شاعری خواب ہے : یہ خواب آسا بھی ہے ، خواب آور بھی، خوابوںکو سجانے والی ،نکھارنے والی بھی، اور انہیں منتشر کرنے والی بھی۔میں نے ہمیشہ شاعری کوخواب ہی سمجھااور خواب کوتخلیق اور یاد داشت۔یوںیہ تخلیق اورتخلیقی عمل بھی ہے۔ اورتخلیق اور تخلیقی عمل ہمیشہ اِک خواب ہی ہوتاہے ۔تخلیق خواب نہ ہوتو وہ فن نہیں ہوسکتی، نظم ہوسکتی ہے اورنظم یامنظوم کلام کچھ بھی ہوسکتاہے، تخلیق اور فن نہیں ہوسکتا۔تخلیق جب فن بن جائے تووہ ’لاشعور‘کو’ھیٔت عطاکرتاہے، زندگی دیتاہے،اس کی ترسیل کرتاہے اورکبھی کبھی اس کی معنویاتی اور استعاراتی توجیہہ بھی۔یہ ساری کائنات اِک خواب ہے سب سے بڑے خالق کاخواب اور انسان جب اس خالق یا اس کے خواب سے جڑجاتاہے تووہ تخلیق کار بن جاتاہے کیونکہ وہ اس کے تخلیقی عمل میں شریک ہوجاتاہے اورکائنات کی تخلیق نو بھی کرتاہے اوراس کی تسخیر بھی اورساتھ ساتھ نئی کائنات یانئی کائناتوں کوجنم دیتاہے۔اوراسی خواب کے ذریعہ وہ اپنے لاشعور یعنی اس پہلے تخلیقی عمل سے جڑجاتاہے جب اس کے باپ یعنی آدم کومٹی سے پیداکیاگیاتھا اوراس میں روح پھونک کر اسے تخلیق کار بنایاگیا، جس نے اسے جواب دہ بنایااوریہ جواب دہی کاعمل اس کی آزادی سے مربوط ہے۔آزادی اس کی کنہ ہے اوریہی آزادی اسے کائنات اوردیگرتخلیقات و مخلوقات پر تفوق عطاکرتی ہے اوراسے ایک تخلیق کار بناتی ہے۔ جنت وجہنم بھی اسی تخلیق کاری اورخواب کاحصہ ہیں،اسی لئے غزالی اوراقبال جیسے خواب دیکھنے والوںاور اپنے فن اورتخلیقات روحانی میں نئی دنیا بسانے اورمعانی کی نئی توجیہات کی دنیا بسانے والے فلاسفہ عظیم روحانی مسافروںاور شاعر نے جنت وجہنم کواس کی شعوری کیفیات کہہ دیا اور قرآن پاک نے ان کی توجیہ یوں کی یہ آگ ان کے دِلوںتک اُتر جائے گی یاانہیں نفس مطمئنہ کہہ دیا۔یہ دِلوں میں اترنے والی آگ ،جہنم ہے اور نفس مطمئنہ ،جنت ہے یا جنت کی ہم شکل۔یہ دوشعوری ولاشعوری کائناتیں ہیں یا ان کے عمل کانتیجہ عمل۔
دونوں کاتعلق شعوری کیفیات سے ہے، خواب،سوچ،تخلیق،حرکت،آزادی اور ’اَنا‘ کی بالیدگی اوراس کے ہونے کااظہار ہے اوریہی شاعری ہے۔ شاعری الفاظ کاروپ اختیار کرتی ہے اوریہ روپ،’رنگ وصوت‘ سے مزین بھی ہوتاہے اوران کاعکاس بھی اوران سے معرابھی اوران میں الجھاہوابھی۔اسی لئے جب شاعری تصوف کی شکل اختیار کرتی ہے،یاتصوف کابیانیہ بن جاتی ہے یا اس بے پایاں اوروسیع کائنات اوراس کے لامحدوداورکسی بھی شکل وصورت سے معریٰ ومبریٰ خالق سے رشتہ جوڑتی ہے تویہ اس کے اندر کی آواز ہوتی ہے۔جوہر شئے کی نفی بھی کرتی ہے اورہر شئے کاادراک بھی۔
شاعری گل بھی ہے، گل چین بھی،باغ بھی ہے اورصحرابھی، تشنگی بھی ہے اورآسودگی بھی،پیاس بھی ہے اورنغمۂ آبشار بھی، بہار بھی ہے اور خزاں بھی، راز بھی ہے اور ہم رازبھی، ادراک بھی ہے اورنافہمی بھی۔ یہ ایک ایساصحراہے، جواپنے آپ میں مجسم آگ بھی ہے اورمجسم پیاس بھی، یہ ایک سراب کی صورت میں سمندر بھی ہے۔ اس لئے اس کے زاویے، تقاضے، تصرفات، اوراثرات ، مختلف الجہت ہوتے ہیں۔شاعری اگر اضطراب نہ ہو، تووہ منظوم کلام توہوسکتی ہے، شاعری نہیں۔ اب اس حوالے سے سوچئے اوردیکھئے تویہ ایک ’رزم گاہ‘ اورایک خواب آگین بزم بھی بن جاتی ہے۔
