لومڑی اور مرغا۔۔۔۔!!!
کہانی
مترجم :نیلوفر ناز نحوی
اصل فارسی مرزبان نامہ از مہدی آذر یزدی
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک مرغا تھا جو قصے کہانیاں سننے اور سنانے کا بہت شوقین تھا۔ جس وقت وہ مرغیوں ،چڑیوں اور کبوتروں کو دیکھتا تھا ان سے گذارش کرتا تھا کہ وہ سنی ہوئی یا دیکھی ہوئی سر گذشتیں بیان کریں۔اور وہ بھی اگر ان کو کام بھی ہوتا تھا،مرغے کی دعوت کو قبول کرتے تھے۔اور ایک دوسرے کے ارد گرد بیٹھتے تھے۔اور کہانیاں سناتے تھے۔جو کچھ انہوں نے دیکھا ہوتا یا سنا ہوتا۔وہ حیلے اور بہانے جو گیدڑ اور لومڑی اور دوسرے شکاری مرغوں اور جانوروں کو پکڑنے کے لئے بناتے ہیں۔اور وہ مصیبتیں جو انکے یا انکے دوستوں پر گذری ہوتی اس کے متعلق بات کرتے تھے اور اسطرح مرغے کو بہت سی خبریں فراہم ہو گیئں تھیں۔
ایک دن مرغا تنہا رہ گیا تھااور وہ جس باغیچہ میں زندگی گذارتا تھا اس کا دروازہ کھلا تھا۔مرغا بھی کوچے میں آگیا اور چلتے چلتے کوچے سے صحرا میںپہونچ گیا۔بہار کا موسم تھا اور صحرا سر سبز اور شاداب تھا۔درختوں پر شگوفے نکل آئے تھے۔اور پھولوں کی خوشبو ہوا میں پھیلی ہوئی تھی۔مرغے کا دل بھی مچل گیا۔اس نے زور سے بانگ دی(آواز لگائی)۔ایک لومڑی اسکے نزدیک ہی تھی۔اس نے مرغے کی آواز سنی تو اسکا گوشت کھانے کی ہوس کی۔وہ دوڑنے لگی۔اور جلدی سے مرغے کے نزدیک پہونچنے لگی۔مرغے نے جونہی لومڑی کو دیکھا مارے ڈر کے دیوار پر چھلانگ لگائی۔اور وہاں سے دیوار پر چھلانگ لگائی۔اور پھر وہاں سے درخت کی ایک ٹہنی پر اڑا اور اسی جگہ بیٹھ گیا۔
لومڑی نے جب دیکھا مرغا اسکی دسترس سے دور ہواتو اپنی زبان چلائی اور مرغے سے کہا۔’’ تم درخت کی اونچائی پر کیوں چلے گئے۔کیا تم مجھ سے بھی ڈرتے ہو۔میری تو تمہارے ساتھ دشمنی نہیں ہے ۔میں نے جس وقت تیری آواز سنی مجھے اچھا لگا۔اور میںنے دیکھا تمہاری آواز بہت خوبصورت ہے۔میں تمہارے دیدار کے لئے چلی آئی۔اور سوچا تمہاری رفاقت سے بہرہ مند ہو جاؤں۔موسم بھی بہت اچھا ہے ۔پھول بھی کھلے ہیں صحرا بھی سر سبز ہے۔تمہاری آواز دل سے غم کو نکالتی ہے۔مجھے ہنر مند لوگ بہت پسند ہیں۔کیا ہی اچھا ہوتا اگر ہم مل کر اس صحرا کی گردش کرتے۔
مرغے نے لومڑی کے بہانوں کی بہت سی داستانیں سنی تھیں۔یہ سب باتیں اسکو درخت سے نیچے اتارنے کے لئے ہیں۔اس نے جواب دیا۔ــہاں موسم اچھا ہیِ صحرا بھی سر سبز ہے،پھول بھی کھلے ہیں،میری آواز بھی بری نہیں ہے،لیکن میں تمہیں نہیں جانتا ہوں۔میرا باپ ہمیشہ مجھے نصیحت کرتا تھا کہ نا شناس لوگوں سے رفاقت نہ کروں۔اور اس شخص کے ساتھ جو مجھ سے طاقتور ہے خلوت اور تنہائی میں اسکے ساتھ نہ جاؤں۔میں ہمیشہ باپ کی نصیحت کو یاد رکھتا ہوں اور جانتا ہوں کہ بہت سارے چوزے نا شناس لوگوں کی دوستی سے پشیمان ہوگئے ہیں۔‘‘
