گزشتہ ہفتے قومی اعدادوشمار کے دفتر (این ایس او) نے رواں مالی سال کے پہلے سہ ماہی کے جی ڈی پی یعنی کل مجموعی پیداوار کے اعداد و شمار جاری کر دئے ۔ ان جاری کردہ اعداد و شمار سے صاف ہے کہ معاشی ترقی کا پہیہ الٹی سمت میں گھوم رہا ہے۔معیشت پر کسادبازاری کے کالے بادل منڈلا رہے ہیں۔
مالی سال 2020-21کے پہلی سہ ماہی (اپریل تا جون)کی مدت میںجی ڈی پی میں ترقی کی شرح منفی23.9 درج کی گئی ہے۔ گو کہ مختلف ایجنسیوں نے پہلے ہی کووِڈ۔19 کی وجہ سے جی ڈی پی کی شرح نمو میں تخفیف کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ تاہم اس شرح میں اتنی غیر معمولی گراوٹ بالکل غیر متوقع تھی۔جی ڈی پی کے یہ اعداد و شمار ملک کو گہری فکر میں مبتلا کر رہے ہیں۔
غورطلب ہے کہ مالی سال 2018-19 کی پہلی سہ ماہی میں 7.1فیصد، دوسری میں 6.2، تیسری میں 5.6 اور چوتھی سہ ماہی میں یہ شرح نمو 5.7 فیصدی درج کی گئی ہے۔ وہیں مالی سال 2019-20 کی پہلی سہ ماہی میں یہ شرح 5.2 اور دوسری میں 4.4، تیسری میں 4.1، اور چوتھی میں 3.1 فیصدی درج کی گئی ہے۔ اس طرح جی ڈی پی کی شرح نمو گزشتہ آٹھ سہ ماہیوں سے لگاتار گر رہی ہے جو اب مزید گر کر منفی23.9 فیصدی پر پہنچ گئی ہے۔
زرعی سیکٹر…اکیلا امید کی کرن
جی ڈی پی گراس ڈومیسٹک پروڈکٹ یا مجموعی ملکی پیداوار کا مطلب یہ ہے کہ ایک ملک میں ایک مالی سال میں کل کتنی پیداوار ہوئی ہے۔ مطلب یہ کہ پورے ملک میں جو کچھ بھی مال و اشیاء بنائی جا رہی ہے، جتنے بھی خدمات فراہم کئے جا رہے ہیں، جو کوئی بھی جتنی آمدنی کر رہا ہے، اس سب کی مالی اقدر کا کل مجموعہ۔
اب چونکہ آمدنی کا حساب کتاب آسان کام نہیں ہے۔ لہٰذا آمدنی کا تخمینہ کرنے کے لیے اخراجات کا حساب کتاب کرنا ایک آسان طریقہ ہے۔ اس طرح کسی بھی چیز کو خریدنے پر ہونے والے کل اخراجات ملک کی جی ڈی پی ہے۔ اس میں ہونے والے اضافے کو جی ڈی پی کی ترقی کی شرح کہتے ہیں اور یہی ملک کی نمو یا ترقی کو جاننے کا پیمانہ ہے۔
جی ڈی پی کے ان اعداد و شمار کو کئی سیکٹرز کی بنیاد پر الگ لگ کر کے دیکھنے سے تصویر اور زیادہ صاف ہوتی ہے۔ ملک کی جی ڈی پی مجموعی طور پر آٹھ سیکٹروں(صنعتوں) پر منحصر ہوتی ہے۔ یہ سیکٹر زراعت، فارسٹری اور ماہی پروری،مائننگ اور کان کنی، مینوفیکچرنگ، بجلی، گیس، پانی کی فراہمی اور دیگر عوامی خدمات؛ تعمیرات، ٹریڈ، ہوٹل، ٹرانسپورٹ اور کمیونی کیشن اور براڈکاسٹنگ کی دوسری خدمات،فائینانسنگ، رِئیل اسٹیٹ اور بزنس سروسزاور پبلک ایڈمنسٹریشن، ڈیفنس اور دیگر خدمات ہیں۔
این ایس او کے ان اعداد و شمار کے مطابق تعمیرات، مینوفیکچرنگ اور تجارت، ہوٹل اور ٹرانسپورٹ سیکٹر سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں بالترتیب منفی 50.3 فیصد، 39.3 فیصد اور 40.7 فیصد کی گراوٹ آئی ہے جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔اچھی بات یہ ہے کہ زراعت کے شعبے میں شرح نمو بڑھ رہا ہے۔ پچھلے مالی سال2019-20 کی پہلی سہ ماہی میں یہ شرح 3 فیصدی تھی جو اس سال بڑھکر 3.5 فیصدہو گئی۔ اس شرح نموکے اضافے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ لاک ڈاؤن کے سبب شہروں سے گاؤں کی طرف مزدوروں کی الٹی نقل مکانی ہوئی۔ وہ مزدور جو روزی روٹی کی تلاش اپنے اپنے دیہی علاقوں کو چھوڑ کر شہروں کی طرف آئے تھے، لاک ڈاؤن کی وجہ سے انکو اپنے گاؤں میں پھر سے منتقل ہونا پڑا۔ ان میں سے زیادہ تراپنے گاؤں میں زراعت اور زراعت سے متعلق کاموں میں لگ گئے۔ ظاہر ہے اسکے زراعت کے شعبہ پر مثبت اثرات مرتب ہونے تھے اور وہ ہوئے بھی۔زراعت سیکٹر میں شرح نمو میں اس دوران اضافہ درج کیا گیا۔
