اس با ت سے ہر ایک باخبر ہے کہ انسان نے جب سے اس دنیا میں قدم رکھا ہے،آفتیں ، ،آسمانی بلائیں ،زمینی وبائیں اور دنیائی مسائل اس کے ہمہ پہلو رہے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان نے سائنسی علوم سے استفادہ حاصل کر کے ان وباؤں کا خاتمہ کیا ،لیکن نئی وبائیں رونما ہوتی گئیں ۔فی الحال جس وبانے جنم لیا،اس سے کون واقف نہیں۔اس وائرس نے بہت تیزی کے ساتھ دنیا کو اپنی گرفت میں لے لیا اور ایسے اثرات مرتب کئے جن کا ازالہ کرنے کیلئے کئی سال درکار ہیں ۔
کورونا وائرس ایک ایسی وبا ہے جس نے سبھی کو حیران کیا ۔ اس وبا نے انسان کی طرز زندگی میں نمایاں تبدیلی لائی۔ ہر مذہب اور ہر دھرم میںطرز عبادت کو بدل کر خدا کے تصور سے انسان کے جسمانی فاصلے کو بڑھایا۔مندر ،مسجد ،گرجا ،گردوارہ،ہر جگہ سماجی دوریوں کو بروئے کار لایا گیا۔مسلمانوں کے تہوار یعنی عید الفطر کے موقعے پر نماز عید روایت کے برخلاف لوگوں نے سماجی دوری کو مدنظر رکھ اپنے ہی گھروں یامسجدوں میں ادا کی اور بقر عید میں بھی اس بات کا خاص خیال رکھا گیا ۔
اچانک ملک میں لاک ڈاون کا اعلان کیا گیا ،جس کی وجہ سے ملک کے مختلف گوشوں میں درماندہ لوگوں کو اپنے اپنے مقاموں تک پہنچے میں کافی مشکلاتوں کا سامنا کرنا پڑا۔کچھ ایسے بھی واقعات دیکھنے کو ملے کہ گاڑی نہ ملنے کہ وجہ سے کچھ لوگ گھر تو نہیں پہنچے لیکن عالم دنیا میں پیدل سفر کرتے کرتے عالم آخرت میں جا پہنچے۔ لاک ڈاون کے ابتدائی مرحلے میںہندوستان کی مخصوص میڈیا نے مسلمانوں کے خلاف ملک میں اس قدر نفرت پھیلائی کہ ہر ایک کو محسوس ہونے لگا ،کہ اس وبا کو جنم دینے والامسلمان طبقہ ہی ہے ۔ یہاں تک کہ شر پسندوں نے اس بات پر زور دیاکہ مسلمانوںکو پاکستان جانا چاہئے۔ شاید وہ بھول چکے تھے کہ ہندوستا ن ایک جمہوری ملک ہے ،اس میں ہر دھرم کے لوگ رہتے ہیں جبکہ اس کی پہلی پہچان چین کے صوبہ ہوبی کے شہر ووہان شہرمیں ہوئی تھی۔
کورونا وائرس نے پوری دنیا کو سوچنے پر مجبور کردیا کیونکہ یہ ایک ایسی وبا ہے جو کسی جنگ سے کم نہیں ۔دیکھتے ہی دیکھے اس وبا نے لاکھوں لوگوں کو موت کی آغوش میںسلا دیا ۔ دوسری طرف ملک کے کام کاج کا نظام درہم برہم ہوا ۔کارخانے ،فیکٹریاں ،کالج ،اسکول ،دوکانیں بند ہوگئیں،اور گاڑیوں کی آمدورفت ماند پڑگئی ۔ اب چار مہینے کے بعد گا ڑیوں کی نقل وحمل پہلے سے بہتر ہونے لگی کیونکہ اب لوگوں نے اس وبا میں ہی نئی زندگی گذارنے کا تہیہ کرلیا ہے ۔جیسے کہ عالمی ادارہ صحت نے خبر دار کیا ہے کہ کورونا وائرس ابھی ختم ہونے والے نہیں ہے، دنیا کو اس وبا کے ساتھ ہی جینا سیکھنا ہوگا ۔
دنیا میں کورونا سے متاثرین کی تعداد میں لمحہ بہ لمحہ اضافہ ہورہا ہے تاہم اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ جہاں اس وبا سے متاثرین میں اضافہ ہوتا ہے وہی اس سے صحتیاب بھی ہورہے ہیں۔یہ لازمی نہیںکہ جس کو کورونا ہوجائے وہ مرجائے ۔بلکہ ہندوستان میں مرنے والوں کی تعداد صرف دو فیصدی اب تک بتائی جاتی ہے ۔ اور ستر فیصدی لوگ ٹھیک ہوئے ہیں۔ اس لئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ،البتہ احتیاتی تدابیر اپنانا اپنے اوپر لازم سمجھناہی دانائی ہے ۔جتنا اس وائرس کو ہم ہلکا سمجھیں گے، اتنا ہی یہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے ۔اس لئے غیر ضروری اور بے وجہ گھر سے نکلنا وائرس کو اپنے گھر دعوت دینے کے مترادف سمجھا جارہا ہے ۔اس سلسلے میں کسی نے کیا خوب کہا ۔ ؎
