زندگی میں آگے بڑھنے اور ترقی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے اندر مثبت سوچ پیدا کرے۔ بغور مطالعہ اور مشاہدہ کے بعد یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ خوشحال زندگی کا راز بھی مثبت سوچ ہے۔ اسکے برعکس منفی سوچ غم ، افسوس اور پریشانی کا باعث بن جاتی ہے۔مثبت سوچ کو دماغ میں جگہ دینے کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے اور منفی سوچ بنا محنت کیے خود بہ خود آکے دماغ میں اپنا جگہ بناتی ہے اور انسان کے پورے وجود پر اسطرح حاوی ہو جاتی ہے کہ اسے جدھر لینا چاہے لے جاتی ہے۔ منفی سوچ انسان کو اندھیرے کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور مثبت سوچ اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتی ہے۔ ہمارا ذہن ہمیشہ کسی نہ کسی سوچ میں ہوتا ہے۔ اس ذہن میں منفی اور مثبت دونوں قسم کی سوچ پنپتی ہیں۔ انسان کا دماغ ہمیشہ کچھ نہ کچھ ضرور سوچتا رہتا ہے، کبھی اچھا اور کبھی برا خیال ذہن میں پرورش پاتا ہے۔ وہ شخص جو مثبت سوچ لیکر کے آگے بڑھتا ہے وہ ہمیشہ اچھے ، معیاری اور تعمیری کام کرتا ہے جس سے دوسرے اشخاص بھی متاثر ہو کر اپنے اندر اسی قسم کی سوچ کو ذہن میں جگہ دیتے ہیں۔ جبکہ وہ شخص جو منفی سوچ کا شکار ہوتا ہے، اس سے اکثر برے فعل ہی سرزد ہوتے ہیں، وہ تعمیری کاموں کے بجائے تخریبی کاموں کو سر انجام دیتا ہے جسکی وجہ سے وہ لوگوں کی نظروں میں گرجاتا ہے اور وہ اپنی قدر و قیمت کھوتا ہے۔ کچھ افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جو پہلے منفی سوچ کے حامل ہوتے ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب وہ اپنے اعمال کا نتیجہ دیکھتے ہیں تو وہ اس بات کو جان لیتے ہیں کہ ہمارے ذہن میں جو خیالات پرورش پارہے ہیں وہ نقصان دہ ہیں اور اس طرح وہ ان خیالات سے باز آتے ہیں اور اپنے اندر مثبت سوچ لانے کے لیے بہت ہی محنت اور مشقت سے کام لیتے ہیں۔ کسی بزرگ نے کیا ہی خوب کہا ہے کہ " تمہاری اصل ہستی تمہاری سوچ ہے، باقی تو صرف ہڈیاں اور خالی گوشت ہے"
مثبت سوچ کی وجہ سے انسان میں حوصلے اور ہمت کی بڑھوتری ہوتی ہے۔انسان کے اندر مشکل سے مشکل کام کو انجام تک پہنچانے کا جوش و جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ کہتے ہیں کہ اگر آپ کے اندر کسی مشکل کام کے بارے میں یہ سوچ پیدا ہو جائے کہ میں یہ کام کر سکتا ہوں تو یہ بات پھر طے ہے کہ وہ کام آپ ہر صورت میں ضرور انجام دیںگے لیکن اگر کسی کام کے بارے میں آپ کا پہلے ہی یہ خیال ذہن میں آئیگا کہ میں یہ کام نہیں کر پاؤں گا تو کچھ بھی ہو جائے وہ کام آپ کے بس سے باہر ہو جاتاہے۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ اچھی سوچ کامیابی کی ضمانت ہے۔
دنیا اچھی لگتی ہے، رب اچھا لگتا ہے
اچھی آنکھوں والوں کو سب اچھا لگتا ہے
چند سال پہلے کی بات ہے کہ ایک دفعہ ہم کچھ دوست بیٹھ کر یاد ماضی کی سیر کر رہے تھے۔ ہر کوئی اپنا کوئی واقعہ یا اپنی کہانی سناتا تھا۔ اس وقت ہم یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے اور اکثر شام کے وقت سارے دوست ایک ہی کمرے میں بیٹھ کر محو گفتگو ہوتے تھے۔ جب پتہار آتھورا بارہمولہ کے فیاض صاحب کی باری آئی تو اس کی کہانی نے ہمارے ذہنوں کو تازہ کیا اور ہمیں اس بات کا قائل کیا کہ مثبت سوچ سے ہی کامیابی ممکن ہے۔ ان کی کہانی کچھ اسطرح تھی کہ انہوں نے جب گریجویشن کا امتحان پاس کیا تو اس کے بعد بی ایڈ میں داخلہ لیا۔ اس اثناء میں انکے بھائی نے انہیں ایک انٹرویو دینے کے لیے کہا جس میں انہوں نے فارم بھرا تھا۔ فیاض صاحب کی چاہت نہیں تھی وہ اس انٹرویو میں شامل ہو جائے لیکن بھائی کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے نہ چاہتے ہوئے بھی چل دیئے۔ قدرت کا کرنا کچھ اسطرح تھا کہ انہوں نے چند دنوں کے بعد اپنے آپ کو کامیاب امیدواروں کی فہرست میں دیکھا۔ انکے گھر والے خوشیاں منا رہے تھے اور مٹھائیاں تقسیم کر رہے تھے لیکن وہ خود اس وقت خوش نہیں تھے کیونکہ وہ اس محکمہ میں ملازمت نہیں کرنا چاہتے تھے۔ گھر والوں کی خوشی دیکھ کر کچھ نہ کہہ سکے اور یوں خاموشی سے اس خوشی میں شامل ہو گئے۔کچھ دنوں بعدجب گھر والوں سے الوداع کہنے کا وقت آیا تو بوجھل قدموں کے ساتھ، اداسی کے عالم میں گھر سے نکل کر ڈیپارٹمنٹ میں بطورِ ملازم داخلہ لینے کے لیے چل دیئے۔ وہاں پہنچ کر مختلف علاقوں سے آئے ہوئے نئے ملازمین سے متعارف ہوئے۔ ایک دوسرے سے پہچان ہوئی، نئے دوست بنے ، کچھ دل کا بوجھ ہلکا ہوا۔ لیکن انکے دل میں ایک چاہت تھی ، ایک آرزو تھی اور ایک تمنا پنپ رہی تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ وہ تعلیم کا سفر ادھورا نہ چھوڑے۔ وہ مزید تعلیم کے نور سے منور ہونا چاہتا تھا۔اسے تعلیم حاصل کرنے کا اس قدر شوق تھا کہ ملی ہوئی ملازمت سے وہ سبکدوش ہونا چاہتا تھا اور تعلیم کو جاری رکھنا چاہتا تھا۔ اسے یقین تھا کہ وہ مزید تعلیم حاصل کرنے کے بعد اس سے اچھی اور اپنی چاہت کی ملازمت حاصل کر سکتا تھا۔ وہ دو تین مہینوں کے بعد گھر آیا کرتا تھا اور گھر والوں سے اکثر گزارش کرتا تھا کہ وہ ملازمت کو چھوڑ کر پڑھنا چاہتا ہے۔ گھر والے اسے اکثر یا ڈانتے تھے یا یہ کہہ کر خاموش کراتے تھے کہ آج کل کے دور میں روزگار کا ملنا اللہ کا بہت بڑا احسان ہے۔ بمشکل ہی کسی کو ملتی ہے۔ بہر حال ہر بار مایوس ہو کر گھر سے نکلتا تھا۔ ایک دفعہ جب وہ ڈیڑھ سال کے بعد گھر آیا تو گھر والوں سے پھر التجا کی کہ وہ پڑھنا چاہتا ہے۔ اس بار اسکی مدد اسکی بہن نے کی اور بالآخر وہ اس مقصد میں کامیاب ہوئے کہ انہوں نے اس ملازمت سے کنارہ کشی کی جو اسکی چاہت کی نہیں تھی اور جس سے وہ بہت تنگ آئے تھے۔ وہ محسوس کر رہا تھا کہ اس محکمہ میں رہ کر وہ اللہ کو یاد اور خوش نہیں کر سکتا تھا۔ بہر حال اس نے اپنے دل اور دماغ میں مثبت سوچ کو جگہ دی اور نئے سرے سے تعلیم کے سفر کا آغاز کیا۔ انہوں نے بہت زیادہ محنت کرکے یونیورسٹی میں داخلہ کے لیے امتحان دیا۔ گھر والے سوچ رہے تھے کہ دو سال کے وقفے کے بعد اسے کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی ہے لیکن وہ مثبت سوچ کے حامل تھے اور نتیجہ انہی کے حق میں آیا اور اللہ نے انہیں کامیابی سے نوازا۔ پھر دو سال کے بعد ماسٹر ڈگری کے ساتھ ساتھ وہ بی ایڈ کی ڈگری بھی ساتھ لے کر جب گھر واپس آئے تو گھر والوں نے بھی استقبال کیا۔ اور پھر بہت کم مدت کے بعد اس نے وہ ملازمت حاصل کی جسکا وہ خواب برسوں سے دیکھ رہے تھے۔ جسکی جستجو میں انہوں نے رات دن کو ایک کیا۔ اور انہوں نے اپنی کامیابی سے ہمیں یہ سبق سمجھایا کہ مثبت سوچ سے ہی کامیابی ممکن ہے۔
اسلام نے بھی ہمیں مثبت سوچ کی تلقین کی ہے اور منفی سوچ سے ہمیں باز رہنے کو کہا ہے۔ اسلام نے ہمیں بدگمانی، حسد، بغض، غیبت ، شک ، منافقت اور تمام قسم کی برائیوں سے بچنے کی تلقین کی ہے جو دراصل منفی سوچ کی ہی پیداوار ہے۔ اسلام نے ہمیں دوسروں کے بارے میں صحیح گمان رکھنے کی تعلیم دی ہے، ایک دوسرے سے پیار محبت سے رہنے کو کہا ہے اور ایک دوسرے کی مدد کی تلقین کی ہے جو دراصل دیکھا جائے تو مثبت سوچ کی پیداوار ہے۔ آخر پر اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں عقل سلیم دے اور وہ عقل نصیب فرمائے جو اپنے اندر مثبت سوچ کو جگہ دے اور منفی سوچ کو بالکل نہ جگہ دے۔ آمین
رابطہ۔ پاندوشن شوپیان