لومڑی نے کہا۔’’ہاں ہاں میں بھی تمہارے باپ کی دوست ہوں ۔کیا خوب آدمی ہے۔جب سے تو بچہ تھا میں تب سے تمہارے گھر آتی تھی۔اتفاقًاابھی میں کل پرسوں ہی تمہارے باپ کے ساتھ تھی۔اس نے تمہاری تعریف کی اور کہا میرا بیٹا بہت چالاک اور ہوشمند ہے۔پھر تمہارے باپ نے مجھ سے خواہش ظاہر کی کہ صحرا میں میں تمہاری نگہبان رہوں تاکہ کوئی تم پر بُری نظر نہ ڈالے۔‘‘مرغے نے جواب دیا’’میرے باپ نے کسی بھی وقت تم سے بات نہ کی۔اور مجھے ہر گز یاد نہیں کہ کسی لومڑی کا ہمارے گھر آنا جانا رہا ہے۔اسکے علاوہ میرا باپ پچھلے سال مرحوم ہوگیا۔میں تعجب کرتا ہوں کہ تم کہتی ہو کل اسکے ساتھ بات کرتی تھی۔‘‘
لومڑی نے کہا۔’’معاف کرنا۔میرا مقصد تمہاری ماں سے تھا۔کل تمہاری ماں تمہاری سفارش کر رہی تھی کہ تمہیں تنہا نہ چھوڑدوں۔اصل میں تمہارے سارے رشتہ دار وں کی میں دوست ہوں۔اور سب میری تعریف کرتے ہیں۔اب اگر تمہارا من گر دش کرنے کا نہیں ہے تو الگ بات ہے۔لیکن اگرمیرے ساتھ چلنے میں احتیاط کرتے ہو تو مجھے بہت افسوس ہے کہ ابھی تک اپنے دوست اور دشمن کو نہیں پہچانتے ہو۔اور میں نہیں جانتی کہ کس نے میرے خلاف بد گوئی کی ہے۔‘‘
مرغے نے کہا۔’’میں نے تمہارے بارے میں کسی سے کوئی بات نہیں سنی ہے۔لیکن اتنا جانتا ہوں کہ مرغے اور لومڑی کو آپس میں دوستی نہیں کرنی چاہیے۔۔چونکہ لومڑی کو مرغا کھانا اچھا لگتا ہے اور عقلمند مرغے کو چاہئے کہ چاہے اس کا دل جلے اپنے دشمن سے دوستی نہ کرلے‘‘۔لومڑی نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔’’تم نے کہا دشمن؟کون دشمن ہے۔؟ کیا تمہیں خبر نہیں کہ دشمنی حیوانات کے بیچ میں ختم ہو گئی ہے۔حیوانوں کے بادشاہ نے حکم دیاہے کہ تمام حیوانات ایک دوسرے کے دوست ہونگے اور کوئی بھی کسی کو آزار نہ دے۔اسی وجہ سے اس بیابان میں بھیڑیا اور بکری بھی آپس میں دوست ہیں۔گھر کی مرغی بھی گیدڑ کی پشت پر سوار ہوتی ہے اور صحرا میں گردش کرتی ہے۔شاہین بھی اب کبوتر کو نہیں پکڑتا ہے اور کتے کو اب لومڑی سے کوئی کام نہیں ہے۔بہت عجیب بات ہے کہ تو ابھی تک حیوانوں کے اختلاف کی بات کرتا ہے۔یہ باتیں تو اب قدیم ہو چکی ہیں سارے حیوان اب دودھ اور شکر کی طرح باہم گھلتے ملتے ہیں۔
جس وقت لومڑی یہ باتیں کر رہی تھی مرغے نے اپنی گردن لمبی کی تھی اور آبادی کے راستے کی طرف دیکھ رہا تھا۔لومڑی کو جواب نہیں دیا۔لومڑی نے پوچھا۔’’کہاں دیکھتے ہو؟کیا تمہارے حواس یہاں نہیں ہیں‘‘۔مرغے نے کہا’’ایک حیوان کو دیکھ رہا ہوں جو آبادی سے آرہا ہے۔میں نہیں جانتا یہ حیوان کون ہے لیکن لومڑی سے تھوڑا بڑا ہے اور اسکے کان اور دم بڑے ہیں اور ٹانگیں باریک اور لمبی ہیں ۔وہ برق و باد(بجلی اور ہوا‘)کی مانند دوڑتا ہوا آرہا ہے۔
