مشرق وسطی میں پچھلے دنوں پیش آنے والے دو تاریخی واقعات نے پوری دنیا میں ہلچل مچادی تھی۔ان دونوں واقعات سے علاقائی سیاست پر خاطر خواہ اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ پہلا ایران اور چین کے درمیان اسٹریٹیجک پارٹنرشپ معاہدہ اور دوسرامتحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین تعلقات کو معمول پر لانے کے معاہدے سے امریکا اور ایران کے باہمی تعلقات پر بھی خاطر خواہ اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جارہی ہے۔
ان پیش رفتوں کے سلسلے میںامریکی تھنک ٹینک، امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ کی اسکالر کیرن ینگ کا کہنا ہے کہ’’ امریکی پالیسی میں جامع پائیداری نہ ہونے اور خطے میں چین کے تئیں بڑھتی ہوئی کشش کی وجہ سے مشرق وسطی میں امریکا کے لیے چین کا مقابلہ کرنا کافی مشکل ثابت ہورہا ہے ۔‘‘ جبکہ چین کے خلاف بیان بازی کی وجہ سے بھی خطے کی سیاسی قیادت میں چین کا قد بلند ہی ہوا ہے۔
1979میں ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سے ہی ملک میں مختلف سیاسی اور مذہبی بااثرگروپ ایران کی خارجہ پالیسی کی سمت متعین کرنے میں ایک دوسرے سے الجھتے رہے ہیں۔ گوکہ مغرب اور بالخصوص یورپی یونین کے رکن ملکوں کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کے سلسلے میں اب تک واضح اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے تاہم پچھلے 40برسوں سے عمومی رائے یہی رہی ہے کہ یورپی یونین، برطانیہ اور کسی حد تک امریکا کے ساتھ روابط برقرار رکھے جائیں۔نیوکلیائی معاہدے کو بچانے میں برطانیہ، جرمنی اور فرانس کی ناکامی نے بھی ایران کو ان کی افادیت اور یورپ کے ساتھ مسلسل تعلقات رکھنے کی ضرورت پر ازسرنوغور کرنے کے لیے مجبور کردیاہے۔
لہذا چین کی جانب ایران کا فیصلہ کن رخ نہ صرف دونوں ملکوں کے لیے اسٹریٹیجک ، سیاسی اور اقتصادی اہمیت کا حامل ہے بلکہ یہ ایران کی ثقافتی دلچسپیوں کے عین مطابق بھی ہے کیونکہ ایران ، چین کوبھی اپنی جیسی ایک عظیم ایشیائی طاقت کے طورپر دیکھتا ہے اور اس کی تہذیب بھی ایرانی تہذیب کی طرح صدیوں پرانی ہے۔
چین کے ساتھ ایک وسیع البنیاداسٹریٹیجک اور طویل مدتی پارٹنرشپ ایران کے لیے جہاں عالمی سطح پر سرگرم ہونے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے وہیںاسلامی جمہوریہ کو امریکا کی طرف سے اس پر عائد پابندیوں اوربالخصوص ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مبینہ ’ زیادہ سے زیادہ دباو‘ کی پالیسی کو کم کرنے میں بھی مدد گار ثابت ہوسکتی ہے۔
چین ۔ایران 25سالہ معاہدہ
چین اور ایران کے درمیان 25سالہ اسٹریٹیجک پارٹنر شپ کے اعلان کے بعد دنیا بھر میں طرح طرح کے ردعمل سامنے آئے ہیں ۔ گوکہ اس معاہدے پر ابھی دستخط ہونے باقی ہیں، تاہم یہ ایرانی خارجہ پالیسی کو یکسر تبدیل کرنے کا عنصر رکھتا ہے ۔کیوں کہ یہ پالیسی حد درجہ مشرق نواز ہے۔
ایرانی پالیسی ساز اور خارجہ پالیسی کے ماہرین باہمی ربط و تعلق اور طویل مدتی پارٹنرشپ کے لیے ہمیشہ مغرب اور بالخصوص یورپ کی طرف دیکھتے رہے ہیں۔ لیکن چین کے ساتھ معاہدے کے بعد یہ صورت حال بدل سکتی ہے۔
دوسری طرف اس معاہدے سے چین کو اپنے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹیو (بی آر آئی) کو مضبوط کرنے میں مدد ملے گی اوراس سے اسے خلیج فارس اور مشرق وسطی تک اپنے پائوں جمانے میں سہولت ہو گی۔اگر اس مجوزہ معاہدے پر زیادہ گہرائی سے غور کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس کے پورے براعظم ایشیا اور عالمی سیاست پر دور رس مضمرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ امریکا کے لیے یہ کوئی اچھی خبر نہیں ہے کیونکہ اس سے عالمی سطح ایران کو الگ تھلگ کرنے اور سعودی عرب کے ساتھ ترجیحی سلوک کرنے کی اس کی خارجہ اور دفاعی پالیسی ناکام ہوسکتی ہے۔اور بالآخر اس کا حتمی نتیجہ مشرق قریب اور مشرق بعید میں امریکی عزائم کے چکنا چور ہوجانے کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔
