حاسد وزیر اور بیمار ملا نصیر الدین
کہانی
اعجاز احمد
ایک مرتبہ ملا نصیر الدین سخت بیمار ہو گئے۔ دوست احباب عیادت کو آنے لگے۔ ملا کے گھر سے کچھ نہ کچھ کھا کرجاتے۔ ملا نے اپنے بیٹے کے کان میں کچھ کہا، جب عزیز رشتہ دار عیادت کو آئیں تو ملا کے بیٹے نے کہا، آپ سب خالی ہاتھ آرہے ہو، کوئی سیب انار ، کیلے ہوں تو ملا صحت مند ہوں جائیں گے۔ آپ کو خالی ہاتھ دیکھ کر ملا کو دورہ پڑ سکتا ہے۔ کچھ دوست رشتہ دار پھل وغیرہ لائے۔ فارغ اوقات میں ملا اور اس کے گھر والے مزے مزے سے پھل کھاتے۔
جب بادشاہ کو پتہ چلا کہ ملا سخت بیمار ہیں تو بادشاہ نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے درباریوں، وزرا ء کے ساتھ عیادت کو جائے گا۔ ملا کو علم تھا کہ ان میں سے ایک وزیر ملا سے حسد کرتا تھا ہر موقع پر بادشاہ کو ملا کے خلاف اکساتا تھا۔ جب بادشاہ عیادت کے لیے آیا تو ملا نے سب سے پہلے اسے اپنے پاس بلایا وہ خوشی خوشی عیادت کر کے گیا۔ اسے فخر محسوس ہوا کہ ملا نے بادشاہ سے پہلے اسے بلایا ہے۔
اس بات کا جب بادشاہ کو پتہ چلا تو وہ ملا سے ناراض ہوا کہ اس نے وزیر کو مجھ پر فوقیت کیوں دی۔ اس پر ملا نے کہا حضور گستاخی معاف! مجھے پتہ ہے کہ وہ حاسد شخص ہے۔ مجھے ڈر تھا کہ اگر میں مر گیا تو آپ سے پھر بھی جنت میں ملاقات ہو سکتی ہے، مگر چونکہ وہ حاسد ہے، وہ دوزخی ہونے کی وجہ سے مجھ سے کبھی نہیں مل سکتا۔ اس پر بادشاہ اور درباری مسکرانے لگے۔
بادشاہ نے کہا،بے شک تم نے ٹھیک کہا حاسد کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ جب اس وزیرکو پتہ چلا کہ ملا نے اس کی توہین کی ہے تو اس نے یہ بات دل میں رکھ لی، وقت گزرتا گیا ، کسی بات پر بادشاہ ملا سے ناراض ہوگیا۔ اس حاسد وزیر نے بادشاہ کو بھڑکایا کہ وہ ملا کو قتل کروادیں۔اور بادشاہ نے غصے میں ملا کے قتل کے احکامات جاری کر دئیے۔
اس بات کا جب ملا کو پتہ چلا کہ فلاں وزیر نے بادشاہ کوبھڑکایا ہے۔ وہ چھپتا چھپاتا بادشاہ کے دربار میں پہنچ گیا اور سرجھکا کر بولا،’’بادشاہ معظم مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ نے میرا سر قلم کرنے کا حکم صادر فرمایا تھا؟‘‘
’’تم نے ٹھیک سنا ہے ہم نے ہی ایسا حکم دیا ہے۔‘‘ بادشاہ نے کہا۔اس پر ملا ہاتھ باندھ کر بولا،’’آپ کا حکم سر آنکھوں پر غلام خود ہی حاضر ہو گیا ہے۔ حضور کے حکم کے سامنے میرا سرخم ہے، مگر ایک گزارش ہے۔‘‘
بادشاہ نے پوچھا۔’’وہ کیا ؟‘‘…گزارش ہے کہ میں آپ کا نمک کھا کر پلا ہوں، اس لیے میں نہیں چاہتا کہ روز قیامت آپ پر میرے نا حق قتل کا الزام آئے۔ آپ اجازت دیں تو وزیر کو مار ڈالوں۔پھر آپ مجھے اس کے ساتھ قصاص میں قتل کر دیں۔ اس صورت میں میرا قتل جائز ہوگا۔بادشاہ ہنس پڑا۔
اگلے دن جب دربار لگا تو بادشاہ نے اس نے وزیر سے کہا،’’ اب بتا تیری کیا رائے ہے؟جو ملا کہہ رہا ہے۔‘‘وزیر نے کہا،’’جہاں پناہ میری رائے یہ ہے خدا کے لیے اپنے پدر بزرگوار کی قبر کے صدقے میں ملا کوآزاد کر دیجئے تاکہ میں بھی اس کی تجویز پر بچ سکوں۔اس پر بادشاہ اور درباری ملا کی ذہانت کے معترف ہو گئے اور حاسد وزیر نے حسد سے توبہ کر لی۔
دیکھا پیارے بچو! کسی سے حسد نہیں کرناچاہیے ورنہ اپنا نقصان ہوگا۔
سونے والو جاگو…!!!
