صحت مند شہری ٹرانسپورٹ پالیسی بنانے کیلئے اور ان منصوبوں کے اثرات پرکھنے کیلئے سب سے پہلے قابل اعتماد اعدادوشمار کی فراہمی ضروری ہے۔اس کیلئے شہری ترقی کی وزارت نے شہری ٹرانسپورٹ کی وزارت کے تحت دہلی میںInstitute of Urban Transport India(IUT) کے تحت Knowledge Management and Database Center(KMC) نامی ایک مرکز قائم کیاہے۔اس کی ذمہ داریوں میںمنصوبہ سازی ،تحقیق اور تربیت کیلئے ڈیٹابیس کی تیاری کے ساتھ ساتھ ایک جدید ترین لائبریری کا قیام بھی شامل ہے۔ریاستوں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ راجدھانیوں میں اسی طرز کے مراکز قائم کریں۔یہ بہت ضروری ہے کہ باقاعدگی سے اعدادوشمار کو اپڈیٹ کیا جائے تاکہ تجزیہ کاری اور منصوبہ سازی میں مددگار ہوں۔ذیلی اداروں اور تنظیموں کو اس بات کی اجازت دینی چاہئے کہ اپنے اعدادوشمار کو باقاعدگی سے اپڈیٹ کرتے رہیں جو سب لوگوں کیلئے دستیاب ہوں۔اس کے بعد شہروں کی ضروریات کو نظر میں رکھ کر مربوط تحقیق کا عمل تیز کرنا ہوگا۔جس میں وسیع بنیادوں پر شرکت کا اہتمام ہو،جیسے عام شہری، اسکالر اور فیصلہ ساز اداروں کے افراد۔یہ تحقیقی پروجیکٹ وزارت ٹرانسپورٹ کی مالی تعاون کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔لہذا ادارہ جاتی بنیاد پر یہ کام مربوط انداز میں ہی کیا جاسکتا ہے۔امریکہ کے Transport Research Boardکی مثال ہمارے سامنے ہے ۔
رسائی اور آمدورفت کی سہولت ہندوستانی شہروں کی پائدار اقتصادی ترقی کیلئے شرط ہے۔سپلائز کے ذخیرے اور فراہمی کا بھی اس سے براہ راست تعلق ہے ۔تاہم شہری ٹرانسپورٹ کی وسعت کے باوجود اس کے مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوئے ہیں۔بہتر رسائی نہ تو سڑکو ں اور ریلوے کی تعمیر سے اورنہ گاڑیوں کی تعداد سے ممکن ہے اور نہ ایسے منصوبوں جن میں غیر مرکوزیت اور گنجان آبادیوں کو نظرانداز کیا گیا ہو۔شہری آمدورفت کی بڑھوتری مطلوبہ نتائج حاصل کرنے سے قاصر رہی ہے ۔اس کی وجہ یہی ہے کہ محض گاڑیوں کی تعداد بڑحانے پر توجہ رہی۔دراصل غیر مرکوزیت کے ذریعے شہروں میں ہجوم کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ بہتر ٹریفک منیجمنٹ ہی ٹرانسپورٹ سے وابستہ مسائل کو حل کرنے کا راستہ ہے۔یہ ایک منظم اور مربوط کوشش کا تقاضا کرتا ہے،جس میں تمام متعلقہ عناصر اور شراکت داروں کو شامل کرنا ہوگا۔مثال کے طور پرPeak hours یا مصروف ترین اوقات میں سڑکوں پر گاڑیوں کا ہجوم ،بستیوں کی ایسی آبادکاری جس شاہراہیںاور سڑکیں سکڑ جاتی ہیں اور آمدورفت میں رکاوٹیں پڑتی ہیں،صنعتوں اور کارخانوں کو ترجیح دیکر انسانوں کے مفادات کو نظرانداز کرنا ۔یہ پالیسی کی خامیاں ہیں۔یہ بات مدنظر رہنی چاہئے کہ آمدورفت ایک ثانوی ضرورت ہے جو انسانوں کی سماجی،معاشی اور تمدنی سرگرمیوں کے باعث پیدا ہوئی ہے۔نجی اور سرکاری ٹرانسپورٹ اسی ضرورت کو پورا کرنے کاوسیلہ ہے۔بستیوں اور شہروں کی آبادکاری کے بعد ٹرانسپورٹ اِن سماجی و معاشی سرگرمیوں میں سہولت کار کا رول ادا کرتا ہے۔
مربوط شہروں کا قیام ایک ایسا تصور ہے جہاں سفر کی کم ضرورت پڑنے اور ضرورت بھی بھی پڑے تو فاصلے کمترین ہوں،کارگاہیں زیادہ دور نہ ہوں اور معیاری سڑکوں کے ساتھ ساتھ پیدل اور سائیکل سواروں کیلئے علاحدہ محفوظ گزرگاہیںمیسر رکھی جائیں۔
مختصر یہ کہ سب کی خوشحالی ،غربت کے خاتمے اور معاشی ترقی کیلئے بہتر آمدورفت کا نظام میں سہولت کار ہے۔منصوبہ سازی کے مرحلے پرشعبہ جات کے درمیان رابطہ اور تعاون اور ٹرانسپورٹ کو سماجی و معاشی کارگاہوں ے ساتھ ساتھ مربوط کرنے سے کئی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ہمارے موجودہ مسائل جیسے سڑکوں پر بھیڑ بھاڑ ،تریفک جامنگ،حادثات اور آلودگی وغیرہ کو روایتی اقدامات سے ختم نہیں کیا جاسکتا ہے۔نان موٹرائزڈ ٹرانسپورٹ کے ساتھ ساتھ اعلیٰ صلاحیت والے ٹرانسپورٹ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ٹرانسپورٹ شہروں کی ہئیت اور صورت متعین کرتا ہے۔ان شہروں میں پائدار اور قابل بھروسہ ٹرانسپورٹ نظام بنانے کیلئے پیشہ ورانہ صلاحیتوں ،مربوط منصوبہ سازی ،ذمہ داریوں کے تعین، انتظامی اور مالی خودمختاری نہایت اہم ہیں۔
شفافیت ،احتساب اور اصلاح کا ایک نظام روبہ عمل ہونا چاہئے لیکن اس کیلئے مضبوط سیاسی عزم اور پیہم عوامی دبائو کی ضرورت ہے۔
(مضمون نگار اسسٹنٹ ریجنل ٹرانسپورٹ آفیسر بارہمولہ ہیں اور اُن سے[email protected]پر رابطہ کیاجاسکتا ہے)