اس بستی میں رہنے والے ہم مسلمان روز بہ روز نِت نئے المیوں سے دوچار ہیں مگر پھر بھی ہم عبرت اور بصیرت حاصل کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ ہمارا ضمیر مُردہ ہوچکا ہے اور اُس نے اپنا کام کرنا چھورڑدیا ہے۔ضمیر کا کام ہے احتساب اور غلطیوں کی گرفت ،خواہ وہ اپنے بھائی یا باپ سے سرزد ہوتی ہوں یا کسی ذی وقار پیشوا اور رہنما سے۔ضمیر کا مُردہ ہونا ،اس کا اپنا فطری عمل چھوڑ دینا اور افادیت کھو بیٹھنا اور اس میں حقائق کے اعتراف کی صلاحیت باقی نہ رہنا ہی سب سے بڑا خطرہ ہے کیونکہ جب ضمیر مُردہ ہوجائے ،اجتماعی اور قومی ضمیر سے زندگی کے آثار ناپید ہوجائیں اور جب قوم سے محاسبہ کی صلاحیت اور جرأت ختم ہوجائے ،جب تنقید و احتساب کی جگہ شاباشی اور دادِتحسین کے پھول برسنے لگیں جیساکہ اس بستی میں ہورہا ہے تو اس سے بڑھ کر اور کیا المیہ ہوسکتا ہے۔
ہماری موجودہ صورت حال تو یہ ہے کہ ہم امراض سے گھبراتے ہیں،بَلائوں کی دہشت ہمارے دلوں میں سمائی ہوئی ہے اور ا سکے لئے ہم طرح طرح کی احتیاطی تدبیریں عمل میں لاتے ہیں لیکن اخلاقی امراض یا غلط اخلاق و عادات جن کو اللہ اور اُس کے رسول ؐ ناپسند کرتے یا مادہ پرستی ،شہوت پرستی ،خواہشات کی بے قید اطاعت ،جذبات کی رَو میں بہہ جانا،لہو و لعب میں انہماک ،رقص و سرور ،ذہنی تسکین و آرام طلبی اور عیش کوشی کے دیگر وسائل میں حد سے بڑھی ہوئی دل چسپی ،قیادتوں اور نعروں کی اندھی تقلید ،حقائق سے چشم پوشی ،بار بار کے تجربات سے عبرت نہ حاصل کرنا ،امیدوں اور آرزوئوں کی بے لگامی،انسانوں کا حد سے بڑھا ہوا احترام ،سیاسی اور غیر سیاسی لیڈروں اور رہنمائوں کی تقدیس اور اُن کے بارے میں غلطیوں اور لغزشوں سے معصومیت کا اعتقاد جیسے مہلک امراض میں مبتلا ہیں جو ہمارے لئے موجود موذی وَبا ء سے کہیں زیادہ خطرناک و تشویشناک ہیں اور جس نے ہمارے دلوں کو سخت اور آنکھوں کو اندھا کردیا ہے ۔بڑھتی ہوئی بے راہ روی ،فحاشی ،مے نوشی ،قما ر بازی ،زہریلے منشیات کا بے دریغ استعمال ،رشوت خوری ،ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری ہمارے معاشرے کو نچوڑ رہے ہیں اور ہم اپنے آپ کو غفلت کے دبیز پردوں میں چھپاکر اِسی شیطانی ماحول میں اپنی زندگیاں پروان چڑھانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔بے پَر کے آسمانوں میں اُڑنے کی کوشش نے ہمیں اتنا نیچے گرا دیا ہے کہ باقی قوموں کی نظروں سے ہم بالکل اوجھل ہوچکے ہیں ،ہماری آواز صدا بہ صحرا ہوکے رہ گئی ہے ،جہاں سرکاری شعبہ جات میں فراخدلی سے قومی سرمایہ لوٹنے والے رشوت خوروں کا بول بالا ہے وہیں عوامی سطح پر ذخیرہ اندوز ،ناجائز منافع خور اور ملاوٹ کرنے والے زہریلے انسان اشیائے خورد ونوش کی قیمتوں میں اُتار و چڑھائو کے مالک بن بیٹھے ہیں۔جا ن ومال اور عزت و آبرو کی حفاظت کرنے والے دعویداروں کے ہاتھوں ہی شرم و حیا کے پردے چاک ہورہے ہیں ،بے گناہ نوجوانوں کو دہشت گرد جتلاکر زندہ درگور کیا جارہا ہے،زندگی سے پُر رونق بستیوں اور بازاروں کو خاکستر کیا جارہا ہے اور اُس پر ستم یہ کہ حالات سدھرنے کا ڈھنڈورا بھی زور زور سے پیٹا جارہا ہے۔
اس بستی میں بسنے والے ہم مسلمانوں کی کامیابی کی ایک ہی صورت ہے ،وہ یہ کہ ہم واقعی مومن بن جائیں اور ایمان کی آتش رفتہ سے پھر اپنی جانوں کو پُر سوز کریں جو باطل کے ہر خس و خاشاک کو جلا سکتی ہے۔جب ایمانی حرارت اور شعلہ ٔ زندگی کی بازیافت ہم کریں گے تو تاریخ اپنے آپ کو دہرائے گی۔تاریخ گواہ ہے کہ جب ماضی میں ہم نے اسلام کے ساتھ خلوص برتا اور ایمان ہمارے رگ و پے میں سما گیا ،جاہلیت کے ہر شعار سے ہم الگ ہوئے،اسلام کی مشعل ہم نے ہاتھوں میں لی تو ہم دنیا کے سردار بن گئے اور سارے عالَم پر حکمران ہوئے اور ہمارا عقیدہ،تہذیب ،ادب و اخلاق اور علم و فن حیرت انگیز طور پر دنیا میں پھیل گیا جس کسی بھی زبان و تہذیب کی تاریخ میں دیکھنے میںنہیں آیا لیکن اب ہم اپنے ماضی پر نظر ڈالیں اور حال کا مطالعہ کریں تو واضح طور پر تضاد نظر آتا ہے ۔کیونکہ ہماری خرابیوں ،نالائقیوں اور شر پسندی کی وجہ سے اللہ نے ہم سے قیادت چھین لی اور غیروں کو دے دی ،ہمت کرکے ہم اس بات کا اعتراف کیوں نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری تقدیر ہمیشہ اسلام کے ساتھ اور رسول اللہؐ اور اُن کے دین کی تائید و حمایت کے ساتھ وابستہ کردی ہے؟آپ ؐ کی ہدایت اور اُسوۂ حسنہ کی پیروی ہی میں ہماری نجات ہے ،اس لئے ضروری ہے کہ ہم آپ ؐ کی تعلیم اور طرز زندگی سے واقفیت حاصل کریں ،باوجود کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُمی تھے ،اپنا نام تک نہ لکھ سکتے تھے لیکن آپ ؐ کی ہدایت و تعلیم نے دنیا کا عظیم ترین کتب خانہ پیدا کردیا ۔
اصل معیار قلب اور ضمیر ہے ۔جب قوم میں اتنی ہمت اور جرأت نہ ہو کہ اپنے قائد و حاکم کی غلط کاری پر اُسے ٹوک سکے تو ایسی قوم کو جو سَرپھرا بھی چاہے غلام بنا سکتا ہے اور ہر جاہل و احمق اُس کی عزت و ناموس کی دھجیاں بکھیر سکتا ہے جیساکہ موجودہ صورت ِ حال ہمارے سامنے ہے۔
رابطہ۔احمد نگر سرینگر کشمیر،9697334305