دنیا میں ترقی حاصل کرنے والی قوم ہمیشہ اچھے اخلاق کی مالک ہوتی ہے ۔اخلاق دنیا کے تمام مذاہب کا مشترکہ باب ہے جس پر کسی کا اختلاف نہیں۔ انسان کی عقل جب تک اس کے اخلاقی رویہ کے ما تحت کام کرتی ہے، تمام معاملات ٹھیک چلتے ہیں لیکن جب اس کے کمترنفسانی جذبات اس پر غلبہ پالیتے ہیں تویہ نہ صرف اخلاقی وجود سے ملنے والی روحانی توانائی سے اِسے محروم کردیتے ہیں ، بلکہ اس کی عقلی استعداد کو بھی کند کر دیتے ہیں اور معاشرہ انسان نما درندوں کا منظر پیش کرنے لگتا ہے۔
انسان کی اخلاقی حس اسے اپنے حقوق اور فرائض سے آگاہ کرتی ہے۔جب تک یہ اخلاقی حس لوگوں میں باقی رہتی ہے وہ اپنے فرائض کو ذمہ داری سے ادا کرتے ہیںاور جب یہ حس مردہ ہو جاتی ہے تو پورے معاشرے کو مردہ کر دیتی ہے اورظلم و فساد عام ہوجاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں پہلے معاشرہ کمزور اور پھر تباہ ہوجاتا ہے۔انسان کو جانوروں سے ممتاز کرنے والی اصل چیزاخلاق ہی ہیں۔مثلاً جب کسی جانور کو بھوک لگتی ہے تو اس کیلئے حلال و حرام اور جائز و ناجائز کا کوئی سوال نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس ایک انسان زندگی کے ہر معاملے میں کچھ مسلمہ اخلاقی حدود کا لحاظ رکھتا ہے۔وہ جب اپنی کسی ضرورت کو پورا کرنا چاہتا ہے تو اس کی اخلاقی حس اسے خبردار کرتی ہے کہ وہ اپنی ضرورت کیلئے کوئی غلط راستہ اختیار نہیں کرسکتا۔ تاہم جب انسان کی اخلاقی حس کمزور ہوجاتی ہے تو وہ صحیح اور غلط کی تمیز کھونے لگتا ہے۔ وہ ایک جانور کی طرح اپنی ضرورت کیلئے ہر جائز و ناجائز راستہ اختیار کرلیتا ہے۔
قوموں کی تاریخ پر نظر رکھنے والے معروف عالم ابن خلدو ن اپنی شہرئہ آفاق کتاب ’’مقدمہ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ دنیا میں عروج و ترقی حاصل کرنے والی قوم ہمیشہ اچھے اخلاق کی مالک ہوتی ہے ، جبکہ برے اخلاق کی حامل قوم زوال پذیر ہوجاتی ہے۔اخلاقی بگاڑ کا بنیادی سبب دنیا پرستی کی وہ لہر ہے جس میں لوگ وقتی مفاد کے آگے ہر چیز کو ہیچ سمجھتے ہیں۔دنیا جتنی حسین آج ہے اتنی کبھی نہیں تھی۔ خصوصاً جن سہولتوں تک ایک عام آدمی کی پہنچ آج ممکن ہے ، وہ پہلے کبھی ممکن نہ تھی ۔ان سہولتوں کے حصول کیلئے مال چاہئے اور جب انسان کا سب سے بڑا مسئلہ مال و دنیا بن جائے،وہ اپنے مفادات کی خاطر اخلاقی اقدار سے چشم پوشی شروع کردیتا ہے۔ جب کبھی کوئی اخلاقی قدر حصول زر کے عمل میں رکاوٹ بنتی ہے تو وہ اسے اہمیت نہیں دیتا۔ رفتہ رفتہ اس کا اخلاقی وجود کمزور ہوتا چلاجاتاہے اور ایک روزدم گھٹ کر مرجاتا ہے۔
