نئی دہلی//وزیراعظم نریندر مودی نے اتوار کو کہا ہے کہ پاکستان برے رویہ والا ملک ہے جس نے ہندوستان کی دوستی کی کوششوں کے جواب میں خنجر گھونپنے کی کوشش کی ہے ۔مسٹر مودی نے یہاں آکاشوانی پر ‘من کی بات’ پروگرام میں ‘کارگل وجے دیوس’ اور ہندوستانی فوجیوں کی بہادری کو یاد کرتے ہوئے یہ بات کہی۔انہوں نے کارگل وجے دیوس کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اکیس برس پہلے آج کے ہی دن کارگل کی جنگ میں ہماری فوج نے ہندوستان کی فتح کا جھنڈا لہرایاتھا۔وزیراعظم نے کہا کہ ‘‘پاکستان نے بڑے منصوبے بنا کر ہندوستان کی زمین قبضہ کرنے اور اپنے یہاں جاری اندرونی جھگڑے سے توجہ مبذول کے سلسلے میں ہمت کی تھی۔ ہندوستان تب پاکستان سے اچھے تعلقات کی کوشش کررہا تھا۔ لیکن کہا جاتا ہے ‘‘بیرو اکارن سب کاہو سوں۔جو کرہت انہت تاہو سوں’’۔ یعنی برے کا رویہ ہی ہوتا ہے ہر کسی سے بغیر کسی وجہ دشمنی کرنا۔ ایسے رویہ کے لوگ جو ہت کرتا ہے ، اس کا بھی نقصان ہی سوچتے ہیں اس لئے ہندوستان کی دوستی کے جواب میں پاکستان کے ذریعہ پیٹھ میں خنجر گھونپنے کی کوشش ہوئی تھی لیکن اس کے بعد ہندوستان اور ہندوستان کی بہادر فوج نے جو ہمت اور طاقت دکھائی اسے پوری دنیا نے دیکھا۔مسٹر مودی نے کہا کہ ‘‘اونچے پہاڑوں پر بیٹھا ہوا دشمن اور نیچے سے لڑ رہی ہماری فوجیں، ہمارے بہادر جوانوں، لیکن جیت پہاڑ کی اونچائی کی نہیں۔
سوری نام کے صدر سنتوکھی کومبارکباد
نئی دہلی// وزیر اعظم نریندر مودی نے کیریبیائی جزیرے کے ملک سوری نام میں ہند نژاد، نئے صدر چندرکا پرساد سنتوکھی کے ‘وید کے شلوک’ کے ساتھ عہدے کی حلف برداری کرنے پر اتوار کو فخر کے جذبے کا اظہار کیا اور 130 کروڑ ہندوستانیوں کی جانب سے انھیں مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان سے ہزاروں میل دور ایک چھوٹا سا ملک ہے جس کا نام ہے ‘سوری نام’ ہندوستان کے ‘سوری نام’ کے ساتھ بہت قریبی تعلقات ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سوری نام میں حال ہی میں مسٹر چندرکا سنتوکھی نئے صدر بنے ہیں۔
فوج کو پست کرنے والا برتائو نہ کریں
نئی دہلی// وزیر اعظم نریندر مودی نے ‘کارگل وجے دوس’ کے موقع پر ہندوستانی فوجیوں کی بہادری و قربانی کو یاد کرتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی کہ جنگ کے حالات میں ہمارا طرز عمل ، رویہ اور تقریر سے فوجیوں کے حوصلے پر الٹا اثر نہ پڑے اسلئے سوشل میڈیا پر ملک کو نقصان پہنچانے والی پوسٹوں کو فروغ نہ دیں۔وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ موجودہ دور میں جنگ نہ صرف سرحد پر بلکہ بہت سے محاذوں پر بھی لڑی جاتی ہے ، جس میں ہر ملک کے شہری کو اپنے اپنے رول کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے ۔مسٹر مودی نے آکاشوانی پر نشر ہونے والے پروگرام ‘من کی بات ’ میں شہریوں سے کہا‘‘جنگ کے حالات میں ہم جو بات کہتے ہیں ، کرتے ہیں اس کا سرحدوں پر کھڑے فوجیوں کے حوصلہ پر ، ان کے کنبہ کے حوصلوں پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے ۔ . ہمیں کبھی بھی اسے فراموش نہیں کرنا چاہئے اور یہی وجہ ہے کہ ہمارا رویہ ، ہمارا طرز عمل ، ہماری تقریر، ہمارے بیانات ، ہمارے وقار ، ہمارے اہداف سبھی کی کسوٹی میں یہ ضرور رہنا چاہئے کہ ہم جو کررہے ہیں ،کہہ رہے ہیں اس سے فوجیوں کا حوصلہ بڑھے ، ان کی عزت میں اضافہ ہو۔ ملک سب سے اوپر ہے کے منتر کے ساتھ ،اتحاد کے دھاگے میں جڑے ملک کے عوام ہمارے فوجیوں کی طاقت میں کئی ہزار گنا اضافہ کردیتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ بعض اوقات ہم سوشل میڈیا پر ایسی باتوں کو بغیر سمجھے بڑھاوا دے دیتے ہیں جس سے ہمارے ملک کیلئے بہت نقصان دہ ہوتا ہے ۔ کبھی کبھی تجسس کیلئے فارورڈ کرتے رہتے ہیں ، معلوم ہے کہ یہ غلط ہے ، لیکن پھر بھی کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا‘‘آج کل جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی ہیں ، وہ ایک ساتھ ملک کے بہت سے محاذوں پر بھی لڑی جاتی ہیں اور ہر ملک کے عوام کو اس میں اپنے اپنے رول کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے ۔ ہمیں بھی اپنا رول ملک کی سرحد پر ،دشوار حالات میں لڑرہے فوجیوں کو یاد کرتے ہوئے طے کرنی ہوگی۔‘