حفیظ جالندھری
جاگو سونے والو جاگو
وقت کے کھونے والو جاگو
باغ میں چڑیاں بول رہی ہیں
کلیاں آنکھیں کھول رہی ہیں
پھول خوشی سے جھوم رہے ہیں
پتوں کا منہ چوم رہے ہیں
جاگ اٹھے دریا اور نہریں
جاگ اٹھیں موجیں اور لہریں
نائو چلانے والے جاگے
پار لگانے والے جاگے
ساری دنیا جاگ رہی ہے
کام کی جانب بھاگ رہی ہے
لکھنے پڑھنے والو جاگو
پھولنے بڑھنے والو جاگو
منہ دھو دھا کر ناشتہ کھائو
بستہ لے کر مدرسے جائو
صبح کا سونا خوب نہیں ہے
اچھا یہ اسلوب نہیں ہے
جاگو سونے والو جاگو
وقت کے کھونے والو جاگو
خالی جگہ پْر کریں…!!!
ذیل میں دی گئی خالی جگہ کو ایک ہی لفظ سے پر کریں
1۔آم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میٹھے ہیں۔
2۔آج۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گرمی ہے۔
3۔احمد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ذہین ہے۔
4۔ ویل مچھلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بڑی ہے۔
5۔ مجھے اپنے والدین سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محبت ہے۔
6۔ مزدور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محنت سے کام کرتا ہے۔
خالی جگہ کا جواب (بہت)
ہاتھی کے بارے میں دلچسپ معلومات…!!!
مبشرہ خالد
والٹ ڈزنی سے آپ سب بچے ضرور واقف ہوںگے کیونکہ ان کے بنائے ہوئے شاہکار دیکھ کر ہی ہم سب بڑے ہوئے ہیں اور اب آپ لوگ بھی بڑے ہو رہے ہیں(lion king) مووی کو منظر عام پر آئے ہوئے کئی سال بیت چکے ہیں ،مگر اس کا جادو آج بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے۔بالکل اسی طرح ایک مووی (dumbo) بھی ہے، جس کا مرکزی کردار ایک ہاتھی ہے ، اسی لیے آج میں آپ کو ہاتھی کے بارے میں کچھ معلومات فراہم کر رہی ہوں۔جنگل میں رہنے والے جانوروں میں ہاتھی کو اللہ تعالیٰ نے بے حد طاقتور بنایا اور بہت سی خصوصیات سے نوازا ہے۔ہاتھی ایک دیو قامت ممالیہ جانور ہے اور جسامت کے لحاظ سے دیگر جانوروں سے بڑا ہے۔ ہاتھی کی تین اقسام پائی جاتی ہیں افریقی بش ہاتھی،افریقی ہاتھی اور ایشائی ہاتھی۔
