عصر حاضر جس کو سائنسی اور ٹکنالوجی کا دور کہا جاتا ہے ،اس کو عورتوں کی برتری کا دور بھی کہا جاتا ہے۔اس دور میں ہر جانب عورت کے تعلق سے گفتگو کی جاتی ہے۔عورت ہر بزم اور ہر ایوان کی موضوع بحث ہے۔دنیا کے تمام مذاہب نے بنت حوا کو ایک الگ مقام عطا کیا ہے۔
بنت حوا جو عفت وعصمت اور پاک دامنی کی مثال ہے، وہی بنت حوا آج ہر محفل کی موضوع بحث بنی ہے۔آج بنت حوا کی حالت بد سے بدترہوگئی ہے ۔ایک لڑکی یا عورت کو اپنی عزت وناموس بچانے کے لیے اپنی جان کی قربانی دینی پڑتی ہے۔وہ عورت جس کے قدموں کے نیچے جنت کی بشارت دی گئی ہے ،جس کو دیوی کی مانند سمجھ جاتا ہے،آج اسی دیوی اور جنت کو سماجی درندوں نے بہت بری طرح سے روندا ہے۔اقبال ؔکے یہاں عورت شروع سے ہی ایک مقدس ہستی رہی ہے جو جذبہ ایثار کی دیوی سمجھی جاتی ہے۔جس نے اپنی پاکیزہ محبت سے عشق کی ایک نئی بنیاد قائم کی اور اسی وجہ سے خدا نے عورت کی ذات میں ساری رنگینیاں ، رعنائیاں اور سرمستیوںکو سمو دیاہے۔لیکن جب اقبال ؔنے اس دنیا میں آنکھیں کھولیں تو وہ انتشار کا دور تھا۔مغلیہ سلطنت کا چراغ بجھ گیا تھا اور مغربیت مشرقیت پر حاوی ہورہی تھی اور ایک ایسی تہذیب کا سورج طلوع ہوا جس میں اخلاقی قدریں پاش پاش ہورہی تھی۔اس زمانے کے شاعرو ادباء نے بھی اپنا سارازور عورتوں پر صرف کردیا تھااور شعر و ا دب میں عورتوں کے خدوخال کو اجاگر کرنے کی ایک نئی بنیاد قائم ہونے لگی تھی۔بقول اقبالؔ :
ہند کے شاعر وصوت گر و افسانہ نویس
آہ بیچاروں کے اعصاب پر عورت ہے سوار
عورتو ں کے حقوق کے حوالے سے اقبال ؔکا بھی وہی نظریہ ہے جو دین اسلام کا ہے۔اور اسی وجہ سے اقبال ؔنے اپنے کلام میں عورتوں کے حقوق اور ان کی آزادی سے متعلق اپنے نظریات کو پیش کیا ہے ۔اقبال ؔنے اپنے کلام میں عورت کو مختلف انداز سے پیش کیا ہے وہ عورت کا ذکر نہایت عزت واحترام کے ساتھ کرتے ہیں۔کبھی ماں کی شکل میں، کبھی بہن کی شکل میں،تو کبھی بیٹی کی جفاکشی اور دلیری پر داد تحسین دیتے ہیں۔تو کبھی اس کی تعلیم وتربیت کی طرف توجہ دلاتے ہیں اور عورت کی عزت و حقانیت کو مرد کا اولین فریضہ بتایا ہے۔بقو ل اقبالؔ :
وجود زن سے ہے تصور کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزدروں
عورتوں کی شجاعت و بہادروی اور ان کی عزت واحترام کا خاکہ ہمیں کلام اقبالؔ میں جگہ جگہ نظر آتا ہیں۔اقبال ؔنے فاطمہ بنت عبداللہ کو شجاعت کی مثال قراردیا ہے۔جو پہلی جنگ عظیم کے وقت غازیوں کو پانی پلاتے وقت شہید ہوگئی تھیں۔ان کو اُمت کی آبرو بتایا ہے اور ان کی شہادت پر فخر کیا ہے ۔اقبال ؔ رقمطراز:
فاطمہ تو آبرو ئے امت مرحوم ہے
ذرہ ذرہ تیری مشت خاک کا معصوم ہے
لہٰذا ان تمام اشعار سے پتہ چلتا ہے کہ اقبالؔ عورت کو نہایت عزت کی نگاہ سے دیکھتا اور اس کو مخاطب کرتا ہے۔عورت کی نسوانیت پر کسی
طرح کی آنچ نہ آنے دینے کی قسم کھاتا ہے اور اس کی بڑائی کو سراہتا ہے۔کیونکہ عورت کے اس روپ میں اسے اپنی ماں نظر آتی ہے۔اقبال نے اپنی نظم ماں کے خواب میں ایک ماں کی ممتا ،تڑپ اور الفت غرض ہر طرح کے جذبوں کو نہایت ہی خوبصورت اندازمیں پیش کیا ہے ۔ ؎
میں سوئی جو اک شب تو دیکھا یہ خواب
بڑھا اور جس سے مرا اضطراب
یہ دیکھا کہ میں جارہی ہوں کہیں
اندھیرا ہے اور راہ ملتی نہیں
