بڑے اور عظیم مقاصد ایسی ہی قربانیوں کے متقاضی ہوتے ہیں۔قوم کی تعمیر مطلوب ہو یا اصلاح، سیاست کی ذلفیں سنوارنی ہوں یا کسی مخصوص فکر کا نفاذ،تعمیر معاشرہ ہو یا کوئی اور ایسا ہی اجتماعی و انفرادی مقصد،قربانیاں دیکر ہی حاصل ہوتا ہے۔قربانیوں کی راہ میں مخالف قوتوں کا جبر یا اُن کا ناجائز وطیرہ خاطر میں نہیں لایا جاتا ہے،تبھی تو تاریخ کے صفحات اپنی مرضی کے مطابق ترتیب پاتے ہیں، اوراس میں کوئی مبالغہ نہیں کیونکہ کامیابی صرف قربانی سے ہی حاصل کی جاسکتی ہے۔مارٹن لوتھر کنگ کہتے ہیں’’انسانی ترقی کوئی خود کار عمل نہیں ہے،بلکہ منزل کی طرف ہر قدم قربانیوں اور جد و جہد کا تقا ضا کرتا ہے اور اس کیلئے نہ تھکنے والے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے‘‘۔
جو افراد یا اقوام قربانیوں سے کتراتے ہیں یا قربانیوں کو مقاصد سے بڑی یا زیادہ سمجھتے ہیں ،وہ نہ صرف اپنی پہلے دی گئی قربانیوں کو ضائع کرنے کا ارتکاب کرتے ہیں بلکہ مقصد سے بھٹک کر نہ جانے کہاں پہنچ جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں ایک موقع پرست گروہ اُٹھ کر’آوارہ گردی‘ کے نتائج کو ہی مقصد اور منزل قرار دیکر اپنا اُلو سیدھا کرنے لگ جاتا ہے اور کوئی دوسرا گروہ مایوسیوں کے دلدل میں گر جاتا ہے۔لیکن منزل و مقصد کی جستجو میںقربانیوں کی راہ پر گامزن لوگ راستے کی تکالیف کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اجتماعی مقاصد کے حصول کیلئے دیوانہ وار آگے بڑھتے رہتے ہیں اور آخر پر ایسے ہی لوگ روشنیوں کے مینار قرار پاتے ہیں۔ حاصل کلام یہ کہ مقصد کو ہر پل قلب و ذہن میں رکھتے ہوئے منظم قربانیاں ہی نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہیں اور ایسے ہی طریقہ کار سے افراد یا اقوام میں تھکاوٹ کے احساسات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔پھر یہ ازلی حقیقت بھی گانٹھ باندھ لینی چاہئے کہ قربانی دینے والا کچھ کھوتا نہیں ہے، بلکہ وہ اپنے عمل کے ذریعے منزل اور مقصد کے ساتھ اپنی محبت،تعلق ،لگائو اور عشق کو ظاہر کرتا ہے۔کہا گیا ہے ’’ناکام لوگ اپنے فیصلے موجودہ صورتحال کو ملحوظ رکھ کر لیتے ہیں مگر کامیاب لوگ اپنے فیصلے مقاصد اور منازل کو ملحوظ رکھ کر لیتے ہیں‘‘۔
مستقبل کے بارے میں جو بھی خواب تراشے جاتے ہیں اُن کے پورا ہونے کا واحد ذریعہ بھی یہی قربانی ہے۔ اجتماعی ہوں یا انفرادی، خواب اُسی صورت میں شرمندۂ تعبیر ہوتے ہیں جب ان کیلئے سب کچھ قربان کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور اس جذبے کو عملی جامہ پہنایا جاتا ہے۔صرف خواہشات رکھنایا خواب دیکھنا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ ان کے پورا ہونے کیلئے تن من اور دھن سے قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ قربانی آلام و مصائب سے نجات حاصل کرنے کا بھی ذریعہ ہے اور یہ ثابت شدہ حقیقت ہے۔شاید اسی لئے کہا گیا ہے’’ اپنی چاہ کیلئے قربانی نہ دینے کی صورت میں جو کچھ آپ کو ملتا ہے، اُس پر چیخنے چلانے کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔
ہمارے یہاںقربانی کے حوالے سے کچھ متضاد قسم کے رویے سامنے آرہے ہیں۔ بعض لوگ جواپنے مزاج اور رائے کو مقصدکے تابع نہیں کرسکتے، وہ’ قربانی‘ اور’ اصلاح ‘کو خلط ملط کرتے ہیں۔ایسے لوگ یہ معمولی سی بات سمجھنے سے قاصر لگتے ہیں کہ حصولِ مقاصد سے ہی اصلاح کی راہیں ہموار ہوسکتی ہیں۔قربانی کا افضل ترین عمل جو تمام قدیم شریعتوں میں کسی نہ کسی شکل و صورت میں موجود تھا، کوچھوڑ کر عقل و قیاس یا دیگر گمراہ کن اصطلاحات، جیسے ہمدردی و خیرخواہی، کے گھوڑے دوڑانا عقل کو بٹا لگانے کے مترادف ہے۔ قربانی ایک ایسا عمل ہے جس کا کوئی بدل نہیں ۔ اس کو ترک کرکے منزل و مقصد کے ساتھ لگائو کو ثابت نہیں کیا جاسکتا ہے۔قربانی پیش کرنے یا قربانی دینے والے کا ایک ہی ہدف ہوتا ہے ، تسلیم و رضا۔با الفاظ دیگر تسلیم و رضا کے دعوئوں کو ثابت کرنے کا واحد طریقہ قربانی ہے ۔
