انسان کی فطرت نہایت ہی سیدھی اور صاف ہے۔ اسی لیے انسان کو اچھی چیزیں پسند آتی ہیں۔ وہ اگر جھوٹ اور مکاری، بد کرداری و بے حیائی اور ظلم و عدوان کے عالم میں کتنا ہی بد مست ہو لیکن اندر ہی اندر اس کی فطرت حق اور انصاف کی گواہی دیتی ہوتی ہے ۔ ایسی چیزیں جو اُسے فطرت کے قریب لے جاتی ہیں، اُن سے اسے مزہ آتا ہے۔ جنگلات و بیابان بھی انہی چیزوں میں سے ہیں جن کا نظارہ ہی انسان کو ترو تازگی بخشتا ہے۔ جنگلات کے اندر چل کر انسان کی جسمانی حرارت بڑھ جاتی ہے ، روح کو سکون پہنچتا ہے اور دل آرام کی سانسیں لیتا ہے۔
احقر بھی پہاڑ و جنگلات کی سیر کرنے کا بہت ہی مشتاق ہے۔ پہاڑ و جنگلات کی اگر بات کی جائے تو اس میں قدرت نے کشمیر پر خاصا کرم فرمایا ہے۔ صوبائی دفتر برائے جنگلات سرینگر کے شعبہ شماریات کے مطابق صرف کشمیر صوبے میں 51 ؍ فیصد زمینی اراضی جنگلات کے سبز سونے سے مالا مال ہے۔ پورے جموں و کشمیر میں یہ اعزار صرف ضلع کپواڑہ کوہی ہے کہ یہاں پر سب سے زیادہ رقبہ اراضی جنگلات پر مبنی ہے۔ یہاںزمینی ا راضی کا 72 ؍ فیصدحصہ جنگلات پر مشتمل ہے۔ لیکن شورش اور غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے کوئی ان کی جانب چاہ کے بھی نہیں جا سکتا ۔ ہمارے ضلع کپواڑہ کے تقریباً ہر کسی مقام پر شمال کی جانب کئی ساری چوٹیاں نظر آتی ہیں۔ انہی چوٹیوں میں سے ایک چوٹی ڈَٹ (Dutt)کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس چوٹی کے بالکل سامنے ایک پہاڑ کا لمبا سلسلہ ہے، جس کے اوپر کئی ساری چوٹیاں ہے۔ اِن چوٹیوںکے اُس پار سرحدی لکیر ہے ۔
اپنے گھرواقع ڈہامہ میںہر روز میں ان چوٹیوں کا دور ہی سے نظارہ کرتا اور ہر نظارہ حسرت بھری نگاہوں سے پُر ہوتا تھا ۔ کیوںکہ مجھے یہ شوق دیوانہ کر رہا تھا کہ کاش میں بھی کبھی ان چوٹیاں پر پہنچ جائوں ۔ اِدھر سے اس بات کا شکوہ بھی کرتا کہ یہ سب چوٹیاں میرے اپنے دیس کی ہیں، لیکن میں ہی اُن پر پہنچنے سے قاصر ہوں۔ اب کچھ ہفتوں سے بعض نوجوانوں نے ڈَٹ کو چڑھنے کے بعد اس کی خوبصورتی کو سوشل میڈیا پر شیئر کر دیا تھا۔ ہمارے آس پاس کے نوجوانوں میں اس جگہ کا بہت ہی چرچا ہوا۔ اسے پہلے یہ ایک نامعلوم جگہ تھی، لیکن اب سوشل میڈیا کی وساطت سے اس کے چرچے بڑے زوروں پر ہوئے۔ یہ جانے بغیر کہ یہ چوٹی کہاں ہے، کیسی ہے، میرے کچھ دوستوںنے ایک پروگرام بنا دیا، یوں ہم نے بھی ڈَٹ کی جانب روانگی کا پروگرام طے کر دیا۔