ملکی معیشت میں زراعت کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ روزگار فراہم کرنے والا سب سے بڑا شعبہ ہے۔ ملک کے سب سے زیادہ لوگ، تقریباً 53 فیصدی اسی شعبے سے منسلک ہیں۔ اس سیکٹر کی شرح نمو میں اضافہ ایک اچھی بات ہے۔ وہیں یہ ایک بہت بڑا چیلنج بھی ہے کہ آنے والے ماہ و سال میں اس نمو کو کیسے برقرار رکھا جائے اور کیسے اس میں اضافہ کیا جائے۔
اعتماد و یقین کا چیلنج
پیداوار اور سرمایہ کاری میں بالکل سیدھا رشتہ ہے۔ کوئی بھی کاروباری، تاجر یا سرمایہ دار سرمایہ کاری تبھی کرے گا جب اس کو امید ہوکہ اسکی مصنوعات و اشیاء بازار میں فروخت ہوسکے گی اور اسے منافع حاصل ہو گا۔ مطلب یہ کہ بازار میں طلب موجود ہو۔
جی ڈی پی کے اعداد ا شمار کا باریکی سے معاینہ کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ یہ تاجرو کاروباری تو چھوڑئے، عوام الناس کے اعتماد پر بھی کڑی ضرب پڑی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عوام میں اس بات کو لیکر عام سمجھداری بن گئی ہے کہ آنے والے دنوں میں معاشی بحران اور کسادبازاری کا ماحول اور گہرا ہو سکتاہے۔ اس کی وضاحت یہ اعداد و شمار کرتے ہیں ۔ مالی سال2019-20 اور 2020-21 کی پہلی سہ ماہی کے ایل آئی سی پریمیم اور صنعتی پیداوار کے اشاریے یا انڈیکس آف انڈسٹریل پروڈکشن (آئی آئی پی) کے اعداد و شمار کا موازنہ کر کے دیکھئے۔ ایل آئی سی پریمیم اور آئی آئی پی با لترتیب 20.9 اور-3.7ہیں۔ جہاں آئی آئی پی میں کمی ہو رہی ہے، وہیں ایل آئی سی پریمیم میں اتنی غیر معمولی بڑھوتری! یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ عوام میں آنے والے دنوں کو لیکر کتنا عدم اعتماد و بے یقینی بڑھتی جا رہی ہی۔ عوام اپنے مستقبل کو لیکر کافی فکرمند ہیں۔
موثر طلب اور کھپت کی گرتی شرح
این ایس او کی جاری کردہ صنعتی پیداواری اور استعمال پر مبنی اشاریوںکے تخمینے ساتھ منیوفیکچرنگ سیکٹر کے اعداد و شمار کا موازنہ کرنے پر یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ ٹکاؤ اشیاء صارفین کا آئی پی پی 77.4 فیصد رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صارفین کی کھپت میں کمی درج کی گئی ہے۔
غورطلب ہے کہ بھارت ایک کھپت پر مبنی معیشت ہے۔ چنانچہ کھپت کی پیداکردہ طلب یا مانگ ہی معاشی پہیہ کو رواں دواں رکھتی ہے۔ طلب ہی شرح نمو کو توانائی بخشتی ہے۔ پرائیوٹ فائنل کنزمپشن ایکسپینڈیچر (پی ایف سی یی) یعنی کل نجی کھپت اخراجات معیشت میں کھپت کی سطح کے بارے میں بتاتاہے۔ مالی سال2019-20 میں پی ایف سی یی کی جی ڈی پی میں 57 فیصد کی حصہ داری تھی۔ مارچ 2020 کی پہلی سہ ماہی میں یہ حصہ داری گھٹ کر 2.7 فیصد رہ گئی ہے۔ واضح رہے کہ حصہ داری میں یہ کمی کورونا وبا کے پہلے ہی سے چلی آ رہی ہے۔ کھپت و طلب میں تخفیف کا اثر سرمایہ کاری پر پڑتا ہے جو لگاتار کم ہوتی جا رہی ہے۔
ظاہر ہے کہ یہ پریشانی کی علامت اس لیے بھی ہے کہ لوگوں کے اخراجات،جسے اقتصادیات کی اصطلاح میں کنزیومر سپینڈنگ کہا جاتا ہے،میںتیزی سے کمی آ رہی ہے۔ یعنی لوگ سامان نہیں خرید رہے ہیں، لوگ اخراجات میں کٹوتی کر رہے ہیں۔ نتیجتاً اگر لوگ خرچ نہیں کریں گے تو سامان فروخت نہیں ہوگا۔ اگر سامان فروخت نہیں ہوگا تو اسے بنانے والی کمپنیاں اپنا پروڈکشن بند کر دیں گی جس سے کساد بازاری اور گہری ہو سکتی ہے۔