پانچ سو قبل ِ مسیح سے لیکر2002عیسوی تک کی طویل مدّت کے دوران پیدا ہونے والے معروف مفکّرین اس بات کو لیکر متفق ہیں کہ قربانی کا مقصد تبدیلی ہوتا ہے۔ان مفکرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ قربانی مقصد اور منزل کے ساتھ لگائو کی وہ سرحد ہے جہاں قربانی دینے والے اور اس کے مقصد کے مابین کوئی بھی پردہ حائل نہیں رہتا ہے۔کوئی شخص قربانی دینے کی منزل تک اُسی وقت پہنچ جاتا ہے جب مقصد اُس کی ہر بات اور اس کے ہر مفاد پر غالب آتا ہے۔عقل کو عشق کے تابع کرنے والے رندوں کا ماننا ہے کہ قربانی پیش کرنے کی منزل تک پہنچنے کیلئے اپنی ہرمرضی مقصد کے تابع کرنی پڑتی ہے۔ایسا کرنے کیلئے مقصد اور منزل کی پرورش بہت ہی لاڈ پیار سے کرنی پڑتی ہے۔مقصد کو ہر آن نظروں میں رکھنے اور اس پر جان چھڑکنے کا جذبہ ہی انسان کو قربانی پیش کرنے کیلئے تیار کرتا ہے ۔مقصد کے ساتھ گہرا لگائو قربانی کا جذبہ پیدا کرنے میں معاون ہوتا ہے، بلکہ ہر قربانی کے پیچھے یہی جذبہ کارفرما ہوتا ہے۔اب جذبہ جتنا مقدس ،جتنا عظیم،جتنا پر خلوص اور جتنا خالص ہو ،قربانی بھی اُتنی ہی بے لوث ہونی چاہئے۔یاد رہے کہ قربانی پیش کرنے والا ہمیشہ مقصد کے سامنے خود کو چھوٹا ہی تصور کرتا ہے اور اُس کا یہی تصور شرف قبولیت حاصل کرلیتا ہے۔
قربانی کا تصور جہاں بھی پایا جاتا ہے اس کے گرد عام طور پر تقدس کا ایک ہالہ موجود ہوتا ہے۔ انسان ہمیشہ سے قربانی کے ذریعے اپنے اور اپنے مقدسات کے مابین ایک ارتباط قائم کرنے کیلئے کوشاں رہا ہے۔ قربانی موجودات ماورائے طبیعات کیلئے ایک ہدیہ ہے۔قربانی کی رسم قدیم ترین زمانوں سے جاری ہے۔ بلکہ یہ رسم اُتنی ہی پرانی ہے جتنی انسانی تہذیب۔ اس کی عظمت و عزیمت کو دیکھتے ہوئے ہی شاید بعد ازاں قربانی کو رسومات کے دائرے سے نکال کر عبادات کے زمرے میں رکھنے کا فیصلہ لیا گیا۔اب قربانی ایک عبادت ،بلکہ عبادت کا اعلیٰ ترین عملی مظاہرہ ہے۔اس میں ایک عابد ہمیشہ اپنی عزیز ترین شے کے ساتھ تیار رہتے ہوئے وقت آنے پر مصلحتوں سے بالا تر ہوکر عبودیت کے اعلیٰ مراتب تک پہنچ جاتا ہے۔
مختلف قدیم تہذیبوں اور ثقافتوں میں قربانی کا سلسلہ مختلف صورتوں میں موجود رہا ہے۔ قربانی بھی طرح طرح کی رہی ہے۔ جمادات، نباتات اورحیوانات ،سب کی قربانی ہوتی رہی ہے۔ کبھی تو انسانوں کی قربانی بھی ہوتی رہی ہے۔ قربانی کی بعض صورتیں تو غیرعاقلانہ رہی ہیں یہاں تک کہ معقول و نامعقول قربانیوں کی صورتیں اب بھی دکھائی دیتی ہیں۔ جس قدیم ترین قربانی کا ذکر ہمارے سامنے موجود ہے وہ بہت دلچسپ ہے۔ یہ قربانی بابا آدم کے دو فرزندوں، ہابیل اور قابیل نے پیش کی تھیں۔اس واقعہ کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ جب دونوں نے قربانی پیش کی تو ایک کی قربانی قبول ہو گئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی اور قبول نہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ اس میں تقویٰ نہیں تھا۔
تقویٰ ایک ایسی روحانی منزل ہے جو دکھائی نہیں دیتی بلکہ اس کا ثبوت صرف عملی طور ہی پیش کیا جاسکتا ہے اورایسا انسانی تاریخ میں متعدد بار ہواہے۔کبھی مکہ کے بے آب و گیاریگزاروں میں تو کبھی عراق کے تپتے صحرائوں میں۔یہ انسانی تاریخ کے وہ ابواب ہیں جن کو ہم ہر سال یاد کرتے ہیں لیکن ہمارے یاد کرنے کے عمل میں اخلاص موجود نہیں ہوتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہم تبدیلی سے ہمکنار نہیں ہوتے اورہمارے آلام و مصائب بھی ختم نہیں ہورہے ہیں!البتہ یہ بات طے ہے کہ چراغ مصطفوی ؐ اور شرار بولہبی کے مابین تاریخی ستیزہ کاری نے قربانی کو بام عروج اور اس میں جان لٹانے کو ادارہ جاتی بنایا ہے۔