گزشتہ دنوںہندوستان کی تاریخ میں ایک اور سیاہ دن کا اضا فہ ہوا۔ لکھنو کی ایک عدالت نے با بری مسجد کو منہدم کرنے والے تمام ملزمین کو بری کردیا۔ سی بی آئی کی خصو صی عدالت کے جج سریندر کمار یادو نے وظیفہ پر جاتے جاتے ہندوتوا طا قتوں کو خوش کرنے کے لئے ایک ایسا فیصلہ دیا جس سے مسلمانوں کے زخم پھر سے تازہ ہو گئے۔ 30؍ ستمبر2020 کوصادر کئے گئے اس فیصلہ نے ملک میں قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی غیرجانبداری پر بھی سوالات کھڑے کر دئے ہیں۔ گزشتہ 28سال کے لمبے عر صہ سے چل رہے اس مقدمہ میں کُل 48ملزمین تھے۔ ان میں سے اب صرف 32ملزمین بقید حیات ہیں۔ عدالت نے ان سب کو یہ کہتے ہوئے با عزت بری کر دیا کہ ان ملزمین کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ خصو صی عدالت کے فاضل جج صا حب نے جن بنیادوں پر اپنا فیصلہ صادر کیا اس میں پانچ نکات اہمیت کے حا مل ہیں۔ پہلا نکتہ یہ کہ عدالت کی نظر میں 6؍دسمبر1992کو ایودھیا میں با بری مسجد کی شہادت کا جو سانحہ پیش آ یا، وہ کوئی منصو بہ بند کاروائی نہیں تھی۔ دوسرا نکتہ یہ رہا کہ جن ملزمین کے خلاف سی بی آئی نے چارج شیٹ داخل کی ، اس کے کوئی ٹھوس ثبوت وہ عدالت میں پیش نہیں کر سکی۔ تیسری اہم بات جو کہی گئی وہ یہ کہ شر پسند عناصر اُس ڈھانچہ کو منہدم کرنا چاہتے تھے جو بابری مسجد کی شکل میں موجود تھا۔ یہ ملزمین ان شر پسندوں کواس سے روک رہے تھے۔ بالفاظِ دیگر بابری مسجد کے پاس ان ملزمین کی موجو دگی دراصل مسجد کے تحفظ کے لئے تھی۔ عدالت نے سی بی آئی کی جانب سے بطورِ ثبوت فراہم کی گئیں آڈیو اور ویڈیوز کو بھی یہ کہتے ہوئے قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ یہ کوئی مستند ثبوت کی حیثیت نہیں رکھتے۔ عدالت نے ملزمین کی تقاریر کے ریکارڈ کو بھی ثبوت کے طور پر قبول نہیں کیا۔ عدالت کی جانب سے مقدمہ کے دوران کی جانے والی ان تمام کاروائیوں سے واضح ہوجاتا ہے کہ فا ضل جج، ملزمین کے لئے شروع سے ہی اپنے دل میں نرم گو شہ رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے استغاثہ کی کسی بات کوقبول نہیں کیا اور نہ ٹھوس ثبوتوں کو خا طر میں لایا۔
28سال کے طویل اور صبر آزما انتظار کے بعد اس نوعیت کا فیصلہ آ تا ہے تو اس سے ہماری عدلیہ کی کارگزاری کا بھی اچھی طرح اندازہ ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ نے 6؍دسمبر1992کو جب بابری مسجد کی شہادت ہوئی تھی ، اسے کھلی غنڈہ گردی قرار دیا تھا۔ گذشتہ سال 9؍ نومبرکو سپریم کورٹ نے جو فیصلہ بابری مسجد ملکیت مقد مہ میں دیا ، اس میں بھی اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ بابری مسجد کا انہدام ایک غیر قانونی اقدام تھا۔ یہ الگ بات ہے سپریم کورٹ نے اس وقت بھی انصاف سے کام نہ لیتے ہوئے جانبدارانہ فیصلہ دیتے ہوئے مسلمانوں کو ان کے حق سے محروم کر دیا اور با بری مسجد، آ ستھا کے نام ان سے چھین لی گئی اور وہاں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد 5؍ ا گست 2020کو رام مندر کی بنیاد خود وزیر اعظم نے اپنے ہاتھوں سے رکھ دی ۔با بری مسجد کی شہادت کے بعد لبرہان کمیشن نے جو رپورٹ حکومت کو پیش کی اس میں صاف طور پر جسٹس لبرہان نے کہا کہ بابری مسجد کا انہدام ایک زبردست سازش کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے اس کے لئے آر ایس ایس اور اس سے وابستہ تنظیموں کو ذ مہ دار ٹھہرا یا۔ اس کمیشن کی رپورٹ بھی 17سال بعد آئی۔ اور اب اس رپورٹ کے تعلق سے کسی کو معلوم بھی نہیں ہے۔ انصاف کا تقا ضا تھا کہ اس کمیشن کی رپورٹ پر عمل کر تے ہوئے خاطیوں کو قرارِ واقعی سزا دی جاتی لیکن ایسا نہیں ہوا۔
