حالیہ عرصے میں فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں کی جانب سے پیغمبر اسلام اور دین اسلام کی تنقید کرتے ہوئے جو بیانات آئے ان سے پورا عالم اسلام ایک اضطر ابی کیفیت میں مبتلا ہوگیا لیکن مسلم اکابرین اور قائدین کے ردعمل زیادہ ترہذیانی اور جذباتی تھے اور کسی نے بھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی فرانسیسی صدر کے ان بیانات کے اصل محرکات کیا ہیں۔
دراصل فرانس میں سرکاری اور غیر سرکاری عیسائی انتہاپسندی نے ،سیکولرازم کے نام پر اپنے لیے قانونی جوازپیدا کرکے فرانسیسی اور غیر فرانسیسی مسلمانوں پر حملوں کا جو سلسلہ شروع کیا ، اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔CCIF نامی ایک فرانسیسی غیر سرکاری ادارے نے 2019میں اسلاموفوبیا کے 1043 واقعات کی فہرست تیار کی ہے۔ جو 2017کے مقابلے 77فیصد زیادہ تھے۔دراصل مسلمانو ں کے خلاف منافرت انگیز تقریروں کو معمول کی بات سمجھنے کے رویے نے مسلمانوں کے ساتھ نہ صرف ادارہ جاتی جانبدارانہ سلوک کو قانونی جواز فراہم کردیا ہے بلکہ اس نے فرانس کے اندر اور باہر مسلمانوں کے خلاف تشدد کو بھڑکانے میں ایندھن بھی فراہم کیا ہے ۔
اکتوبر 2019میں فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں اور اس وقت کے ان کے وزیر داخلہ کرسٹوفر کاسٹانر نے فرانس میں دہشت گردی کو فرانسیسی مسلمانوں کے عقیدہ، کلچر،پانچ وقتوں کی نمازوںحتی کہ حلال کھانے سے جوڑ دیا ۔
ماکروں نے گزشتہ ہفتے کہا کہ سلام ایک ایسا مذہب ہے جسے عالمی سطح پر بحرانی صورت حال کا سامنا ہے او ریہ صورت حال صرف ہمارے ملک تک ہی محدود نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ فرانس میں مساجد کی مالی امدادمیں اضافہ کرکے اسلام کو غیر ملکی اثرات سے ’آزاد‘کرانا چاہتے ہیں۔
ماکروں اسلام کو’آزاد‘ کرانے کی بات کرنے والے پہلے فرانسیسی حکمراں نہیں ہیں ۔یہ فرانس کی ایک قدیم ’سیکولر‘ روایت ہے۔ جب نیپولین بوناپارٹ نے 1798میں مصر اور فلسطین پر حملہ کیا تو اس نے انتہائی عیاری کے ساتھ مصریوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ وہ اور اس کی فوج ’مذہبی طورپر مسلمان ‘ ہے اور وہ مسلمانوں اور اسلام کو مملوک سلطنت کے ظلم و جبر سے نجات دلانے کے لیے آئے ہیں۔
لیکن اس کی چال کامیاب نہیںہوسکی اور مصری اور فلسطینی اس کے خلاف صف آرا ہوگئے۔ اسے شکست کھاکر فرانس واپس لوٹنا پڑا ۔لیکن اس دوران اس کی فوج نے مصر اور فلسطین میں جس بربریت کا مظاہرہ کیا وہ ناقابل بیان ہے۔
کوئی دو صدی قبل اسلام کے ساتھ نپولین اور فرانس کی عداوت کا سبب یہ تھا کہ اسے فلسطین کے شہر عکا میں منہ کی کھانی پڑی تھی۔ اس کے کوئی تین دہائی بعد فرانس نے الجیریا پر حملہ کردیا۔1830میں یہ حملہ جون کے وسط میں شرو ع ہوا اور 5جولائی کو الجیریایوں نے ہتھیار ڈال دیے۔
اس وقت مالی لحا ظ سے پریشان حال فرانس نے الجیریاکا پورا خزانہ لوٹ لیا۔ ایک اندازے کے مطابق فرانسیسیوں نے سونے اور چاندی کی شکل میں 43ملین فرینک سے زیادہ لوٹ لیے ۔یہ رقم اس کے علاوہ ہے جو یا تو غائب کردی گئی یا جو قابض فرانسیسی فوج پر خرچ کی گئی۔ آج بھی فرانس کے قرض تلے دبے غریب مغربی افریقی ممالک کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ فرانس نے انہیں ضم کرنے کے لیے ان کے ہی خرانے کو کس طرح لوٹا ۔
عیسائیت کے انہیں اہداف کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے فرانسیسی فوج نے بندوق کی نوک پر مساجد پر قبضے کیے اور انہیں گرجا گھروں اور کلیساوں میں تبدیل کردیا۔ ان میں الجیرس میں1612میں عثمانیوں کی تعمیر کردہ سب سے بڑی مسجد کتشاوہ بھی شامل تھی۔اسے دسمبر 1832میںسینٹ فلپ کیتھیڈرل میں تبدیل کردیا گیا۔ اسی سال فرانسیسیو ں نے پورے عوفیہ قبیلے کا قتل عام کردیا حتی کہ عورتوں اور بچوں کو بھی نہیں چھوڑا اور ان کے تمام مال واسباب پر قبضہ کرلیا۔