ہاتھی کی اوسط عمر ستر سال ہوتی ہے، مگر کچھ ہاتھی طویل عمر بھی پاتے ہیں۔ ہاتھی کی کھال ایک انچ موٹی ہوتی ہے۔ہاتھی ایک دوسرے سے اپنے پائوں کے کھروں سے رابطہ کرتے ہیں اور بہت سے خطرات کے بارے میں ایک دوسرے کو آگاہ بھی کرتے ہیں۔ہاتھی کے کان ہوتے تو بہت بڑے ہیں.لیکن اس کے باوجود ان کی سننے کی صلاحیت بہت کمزور ہوتی ہے۔ان کی بڑی سونڈ کی وجہ سے ان کی سونگھنے کی صلاحیت بہت تیز ہوتی ہے.۔سونڈ کے ذریعے بہت وزنی چیزیں اٹھاسکتا ہے۔ درختوں کے بڑے بڑے تنے اٹھالیتا ہے۔ ان کی دیکھنے کی صلاحیت تیز ہوتی ہے۔ سب سے وزنی ہاتھی 24000پائونڈ کا تھا جو13 فٹ اونچا تھا۔ہاتھی انسانوں کی طرح ایک ہاتھی کو دوسرے پر فوقیت دیتے ہیں۔وہ اپنے بچوں کے بارے میں بہت حساس ہوتے ہیں۔ ہاتھی کے بچے کا پیدائشی وزن120 کلو ہوتا ہے جو عمر کے ساتھ بڑھتے ہوئے 12000کلو تک جا پہنچتا ہے۔ہاتھی کا پسندیدہ کھانا گنا ہے، مگر اس کے ساتھ ہاتھی دیگر پھل،سبزیاں اور گھاس بھی شوق سے کھاتاہے۔بادشاہوں کے زمانے میں ہاتھی کو بطور سواری بھی استعما ل کیا جاتاتھا۔ہاتھی کے دانت نوکیلے اورتیز ہوتے ہیں اور ان کی قیمت لاکھوں میں ہوتی ہے۔بچوں پھر کیسی لگی آپ کو ہاتھی کے بارے میں معلومات امید ہے پسند آئی ہوگی۔
بوجھوں تو جانیں…!!!
1۔منہ سے تو وہ کچھ بھی نہ بولی اک اک بات مگر ہے کھولی
ہے وہ علم کا اک خزانہ رکھے پاس اسے ہر دانا
2۔غور کرو اور دیکھو بھالو چاہے پی لو چاہے کھالو
3۔گرچہ وضو کرتا نہیں دیتا ہے اذانیں
کیا نام ہے اس شوخ کا بتلائو تو جانیں
4۔کالے بن کی کا لی ماسی
ہے وہ سب کے خون کی پیاسی
5۔گوداموں میں مال چھپائے پہرا دے ، کچھ نہ بتائے
پتھر دل سے پڑ گیا پالابوجھ سکھی کیا ہے یہ نرالا
جوابات:1۔کتاب 2۔غصہ 3۔مرغا 4۔جوں 5۔تالا
ٹکٹ …؟ ٹکٹ ؟ ٹکٹ ؟
کہانی
رئیس صدیقی
ٹکٹ چیکر نے ہمارے پاس بیٹھے مسافروں کے ٹکٹ چیک کرنے کے بعد ،ہم دونوں سے بھی ٹکٹ مانگے۔ اس پر رضوان نے بہت اعتماد سے کہا’’جی ہم لوگ ایم۔ اے رضوی صاحب کے بھائی ہیں ‘‘۔ کون ایم۔اے۔ رضوی ؟۔ جو ریلوے میں ٹی سی ہیں ؟ جی جی ۔ رضوان نے جلدی سے ہاں میں ہاں ملائی۔’’آئی سی ! تو آپ دونوں ایم۔ اے رضوی کے بھائی ہیں۔ بڑی خوشی ہوئی آپ دونوں سے مل کر۔ اب آپ برائے مہربانی اپنے ٹکٹ دکھانے کی زحمت کیجئے۔ اگلا اسٹیشن آنے والا ہے اور مجھے دوسرا ڈبہ بھی چیک کرنا ہے۔ ٹی ٹی نے سخت لہجے میں کہا۔"ارے آپ تو مذاق کرنے لگے۔ـ‘‘ رضوان نے سنجیدگی سے کہا۔"جی نہیں جناب ، مذاق کرنے کے لئے سرکار تنخواہ نہیں دیتی ہے۔ میرا وقت برباد مت کیجئے۔ ذرا جلدی کیجئے۔ ٹکٹ دکھائیے۔ "