بابری مسجد کی شہادت کے 28 سال بعد جو فیصلہ آ یا اس نے ان ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا جو ملک کی عدلیہ سے مظلوموں نے لگا ئی تھیں۔ آج لکھنو کورٹ کے جج کہتے ہیں کہ یہ کوئی منظم کاروائی نہیں تھی بلکہ ہجوم نے یہ سب کر دیا۔ سوال یہ ہے کہ سنگھ پریوار کی اعلیٰ قیادت وہاں کس مقصد سے موجود تھی۔ ایک دھکا اور دو، بابری مسجد توڑ دو کے نعرے کون لگا رہے تھے؟ بابری مسجد کو منہدم کر تے ہوئے جو مٹھائیاں تقسیم ہو رہی تھیں وہ کس خوشی کا اظہار کر رہی تھیں۔ مرلی منوہر جوشی کے کند ھے پر جھومتے ہوئے اوما بھارتی کا جوش کیوں اُ بل پڑا تھا؟ اڈوانی نے 1990 کے دہے میں جو رتھ یاترا نکالی تھی، اس کے پس ِ پردہ کیا عزائم تھے ؟ کلیان سنگھ، جو اس وقت اتر پردیش کے چیف منسٹر تھے اور جنہوں نے سپریم کورٹ میں حلف نا مہ داخل کر کے بابری مسجد کے تحفظ کا وعدہ کیا تھا، وہ کیوں اپنا وعدہ نبھانے میں نا کام ہو گئے ؟ کلیان سنگھ نہ صرف بابری مسجد مقدمہ میں ملزم رہے بلکہ بابری مسجد انہدام مقد مہ میں انہیں سپریم کورٹ نے ایک دن کی سزا بھی دی ہے۔ سی بی آ ئی عدالت کے لئے کیا اتنے سارے ثبوت کا فی نہیں ہیں کہ جس کی بنیاد پر کم از کم ان 32افراد پر فردِ جرم عائد کیا جائے اور انہیں قانون کے مطا بق سزا دی جائے۔ حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ جج نے اپنے سے زیادہ تجربہ کار اور ملک کی اعلیٰ عدالتوں پر فائز ججوں کے بر عکس اپنا فیصلہ دیتے ہوئے اپنی کھلی جانبداری اور ایک خاص ذہنیت رکھنے کا واضح ثبوت دے دیا۔ جس دن انہوں نے فیصلہ دیا ، اسی دن وہ اپنی سرکاری خد مات سے بھی سبکدوش ہو گئے۔ ہو سکتا ہے کہ مبینہ طور پر بر سر اقتدار حلقوں سے انہیں ریٹائرمنٹ کے بعد کسی پُر کشش عہدے کی لالچ دی گئی ہو۔ یہ گمان ، یقین میں بدل جا نے کی گجائش اس لئے بھی ہے کہ بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی مقد مہ میں جس جج صاحب نے سارے ثبوتوں اور گواہوں کے باو جود رام مندر کے حق میں فیصلہ دے دیا ،انعام کے طور پر راجیہ سبھا کا رکن بنا دیا گیا۔ یہ ہندوستان کی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے چیف جسٹس اپنے عہدے سے سبکدوشی کے بعد پارلیمنٹ کے کسی ایوان کے لئے نامزد کئے گئے۔ اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے عدلیہ اور حکومت میں گٹھ جوڑ بڑھتا جا رہا ہے۔
سی بی آئی کی خصو صی عدالت کے نزدیک اگر بابری مسجد کی شہادت کسی منصوبہ بند سازش کا نتیجہ نہیں ہے تو پھر ایودھیا میں 6؍دستمبر 1992کو جو کچھ ہوا وہ کیا تھا ؟ لاکھوں کا جو مجمع وہاں جمع ہوا تھا کیا وہ اپنے طور پر وہاں پر آیا تھا؟ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ اڈوانی نے رتھ یاترا نکالی اس لئے تھی کہ اکثریت کو ورغلایا جائے اور ان کو گمراہ کر کے اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کی جائے۔ یوپی کے چیف منسٹر کلیان سنگھ نے کیوں اپنے سپریم کورٹ میں دئے ہوئے تیقن پر عمل نہیں کیا۔ ان کی یہ دستوری ذ مہ داری تھی کہ وہ ہر حال میں با بری مسجد کا تحفظ کرتے۔ 