فرانسیسی بربریت
1871میں الجیریائی مسلمانوں نے فرانسیسی حکومت کے خلاف بغاوت کردی ۔ مقامی قبائلی رہنما المقرانی کی قیادت والی فوج میں ڈیڑ ھ لاکھ سے زائد افراد شامل ہوگئے۔ فرانس نے انہیں کچلنے کے لیے قتل عام کا بازار گرم کردیا جس میں لاکھوں افراد مارے گئے ۔ اس کے ساتھ ہی 1860کے عشرے میں فرانسیسیوں کے ذریعہ منصوبہ بند قحط سالی کی وجہ سے کوئی دس لاکھ الجیریائی موت کے منہ میں چلے گئے ۔فرانس نے درجنوں قصبوں اور گاوں کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کردیااور الجیریا کے طبقہ اشرافیہ کو پوری طرح ختم کردیا۔لیکن اتنا کچھ کرنے کے باوجوداسلام کے ساتھ فرانس کی ’ پریشانی‘ ختم نہیں ہوئی۔
1901میں اسلام کے سلسلے میں فرانس کا ’بحران‘ مزید بڑھ گیا۔اس کی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ بڑی بڑی مسلم آبادیوں والے نئے نوآبادیات کو اپنے میں ضم کرنے کے بعدگوکہ ’بلاشبہ وہ ایک بڑی مسلم طاقت بن گیاتھا ‘ لیکن اسے یہ اسلام کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا اور یہ اسے یہ اندیشہ پریشان کر رہا تھاکہ بیسویں صدی میں اسلام کی صورت کیسی ہوگی۔ یہ تشویش اتنی شدت اختیا رکر گئی کہ اس کا جواب تلاش کرنے کے لیے باضابطہ کوششیں شروع کردی گئیں۔ ایک اوباش اور ترک مخالف فرانسیسی صحافی ایڈمنڈ فیزی کو اس کام کے لیے مامور کیا گیا کہ 2000میں ’’اسلام کا مستقبل ‘‘کیا ہوگا۔
اسلام کا مستقبل
فرانس میں آج انتہاپسند انہ قو م پرستی اور منافرت کے جس بیانیہ کا غلبہ دکھائی دیتا ہے وہ اس سے زیادہ مختلف نہیں ہے جو غالب فرانسیسی کلچر کا حصہ رہا ہے۔
فیزی کی رپورٹ میں متعدد دانشوروں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی تعلیمات میں پھیر بدل کرنے اور مسلم علماء میں فکری تبدیلی لانے کی ضرورت ہے تاکہ ایک ایسا جدید اسلام تیار کیا جاسکے جو نہ صرف یورپی جدیدیت کے لیے قابل برداشت ہو بلکہ جس سے سلطنت عثمانیہ بھی کمزور ہوسکے۔
اسلام کو یورپی عیسائیت اور فرانسیسی سیکولرزم جیسی کسی چیز میں تبدیل کرنے کا پروجیکٹ شاید 2020میں بھی کامیاب ہوسکتا تھا لیکن ماکروں اپنی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکے ۔ماکروں کی قیادت میں فرانس نے اپنے مسلم شہریوں کے خلاف جس طرح کی ادارہ جاتی تعصب کا سلسلہ جاری رکھا ہے اس کے ختم ہونے کے آثار فی الحال دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ فرانس اب بھی اسی شدت پسند قوم پرستی اور نفرت کے ماحول کو برقرار رکھے ہوئے ہے جو اس سے زیادہ مختلف نہیں ہے جوکہ فرانسیسی کلچرمیں ہمیشہ حتی کہ فرانسیسی انقلاب سے پہلے بھی غالب رہا ہے۔
مسلمانوں کے ساتھ فرانس جس بحران سے دوچار ہے اس کی وجہ فرانسیسی شدت پسندانہ قوم پرستی اور سفید فام عیسائیت کی بالادستی سے خود کو الگ نا کرنا نیز اس حقیقت کو تسلیم نا کرنا ہے کہ ان کا ملک ایک تیسرے درجے کی نئی آبادیاتی طاقت ہے ، جو زوال آمادہ ثقافت کے باوجود عظمت رفتہ کے خوابوں میں گم ہے۔ حالانکہ فرانس نے 18ویں صدی کے اواخر میں کریبیائی ملکوں سے لے کر جنوب مشرقی ایشیا اور افریقہ تک جس طرح قتل عام کیا اور انسانیت کی تذلیل کی ، اس کے لیے اپنے گناہوں پر شرمندگی ہونی چاہئے اور معافی طلب کرنی چاہئے تھی۔
دراصل فرانس کے لیے ضروری ہے کہ اس نے دنیا بھر میں جہاں جہاں لوٹ کھسوٹ مچائی ہے اور جہاں جہاں قتل عام کیا ہے اس کا کفارہ ادا کرے۔ صرف اسی صورت میں ’اسلام‘ اور خود اپنے آپ کے ساتھ فرانس کے بحران کا حل ممکن ہے۔
(مصنف سیاسی تجزیہ نگارہیں۔ وہ بی بی سی اردو سروس اور خلیج ٹائمز دوبئی سے وابستہ رہ چکے ہیں)
ای میل [email protected]