بے وجہ گھر سے باہر نکلنے کی ضروت کیا ہے
موت سے آنکھیں ملانے کی ضرورت کیا ہے
سب کو معلوم ہے باہر کی ہو ا قاتل ہے
یوں ہی قاتل سے الجھنے کی ضرورت کیا ہے
کورونا نے ہماری زندگی کے طرز عمل میں ایک نیا موڑ دیا ہے ۔جس کے بارے میں ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا ۔ جو کام آفسوں میں پہنچ کر انجام دیاجاتا تھا،وہ کام گھر بیٹھے آن لائن کیاجارہا ہے۔تعلیمی میدان میں بھی آن لائن سسٹم اپنایا گیا۔ تاہم اس سے صرف اعلیٰ طبقہ کے بچے ہی مستفید ہوسکے ،جبکہ ملک کی اکثر آبادی متوسط اور پسماندگی کی زندگی گذار رہی ہے ۔ان میں کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں دو وقت کی روٹی مشکل سے مل پاتی ہے ۔وہ بچارے اپنے بچوں کے لئے سمارت فون(smart phone)کا انتظام کہاں کر پائیں گے۔سوشل میڈیا کے ذریعے یہ خبربھی سامنے آئی کہ ایک غریب والد نے اپنی گائے بیچ کر اپنے بچے کے لئے (anroid phone)خریدا تاکہ وہ آن لائن کلاسس میں شامل ہوسکیں ۔لاک ڈاون کے وجہ سے سب سے زیادہ نقصان تعلیمی نظام پر پڑا۔جس کا ازالہ کسی طرح ممکن نہیں ۔ کارو بارو بازار بند ہونے کی وجہ سے ملک کے معاشی حالات مزید بگڑ گئے ،لاکھوں لوگوں کی نوکریاں چلی گئیں،جس سے لوگوں کے اور مشکلات بڑھ گئے ۔
کورونا وبا سے روز مرہ زندگی میں دوسری بڑی تبدیلی صفائی کی آئی جس کا اہتمام ہر جگہ لازم قرار دیا گیا ۔اس سلسلے میں حکومت نے اس بات سے باخبر کیا کہ اپنے ہاتھوں کو بار بار دھوئیں اور اشیائے خوردنی کو بھی صاف اور ستھرا رکھیں ۔جگہ جگہ پرسینٹائزر کھا گیا تاکہ آنے اور جانے والے اس کا استعمال کریں۔معلوم ہوا ہے کہ ہندوتان میں 87% لوگ ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال کرتے ہیں ۔ملک کے اطراف واکناف میں اس لحاظ سے بھی صفائی کا خاص خیال رکھا گیا کہ تھوکنا کسی مقام پر جرم مانا جائے گا ۔اور اس سے جرمانہ بھی وصول کیا جائیگا۔گھر سے بغیر ضرورت گاڑی نکالنا اور بغیر ماسک پہنے سفر کرنے پر بھی متعدد مقامات پر جرمانہ وصول کیا گیا ۔ ماسک کا استعمال اس تباہ کن وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں سب سے اہم سمجھا جارہا ہے ۔اور اسکے لئے ماہرین کی جانب سے لوگوں کو بار بار ہدایت دی جارہی ہے ۔ سماجی دوری کے ساتھ ساتھ ماسک کا استعما ل بھی ضروری ہے ۔
اب جب کہ لاک ڈاون میں کچھ کمی کی گئی، لوگ یہ سمجھ بیٹھے کہ وبا ختم ہوا ،حالانکہ حال ہی میں عالمی ادارہ صحت نے تمام ممالک کو خبردارکیا ہے کہ کورونا وائرس دو سال تک جاری رہ سکتا ہے ۔ادارے کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس کا کہنا تھاکہ کچھ ممالک میں کورونا منتقلی کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے ،کورونا منتقلی کی شرح میں کمی کا مطلب فتح نہیں ہے ۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوام کو کرونا پھیلاؤ روکنے میں مدد کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی ۔کورونا وائرس کی وبا کی نئی لہر کی تنبیہ جاری کرتے ہوئے کہاتھا ۔کہ وبا کی نوعیت اب تبدیل ہورہی ہے ،وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لئے ہمیں اپنی کوششوں کو مزید بڑھانا ہوگا۔
رابطہ ۔گدا پورہ شوپیان
ای میل