مرکزی زیر انتظام علاقے جموں و کشمیر کیلئے اب پانچ زبانوں کو سرکاری زبانوں کا درجہ دیا گیا ہے جن میں کشمیر ی اور ڈوگری زبانیں بھی شامل ہیں جو دو صوبوں میں بولی جانے والی علاقائی زبانیں ہیں۔ ان کے ساتھ ہندی اور انگریزی کو بھی سرکاری زبانوں میں شامل کیا گیا ہے۔اس سے پہلے لداخ سمیت ریاست جموں و کشمیر کی سرکاری زبان اردو تھی لیکن اس کی سرکاری زبان کی حیثیت عملی طور پر بہت پہلے ختم ہوگئی تھی اور اس کی جگہ غیر اعلانیہ طور پر انگریزی کوسرکاری زبان کی حیثیت حاصل ہوگئی تھی ۔ سارا سرکاری کام کاج اسی زبان میں ہوتا تھا اور اردو زبان میں لکھی گئی کسی سائل کی درخواست بھی قبول نہیں کی جاتی تھی ۔یہ تبدیلی بیروکریسی میں غیر ریاستی افسران کے غلبے کے بعد پیدا ہوئی ۔ چونکہ وہ اردو نہیں جانتے تھے ،اس لئے سرکاری کام کاج میں اس زبان کی جگہ انگریزی کا استعمال شروع ہوا جس نے رفتہ رفتہ سرکاری زبان کی حیثیت حاصل کی ۔اسی کا نتیجہ یہ تھا کہ عوام اور حکومت کے درمیان وہ دوریاں اور زیادہ وسیع ہوگئیں جو پہلے سیاسی وجوہات کی بناء پر موجود تھیں۔ان دوریوں کو کم کرنے کی واحد صورت یہی تھی کہ سرکار ی انتظامیہ اور عوام کے درمیان قریبی رابطہ ہو لیکن یہ رابطہ سرے سے ہی کٹ کر رہ گیاکیونکہ پوری ریاست میں عام لوگوں کی زبان اردو ہے ۔ انگریزی صرف ایک مخصوص طبقے تک محدود تھی ۔آج بھی یہی صورتحال ہے ۔اب انگریزی جاننے والوں میں پڑھے لکھے نوجوانوں کا اضافہ ضرور ہوا ہے لیکن عوام کی اکثریت کی زبان اب بھی ارد و ہی ہے ۔پچھلی دو دہائیوں سے کشمیر اور جموں دونوں صوبوں میں ہندی پڑھنے والوں میں خاصا اضافہ ہوا ہے لیکن وہ اس کے باوجود بھی اردو سے الگ نہیں ہوئے ہیں ۔اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اردو جموں و کشمیر کے لسانی ، مذہبی ، نسلی اور بہت ساری گروہی اکائیوں کے درمیان رابطے کی زبان ہے اور کسی دوسری زبان کیلئے یہ حیثیت حاصل کرنا بہت مشکل ہے ۔پانچ زبانوں کو سرکاری زبانوں کی حیثیت دیکر مقامی زبانوں کشمیری اور ڈوگری کو ضرور ترقی کے مواقع میسر ہو سکیں گے لیکن یہ زبانیں نہ تہذیبوں اور نہ ہی نسلوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ سکیں گی ۔انگریزی بھی رابطے کی زبان اس وقت تک نہیں بن سکتی جب تک نہ خواندگی کی شرح سو فیصد ہو یہ ابھی ایک صدی تک بھی ممکن نہیں ہوسکتا ۔ ہندی رابطے کی زبان تو بن سکتی ہے لیکن اس کے لئے بھی طویل عرصہ درکار ہوگا جب تک نہ پوری آبادی یہ زبان سیکھ سکے۔تب تک لوگوں کے درمیان رابطے کا جو شگاف پیدا ہوگا وہ اور کتنے مسائل پیدا کردے گا اس کا اندازہ کرنا بھی مشکل ہے ۔
کشمیری اور ڈوگری دونوں اب مرتی ہوئی زبانیں ہیں ۔جن علاقوں میں یہ زبانیں بولی جاتی ہیں ،ان کے باشندوں کی تہذیب اور شناخت ان زبانوں سے ہی ہے لیکن وہ خود ان زبانوں کو پسماندگی کی علامت سمجھ کر ترک کررہے ہیں۔ کشمیری زبان پانچ ہزار سال پرانی ہے ۔اس کے مقابلے میں اردو چند سو سال پہلے پیدا ہونے والی زبان ہے ۔ کشمیری میں لٹریچر کا ایک بہت بڑا خزانہ موجود ہے لیکن اس زبان کی بدقسمتی کہ اس کے بولنے والوں میں اس کے رسم الخط پر کبھی اتفاق رائے پیدا نہیں ہوسکا ۔فارسی رسم الخط اس کے لہجے سے میل نہیں کھاتا لیکن جب بھی رسم الخط کو تبدیل کرنے کا سوال اٹھا اپنے وقت کے کشمیری سکالروںنے اس کی شدید مخالفت کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یہ زبان ایک مستند علمی زبان نہ بن سکی اور پھر وہ وقت آیا کہ کشمیریوں نے اسے اپنے گھروں سے نکال باہر کر کے اردو کو گلے لگایا ۔