ٹی سی کا لہجہ ایک دم سخت ہوگیا۔ب تو رضوان گھبرایا۔ اس نے یقین دلانے کی کوشش کی ۔میں سچ کہتا ہوں۔ ہم دونوںرضوی صاحب کے کزن بھائی ہیں۔ــ’’وہ تو میں بہت دیر پہلے سن چکا ہوں‘‘۔ ٹی سی نے اپنی جیب سے رسید بک نکالتے ہوئے کہا’’آپ دونوں کو کرائے کے علاوہ جرمانہ بھی دینا پڑے گا۔ بولئے کہاں تک جانا ہے؟
ٹی سی نے رسید پر قلم چلاتے ہوئے دریافت کیا۔’’دلی!‘‘ رضوان نے بڑی بے دلی سے کہا اور میں نے خاموشی سے پیسے ادا کر دئیے اور رسید رضوان کی قمیص کی جیب میں ڈال دی ۔ " میںنے پہلے ہی کہا تھا کہ ٹکٹ لے لو لیکن تم پر تو نقشے بازی سوار رہتی ہے ۔کرایہ سے زیا دہ پیسے دینے پڑے۔ جو اتنے آدمیوں کے سامنے بے عزتی ہوئی، وہ الگ !
میں غصہ میں بڑبرانے لگا۔ رضوان بھی غصہ سے بھرا بیٹھا تھا۔وہ ایک دم پھٹ پڑا۔اب بھلا میں اس کے لئے کیا کروں؟۔ یہ تو اتفاق ہے۔ ورنہ میںہمیشہ رضوی صاحب کا نام بتاکر نکل جاتا ہوں۔ لگتا ہے یہ اس لائن پر نیا نیا آیا ہے!۔’’یہ رضوی صاحب کون ہیں۔؟ اُن کو تم کیسے جانتے ہو؟‘‘۔ میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے رضوی صاحب کے بارے میں جاننا چاہا۔وہ میرے ایک دوست کے بڑے بھائی ہیں۔ میں نے آج تک ان کی شکل نہیں دیکھی ۔ صرف نام سے واقف ہوں۔ ذرا اِن صاحب کا نام تو دیکھوں تاکہ رضوی صاحب سے مل کر اسکی شکایت کر سکوں!۔رضوان نے تلملاتے ہوئے اپنی قمیص کی جیب سے رسید نکال کر ٹی سی کا نام جاننے کے لئے اس کے دستخط پڑھنے کی کوشش کی ۔اور وہ رسید کو آنکھیں پھاڑتے ہوئے بڑی حیرت سے دیکھتا رہ گیا کیوں کہ رسید پر دستخط کے طور پر لکھا تھا۔’’ ایم۔اے ۔رضوی‘‘
( کہانی کار ساہتیہ اکادمی قومی ایوارڈ و دلی اردو اکادمی ایوارڈ یافتہ ادیبِ، ڈی ڈی اردوو آل انڈیا ریڈیو دلی؍ بھوپال کے سابق آئی بی ایس افسر،
پندرہ کتابوں کے مصنف، مولف، مترجم،افسانہ نگار، شاعرو ادیبِ اطفال، واٹس ایپ گروپ بچوں کا کیفے کے بانی ایڈمن ہیں)
رابطہ۔ [email protected]