پرووفیسر آغا اشرف علی جموں و کشمیر کی ایک معروف شخصیت تھے۔اس ہمہ جہت شخصیت نے اپنی زندگی میں بہت سے دور دیکھے تھے ۔خاص کر تحریک آزادیٔ ہند ،کانگریس اور مسلم لیگ لیڈروں کی سیاسی چشمکیں،سانحہ ٔ تقسیم ِ ہند ،بدلتا ہوا جاگیردارانہ نظام اور اپنی ریاست میں بدلتا ہوا پُرانا جاگیردارانہ نظام ،ڈوگرہ شاہی کا خاتمہ،نمایاں تبدیلیاں ،اخلاقی قدروں کی شکست و ریخت اور پچھلی کئی دہائیوں کی جدو جہد ،بندوق اور بموں کی آوازیں ،بے شمار شہادتیں ،حق ِ خود ارادیت کی آوازوں سے گونجتے کوچہ و بازار ،بدلتی حکومتیں ،مگر ان بدلتی ،بگڑتی ،ٹوٹتی اور اُبھرتی قدروں کے باوجود آغا صاحب کی شخصیت کی دلفریبی ،ہر دل عزیزی میں کوئی کمی نہیں آئی ۔وہ اعلیٰ سرکاری منصبوں پر تقرر کے باوجود اپنے آپ کو ایک معلم ہی سمجھتے تھے۔اکثر اپنا تعارف بھی ایک پرائمریری ٹیچر کی حیثیت سے کرواتے تھے جو غلط بھی نہ تھا کیونکہ انہوں نے اپنی معلمی کا سفر جامعیہ ملیہ اسلامیہ میں ایک استاد کی حیثیت ہی سے شروع کیا تھا۔یہ اُن دنوں کی بات ہے جب جامعیہ اسلامیہ اپنی طفولیت کے دور میں تھی۔
آغا صاحب نہایت خوش مزاج ،خوش خو ،خوش رو، خوش پوشاک ،خوش گفتار اور خوش اخلاق شخص تھے۔اُن کی عالمانہ بصیرت پر کس کو کلام ہوسکتا ہے مگر ذاتی طور پر میں سمجھتی ہوں ،اُن کی گونا گوں صفات کے ساتھ اُن کی شیرین کلامی اور خوش خلقی اُن کی ہر دِلعزیزی کا بہت بڑا سبب تھا۔میں آغا صاحب کو بچپن سے جانتی ہوں ،جب میں کالج کی طالبہ تھی تو کبھی وہ لیکچر کے لئے آتے تھے۔یقین مانئے طالبات آغا صاحب کا نام سُن کر اُن کا لیکچر سُننے کے لئے بے تاب ہوجاتی تھیں۔وہ نہایت خوبصورت زبان میں علمی مسائل طالبات کے ذہن نشین کرتے کہ زندگی بھر کوئی بھول نہ پاتا ۔آج جبکہ میں کئی برس پہلے ایک پروفیسر کے عہدے سے سبکدوش ہوچکی ہوں ،میں بے تابی سے اُن کی تقریر سُننے کی منتظر رہتی تھی۔پچھلی کئی دہائیوں سے آغا صاحب کے پاس آنے جانے کے مواقع اکثر ملتے ،کئی دفعہ ہفتے میں دو تین بار بھی یہ سعادت نصیب ہوئی اور ہر ملاقات سود مند ہوتی تھی۔نہ صرف دینی تسکین ملتی بلکہ قلبی طمانیت کا بھی احساس ہوتا تھا۔
آغا اشرف علی نے جموں و کشمیر کی سرکار میں کئی اعلیٰ عہدے سنبھالے اور ریاست کے تعلیمی نظام کو سنوارنے میں انہوں نے کئی کار آمد تبدیلیاں لائیں جو ایک الگ موضوع ہے مگر سرکاری منصب اُن کے لئے کبھی بھی باعثِ افتخار نہیں رہا۔اُن کے لئے باعث ِ افتخار اُن کی معلمی کا ہی پیشہ تھا۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ صرف ایک دو سال قبل اُن کے پاس جو نوجوان لوگ آتے تھے ،اُن سے پوچھتے کہ اُن کی علمی دلچسپیاں کیا ہیں۔اُن سے گفتگو کے دوران اُن کو باتوں ہی باتوں میں بتاتے کہ کتابوں کا تجزیہ کیسے کیا جاتا ہے تاکہ خوب وزشت کی پہچان ہو اور اس طرح اُن کی ذہنی صلاحیتوں کو بیدار کرتے ۔وہ آخر وقت تک اپنے اس شوق کی تکمیل میں لگے رہے۔