جو لو گ کہتے ہیں کہ کشمیری اپنی انفرادیت اور اپنی تہذیب کے ساتھ بے پناہ محبت کرتے ہیں وہ جھوٹ بولتے ہیں اس کا ثبوت یہی ہے کہ کشمیری اپنی زبان سے بھی محبت نہیں کرتا اور زبان ہی تہذیب ، ثقافت اور انفرادیت کی بنیاد ہوتی ہے ۔جس کو کشمیری تہذیبی انفرادیت کہتا ہے وہ داصل اس کی انا ہے ۔ اردو اب اس کی انا کا ہی مسئلہ ہے ۔ اگر پانچ زبانوں کو سرکاری زبانوں کا درجہ دینے کے پیچھے یہ سوچ کار فرما ہے کہ کشمیر سے اردو کا خاتمہ کردیا جائے تو یہ مقصد کبھی پورا نہیں ہوسکتا کیونکہ کشمیری انگریزی بھی پڑھے گا ، ہندی بھی سیکھے گا مگر اردو کو کبھی نہیں چھوڑے گا ۔وہ اب اردو میں ہی ریڈی بھی لگاتا ہے ۔ کیلے اور سیب بھی اردو میں ہی بیچتا ہے اور بچوں کو بھی اردو میں ہی بلاتا ہے ۔اس میں شک نہیں کہ اردو ایک بہت ہی میٹھی زبان ہے لیکن ہندوستان میں یہ زبان اب زوال پذیر زبان ہے ۔اردو میں عام طور پر اس وقت جو کتابیں سٹالوں پر ہوتی ہیں ان میں زیادہ تر ’’ قبر کا عذاب ‘‘ ۔ مرنے کے بعد کیا ہوگا ‘‘۔’’ الف لیلیٰ کی داستاں ‘‘ اور شاعری کی کچھ کتابیں ہوتی ہیں ۔جدید دور کے علمی تقاضوں کو اب یہ زبان پورا نہیں کرتی ۔ان تقاضوں کو صرف انگریزی زبان ہی پورا کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا کے صرف چند ایک ملک ہی انگریزی کے بغیر گزارا کررہے ہیں جن کی اپنی زبانیں کافی ترقی یافتہ بن چکی ہیں ۔ہندوستان میں کوئی ایسی زبان نہیں جو انگریزی کی جگہ لے سکے اس لئے نہ چاہتے ہوئے بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت بھی زہر کا یہ گھونٹ پینے کے لئے مجبور ہے لیکن وہ ہندی کو جبری طور پر یہ مقام دلانے کی دھن میں زبانوں کا وہ مسئلہ کھڑا کررہی ہے جو رفتہ رفتہ بہت سارے نئے مسائل کو کھڑا کردے گا جنہیں بعد میں حل کرنا ممکن نہیں ہوگا ۔
جموں کشمیر میں ڈوگری اورکشمیری کو سرکاری زبانوں کا درجہ دئیے جانے کے بعد سکھوں اور گوجروں نے شدت کے ساتھ سڑکوں پر آکر پنجابی اورگوجری کو بھی سرکاری زبانوں کا درجہ دینے کیلئے ایجی ٹیش شروع کردی ہے ۔سکھوں کا کہنا ہے کہ پنجابی ایک مقبول اور مشہور زبان ہے اور سابق مہاراجہ ہری سنگھ نے اسے سرکاری زبان کا درجہ دیا تھا ۔ ایسی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ نہ دیکر بڑا ظلم کیا گیا چنانچہ جب تک اس زبان کو سرکاری زبان کا درجہ نہ دیا جائے وہ چین سے نہیں بیٹھیں کے ۔گوجروں کی دلیل یہ ہے کہ گوجری جموں کشمیر کی دوسری سب سے زیادہ بولے جانے والی زبان ہے اس لئے یہ سرکاری زبان کا درجہ حاصل کرنے کا حق رکھتی ہے ۔پہاڑی طبقہ بھی پہاڑی زبان کے لئے حساس ہے اس لئے وہ بھی یقینی طور پر یہ مطالبہ لیکر سامنے آئیں گے ۔اس کے بعد نہ جانے کون کون سا طبقہ اور قبیلہ ایسا مطالبہ لیکر سرکار کے پاس جائے گا ۔پھر مسئلہ یہ ہوگا کہ کتنی زبانوں کو سرکاری ز بان کا درجہ دیا جائے ۔کشمیری او ر ڈوگری تو خیر بر وزن شعر کی مانند سرکاری زبانوں کا درجہ حاصل کرگئیں اصل میں ہندی کو سرکاری زبان بنانے کا معاملہ تھا تاکہ انگریزی کے ساتھ ایک قومی زبان جموں و کشمیرمیں رائج ہو ۔ ہندی اردو کی ہی بہن کا نام ہے اور ہندوستان کے کئی علاقوں میں ہندی کے نام پر اردو ہی دیوناگری رسم الخط کے ساتھ رائج ہے لیکن جموں کشمیر کے لوگوں کا رحجان اس زبان کے ساتھ آج تک نہیں رہا ہے ۔ جموں کے ہندو بھی ہندی کے ساتھ لگاو نہیں رکھتے اس لئے آج تک تمام کوششوں کے باوجود بھی ہندی کو قبولیت کا شرف حاصل نہیں ہوسکا ہے۔جموں کے لوگ اردو سیکھیں یا نہ سیکھیں وہ اردو بولتے ہیں اور اردو کی شاعری ان کی زبان کی نوک پر ہوتی ہے ۔ہر زبان کا اپنا ایک مزاج ہوتا ہے اور وہ ان لوگوں میں خود بخود مقبول اور معروف ہوجاتی ہے جن کا مزاج اس کے ساتھ میل کھاتا ہو ۔جموں کشمیر کے لوگو ں کا مزاج ہندوستان کی دوسری ریاستوں کے لوگوں کے مزاج سے مختلف ہے شاید اسلئے کہ یہ خطہ بہت خوبصورت ہے ۔ فطری حسن سے مالا مال اس خطے کے لوگ بھی فطرتاً نرم و نازک ہے اس لئے اردو کی نزاکت سے ان کا مزاج میل کھاتا غیر فطری نہیں ۔ہندوستان میں اگرچہ ارد و ایک زوال پذیر زبان ہے لیکن دنیا بھر میں بولی جانے والی یہ زبان ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ معتبر اور مقبول بن رہی ہے ۔اس لئے اس بات کے بہت کم امکانات ہیں کہ ہندی اور انگریزی جموں و کشمیر میں اردو کوپچھاڑ دے گی لیکن اس سے جو مسئلہ پیدا ہوگا وہ انتہائی گھمبیر اور دور رس نتائج کا حامل مسئلہ ہے ۔ڈوگری اب کوشش کرے گا کہ اس کی نئی نسل ڈوگری میں ہی تعلیم کے مدارج طے کرے کیونکہ سرکار ی زبان کا درجہ ملنے کے بعد اس کے لئے اپنی زبان میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد آگے بڑھنے کے مواقع گھلے رہیں گے ۔وہ کسی اور زبان کی طرف دھیان دینے کی کوئی وجہ اس کے لئے باقی نہیں رہے گی ۔ اس لحاظ سے یہ اس کے لئے اچھا ہے کہ مادری زبان کی تعلیم شخصیت کی تعمیر میںبھی کافی مددگار ثابت ہوتی ہے اور فکری مدارج طے کرنے میں بھی ۔کشمیری ایسا نہیں کرے گا ۔ وہ کشمیری میں تعلیم حاصل نہیں کرے گا ۔ اس لئے اسے مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کے فواید حاصل نہیں ہوسکیں گے وہ اردو اور انگریزی کے درمیان لٹکتا رہے گا ۔گوجری اور پہاڑی بھی زبانوں کے درمیان بھٹکتا رہے گا ۔سب سے بڑا المیہ تو یہ ہوگا کہ یہ تمام لسانی فرقے ایک دوسرے سے کٹ جائیں گے ۔ایک دوسرے کے ساتھ ذہنی اور جذباتی مطابقت پیدا کرنے کا اصل ذریعہ ختم ہونے کے بعد ان کے راستے الگ ہوجائیں گے ۔ ایک دوسرے کے ساتھ یہ دوریاں اگر زیادہ بڑھ گئی تو ایک دوسرے کے خلاف نفرتوں کے جذبے بھی ابھر سکتے ہیں جو جموں کشمیر کی مزید تقسیم کا باعث بھی ہوسکتے ہیں ۔خدا کرے کہ ایسا نہ ہو لیکن اس کے امکانات موجود ہیں ۔مختصر یہ کہ جموں وکشمیر کی ریاست کی حیثیت ختم ہونے اور یو ٹی بن جانے کے بعد ایسے فیصلے ہورہے ہیں جن میں دور اندیشی اور دور بینی کا کوئی عنصر نظر نہیں آرہا ہے ۔ ایک طرف سیاسی بد اعتمادی اور بے یقینی پنپ رہی ہے اور اب دوسری طرف زبانوں کے انتشار کا مسئلہ کھڑا ہوچکا ہے یہ مسئلہ سیاسی مسائل کو اور زیادہ الجھانے کا بھی باعث بن سکتا ہے ۔ اس سے پہلے کہ مسائل بڑھنے کا سلسلہ شروع ہو مرکزی حکومت کو ایک بار پھر اس فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہئے اور جموں و کشمیر کے عوام کی رائے بھی جان لینی چاہئے ۔ عوام کی رائے کو بنیاد بنا کر جو بھی فیصلہ کیا جائے وہ پائیدار بھی ہوگا اور بہتر بھی ۔امید کی جاسکتی ہے کہ مرکزی سرکار اس معاملے کو سنجیدگی سے لیکر اس اقدامات کرے گی ۔