اقبال ؔنے عورت کی تعلیم پر زیادہ زور دیا ہے۔ان کا قول ہے کہ عورتوں کو تعلیم یا فتہ ہونا چاہے ۔کیونکہ ایک عورت سات خاندان کو تعلیم یا فتہ کرتی ہے۔ اور وہ ایک عورت ہی ہے جس کے وجود سے قوم بنتی ہے اور اگر عورت ہی تعلیم یافتۃنہیں ہوگی تو وہ پوری قوم تباہ وبرباد ہوجائے گی۔لیکن اقبال ؔعورت کی تعلیم کی طرف اشارہ ضرور کرتے ہیں مگر وہ تعلیم ایسی ہونی چاہے کہ جس سے ان کی شخصیت میں نکھار پیدا ہو ۔ایسا نہ ہو کہ اس تعلیم سے مغربی تہذیب میں جان آئے اور جس سے بے حیائی اور غیر ذمہ داری کو فروغ ملے۔یہاں پر انگریز ی تعلیم سے مراد یہ نہیں ہے کہ انگریز ی زبان میں کوئی خرابی ہے بلکہ اقبالؔ اس تہذیب ،ثقافت کے خلاف ہے جو اس انگریز ی زبان سے وابستہ ہے ۔بلکہ اقبال کا تو یہ ماننا ہے اگر کوئی ان پڑھ ،غیر مہذب ،مگر دین دار عورت بچے کی پرورش کرتی ہے اور ایک غیرت مند مسلم وجود میں آجائے تو وہ اس جدید،تہذیب یافتہ اور بے دین عورت سے قدرے جہاں سے بہتر ہے ۔عورتوں کی تعلیم سے اقبالؔ کا یہ ماننا ہے کہ تعلیم یافتہ عورت سے ایک بہتر سماج کی تشکیل ہونی چاہے۔قرآن میں بھی ارشاد ہے ۔اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اقبال ؔدنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کے بھی حامی ہیں۔کیونکہ عورت کی تعلیم اگر اسے خاتون خانہ کی بجائے شمع انجمن بنائے اور وہ دفتر وں،کارخانوں اور ہوٹلوں کی زینت بنے تو معاشریتی مسائل پیدا ہوں گے۔اقبالؔ عورتوںکی آزادی کے متعلق بھی اپنا ایک الگ اور پختہ نظریہ رکھتے ہیں۔آزادی سے مراد اقبالؔ کا ماننا یہ ہے کہ عورت کو سماج میں ہر طرح کی آزادی ملنی چاہے مگر وہ آزادی ایسی نہ ہو کہ جس سے اپنی تہذیب اور اخلاق میں گراوٹ آجائے ۔یعنی مغربی تہذیب کے زیر اثر عورت معاشرے میںجو مقام تلاش کررہی ہے وہ مشرقی تہذیب کے منافی ہے اور اس سے صرف بربادی وجود میں آتی ہے۔لہذا ان خیالات سے پتہ چلتا ہے کہ اقبالؔ آزادی نسواں کے پر زور حامی تھے۔مگر اس آزادی کے خلاف بھی تھے جو مغربیت کے طرز پر ہو اور ایسی آزادی اقبال ؔکی نظروں میں زہرقند کے مترادف ہے۔ ؎
اس بحث کا کچھ فیصلہ میں کرنہیں سکتا
گو خوب سمجھتا ہوں کہ یہ زہر ہے،وہ قند
بقول اقبال ؔآزادی نسواں کا مطلب یہ ہونا چاہے کہ اس سے آپ اپنی ذات کی تکمیل کرسکیں۔اپنی خودی کو اجاگر کریں ۔ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مغربیت کی اندھی تقلید کی بنا پر آپ اپنے وجود کو فنا کردیں۔اس کے بعد پردہ کا سوال بھی ذہن میں ابھر کرآتا ہے۔کیونکہ آج کے اس معاشرے میں یہ لفظ ’’پردہ‘‘اپنا وجود کھو تا جارہا ہے ۔اس لیے اقبال بھی اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ بے پردگی صرف باعث رسوائی نہیں ہے بلکہ افکار میں پراگندگی وابتری کی بھی محرک ہے۔اقبال رقمطراز ہیں ؎
رسوا کیا اس دور کو جلوت کی ہوس نے
روشن ہے نگہ آیئنہ دل کے مکدر
بڑھ جاتا ہے جب ذوق نظر اپنی حدوں سے
ہوجاتے ہیں افکار پر ا گند ہ وابتر
لہٰذا ان تمام افکارکے بعد جب ہم اقبال ؔکے نظریہ عورت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اقبالؔ عورتوں کی حفاظت کے قائل تھے ۔مگر آج کے اس دور میں سماج کا ایک طبقہ عورتوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنارہا ہے،ان کی عزت وآبرو سے کھیل رہا ہے ،جب کہ اقبال ؔچاہتا تھا کہ مردعورت کی حفاظت کرے اورعورت کی حفاظت کو اقبال ؔنے مرد کا اولین فریضہ بتایا ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ چاہے پردہ ہو نہ ہو،چاہے تعلیم پرانی ہو یا نئی ہو لیکن نسوانیت زن کی نگہبانی فقط مرد ہی انجام دے سکتا ہے کیونکہ سماج میں زن دشمن بھیڑیے ہر قدم پر پائے جاتے ہیں جن سے عورتوںکی عرت وآبرو ہر لمحے خطرے میں رہتی ہے ۔ الغرض کسی حد تک یہ کہا جاسکتا ہے کہ اقبال کے کلام میں عورت کا تصور ایک عام تصور سے مختلف پایا جاتا ہے جس میں وہ عورت کو اس کے خلوص اور ممتا کے زوایے سے دیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
رابطہ ۔رعناواری سرینگرکشمیر
موبائل نمبر:8899037492