لومڑی نے یہ باتیں سنی تو ڈر گئی۔اور اس نے مرغے کو دھوکہ دینا چھوڑ دیا۔اور اس فکر میں تھی کہ کہاں بھاگ جائے۔اور کیسے کوئی پناہ گاہ ڈھونڈے اور چھپ جائے۔پھر اس نے صحرا کی طرف جانا شروع کیا۔مرغے نے لومڑی کو بہت زیادہ وحشت زدہ دیکھا اورکہا۔’’اب کہاں جا رہی ہو۔۔صبر کرو میں دیکھوں گا۔کہ یہ جو حیوان آرہا ہے کونسا ہے۔شاید وہ بھی لومڑی ہوگی۔
لومڑی نے کہا۔’’ نہیں جو نشانیاں تم بتا رہے ہو اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک شکاری کتا ہے۔اور ہمارا آپس میں میل اچھا نہیں ہے۔ڈرتی ہو ں کہ مجھے اذیت دے دے۔مرغے نے کہا۔’’پھر کیسے کہہ رہی تھی کہ سلطان نے حکم دیا ہے کہ سب آپس میں دوست ہیں اور کسی کو کسی کے ساتھ کوئی کام نہیں ہے۔‘‘ لومڑی نے کہا۔ہاں لیکن ڈرتی ہوں اس کتے نے بھی تیری طرح سلطان کا فرمان ابھی تک نہ سنا ہوگا۔اور میرا یہاں رہنا مناسب نہیں ہے‘‘۔لومڑی نے اتنا کہا اور مرغے کو آرام سے چھوڑ دیا اور فرار ہو گئی۔
دُشمن دوست
کہانی
رئیس صدیقی
آپکی طرح، مجھے بھی اپنی نانی سے بہت لگائو تھا۔جب میری عمرتقریباً سات آٹھ سال کی تھی تو میں ان کے ساتھ گا ئوں لعل پور گیا جہاں نانا نانی کے آم کے کئی باغ تھے۔میں چونکہ بچپن ہی سے پڑھنے لکھنے میں دلچسپی لیتا تھا، اس لئے میری نانی نے میرا نام گائوں کے ایک اسکول میںلکھوادیا۔ میرے استاد صاحب، میری پڑھنے لکھنے میں دلچسپی ، لگن، وقت کی پاپندی اور میری سعادت مندی سے بہت خوش تھے۔ کچھ ہی دنوں میں ،میں اپنی کلاس کا مانیٹر بنادیاگیااور میں رفتہ رفتہ کلاس کے سب ہی لڑکوں کا دوست بن گیا۔ان لڑکو ںمیں میرا سب سے گہرا دوست ظفر تھا۔ ایک دن میں وقت سے آدھے گھنٹے پہلے اسکول جارہا تھا کہ راستہ میں ظفر مل گیا۔
تم کہاں جارہے ہو؟ ۔ ظفر نے مجھ سے پوچھا۔اسکول جارہا ہوں۔ میں نے جواب دیا۔ ظفر نے کہا کہ ابھی تو اسکول کھلنے میں آدھا گھنٹہ باقی ہے۔میں سوچ رہا ہوںکہ بہت دنوں سے کلاس کی دیواروں اور چھت کی صفائی نہیں ہوئی ہے۔ لہٰذا کیوں نہ آج یہ کام کرڈالا جائے۔میں نے اسکول وقت سے پہلے پہنچنے کی وجہ بتائی۔ظفر نے اصرار کیا کہ آج ٹالو ، پھر کسی دن دیکھا جائے گا ۔پھر اس وقت کیا کیا جائے؟ ۔میں نے سوال کیا ۔ ظفر نے تجویز رکھی کہ گلی ڈنڈا کھیلا جائے۔ گلی ڈنڈا میرا بھی پسندیدہ کھیل تھا۔ پہلے تو میں ہچکچایا لیکن پھر اس کے اصرار اور اپنے شوق سے مجبور ہوگیا ۔کھیل میں ہم لوگ اتنے مشغول ہوئے کہ اسکول جانا بھی یاد نہ رہا۔لگ بھگ ایک گھنٹہ کے بعد اچانک مجھے اسکول یاد آیا۔