آغا صاحب کے بے شمار شاگرد جموں و کشمیر میں مختلف شعبوں میں اپنی قابلیت کا لوہا منواچکے ہیں مگر آج بھی جب وہ آغا صاحب کے پاس آتے تو اُن کا رویہ برخوردانہ اور خاکسارانہ ہوتا گویا وہ آج بھی اُن کے پاس درس لینے آئے ہوںجیسے بیسیوں برس قبل آیا کرتے تھے۔آج بھی اُن کے گھر پر پرانے اور نئے شاگردوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ اگرچہ پچھلے ایک دو برس سے وہ کافی کمزور ہوگئے تھے مگر آنے والے آتے رہتے تھے۔جن میں بلا لحاظ عمر نئی نسل کے نوجوانوں کی ایک خاصی تعداد ہوتی تھی۔جن کو انہوں نے اگرچہ براہِ راست نہیں پڑھایا تھا مگر اُن کی استادی کے شہرہ کے قائل تھے ،اُن سے فیض حاصل کرتے ڈانٹ بھی کھاتے ،اپنے ساتھ نئی اور پرانی کتابوں کی فہرست لے جاتے ’’تم کو یہ کتابیں پڑھنی چاہئیں‘‘آغا صاحب کہتے اور بعض خوش نصیب طلبا کو تحفتاً چند کتابیں دے ہی دیتے ۔
آغا زشرف صاحب بہترین مقرر تھے۔ اُن کی تقریر کی لذت اُن سے پوچھئے جنہوں نے اُن کی تقریریں سُنی ہوں۔لکھتے بہت کم تھے ،پڑھتے بہت زیادہ تھے اور ہر ایک کو پڑھنے کی ترغیب دیتے تھے۔ذہن کو سوچنے پر آمادہ کرنے اور پڑھنے کی طرف راغب کرنے کے فن میں وہ یکتا تھے ۔یقین مانئے اُن کے گھریلو ملازم جو معمولی اسکولی تعلیم رکھتے ،بھی اُن کی صحبت میں نہایت ہوشیار مغز اور پڑھے لکھے لوگ ہوگئے تھے۔دیکھنے کا منظر وہ ہوتا تھا جب آغا صاحب کے ساتھ وہ بھی ٹیبل پر مشغول ِ طعام ہوتے تھے اور بڑے غور سے آغا صاحب کا حالاتِ حاضرہ پر تبصرہ سنتے تھے۔نوجوان ملازموں کو کالج یا کمپیوٹر سینٹرمیں باضابطہ تربیت کے لئے بھیجا کرتے تھے۔
اردو جیسی شیرین زبان سے بھلا آغا صاحب جیسی باذوق شخصیت کیسے بے بہرہ ہوسکتی تھی ۔کوئی شک نہیں کہ اُن کو انگریزی زبان پر کما ل عبور حاصل تھا مگر اُردو دانی میں بھی وہ کمتر نہ تھے۔نہایت لطیف اور شُستہ زبان بولتے تھے۔ممکن ہے اس میں صحبت ہم نشین یعنی اُن کی مرحوم بیگم صاحبہ کا بھی اثر ہوگا مگر ابو الکلام آزاد،پروفیسر مجیب ،ڈاکٹر عابد حسین اور ڈاکٹر ذاکر حسین جیسے جید علما کی نثری تحریریں جس کا اوڑھنا بچھونا رہا ہو،اُس کی زبان کا معیار اور اعلیٰ ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں۔
ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ عموماً اُردو داں علماء اور اس زبان کے شیدائیوں کو سینکڑوں اشعار خاص کر میر،غالب ،اقبال کے زبان زد ہوتے ہیں مگر بہت کم لوگ ایسے دیکھے گئے ہیں جن کو اُردو نثر کے لمبے لمبے اقتباسات زبانی یاد ہوں۔ذاکر صاحب، ڈاکٹر عابد حسین ،ابو الکلام کی بیشتر تحریروں اور تقریروں کے طویل اقتباسات آغاصاحب یوں دہراتے تھے جیسے کتاب سے پڑھ رہے ہوں ،یہی حال انگریزی تحریروں کا بھی تھا ۔وہ میر و غالب اور اکبر الہ آبادی کے اشعار بھی بر محل سُناتے تھے اور اندازِ بیان ایسا ہوتا تھا کہ شعر کی تشریح بھی ہوجاتی تھی اور سُننے والا لطف اندوز ہوتا۔فارسی کے اشعار بھی اکثر پڑھتے تھے اور ساتھ ہی اُس کی تشریح بھی کردیتے ۔آغاصاحب فارسی زبان کو عربی کے بعد مسلمانوں کے تہذیبی سرمایہ کا امین سمجھتے تھے ،خاص کر ایشیائی ملکوں کے لئے۔
