یوں توکشمیری عوام کی ساری معلوم ومرقوم تاریخ حکمرانوں کے ظلم و جبر کے خوفناک واقعات سے عبارت ہے، مگر جو مظالم ڈوگرہ راجائوں نے ریاست کی 82فیصد مسلم آبادی پر ڈھائے، اْن کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ مسلمان مورخین کے علاوہ ہندو تاریخ نویسوں نے بھی بڑی رنجیدہ دِلی کے ساتھ ان شرمناک مظالم کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ بہت ساری تفاصیل ہمیں مرحوم شیخ محمد عبداللہ، چوہدری غلام عباس، پنڈت پریم ناتھ بزاز،سردار محمد ابراہیم خا ن ، سردار محمد عبدالقیوم خان ،منشی محمد اسحٰق،شبنم قیوم،اور دیگرمصنفین کی کتابوں میں ملتی ہیں، جو انہوں نے کشمیر کی تحریک آزادی یا اس میں اپنے اپنے کردار کے حوالے سے لکھی ہیں۔
ریاست میں ڈوگرہ شاہی کی بنیاد گلاب سنگھ کے ہاتھوں پڑی۔ گلاب سنگھ کا وارث رنبیر سنگھ کو بنایا گیا۔ پر تاپ سنگھ کو اِسی طرح والد رنبیر سنگھ کے دور اختتام پر 1885 میں تخت پر بٹھایا گیا۔ پرتاپ سنگھ کی اپنی کوئی نرینہ اولاد نہیں تھی۔ اْس نے دور کے ایک رشتہ دار کو اپنا وارث بنانے کی کوششیں کیں، لیکن برطانوی حکومت نے پرتاپ سنگھ کے بھتیجے ہری سنگھ کی تخت نشینی کو ممکن بنادیا۔ اِس طرح آخری ڈوگرہ حکمران ہری سنگھ 1925 میں تخت پر بیٹھ گیا۔ ہری سنگھ نے بھی اپنے پیش رو حکمرانوں کی طرح اختیارات کو غیر منصفانہ اور من پسند طریقے سے استعمال کیا۔ ہندوستان سے برطانوی اقتدار کے دس سال قبل ہری سنگھ نے پونچھ کو اپنے راجواڑہ کا حصہ بنانے کے لئے برٹش انڈین کورٹ کی رضامندی حاصل کرلی۔ پونچھ تب تک سکھ حکمرانوں کی تصدیق سے گلاب سنگھ کے بھائی دھیان سنگھ کی حکمرانی میں دیا گیا تھا۔ اِس طرح اِس اہم اقدام کے بعد اور برصغیر کے بٹوارے سے پہلے ہی جموں و کشمیر ریاست کی سرحدیں طے ہوگئیں۔ تاہم پونچھ کے مسلمان اپنے علاقے کا راجواڑہ کے ساتھ انضمام کی مخالفت کرتے رہے۔اس کے ساتھ ہی راجوری کے مسلمان بھی مزاحمت میں پیش پیش رہے۔ برطانیہ کی طرف سے ڈوگرہ شاہی کو مضبوط کرنے کا یہ قدم شمال مغربی سرحد کو مضبوط بنانے کے لئے ایسٹ انڈیا کمپنی کی تشویش کا نتیجہ تھا۔ برطانیہ نے اِسی مقصد کو لے کر باقی ماندہ علاقوں کا اقتدار اعلیٰ ڈوگرہ مہاراجہ کو منتقل کیا۔ایک سو سال بعد 1947 میں ہندوستان کی آزادی اور بٹوارے کے موقعہ پر بیع نامہ امرتسر میں درج ڈوگرہ خاندان کے اقتدار کا خاتمہ ہوا۔ تب تک جموں کشمیر ایک خودمختار راجواڑہ تھا۔
بعض مستند تاریخ نویسوں نے لکھا ہے کہ ڈوگرہ راجے اپنی مجلسوں میں مسلمانوں کی شکل بھی دیکھنے کے روادار نہ تھے۔ان کے یہاں مسلمانوں کو ملیچھ‘ نجس اور ناپاک سمجھا جاتا۔ چند کاسہ لیسوں کے سوا حکومتی وسیاسی معاملات میں کسی بھی مسلمان کا کوئی عمل دخل نہ تھا۔ اس دورستم رانی میں جموں وکشمیر کے 38وزرائے اعظم مقرر ہوئے،جن میں سے ایک بھی مسلمان نہ تھا۔ اکثر علاقوں میں مساجد کی تعمیر، اذان دینے اور مذہبی اجتماعات پر پابندی تھی۔ فوج صرف ڈوگرہ کے لیے مخصوص تھی‘ گورکھے اور پنجابی سکھ بھی اس میں ملازمت حاصل کرسکتے تھے مگر مسلمانوں کے لیے یہ شجر ممنوعہ تھی۔60فیصد گزیٹڈ سرکاری نوکریاں ڈوگروں اور باقی اعلیٰ ذات کے ہندوئوں کو دی جاتیں۔ چھوٹی موٹی ملازمتوں پر البتہ اِکا دْکا مسلمان نظر آتے۔ بھوک اور افلاس کے مارے مسلمانوں کے پاس روزگار کا کوئی باعزت وسیلہ نہ تھا۔یہی دور تھا جب ہندوستان میں شدھی کی تحریک کے نتیجے میں جموں وکشمیر میں بھی مسلمانوں کو زبردستی ہندوانہ رنگ میں رنگا گیا۔ بعض پہاڑی علاقوں میں ہندو اور مسلمان کی کوئی تمیز نہ تھی۔ بہت سے مسلمانوں کی وضع قطع‘ لباس اور عادات بھی ہندوانہ بنا دی گئیں۔اتنا ہی نہیں،بلکہ ان کے گھروں میں ہندو دیوی دیوتائوں کی مورتیاں کثرت سے ملتیں، جن سے مسلمان مرادیں مانگتے۔دوسری طرف بیگار کی ظالمانہ رسم نے بھی مسلمانوں کا جینا محال کر رکھا تھا۔ اس کی تفصیلات اتنی دردناک ہیں کہ بیان کرنا مشکل ہے۔