ڈَٹ کا پروگرام ہم نے جب پہلے بنا دیا تو اسے دو مرتبہ ملتوی کرنا پڑا۔ ایک بار موسم کی ناسازگاری اور دوسری مرتبہ ہمارے ایک دوست کی مصروفیت وجہ بنی۔ لیکن بالآخر ہم نے 12؍ اگست کو ڈَٹ کو چڑھنے کا پروگرام طے پا کر تیاریاں شروع کردیں۔ ہماری اس ٹیم میں میرے ہی گائوں کے دو اور نوجوان برادر مدثر منظور اور برادر اشفاق میر شامل تھے۔ اس کے علاہ میرے بچپن کے ساتھی برادر دائوو د لون نے ایک اور گائوں کنیل سے پروگرام میں شرکت کی۔ ایک اور دوست جس نے ہمارے ساتھ جوا ئن کیا ،کا نام برادر اشفاق عبداللہ ہے، جو کہ اصل میں کونن کپواڑہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ یونیورسٹی ایام میں ہماری جان پہچان ہوئی تھی۔
دائوود صاحب کو ہم نے اس پروگرام کا انچارج بنادیا۔ انہوں نے اس پروگرام کوتشکیل دے کر ممبران کو مخصوص ڈیوٹیوں پر تعینات کر دیا۔12؍ اگست کی صبح ہم نے ڈہامہ سے سب سے پہلے تارت پورہ کی جانب رخ کر دیا۔ وہاں سے دائوود صاحب نے ساز و سامان خرید کر رکھا تھا ۔ اس کے بعد ہم نے کرالپورہ کی جانب رخ کر دیا۔ اور وہاں سے اشفاق عبداللہ ہمارے ساتھ ہو لیے۔ اسے پہلے کہ ہم باضابطہ ڈٹ کی جانب نکلیں ، ہم نے ایک اور بار تیاریوں کو حتمی شکل دے دی۔ کھانے کے لیے جو سامان ساتھ لایا گیا تھا اس پر خاص طور پر توجہ دی گئی، کیوں کہ ایسے ہی ایک پروگرام میں پچھلی مرتبہ ہم کئی ساری چیزیں دُکان پر ہی بھول چکے تھے۔
اس کے بعد ہم نے راشن پورہ کی طرف رُخ کیا۔ موسم نہایت ہی سہانا تھا، ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ماحول کے حسن کو دو بالا کر رہی تھی، دور سے نظر آرہے پہاڑ اپنی طرف کشش کر رہے تھے۔ راشن پورہ پہنچ کر ہم نے وہیں ایک اسکول کے صحن میں گاڑی پارک کر دی۔ اس کے بعد ہم نے راشن پورہ کے جنگلات کو چڑھنا شروع کر دیا۔ جنگل میں پہنچ کر ہم نے سب سے پہلے جنگل اسمگلنگ اور جنگلات کی بے دریغ کٹائی کا خو ب’’ مشاہدہ ‘‘کیا۔ اس موضوع پر ہماری خاصی بحث و تمحیص ہوئی۔ ایک ساتھی نے اس منظر کو دیکھ کر جنگل ا سمگلروں کے ساتھ ساتھ محکمہ جنگلات کی خوب خبر لی ۔ لیکن دوسرے دوست نے اس پر اپنا اعتراض جتاتے ہوے اپنا نقطہ نظر عام بیانیے سے بالکل مختلف پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہاں پر کئی ساری پس پردہ ایجنسیاں ہمارے جنگلات کا لوٹ مار کر رہی ہیں ، لیکن اس پر کوئی واویلا نہیں کررہا ہے۔ جنگلات کے آس پاس رہنے والے لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کے بجائے جب انہیں بے کاری کے عالم میں دھکیلا جارہا ہو تو وہ اپنی روزی روٹی کہاں سے کما لیں گے؟ جنگلات سے جو لوگ جڑی بوٹیاں نکال رہے ہیں ان کو کوئی پزیرائی نہیں مل رہی ہے۔ میں نے بھی اس بحث میں شرکت کرتے ہوئے دونوں ساتھیوں کے نقطہ ہائے نظریات کو صحیح تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں دونوں طرف سے لاپرواہی اور بے اعتنائی برتی جارہی ہے۔ سبز سونے کی اتنی وسیع کانیں دستیاب ہونے کے باوجود ایک عام کشمیری کے لیے لکڑی حاصل کرنا کارِ درد والا بن چکا ہے۔ پہلے دفتری کاروائی کی کھینچاتانی، اس کے بعد آسمان کو چھوتی قیمتیں، یہ ایک عام آدمی کی حیثیت سے باہر ہوتا جارہا ہے۔ منسلک محکمہ خواب غفلت کا شکار ہے، کیوں کہ ان بڑے بڑے جنگلات کے پلاٹوں میں جس طرح بڑے بڑے درخت موسمی حالات کی وجہ سے خود سے ہی گر جاتے ہیں یا کاٹنے کے لائق ہو جاتے ہیں، اگر انہی درختوں کو کاٹ کر لایا جائے تو معاملہ بہت ہی آسان بن جاتا۔ لیکن اس کے برعکس محکمہ وہی ہری سنگھی پالیسیوںپر قناعت کیے بیٹھا ہے۔ جنگلات سے خاطر خواہ فائدہ اور دوسری طرف انہی جنگلات کی از سر نو ترتیب ، ان سب باتوں سے محکمہ بالکل پرے دکھائی دے رہا ہے۔ اب جہاں تک عام لوگوں کی بات ہے، ان میں محکمہ نے آج تک کتنے پروگرام ایسے کئے گئے جس میں جنگلات کی حفاظت کی خاطر لوگوں کے اندر آگہی پھیلائی گئی ہو۔ اسی طرح، اس صورتحال میں محکمے کے نچلی سطح کے محافظ بھی بے بس دکھائی دے رہے ہیں۔ کیوں کہ جنگل اسمگلنگ ایک جنون اور نشے کا نام ہے۔ ایسے لوگوں کے سامنے محکمے کے محافظ کا نہتا جانا اپنی جان جوکھوں پر ڈالنے کے مترادف ہے۔ جس طرح مشاہدہ کیا گیا ہے، ان پر حملہ بھی ہو سکتا ہے۔ اگر ایسے نہتے محافظ ان اسمگلروں کے آڑے آئیں گے، تو ان کے جان کی حفاظت کی گارنٹی کون دے سکتا ہے۔ اس طرح سے یہ بات عیاں ہوئی کہ جنگل اسمگلنگ کا مسئلہ مختلف جہات کا مسئلہ ہے۔ اس میں کوئی پالیسی تبھی کارگر ہو سکتی ہے، جب ان تمام جہات کو مد نظر رکھا جائے۔ تب تک کسی خیر کی امید رکھنا عبث ہے۔
اسی اثنا میںہم جنگلات ، جو کہ پہاڑی صورت میں ہیں کو چڑھتے گئے۔ آگے ایک جگہ پہنچے، جو کہ چھوٹا سا میدان ہے۔ وہاں سے ایک راستہ جنگلات کے دامن سے گذرتا ہے ۔ میں نے فی الفور اسی راستے کو اپنایا۔ آگے پہنچے تو باقی سب دوستوں نے اس راستے سے واپس مڑنے کو یہ کہتے ہو کہا کہ یہ کوئی غیر معروف راستہ دکھائی دیتا ہے۔ کوئی اور راستہ ڈھونڈنا پڑے گا۔ واپس چھوٹے سے میدان میںپہنچے تو اس راستے کے علاوہ اور کوئی راستہ ہمیں سوجھائی نہیںدیا۔ میں نے اسی اثنا میں موبائل فون کو ہاتھ میں ذرا اوپر کرتے ہوئے اس پر نیٹ ورک لانے کی کوشش کی، لیکن نیٹ ورک نہیں آرہا تھا۔تاہم اس بیچ ایک عجیب و غریب معاملہ ہوا ۔ ہوایوں کہ جب میں نے موبائل کو ہاتھ میں لیے اوپر کیا تو ایک تتلی میرے ہاتھ پر بڑے آرام سے بیٹھ گئی۔ میں نے اس تتلی کا میرے ہاتھ پر بیٹھ جانے کا منظر باقی ساتھیوں کو بھی دکھا دیا۔ اس بات کا احساس ہمیں بعد میں ہوا کہ یہ تتلی ہمیں یہ اطلاع دینے کے لیے آئی تھی کہ جس راستے کو ڈھونڈنے میںہم سرگرداں ہیں وہ یہی راستہ ہے۔ اس دوران موبائل فون کو نیٹ ورک بھی آگیا اور ہم نے ایک دوست کو جو کہ راشن پورہ کے رہنے والے ہیں، فون کرکے یہ پوچھنے کی کوشش کی ہمیں کون سا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ لیکن بد قسمتی سے وہ یہ اخذ نہیںکر پائے کہ ہم کہاں پر ہیں۔ البتہ ایک بات انہوں نے کہی کہ ہمیں صرف اوپر چڑھتے رہنا ہے۔
