اسلام آباد // پاکستان کے وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان نے کراچی میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے مسافر طیارے کو پیش آنے والے حادثے کا ذمہ دار پائلٹ اور ایئر ٹریفک کنٹرولر کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں نے مروجہ طریقہ کار کو اختیار نہیں کیا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پائلٹ اور معاون کے ذہنوں پر کورونا سوار تھا، ضرورت سے زیادہ اعتماد اور توجہ ہونے کے باعث ہمیں سانحے سے گزرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ دونوں پائلٹ جہاز چلانے کے دوران کورونا وائرس پر بحث کررہے تھے ۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں کراچی طیارہ حادثے کی عبوری رپورٹ پیش کرتے ہوئے غلام سرور خان نے کہا کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق بدقسمت طیارہ پرواز کے لیے 100 فیصد ٹھیک تھا اس میں کسی قسم کی کوئی تکنیکی خرابی نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پروازیں معطل تھیں اور 7 مئی کو اس طیارے نے پہلی فلائٹ لی اور 22 مئی کو حادثے کا شکار ہوا، اس دوران 6مرتبہ کامیاب پروازیں مکمل کی تھیں جن میں 5پروازیں لاہور سے کراچی اور کراچی سے لاہور واپسی کے لیے تھیں اور ایک شارجہ کے لیے تھی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ دونوں پائلٹس، کیپٹن اور معاون پائلٹ تجربہ کار تھے اور طبی طور پر جہاز اڑانے کے لیے فٹ بھی تھے۔غلام سرور خان نے کہا کہ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پائلٹ نے فائنل اپروج پر کسی تکنیکی خرابی کی نشاندہی نہیں کی تھی جب وہ لینڈنگ پوزیشن میں آیا تب بھی کسی خرابی کی نشاندہی نہیں۔