شاعری کے لئے خودساختہ نظریات کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ یہ اس کی روح ’آزادی اورتخلیقی عمل‘ کی طرح تمام نظریات سے بالاہوکر اپنی دنیا آپ ہوتی ہے اور یہ دنیا کہیں اضطراب، کہیں سکون، کہیں پرندوں کی چہچہاہٹ،کہیں معصوم بچوں کی مُسکراہٹ، اورکہیں ابن آدم کی روح پر پڑے آتشیں کوڑوں کی سیاہ داستان کی ایک ٹھیس، اورکہیں ایک انقلاب اورکہیں ایک نغمہ آبشار ہوتی ہے، جوہزارہاسنطوروں،بانسریوںاورچنگ ورباب کوالجھاتے ہوئے موسیقی وغنا کی ایک داستان بن جاتی ہے۔
سرزمین کشمیر خودایک خواب اور ایک شعر ہے، ایک ایساخواب اورشعر،جس کی لاکھوں توجیہات کے باوجوداسے کھولانہ جاسکا،اوراس کی جادوئی مٹی نے ایسے اذہان کوپیداکیاجواس کی نوائے بے نوائی کونئے نئے روپ دیتے اورنئی نئی مسکراتی ،کسمساتی، لہلہاتی، چیختی چلّاتی اورنغمہ گیں شکلوںمیں الفاظ بن کر وسعتوں میں پھیلے۔حبہ خاتون کی ’المیاتی‘غزل ہو کہ رسول میرکی پیکر تراش رسیلی غزل،صوفیاکی صوفیانہ شاعری ہو کہ حمدونعت و مناقب کی بہاریں، یاعشقیہ وطربیہ شاعری ہوکہ جھوٹی وجودیت وجدیدیت ومابعدجدیدیت کی دعویٰ دار بے رطب وبے لساں شاعری، یہ سارے ہی سازینے اسی ساز کے ہیں، جسے کشمیری شاعری کہاجاتاہے۔
فاروق ناز کی کی شاعری ایک ایسے درخت کی مانندہے جس کی جڑیں بیک وقت کئی اطراف میں پھیل ہوئی ہیں، اوراس کی تہہ در تہہ ساخت ایک ایسے شعورکاپتہ دیتی ہے جولاشعور اور Nostalgia میں الجھاہواہے۔ اس کابیانیہ کہیں پہ بہت سادہ نظر آتاہے۔ لیکن یہ سادگی مضمل کردینے والی ہے اورکہیں پر وہ ایسی داستانوںمیںاُترجاتاہے جواس کی ہیں ہی نہیںاور یوں محسوس ہوتاہے کہ وہ بہت ہی میٹھے پانی کے چشمے پر بیٹھے ہوئے اچانک کھردری زمینوںمیں اترآیا اس کی Nostalgia میں مکہ اورمدینہ کی سنگلاخ مگر معطر ومنور وادیاںابھرتی نظر آتی ہیں اوراونٹوں اورگھوڑوں کے رقصاں قافلے اورساربانوںکے گیت الجھتے ہوئے روح کومنور کرتے ہیں اورتازہ بھی اور پھر اچانک وہ سیاہ مشرکانہ دلدل میں اترجاتاہے یوں اس کاروحانی وتخلیقی سفر مضمحل صورت حال اختیار کرلیتاہے۔یہ اضمحلال اس وجہ سے پیداہوتاہے کہ ان کاآرچ ٹائیل اسٹرکچر سارتر کے بقول ان کی حقیقی اور معتبر روایت اورایمانیات سے ہٹ کر جھوٹی ایمانیات Bad Faith میں الجھ جاتاہے۔ یہ مسئلہ مذہبی اخلاقیات کابھی ہے۔کہ مذہبی اخلاقیات سچی روحانیت سے ابھرتی ہے اور یہ بنیادی اخلاقیات کونکھارتی ہے۔ یہ دینیاتی اخلاقیات کی طرح سطحی نہیں ہوتی، شاعر عام آدمی نہیں ہوتاہے۔ اس کی معتبر شخصیت اس کا فنی وجودہے اوراگر اس میں کہیں یہ انحراف ہوجائے یایہ سطحی ایمانیات سے یا جھوٹی ایمانیات سے مل جائے تویہ’آزادی‘ سے منحرف ہوجاتاہے ۔