ڈاکٹر اشرف علی نہایت حوصلہ مند انسان تھے۔اس بات کا اندازہ تب ہوا جب انہوں نے اپنی دومحبوب ہستیوں کو کھو دیا ۔پہلے تو ان کی بیگم صاحبہ اس دارِ فانی کو چھوڑ کر رخصت ہوگئیں اور اُس کے بعد ہی اُن کا محبوب جواں سال بیٹا آغا شاہد علی رخصت ہوگیا ۔آغا شاہد علی جو نہ صرف ہم کشمیریوں کے لئے باعثِ افتخار ہے بلکہ ایک انگریزی شاعر کی حیثیت سے انگریز دان طبقے میں بے پناہ شہرت اختیار کرچکا تھا ۔انگریزی زبان میں غزل لکھنے والا یہ جواں عمر شاعر اپنے والد کی طرح ایک منفرد شخصیت رکھتا تھا ۔لوگ اُس سے بہت پیار کرتے تھے انسانی قدروں کا یہ علمبردار جب جوانی میں آغا صاحب کو داغِ مفارقت دے گیا تو آغا صاحب نے جس حوصلے اور صبر سے کام لیا وہ قابل تحسین ہے۔زندگی کے اس عظیم المیہ کو نہایت صبر سے جھیلا اور اس کے باوجود بھی اُن کا علم بانٹنے کا مشغلہ جاری و ساری رہا ۔مجھ جیسا ایک ادنیٰ شاگرد آغا صاحب کے بارے میں کیا لکھے گا ،مجھ سے تو حق ادا نہ ہوگا ،ہاںاُن کے شاگرد رشید پروفیسر سید حبیب نے اُن کی سوانح حیات ’’رہنما‘‘کے عنوان سے شائع کی ہے۔انہوں نے خوب لکھا ہے ۔عنوان اس بات کا غماز ہے کہ رہنما نے ہر قدم پر راہ دکھائی ہے۔
آغا صاحب ایک ادارہ تھے ۔2014کے سیلاب کے بعد اُن کو اپنی کتابوں کے ضائع ہونے کا بہت دُکھ تھا ۔میری بیٹی میری تلاش میں نکلی تھی اور اچانک ائر پورٹ پر آغا صاحب ملے اور اُن کا ملازم۔وہ فوراً اُن کو اپنے گھر اندارابی منزل برزلہ لائی ۔میں جب ایک دو روز کے بعد پناہ لینے وہاں پہنچی تو آغا صاحب سے ملاقات ہوئی ،تعجب ہوا کہ وہ حسب معمول پروفیسر شازینہ اندرابی کو ہسٹری پر لیکچر دے رہے تھے اور وہ لیکچر اپنے لیپ ٹاپ پر ریکارڈ کررہی تھی۔ایک ایسے با حوصلہ اور پیدائشی استاد کے بارے میں اور کیا لکھوں ۔کہنے کو بہت کچھ ہے مگر غم بہت تازہ ہے۔ تفصیلات لکھنے میں تکلیف ہوتی ہے۔
یہ ذکر ضروری ہے کہ آغاصاحب نے اپنی خود نوشت ’’کچھ تو کہئے کہ لوگ کہتے ہیں‘‘کے عنوان سے شائع کی ہے ۔یہ کفر کیسے ٹوٹا یہ ایک الگ کہانی ہے جیساکہ میں کہہ چکی ہوں کہ لکھتے بہت کم تھے اور یہ سوانح حیات بھی خود تحریر نہیں کی بلکہ وہ بولتے گئے اور کوئی لکھتا گیا ،یا یوں کہئے یہ روایتی انداز میں ضبط ِ تحریر میں نہیں آئی ۔زندگی رہی تو انشا ء اللہ اس بارے میں پھر کبھی لکھوں گی۔
افسوس یہ علم کاچشمہ ٔ رواں نہ رہا اور آغا صاحب 7اور8اگست کی درمیانی رات کو ہمیں چھوڑ کر جنت نشین ہوگئے ۔اللہ تعالیٰ اُن کے درجات بلند کرے۔آمین ثم آمین