ظفر نے کہا کہ چونکہ کافی د یر ہوچکی ہے ۔لہٰذا اب اسکول جانا مناسب نہیں ہے۔ ورنہ ماسٹر صاحب ناراض ہوںگے۔ پٹائی بھی کر سکتے ہیں۔مرتا کیا نہ کرتا!میں نے بھی بات مان لی اور اسکول کا سارا وقت کھیل میں گذار دیا۔دوسرے دن جب میں اسکول پہنچا تو سب کے سامنے ماسٹر صاحب مجھ پر برس پڑے۔اس پر کوئی ایک لڑکامجھ پر ہنسنے لگا۔پھر ایک آواز آئی۔ بڑے مانیٹربنتے پھرتے ہیں۔ خود اسکول آتے نہیں اور اگر کوئی دوسرا نہ آئے تو پوچھ تاجھ کرتے ہیں۔ میں نے جب پیچھے مڑ کر دیکھا تو یہ آواز تھی ظفر کی جس کی بات میں نے بغیر سوچے سمجھے مان لی تھی۔میں شرمندہ تھا کہ میں نے ظفر کو اپنا دوست کیوں سمجھا؟
ہر دوست، سچا دوست نہیں ہوتا! وہ تو چھپا دشمن نکلا ! وہ دوست نہیں ، دشمن دوست ہے !اب میں اپنے آپ سے خود سوال کر رہا تھا۔ میں نے اُس کی بات کیوں مانی؟ میں اسکی باتوں میں کیوں آگیا ؟ میں نے خود اپنا اچھا بُرا کیوں نہیں سوچا ؟
( کہانی کار ساہتیہ اکادمی قومی ایوارڈ و دلی اردو اکادمی ایوارڈ یافتہ ادیب، ڈی ڈی اردوو آل انڈیا ریڈیو دلی؍ بھوپال کے سابق آئی بی ایس افسر، پندرہ کتابوں کے مصنف، مولف، مترجم،افسانہ نگار، شاعرو ادیبِ اطفال، واٹس ایپ گروپ بچوں کا کیفے کے بانی ایڈمن ہیں)
رابطہ۔[email protected]
گدگدیاں…!!!
ایک آدمی نجومی کے پاس گیا اور بولا، ’’میری ہتھیلی میں کھجلی ہورہی ہے‘‘۔
نجومی بولا، "تم کو جلد ہی دولت ملنے والی ہے۔"
آدمی بولا، "میرے پائوں میں بھی کھجلی ہورہی ہے۔"
نجومی بولا، "تم سفر بھی کرو گے۔"
آدمی بولا، "میرے سر میں بھی کھجلی ہورہی ہے۔"
نجومی جھلا کر بولا، "چلو بھاگو یہاں سے، تمہیں تو خارش کی بیماری معلوم ہوتی ہے۔"
ایک بچہ رو رہا تھا۔۔ باپ نے رونے کا سبب پوچھا تو بولا’’دس روپے دیں تو بتائوںگا‘‘
باپ نے جلدی سے دس روپے دیے اور کہا ’’بتائوکیوں رو رہے تھے؟ ‘‘
’’اس روپے کے لیے ہی تو رو رہا تھا‘‘ بیٹے نے چپ ہوتے ہوئے جواب دیا
بوجھو تو جانیں…!!!
1۔ایک انوکھا گرہ بنایا اوپر نیو نیچے گھر چھایا
بانس نہ بلی بندھن گھنے کہو خسروؔ گھر کیسے بنے
2۔تیلی کا تیل کمہار کا ہنڈا
ہاتھی کی سونڈ نواب کا جھنڈا
3۔ بہت بڑا سا ایک پیالہ جیسے کوئی کمرا گول
ختم نہ ہوگا اِس کا پانی پیتے جائو ڈول کے ڈول
4۔کھٹی میٹھی پیاری پیاری منہ میں پانی لانے والی
رنگ برنگی کتنی اچھی نیلی، پیلی،ہری گلابی
منہ ہو کتنا کڑوا وکسیلا پل بھر میں وہ کرے میٹھا
جوابات:1۔ بیا کا گھونسلا 2۔ چراغ 3۔ کنواں 4۔ ٹافی
ماچس کی ایجاد…!!!
