاکہ مرکزی حکومت جانچ اپنے ہاتھ میں لینا چاہتی ہے ،حالانکہ سالیسیٹر جنرل نے مسٹر سبل کی اس دلیل کی پرزور مخالفت کی۔یواین آئی