آزادی معتبر شخصیت Authentic Personality معتبر اخلاقیات Authentic Morality اور معتبر وجودکی ضامن Authentic Existence بھی ہے، خالق بھی اورمحافظ بھی۔تصوف کی شاعری اسی اعتبار کی شاعری ہوتی ہے ۔فاروق نازکی صوفی ہیں کہ نہیں یا اس دنیا کی سیر کرتے ہیں، مجھے نہیں معلوم، لیکن ان کاآرچی ٹائپ بہرحال سب سے سچے اور معتبر وجودسے پھوٹتاہے، جوجوامع الکلم ہے اسرار النقطہ ہے، اور وجہ تخلیق کونین ہے اور ان کااضمحلال مجھے رنجیدہ کردیتاہے۔
مابعدالطبعیاتی فضائیں بلاکی پر اسرار اورگنجلک ضرور ہوتی ہیں اور ناقابل ادراک وبیان بھی، یا اگر ان کی گرہیں کھلناشروع ہوبھی جائیں،جب بھی ان میں ایک بھول بھلیاں پیداہوتی رہتی ہے۔ مجھے اس سے انکار نہیں۔ لیکن مابعدالطبعیاتی فضاؤں کے تاثرات اگردوسری منفی فضاؤں میں اترجائیں تووہ ایک ادعابن جاتے ہیں ادعیہ نہیں۔
ظاہرہے کہ مدینہ کی سوندی سوندی مہکتی ہوئی مٹی کے گلوں کے مظاہر اپنے آپ میں الگ ہیں اورکلی طور پر الگ ہیں، انہیں دوسری سنگلاخ، جلی ہوئی، سیاہ مٹیوں سے ملانے کی کوشش انہیں مشکوک بنادے گی۔Nostalgia کاتعلق وراثت اوروراثت کے خوابوں سے ہوتاہے، یہ خواب جب اپنی مٹی کے نزدیک آتے ہیں تومہک اٹھتے ہیں اورایک جہاں تازہ شاعر کے وجودکومہکادیتاہے۔دوغلاپن باعثِ عبرت بھی ہے اور حیرت بھی، وجہ ندامت بھی ہے اورعذاب بھی۔
حمد،نعت،مرثیہ اوراعلیٰ غزل ایک متحرک ذہن کی پیداوارہو تویہ ایک افسانہ بھی ہوتی ہے اورافسانہ گربھی اوریہ افسانہ گر ذہن اگر Nostalgia میں گرفتار ہوتوغضب ہوتاہے یا دوآتشہ ۔ کیونکہ اس کی یاد داشت اس کے وجودکی تلاش یا اس کے معانی اوررشتوں کی تلاش اوران کہے خوابوںکی تلاش ہوتی ہے۔یہ ایک روحانی جنگ بھی ہے ،ارتعاش بھی ۔یہ تلاش بہت ہی مستحکم متوازن اور زبردست ہوتی ہے اگر یہ ایک اخلاقی دائرے،یااخلاقی دائروں میں ہوں۔ اخلاق سے مرادوہ بنیادی اصول ہیں جوزندگی کومعانی اورتنوع عطاکرتے ہیں۔اخلاقیات پانچ طرح کی ہوتی ہے۔ بنیادی اخلاقیات، مذہبی اخلاقیات دینیاتی اخلاقیات، سماجی اخلاقیات اوراسطوری یا جھوٹی اخلاقیات۔
بنیادی اخلاقیات سے مرادوہ اعلیٰ اقدار ہیں جوآفاقی اورھمہ گیر ہیں، یہ اساسی اقدار ہیں۔ یہ اقدارخلّاقیت ، زندگی ،کشمکش حیات اورمعانی کی بنیادہیں، بنیادی طور پر یہ اقدار چارہیں، اورارسطونے ان پر طویل بحث کی ہے۔ سیدابولاعلی مودودیؒ کاخیال ہے کہ کوئی بھی فردیاقوم اگر ان اقدار سے خالی ہو تووہ زندگی کی حامل نہیں ہوتی۔ مذہبی اخلاقیات وہ اعلیٰ اقدار ہیں جوزندگی کومعانی اور تنوع عطاکرتی ہیں۔ قرآن حکیم انہیں’حسنات‘ کہتاہے۔ عظیم اسلامی مفکر، فلسفی اورصوفی امام ابوحامدالغزالی انہیں منجیات کہتاہے اورانہیں اسلامی مابعدالطبعیات جمالیات اورروحانیت کی کنہ قرار دیتاہے۔ یہ اخلاقیات وہ اعمال ہیں جوانسان کواپنی سب سے بڑی تلاش’سعادت اخرویہ‘ جسے ارسطو Ultimate end کہتاہے کی طرف لے جاتاہے یہ اپنی فطرت میں حرکی ہیں اورانسان کونری رھبانیت سے بچاتے ہیں۔ رھبانیت انسان دشمن اورانسانیت کش عمل ہے۔