گزشتہ جمعہ کو بڑی مساجد اور خانقاہوں میں طویل لاک ڈاون کے بعد درود و اذکار کی محافل سجائی گئیں۔ میں نے بھی جمعہ کا خطبہ بڑی مدت بعد دْو بدْو سْنا۔ منبر پر موجود خطیب پیغمبر کریمؐ کی شان میں تازہ گستاخی کے واقعہ پر نہایت جوشیلے انداز میں ردعمل ظاہر کررہے تھے۔ انہوں نے اْن ’’سازشوں‘‘ سے ہوشیار رہنے کی تلقین کی جو بقول اْن کے شانِ مصطفی ؐمیں اہانت اور گستاخی کرنے کے لئے رچی جارہی ہیں۔
اول تو مجھے اس بات پر حیرت ہے کہ شانِ مصطفی ؐکو نعوذبِااللہ قابل اہانت قرار دے کر اس کے خلاف معصوم مسلمانوں کا لہو گرمانے کی روایت اب بھی برقرار ہے۔ پیغمبرِ انقلاب ؐکی ذات کسی بھی توہین یا گستاخی سے نہایت بالاتر ہے۔ جب قریش نے اْنہیں بے اولاد ہونے کا طعنہ دیا تو ربِ ذوالجلال نے باقاعدہ سورۃ النحرنازل فرمائی۔ اُن پر طعن و تشنیع کے ہزار حربے اپنائے گئے، نماز کے دوران گندگی ڈالنے کا واقعہ ہو یا راستے پر کچرا چھڑکنے کا واقعہ، حضور ؐ نے کبھی بھی اس مسلے پر صحابہ کو متحرک ہونے اور لاٹھی کدال اْٹھانے کے لئے نہیں کہا۔ پیغمبرؐ کی شان اللہ کی طرف سے محفوظ ہوتی ہے اور اُن ؐکی شان میں گستاخی کرنے والا اللہ کے غیض و غضب کا ہی شکار ہوجاتا ہے۔ پیغمبر ؐکے پیروکار جب اہانت یا گستاخی کے واقعات پر واویلا مچاتے ہیں تو یہ بالواسطہ اعتراف ہوتا ہے کہ پیغمبرؐ کی شان میں معاذاللہ گستاخی ممکن ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ بحیثیت مسلمان ہمارا رویہ کیا ہے۔ کسی نے محمدؐ کا نام درود پڑھے بغیر لے لیا تو ہم اْس کو جھڑک دیتے ہیں۔ لیکن اْسی پیغمبرکریم ؐ کا نام یا اْن سے منسوب احادیث اخبارات اور رسائل میں شایع ہوتے ہیں اور جب اخبار یا میگزین پْرانا ہوجاتا ہے اور کچرے کے ڈھیر پر یا غلاظت کے انبار میں شامل ہوتا ہے۔ اْس وقت دل پر ہزاروں چھْریاں چلتی ہیں، سینہ چھلنی ہوجاتا ہے اور پورا وجود زخمی معلوم ہوتا ہے جب اسلام سے نسبت رکھنے والے مقدس نام یہاں تک کہ خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کی تصاویر پر آوارہ کتے پیشاب پھیرتے ہیں۔
جمعہ کو جب میں مسجد سے لوٹ رہا تھا تو اخبار میں لپٹا ہوا کچھ دیکھا، میں کچرا سمجھ کر اپنا ہی راستہ لیتا لیکن اخبار پر قرانی ایات اور خانہ کعبہ کی نمایاں تصویر نے میری توجہ اُس طرف کھینچ لی۔ میںنے پیکٹ اُٹھایا تو دیکھا کہ اس میں بچوں کے استعمال شدہ ڈائپر لپیٹ کر پھینکے گئے ہیں۔ میں نے اخبار کو اُٹھا کر صاف کیا اور اسے پانی سے دھونے کی کوشش کی۔ لیکن شہر شہر، بستی بستی کچرے اور غلاظت کیڈھیروں میں ہزاروں ایسے اخبار اور رسائل موجود ہیں جن پر قرانی تحریریں، ہمارے مقدس مقامات کی تصویریں اور ہمارے اسلام کے نام شایع ہیں۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے کے اندر خود اپنے اسلاف کی علامت، دین کے مقدس مقامات اور قران کی تقدیس اور تکریم کا شعور نہیں ہے اور ہم گلا پھاڑ پھاڑ کر ’’سازشوں‘‘ کے خلاف مجمع گرماتے پھرتے ہیں۔
قران اور احادیث بے شک دین کا بنیادی ٹیکسٹ ہیں۔بعض مضامین میں اُن کے حوالے دینا ضروری بھی ہوتا ہے۔ لیکن براہ راست قرآنی ایات اور احادیث نقل کرنا اور مقدس مقامات کی تصویریں چھاپنا بعد میں ہمارے دینی ورثے کی ایسی بے حرمتی پر منتج ہوجاتا ہے جس کا ارتکاب اغیار نے نہیں بلکہ ہم نے خود کیا ہوتا ہے۔
اسلام کوئی برانڈ نہیں ہے کہ ہر جگہ تصویریں لگائی جائیں۔ اگر واقعی اْمت توہین ِ اسلام کے تئیں اس قدر حساس ہے، تو اخبارات اور رسائل میں اس طرح کے مواد کو شایع کرنے سے احتراز کیا جائے۔ اور اگر بہ سبب مجبوری کبھی کوئی چیز شایع بھی ہوئی تو براہ کرم اس قدر بے حِسی کا بھی مظاہرہ نہ کریں کہ ہماری دینی علامات کو پیروں تلے روندا جائے۔
محرم الحرام کے متبرک ایام بھی چل رہے ہیں۔ میں نے اکثر دیکھا ہے کہ پرچم اور بینر عاشورہ اور میلاد کے سلسلے میں بنتے ہیں۔ لیکن بعدمیں جب وقت گزرتا ہے تو کارخانوں میں یہ پرچم اور بینر صفائی کے کام میں لائے جاتے ہیں۔ مسلمانوں پر فرض ہے کہ ایسے اخبارات ، جریدے یا رسائل، جھنڈے، بینر یا کتبے پہلی فرصت میں محفوظ کریں جن پر مقدس تحریر یا تصویر ہو۔
ظاہر ہے عوام کی اکثریت مذہب کے متن اور علامات سے ہی اپنی شناخت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اس میں کوئی حرج بھی نہیں۔ لیکن سماج کا اجتماعی شعور بالغ ہونا چاہیے۔ اگر ہم اپنی تہذیب اور اپنے دین کے بارے میں کسی شرپسند کی گستاخی پر ہنگامہ کرسکتے ہیں، تو کم از کم اپنے گریبان میں جھانک بھی سکتے ہیں۔ یہ سوال ہمیں خود سے ہی پوچھنا ہوگا کہ کہیں ہم خود ہی اپنے دین کے اولین گستاخ تو نہیں؟۔
رابطہ۔ 9469679449