انسانوں کے اخلاقی وجود کی موت کے بعد زمین فساد سے بھر جاتی ہے۔ رشوت و بدعنوانی کا باعث یہی ہے۔ظلم و ناانصافی اسی کی پیداوار ہے۔ خیانت و بددیانتی یہیں سے پھوٹتی ہے۔ ملاوٹ و جعلسازی اسی طرح جنم لیتی ہے۔جھوٹ اور دروغ گوئی اسی کا نتیجہ ہے۔غرض دنیا پرستی اخلاقی زندگی کی عمارت کے ہر ستون کو دیمک کی طرح کھاجاتی ہے۔خاص طور پر نوجوان جو کسی بھی قوم کی امیدوں کا مرکزو محور ہوتے ہیں اور بلند مقاصد کیلئے قربانی دینے میں سب سے آگے ہوتے ہیں، جب ان کی منزل صرف مادی منفعتوں کا حصول بن جائے تو اس سے بڑا سانحہ کوئی نہیں ہوسکتا۔ بدقسمتی سے ہمارے ساتھ یہ سانحہ بھی ہورہا ہے۔
انسانی زندگی میں اخلاق حسنہ کو جو اہمیت حاصل ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں اور اس کی اہمیت و افادیت سے کسی کو بھی انکار نہیں ہوسکتا۔ اچھے اور عمدہ اوصاف و ہ کردار ہیں جس کی قوت پر قوموں کے وجود، استحکام اور بقا کا انحصار ہوتا ہے۔معاشرہ کے بنائو اور بگاڑ سے قوم براہ راست متاثر ہوتی ہے۔ معاشرہ اصلاح پذیر ہو تو اس سے ایک با صلاحیت قوم وجود میں آتی ہے اور اگر معاشرہ بگاڑ کا شکار ہو تو اس کا فساد قوم کو گھن کی طرح کھا جاتا ہے۔جس معاشرہ میں اخلاق ناپید ہوں وہ کبھی مہذب نہیں بن سکتا، اس میں کبھی اجتماعی رواداری، مساوات،اخوت اور باہمی بھائی چارہ پروان نہیں چڑھ سکتا۔ جس ماحول یا معاشرہ میں اخلاقیات کی کوئی قیمت نہ ہو اور جہاں شرم و حیاء کے بجائے اخلاقی باختگی اور حیا سوزی کو منتہائے مقصود سمجھا جاتا ہو اْس قوم اور معاشرہ کا صفحہ ہستی سے مٹ جانا یقینی ہوتا ہے ۔
اسلام میں ایمان اور اخلاق دو الگ الگ چیزیں نہیں ہیں۔ ایک مسلمان کی پہچان ہی اخلاق سے ہے۔یہ ہوہی نہیں سکتاکہ ایک مسلمان ایمان کا تو دعویٰ کرے مگر اخلاقیات سے عاری ہو۔ ایمان و عبادت کے درست ہونے کی عملی نشانی صحتِ اخلاق ہے بلکہ اسلامی عبادات و تعلیمات کا لب لباب اخلاق کو سنوارنا اور نکھارنا ہے جس کی تائید نبی کریمؐکے اس ارشاد گرامی سے ہوتی ہے ’’مسلمانوں میں کامل ترین ایمان اس شخص کا ہے جس کا اخلاق سب سے بہتر ہو‘‘ ۔ایک اور حدیث مبارک ہے’’تم میں بہتر وہ ہے جو تم میں اخلاق کے ا عتبار سے بہتر ہے‘‘۔ اخلاق کیا ہیں ؟ نبی کریم ؐ نے اس کی تربیت دیتے ہوئے فرمایا ’’اخلاق یہ ہیں کہ کوئی تمہیں گالی دے تو تم جواب میں اس کو دعا دو،یعنی گالی کا جواب گالی سے نہیں بلکہ دعا اور اچھے الفاظ سے دو۔ جو تمہیں برا کہے تم اس کو اچھا کہو، جو تمہاری بد خوئی کرے تم اس کی تعریف اور اچھائی بیان کرو، جو تم پر زیادتی کرے تم اسے معاف کر دو‘‘۔
یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اخلاقی بگاڑ آج ہماری زندگی کے ہر شعبے میں داخل ہو چکا ہے۔ معاملہ عبادات کا ہو یا معاملات کا، حقوق و فرائض ہوں یا تعلیم و تربیت، امانت، دیانت، ایفائے عہد، فرض شناسی اور ان جیسی دیگر اعلیٰ اقدار کا ہم میں فقدان پایا جاتا ہے۔کرپشن اور بدعنوانی ناسور کی طرح معاشرے میں پھیلی ہوئی ہے۔ ظلم و ناانصافی کا دور دورہ ہے۔لوگ قومی درد اور اجتماعی خیر و شر کی فکر سے خالی اوراپنی ذات اور مفادات کے اسیر ہوچکے ہیں۔ یہ اور ان جیسے دیگر منفی رویے ہمارے مزاج میں داخل ہوچکے ہیں۔یہ وہ صورتحال ہے جس پر ہر شخص کف افسوس ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ایسے میں ضروری ہے کہ اس مسئلے کا تفصیلی جائزہ لے کر ان عناصر کی نشان دہی کی جائے جو ہمارے اجتماعی بگاڑ کا سبب بن رہے ہیں۔البتہ اس سے قبل یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ دنیوی اعتبار سے اخلاقی اقدار کی قدر وقیمت کوواضح کیاجائے تاکہ یہ اندازہ ہوسکے کہ اگر ہم نے اصلاح کی کوشش نہ کی تو اس کے کتنے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔
اخلاق کسی بھی قوم کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتی ہو۔ خوش اخلاقی کو پسند تو ہر کوئی کرتا ہے لیکن اس پر از خود عمل بہت کم کیا جاتا ہے۔ہم لوگ اپنے ہر معاملے میں خاص طور پر ملنے جلنے کے معاملات میں انا کو سامنے رکھتے ہیں جو ہمارے اخلاق کی دھجیاں اڑا دیتا ہے۔رشتے داروں کے ساتھ معاملات ہوں یا دفاتر میں میل جول کو لیجیے ہر جگہ لوگ خوش اخلاقی سے بے بہرہ نظر آتے ہیں۔خوش اخلاقی سے مراد ہے کہ بات کریں تولہجے میں نرمی ہو، چہرے پہ مسکراہٹ سجی رہے، دوسروں کے ساتھ ادب و احترام سے پیش آئیں۔ نفرت کا جواب بھی محبت سے دیں۔خوش اخلاقی اگر فطری طور پر آپ میں موجود ہے تو یہ اللہ کی طرف سے ایک نعمت ہے لیکن اگر قدرتی طور پر یہ نعمت موجود نہیں تو اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کرنے کی صلاحیت انسان کو دے رکھی ہے۔سب سے پہلے انسان کو اپنے نفس پر قابو پانے کی کوشش کرنی چاہئے۔مثال کے طور پر انسان کو غصے کی حالت میں خود پر قابو پانا چاہئے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ایک معیار قائم ہو تو پھر ہمیں خوش اخلاقی کی صفت کو اپنے اندر پیدا کرنا ہو گا۔یہ صفت اپنے اندر پیدا کرنا مشکل کام نہیں ہے۔ اس خوبی کو اپنانے کیلئے ایک شخص کو دوسرے شخص سے حسد نہیں کرنا ہے۔ خواہشات کے پیچھے ہر وقت نہیں دوڑنا ہے۔اپنی زندگی میں آنے والی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو ہی بھرپور انداز سے اپنا لینا چاہئے۔
آئیے آج ہم بھی یہ عہد کریں اپنے آپ کو بہتر بنانے کیلئے ہم لوگ خود کو وقت دیں۔ اپنے کردار میں تبدیلی لانے کے بارے میں سوچیںتاکہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہو جائیں۔