صحیح راستہ ڈھونڈنے میں سرگرداں ، ہم نے یہ اخذکر لیا کہ اب ہمیں ڈَٹ پہنچے میں بہت وقت لگنے والا ہے۔ کیوں کہ آس پاس کوئی دکھائی بھی نہیں دے رہا تھا، جس سے راستہ معلوم کیا جا سکے۔ دو خدا کے بندوں کو ہم نے دُور سے دیکھا۔ ہم نے لیکن جب آواز لگائی تو وہ بھاگ گئے۔ شاید اس لیے کہ انہیں یہ شک پڑ گیا کہ ہم محکمہ جنگلات کے آدمی ہیں، کیوںکہ وہ لکڑی اسمگل کر رہے تھے۔ اس لیے ہم نے مناسب سمجھا کہ بہتر ہے کہ گھر والوں کو فون کیا جائے اور ان سے کہا جائے کہ ہمیں رات بھی یہیں لگ سکتی ہے۔ اب ہم بالکل غیر معروف اور ڈرائونے راستوں کو چڑھتے اور رینگتے ہوئے آگے برھتے گئے ۔ یہ مرحلہ نہایت ہی مشکل تھا۔ راستے میں ہم اِدھر اُدھر تکتے رہے کہ کوئی خدا کا بندہ دکھائی دے اور ہم صحیح راستہ معلوم کریں، لیکن کوئی ہماری راہ کو نہیں آگیا۔ جنگل کے ایک سلسلہ کو عبور کرتے تو سمجھتے کہ یہی ڈَٹ ہے، لیکن اس کے بعد کئی سلسلے آتے گئے۔پانچ گھنٹے کی طویل چڑھائی کو عبور کرنے کے بعد بالآخر ہم ڈٹ کے بالکل نیچے پہنچ گئے۔ وہاں کچھ چرواہے رہ رہے ہیں۔ انہوں نے جنگلات کے درختوں کی ٹہنیوں سے کچھ کمرے بنائے ہیں، جن کو ’ڈھوک‘‘ کی اصطلاح سے جانا جاتا ہے۔ ہم نے پہلے یہی مناسب سمجھا کہ ان سے علیک سلیک کیا جائے۔ راشن پورہ کے دوست جناب عباس احمد نے ہمیں کہا تھا کہ اگر ہم رات کو ڈَٹ میں ہی رہنا چاہیں تو بشیر احمد نامی ایک شخص کو ہم اُن کا حوالہ دے دیں، تو رات کو ٹھہرنے میںآسانی ہوگی۔ ہم نے بھی مناسب سمجھا کہ اب سہ پہر کا وقت ہو چکا ہے ، اس لیے رات کو رُکنے کے علاوہ اور کئی چارہ بھی نہیں ہے۔ جلدی نکلیں گے تو ڈَٹ آنے کا کوئی فائدہ حاصل نہیںہوگا۔ اس لیے ہم نے اس بشیر احمد نامی شخص کو ڈھونڈنے کی کوشش کی اور وہ مل بھی گئے۔ ہم نے باقی چرواہوں اور ان کے ساتھ رہ رہے باقی لوگوں ، جن میں کچھ کی پوری فیملی بھی تھی کے ساتھ سلام کلام کیا۔ ہم نے انہیں اپنے دوست کاحوالہ دے دیا اور کہا کہ ہم پہلے سے ہی بہت دیر سے یہاں پہنچے ، اس لیے اگر ہمیں رات کو یہی رکنا پڑے تو آپ کے ساتھ ہی رات گذار لیں گے۔ انہوں نے نہایت خندہ پیشانی سے ہمیں کہاکہ ان کی ڈھوک کے دروازے ہمارے لیے کھلے رہیں گے۔
(سفر نامہ جاری ہے ،باقی حصہ انشاء اللہ کل کے شمارے میں شائع کیاجائے گا)
ای میل۔ [email protected]