450سالہ قدیم عمارت کو بے ہنگم ہجوم چند گھنٹوں میں منہدم نہیں کر سکتا۔ اس کے لئے بہت پہلے سے تیاری کر لی گئی تھی۔ یہ تیاری حکو متی سطح سے لے کر سنگھ پریوار کے حلقوں تک بڑی رازداری سے کی گئی۔ اس سازش میں اُ س دور کے کانگریس کے وزیراعظم پی وی نر سمہاراؤ کو بھی شا مل کر لیا گیا تھا۔ ان کی پشت پناہی میں یہ گھناؤنا کارستانی انجام دی گئی۔ جن شر پسندوں نے قانون اور دستور کی دھجیاں اُ ڑاتے ہوئے بابری مسجد کو شہید کیا ان کو دنیا کی آنکھوں نے کھلے عام دیکھا۔ اس کے باوجود ان کو سزا نہ ملنا اور ان کو عدالت کی جانب سے با عزت بری کردینا اس بات کو ثا بت کر تا ہے کہ انصاف کے تقا ضوں کی تکمیل نہیں ہوئی۔ دنیا کی آ نکھ میںدھول جھو نکنے کے لئے 3,000کے قریب صفحات پر مشتمل فیصلہ لکھا گیا۔ اس دوران گواہوں کے بیانات کا ایک لمبا سلسلہ بھی چلا۔ لیکن کھودا پہاڑ اور نکلا چھوا کے مصداق عدالت کے معزز جج نے تما م ثبوتوں اور شہادتوں کو یکلخت یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ اس سے ملزمین کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملتا۔
عدالتوں کا فرضِ منصبی یہ ہے کہ وہ گواہوں اور ثبوتوں کی بنیاد پر ہی فیصلہ دیں۔ عدالت کے فیصلوں پر تنقید ، توہین عدالت کے زمرے میں آ تی ہے لیکن عدلیہ پر بھی دستور نے بھاری ذ مہ داری ڈالی ہے۔ عدلیہ ، دستور اور قانون کی نگہبان ہوتی ہے۔ وہی عوام کی آخری امید ہوتی ہے۔ یہاں بھی اگر انصاف اندھا ہوجائے تو آخر مظلوم دادرسی کے لئے کہاں جائے؟ بابری مسجد کی شہادت کے بعد اس بات کا پورا یقین تھا کہ جن انسانیت دشمنوں نے یہ شیطانی حرکت کی ہے اُ ن کو اس ملک میں جائے پناہ نہیں ملے گی۔ ایک نہ ایک دن یہ اپنے کئے کی کڑی سے کڑی سزا پا کر رہیں گے۔ ہندوستان کا ضمیر اتنا مردہ نہیں ہو جائے گا کہ ایسے جنونیوں کی حمایت کرنے میں فخر محسوس کرے گا۔ لیکن وائے افسوس کہ یہ سارے خواب ایک ڈ ھکوسلہ ثا بت ہوگئے اور آج ساری دنیا کے سامنے ہندوستان کی جمہوریت اور اس کا قانون بے نقاب ہو گیا۔ ٹھیک 10سال پہلے 30؍ ستمبر2010کو الہ آباد ہائی کورٹ نے بابری مسجد کے حصے بخرے کر دئے تھے اور اب دس سال بعد بابری مسجد کو ڈھانے والے بری کر دئے گئے۔ اس فیصلہ نے پھر ایک بار بابری مسجد کی یاد تازہ کردی۔ سی بی آ ئی کی خصو صی عدالت کا فیصلہ کوئی غیر متوقع فیصلہ بھی نہیں رہا۔ عوامی حلقوں میں یہ بات گشت کر رہی تھی کہ جب سپریم کورٹ انصا ف کے پیمانوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی تو ایک چھوٹی عدالت کس طرح ایک انقلابی فیصلہ دے سکتی ہے۔ بابری مسجدکے پورے تنازعہ میں عدلیہ اپنے فرضِ منصبی کو ادا کرنے میں کسی نہ کسی وجہ سے کا میاب نہیں ہو سکی۔ جب 22؍ اور 23؍ ڈسمبر 1949کی درمیانی رات میں رات کے اندھیرے میں شر پسندوں نے با بری مسجد میں مورتیاں لا کر رکھ دی تھیں۔ انصاف کا تقا ضہ تھا کہ صبح ہوتے ہی مسجد سے مورتیاں نکال دی جاتی اور خا طیوں کو گرفتار کرلیا جاتا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ مسجد کو تالا ڈال دیا گیا۔ پھر 6؍ دسمبر92 19کوبابری مسجد شہید کردی گئی اور اب جن لوگوں کی موجودگی یہ جنونی حرکت کی گئی تھی،عدالت نے انہیںبری کر دیا۔ اس پر بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ ؎
وہی قاتل وہی شاہد وہی منصف ٹھہرے
اقربا میرے کریں قتل کا دعویٰ کس پر
رابطہ۔9885210770