ہماری آج کی نوجوان نسل ان مصائب وشدائد کا تصور بھی نہیں کرسکتی ،جو ڈوگرہ راج کے سوسال میں مسلمانوں کا مقدر تھے۔افسوس اس بات کا ہے کہ 1947کے بعد پروان چڑھنے والی نسل اپنی ملی تاریخ کی ان ہولناک تفصیلات سے بالکل ہی بیگانہ اور ناآشنا ہے۔کاش یہ لوگ آگاہ ہوجائیں کہ ان کے آباء و اجداد کن اذیتوں سے گزرے ہیں۔کشمیر،راجوری اور پونچھ کے مسلمانوں نے ڈوگرہ راج کے خلاف کس کس طرح مزاحمت کی ،اور جان ومال کی کس قدر بیش بہاقربانیاں پیش کیں۔
مقام مسرت ہے کہ"ڈوگرہ عہد کا راجوری"نام کی کتاب کے مصنّف امیرمحمدشمسی صاحب نے اس شدید ضرورت کا حددرجہ ادراک کرتے ہوئے اس عہد کے تمام واقعات و حقائق کو عالمانہ بصیرت،محققانہ عرق ریزی اور فنی چابکدستی کے ساتھ دلکش اسلوب میںبیان کرکے موضوع کا حق اداکردیا ہے۔شمسی صاحب کومیں1987سے جانتا ہوں،جب وہ میرے جاری کردہ کشمیر کے اوّلین اْردو نیوز میگزین’تکبیر‘میں بیوروچیف پیر پنچال کی حیثیت سے کام کرتے تھے،اوربے بیباک صحافت کے علمبردارتھے۔اس کے بعد وہ زندگی کے نشیب و فراز اورتندی ٔ بادِ مخالف کا نہایت پامردی، صبرو ثبات، خندہ پیشانی اور کشادہ دِلی کے ساتھ سامنا کرتے رہے ،اور اس دوران پرورشِ لوح و قلم کا فریضہ بھی جاری وساری رکھا۔
شمسی صاحب نے اسلام ، اس کی تاریخ و ثقافت،اور احیائے اسلام کی منظم کوششوں کیساتھ خود کو ابتداء ہی سے وابستہ کررکھاہے،بلکہ ایک لحاظ سے اسی ماحول میں اپنے آپ کو جذب کردیاہے۔اِس سیقبل اْن کی ایک کتاب منظرعام پرآکر مقبول عام ہوئی،جوخطہ ٔ پیر پنچال کے اہم ترین ڈِویژن راجوری میں اسلام کی آمداور اس کے فروغ و اشاعت کی تاریخ پر مبنی ہے۔زیرنظرکتاب اْن کی دوسری تصنیف ہے،جواپنے موضوع پرسیرحاصل دستاویز ہے۔ اس میں1846ء سے لیکر1947ء تک کے ظالمانہ دور کے تمام تر اہم تاریخی واقعات کو نہایت بے لاگ طریقے سے بیان کیا گیا ہے،جس کے لیے شمسی صاحب ہی کا کلیجہ چاہیے۔
ایک اچھے مورخ کی پہچان یہ بتائی گئی ہے کہ اس کا ذہن ہر طرح کے تعصب سے پاک ہو۔ کسی گروہ سے محبت یا نفرت کی بنیاد پروہ اپنی تاریخ کو کسی بھی صورت میں مسنح نہ ہونے دے۔اس کامزاج تنقیدی ہونا چاہیے،نہ کہ تنقیصی۔ گزرے ہوئے زمانے کو جانچنے اورپرکھنے کے بعد ہی کامیاب تاریخ لکھی جاسکتی ہے۔حقیقت کو جوں کا توں بیان کرنا مورخ کا اوّلین فرض ہے۔شمسی صاحب نے حقائق کو اپنی اصل صورت میںبے نقاب کرنے کی حتی الامکان کوشش کی ہے،جس سے ڈوگرہ دور کی تاریخ کے تمام تر نشیب وفراز،بالخصوص مسلمانوں کی تحریک مزاحمت کے اہم پہلو قاری کے سامنے واضح ہوتے چلے جاتے ہیں۔
اْمید ہے کہ محترم شمسی صاحب کی یہ کتاب بھی اْن کی پہلی کتاب کی طرح عوام الناس اور علی الخصوص نئی نسل کے لیے ایک رہنما دستاویز کا کام دے گی،جو اس کتاب کی تصنیف کا اصل مقصد ہے۔اس تاریخ ساز علمی کارنامے کے لیے ان کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
رابطہ۔9419403126،9906662404