محمد حمزہ
پیارے دوستو، آج ہم آپ کو ماچس کی کی ایجاد کے بارے میں بتا رہے ہیں۔ یہ تو آپ جانتے ہیں کہ آگ ،جہاں خطرناک ہے، وہاں ضرورت بھی ہے۔ انسان لاکھوں برس سے آگ کا استعمال کرتا آرہا ہے۔ قدیم زمانے میں پتھر کو رگڑ کر آگ جلائی جاتی تھی۔کوئی بھی ایسی چیز ایجاد نہیں ہوئی تھی، جس کے ذریعے آسانی سے آگ جلائی جا سکے۔ آخر ایک برطانوی ادویات ساز سے اتفاقاََ ماچس ایجاد ہوگئی۔ یہ 1826ء کا واقعہ ہے۔
جان واکر چند کیمیائی مادوں کو ایک برتن میں ایک تیلی کے ذریعے آپس میں ملا رہاتھا۔ اس نے دیکھا کہ تیلی کے سرے پر ایک سوکھا ہوا گولا سا بن گیا ہے۔ اس نے غیر ارادی طور سے تیلی کے سرے کو رگڑ کر سوکھا ہوا مادہ اتارنے کی کوشش کی تو ایک دم آگ جل اٹھی۔ اس طرح بالکل اتفاقاً ماچس ایجاد ہو گئی۔ اس نے اس ماچس کا نام ’’فرکشن لائٹس‘‘ رکھا۔ تِیلیاں تین اینچ لمبی تھیں۔ ڈبیا کیایک طرف ریگ مال لگا ہوا تھا، جس پر تیلیوں کو رگڑ کر جلایا جاتا تھا۔
اس کے بعدسیموئل جونز نے ماچس کی نقل بنائی۔ اس نے اپنی ماچس کا نام ’’لوسی فر‘‘ رکھا۔ اس کی تیلیاں چھوٹی تھیںاور ڈبیا بھی چھوٹی تھی، جسے ساتھ رکھنا آسان تھا۔ آگ جلانے کے لیے سلفر استعمال کیا جاتا تھا۔ فرانسیسی کیمیا داں ڑاں چینسل نے 1805ء میں پہلی ایسی ماچس ایجاد کی، جس کی تیلیوں کے سرے پر چینی اور پوٹاشیم کلوریٹ لگایا جانے لگا۔ اس سرے کو مرتکز سلفیورک تیزاب میں ڈبو کر جلایا جاتا تھا۔ ڑاں چینسل کی بنائی ہوئی ماچس کی تیلیاں جلانا خطرناک تھا۔
کیمیائی مادوں کا آمیزہ کلورین ڈائی آکسائیڈ نامی پیلے رنگ کی بدبودار گیس پیدا کرتا تھا، جو کسی بھی چیز سے چھونے پر بھک کر کے پھٹ جاتی تھی۔ آج کل ماچس سرخ فاسفورس سے بنائی جاتی ہیں۔سرخ فاسفورس زہریلی نہیں ہوتی۔ اسے جوہان ایڈورڈ لنڈسٹروم نے دریافت کیا تھا۔
معلومات عامہ…!!!
1۔شکرا ایسا پرندہ ہے جو ہوا میں ساکت رہ سکتا ہے۔ یعنی ایک ہی جگہ پہ رکا رہ سکتا ہے۔
2۔مکھیاں، مچھر اور دوسرے بھنبھنانے والے کیڑے خود آواز پید ا نہیں کرتے یہ آواز ان کے پروں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔
3۔ڈولفن پانی نہیں پیتی سمندری پانی انھیں بیمار کر سکتا اور ان کی جان بھی لے سکتا ہے لہٰذا اپنی آبی ضروریات وہ اپنی خوراک سے ہی حاصل کرتیں ہیں۔
4۔زیرو گریویٹی میں یعنی جہاں کشش ثقل بالکل نا ہو(خلا میں) شعلہ نیلے رنگ کا ہوتا ہے اور گول ہوتا ہے۔
5۔ایک شارک مچھلی 100 سال تک زندہ رہ سکتی ہے۔