مالیاتی اقدامات
جی ڈی پی کے تخمینہ میں غیر منظم شعبہ کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ چونکہ اس سیکٹر کے اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں ،اسلئے اسکے تخمینے میں منظم شعبہ کو پروکسی (بدل) کی شکل میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ہندوستان کا غیر منظم سیکٹر بہت ہی بڑا ہے ،اسلئے اصل جی ڈی پی میں گِراو ٹ موجودہ گراوٹ سے کہیں زیادہ ہوگی۔ اسی ضمن میں ہندوستان کے سابق چیف اسٹیٹیشین پرنب سین کا کہنا ہے "سہ ماہی اندازہ لسٹیڈ کارپوریٹ کے کارپوریٹ ڈاٹا پر مبنی ہوتے ہیں۔ ہمیں اندیشہ ہے کہ بڑی کمپنیوں کے مقابلے میں چھوٹی کمپنیوں نے بدتر کیا ہوگا ،اس لیے ہمیں اس نظریہ سے ایک دیگر دور کے از سر نو جائزہ کی امید کرنی چاہیے۔ دوسرا جائزہ تب ہوگا جب غیر رسمی سیکٹر کا ڈاٹا آئے گا اور تب وسیع پیمانے پر جائزہ ہو سکے گا۔"
عیاں ہو کہ جی ڈی پی میں یہ گراوٹ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ دسمبر 2018 تا مارچ 2019 کے درمیان آٹھ سہ ماہیوں میں یہ لگاتار گھٹتی رہی ہے۔ مارچ 2018 میں شرح نمو 8.2 فیصدی سے کم ہو کر مارچ 2020 میں 3.1 فیصدی پر پہنچ گئی تھی۔ البتہ اس کورونا وبا کے دوران ہوا یہ ہے کہ نمو کی اس شرح غیرمعمولی اور غیر متوقع گراوٹ ہوئی ہے۔
جی ڈی پی کے اعداد و شمار کے تجزیے کا کل خلاصہ یہ ہے کہ معیشت کا پہیہ تبھی رفتار پکڑیگا جب کھپت بڑھے گی۔ ویسے بھی ملک کی جی ڈی پی میں کھپت کی تقریباً 60 فیصد کی حصہ داری ہے۔ کھپت تبھی بڑھے گی جب عوام کی جیبوں میں پیسے ہوں گے۔ ان کے پاس قوتِ خرید ہو گی۔ حکومت نے لاک ڈاؤن کی وجہ سے پیدا ہوئے معاشی بحران سے نمٹنے کے لئے کئی پیکیجوں کا اعلان کیا ہے۔ مگر حکومت کے ان اقدامات کے نتائج نہیں نکل رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سارے اقدامات لیکوِڈیٹی (سیالیت) بڑھانے پر مرکوز ہیں نہ کہ طلب یا مانگ بڑھانے پر۔ کھپت بڑھائے بنا معیشت کو سست روی سے باہر نکالنا اور اسکو رفتار دینا تقریباً ناممکن ہے۔
چنانچہ ایسے اقدامات اٹھانے ہونگے جس سے عوام الناس کی قوت خرید میں اضافہ ہو اور نتیجتاً موثر طلب بڑھے۔ اور کاروباریوں اور صنعت کاروں میں اعتماد و بھروسہ بڑھے کہ مستقبل میں بازار میں طلب بڑھے گی ۔اسطرح معیشت کی گاڑی چل نکلے گی۔ ملک ہی نہیں دنیا کی معیشت جب کبھی سست روی اور کساد بازار کی گرفت میں آئی ہے، تب اس سے نکلنے کے لئے کینسزین اکانومکس پر مبنی حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔ اور اسکے مثبت اثرات بھی مرتب ہوئے ہیں۔
غوطے لگاتی جی ڈی پی اور ہچکولے کھاتی معیشت کی سب سے بڑی وجہ طلب میں کمی ہے۔ حکومت کو معیشت میں طلب بڑھانے کے لئے عملی طور پر مالیاتی اقدامات اٹھانے ہونگے۔ اس کے ساتھ زراعت پر فوری توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے قبل اسکے کہ معاشی بحران اور گہرا ہو جائے۔
(مضمون نگار بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر بہار یونیورسٹی، مظفر پور میں معاشیات کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں)
موبائل۔9470425851