مغربی دانشور اور سفارتی حلقے اس معاہدے کو ایک بری خبر کے طور پربھی دیکھتے ہیں۔گوکہ بڑی حد تک یہ بیانیہ درست نہیں ہے ، تاہم یہ ان کے نظریات کی عکاسی ضرور کرتا ہے۔لیکن اگر اس معاہدے کا متوازن تجزیہ کیا جائے توپتہ چلتا ہے کہ یہ دراصل ایشیا میں ایک نیا اقتصادی اور سکیورٹی ڈھانچہ تیار کرنے کی کوشش ہے۔
اگر ماضی کا تجزیہ کیا جائے تومئی 2018میں نیوکلیائی معاہدے کے سلسلے میں اپنے وعدے کا پاس و لحاظ رکھنے میں امریکا کی ناکامی اوراس سے قبل 2015میں اقو ام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ذریعہ ایران پر پابندی نافذ کرنے کے مشترکہ جامع منصوبے میں امریکی کردار کی وجہ سے ایرانی قیادت نے مغرب اوربالخصوص امریکا کو ہمیشہ مشکوک نگاہوں سے دیکھا ہے۔علاقائی لحاظ سے مشرق وسطی میں اپنے اثرات میں اضافہ کرنے کی امریکی سفارت کاری کو ایران کی طرف سے مسلسل چیلنج ملتا رہا ہے۔ حالانکہ اس سے خطے میں امریکہ کی پالیسیو ں اور موقف میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آنے والی ہے۔
یورپی اور حتی کہ امریکی تجزیہ کار بھی اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ یہ معاہدہ امریکی سفارت کاری، مفادات اور بر اعظم ایشیا میں اس کی حیثیت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ٹائم میگزین نے اپنے تبصرے میں لکھا ہے کہ یہ معاہدہ امریکا کے عالمی حریف(چین ) اور مشرق وسطی میں دیرینہ رقیب(ایران) کے درمیان تعلقات کو بدل دے گا اور ایران کو عالمی سطح پر الگ تھلگ کرنے کی کی امریکی کوششوں کوناکام کرسکتا ہے۔
چین کو مجوزہ معاہدے سے جہاں فوری طور پر تجارتی اور اقتصادی فائدے ہوں گے وہیں ایران جیسے سخت گیر اسلامی ملک کے ساتھ تعلقات، چین کی عوامی شبیہ کو بہتر بنانے میں مدد گار ثابت ہوسکتے ہیں۔چین کے سنکیانگ خطے میں ایغور مسلمانوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کی وجہ سے عالمی سطح پر چین کا عالمی شبیہ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ حالانکہ بیشتر مسلم ممالک نے ان الزامات پر خاموشی اختیار کررکھی ہے، لیکن اگر اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ چین کے تعلقات مستحکم ہوجاتے ہیں تواس سے اسے وسیع تر مسلم دنیا میں اپنی شبیہ کو بہتر بنانے میں کافی مدد مل سکتی ہے۔
معاہدے کے طویل مدتی اثرات
دونوں ممالک اس معاہدے کے فوجی پہلو پر کوئی بات نہیں کررہے ہیں۔تاہم ایسی خبریںبظاہر درست نہیں معلوم پڑتی ہیں کہ چین ایران میں فوجی اڈے قائم کرسکتا ہے یا تہران ،خلیج فارس میں ایرانی جزائز کو فوجی مقاصد کے لیے چین کو پٹّے پر دے سکتا ہے۔ ایران تاریخی، سیاسی اور نظریاتی اسباب کی بنا پر اپنی سرزمین پر کسی غیر ملکی طاقت کو فوج رکھنے کی اجازت کبھی نہیں دے سکتا ہے۔
چین اورایران کے مابین فوجی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے ۔اس کا سلسلہ 1980کی دہائی میں ، ایران ۔عراق جنگ کے عروج کے دور میں شروع ہوا تھا اور حالیہ برسوں میں اس میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ تاہم مستقبل قریب میں سابقہ فوجی تعاون میںکسی ڈرامائی اضافہ کی ، کم از کم ابتدائی مرحلے میں تو، کوئی امید نظر نہیں آتی ہے۔ البتہ مستقبل میںشاید ایسا ممکن ہوسکے تاہم یہ اس بات پر منحصر کرے گا کہ معاہدہ محض معاہدہ تک محدود رہتا ہے یا پھر یہ ایک باضابطہ اتحادمیں تبدیل ہوجاتا ہے۔اگر چین ۔ ایران فوجی پارٹنرشپ کا کوئی معاہدہ طے پاتا ہے تو یہ علاقائی اور عالمی فوجی حالات پربھی اثر انداز ہوسکتا ہے۔ تاہم اس معاہدہ کے ایک باضابطہ اتحاد میں تبدیل ہونے کے امکانات بہت کم دکھائی دیتے ہیں ۔ تاریخی لحاظ سے ایران نے صرف شام کے ساتھ 1980کی دہائی میں باضابطہ اتحاد کیا تھا اور یہ اتحاد ایرانی خارجہ پالیسی میں نظریاتی عناصر کی وجہ سے تمام دقتوں کے باوجود قائم رہ سکا ہے۔
چین کے ساتھ ایک باضابطہ اتحاد کے لیے ایران کو اپنی خارجہ پالیسی میں بڑے پیمانے پر نظریاتی تبدیلی کرنی پڑے گی لیکن مستقبل قریب میں اس کا کوئی امکان نظر نہیں آتا ہے۔
(مصنف سیاسی تجزیہ نگار ہیں۔ وہ بی بی سی اردو سروس اور خلیج ٹائمزدوبئی سے وابستہ رہے ہیں)
ای میل۔ [email protected]