کیونکہ انسان تو’عمل‘ کانام ہے۔ مسلسل عمل، اور جدوجہد۔دینیاتی اخلاقیات کاتعلق اگرچہ مذہبی اخلاقیات سے ہوتاہے۔ لیکن اس کے باوجوان میںمابعدالطرفین کافاصلہ ہے۔ دینیاتی اخلاقیات کاتعلق روحانی سفرسے نہیں ہوتا۔ یہ ایک ظاہر بین اورسطحی اخلاقیات ہے جوانسان کوکچھ قواعداورضوابط کاپابندتوبناتی ہے، لیکن اس کی روح کوتازگی،بالیدگی اوروسعت فکر وعمل عطانہیں کرتی اورنہ اسے اپنی روحانی جڑوں سے ملاتی ہے۔ یہ ایک سطحی اخلاقی اصولوں کی گتھی ہوتی ہے، جو محض انسان کے ظاہر کودیکھتی ہے اوراس کی روح کی وسعتوں میں نہیں اترتی۔مذہبی اخلاقیات، بنیادی اخلاقیات سے جڑی ہوتی ہے، یوں یہ اس کے وجودکومعتبر بنادیتی ہے اوراسے ایک ایسی دنیا یا ’دنیاؤں‘ کی سیار بنادیتی ہے، جہاں پہ وہ اپنی وجودی اورروحانی بنیادوںکوچھونے لگتاہے۔ ایک شخص کاوجودمذہبی اخلاقیات میں جتناغوطہ زن ہوگا، اتناہی اس کاوجوداوراس کے ادعیہ سچے اورمعتبر ہوں گے اور اس کی شاعری یا فن اتناہی رنگین، مستحکم اوربہاربہاراں ہوگا۔ سماجی اخلاقیات ان اعمال سے جڑی ہوئی ہے۔جوسماج کو قائم رکھتے ہیں۔کوئی سماج رھبانیت سے پیدانہیں ہوتا۔سماج اعمال ،عمل اورردعمل اورمسلسل عمل کانام ہے اوروہ اسی سے زندہ بھی رہتاہے اورتنوع بھی پاتاہے۔
رہی اسطوری اخلاقیات تویہ جھوٹی کہانیوں کوسچ دکھانے کافریب ہے۔ اسطور سے بڑاجھوٹ کچھ ہے ہی نہیں۔کہانیاں زندگی کی حقیقت ضرورہیں۔ لیکن اسطور انہیں مابعدالطبعیات سے ملاکر ایک ایساملغوبہ تیار کرتاہے، جس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ اسی لئے کبھی یہ اخلاقیات زندگی کوسب سے بڑا جرم اورکبھی گناہ قرار دیتی ہے۔ یہ زندگی سے فرار یازندگی کوشیطانی قوتوں کے حوالے کرنے کادوسرانام ہے۔
خواب زندگی ہے اورزندگی خواب۔شرط یہ ہے کہ اس کا کوئی مقصودہو بے مقصدیت بے معنی رومانیت اور بے معنی روحانیت کی طرف لے جاتی ہے۔ لیکن خواب بے معنویت کی طرف نہیں پراسرار کشمکش اور بامعنی عمل کی طرف لے جاتاہے اوراس میں جورومانیت اُبھرتی ہے وہ اعلیٰ فن کی پیش کار ہوتی ہے، جیسے کولرج کی کبلاخان، شیلی کی Ode to the west wind اقبال کی جاویدنامہ،غالب کی غزلیں، حبہ خاتون کی رومانی المیاتی غزلیں وغیرہ وغیرہ۔
بڑی شاعری بڑا خواب ہوتی ہے، احساسات، جذبات،رومان،خواہشات،جمال اور جمالیات اوران کے ساتھ حرکت وعمل۔ کبھی کبھی یہ خواب ماضی میں پیوستہ ہوتے ہیں اورکبھی ایک ایسی شخصیت یاشخصیات یااعمال یا تخلیقات جیسے مسجدقرطبہ،زونہ ڈب، موتی مسجد، لال قلعہ کے گرد رقصاں ہوتی ہیں۔ جوایک جہاں نو کی تخلیق کی طرف رہنمائی کرتے ہیں، یہ خواب بہت ہی بامقصد، پُرفریب، لیکن نفسیاتی طورپر تکلیف دہ ہوتے ہیں، لیکن ان سے جوکائنات اُبھرکے آتی ہے وہ بڑی زبردست،متنوع،بامقصداورحسین ہوتی ہے اور حسن ہی تو محورزندگی ہے اور زندگی کامحور بھی۔
شاید فاروق ناز کی کاشعری سفر اسے اسی محور کی طرف لے جارہاہے خداکرے ایسا ہی ہو۔
رابطہ۔[email protected]