فرانس میں رونما ہوئے حالیہ واقعہ میں مسلمانوں کا ردِ عمل کچھ بالغ نظر نہیں آیا۔ ویسے تو یہ بات مغرب کے دئے ہوئے قوانین کے بَر خلاف نظر آتی ہے کہ مسلمانوں کی ہر دل عزیز شخصیت کے خلاف توہین آمیز کارٹون بنائے جائیں یا آپﷺ کے خلاف کچھ ایسے تبصرے کئے جائیں جو کہ بغض و عناد پر مبنی ہو۔ کون نہیں کہتا کہ آزادی اظہار کا حق ہر کسی کو ہے۔ لیکن اس حق کا اس طرح استعمال کیا جائے جو کہ سراسر عقل و نقل کے خلاف ہو، قطعی طور پر قابل قبول نہیں ہے۔ اسی طرح سے یہ بات بھی ہر کسی دیس کے آئین میں ثبت کر دی گئی ہے کہ ہر کسی کو اپنے مذہب پر چلنے کی پوری آزادی ہے۔ لیکن یہ بس مسلمان ہی ٹھہرے کہ اُن کے مذہبی تشخص پر اعتراض کیا جاتا ہے۔ کہیں پر داڑھی رکھنے کی پاداش میں ملازمت سے فارغ کر دیا جاتا ہے ، وہیں کہیں پر برقعہ پہننے پر پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ عام لوگوں میں مسلمانوں کی شبیہ کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ آئیر پورٹ پر مسلمان نام تک سے بھی لوگ ڈر جاتے ہیں اور تنگ طلب کر دیا جاتا ہے۔ مساجد سے دی جارہی اذانوں سے بھی لوگوں کو اعترا ض کر نے کی کھلی چھوٹ دے دی جاتی ہے۔ یہ جو سلسلہ عرصہ دراز سے کچھ ممالک میں شدت سے چل رہا ہے، یہ کوئی الل ٹپ معاملہ نہیںہے نہ ہی یہ کوئی سٹھیا گئے لوگ ہیں جو کہ اس کام کو انجام دے رہے ہیں ۔ بلکہ یہ ایک سوچھی سمجھی پالیسی کے طور پر عملایا جاتا ہے۔ مغرب اب اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ ان کے دور کا اب خاتمہ ہوا چاہتا ہے۔ لوگوں کا اژدھام ہر سال حلقہ بگوش اسلام ہوجاتا ہے۔ مسلمانوں کے اندر تعلیمی و سائنسی بالیدگی بڑھ رہی ہے۔ مسلمانوں کے اندر اب تدبر و تفکر کی عادت پڑ رہی ہے۔ مرد تو مرد مسلم خواتین بھی اب اس کام میں آگے آگے ہیں۔ جگہ جگہ مسلمان تمام تر چلینجز کے ہوتے ہوئے اپنے سماجی و خاندانی اقدار کا پاس و لحاظ رکھے ہوئے ہیں۔ اکیسویں صدی میں مہیا کی گئیں رسل و رسائل کی خدمات کا اچھا استعمال کرکے مسلم نوجوان عالمی حالات و واقعات سے پوری طرح باخبر ہے۔ مقامی و عالمی سطح پر رونما ہوئے واقعات کے تناظر میں اپنی رائے کا بے خوف اور بے لاگ اظہار کرتے ہیں ۔ سیاسی محض پر بھی کچھ اہم مسلمان ممالک میں بیداری و سنجیدگی کی مہم اپنے عروج پر پہنچ رہی ہے۔ میڈیا کا خاطر خواہ استعمال کر نے کی مفید کوششیں بھی ہو رہی ہیں۔ ہالی وڈ کے مد مقابل کچھ اہم پیش رفت بھی ہو رہی ہے۔
ادھر سے جتنے بھی نظام ہائے زندگیاں مغرب نے آزمائی ، اُن سے وہاں کی عوام متنفر ہو چکی ہے۔ ان کے پاس نہ صحت ہے نہ کوئی روحانی طمانیت۔ نہ کوئی گھر ہے نہ کوئی گھریلو زندگی۔ نہ بچے ہیں نہ بیویاں۔ شہوت کا غلبہ ہے۔ قبا گری کا طوفان ہے۔ نفسانی صحت کی بڑھتی کشیدہ صورتحال ہے۔ مغرب اب بحیثیت مجموئی ان تمام نظام ہائے زندگیوں سے اُکتا گیا ہے۔ اس ضمن میں مغرب یہ سمجھتا ہے کہ لوگ اسلام کی طرف نہ آئیں، اُن کی روحانی پیاس کو اسلام نہ بجھائے، انہیں زندگی جینے کا مقصد نہ ملے۔ اسی لیے تو مسلمانوں کی شبیہ بگاڑی جارہی ہے، اسی لیے مسلمانوں کی زندگی ، رہن سہن، لباس و کھانا وغیرہ کو ممنوع قرار دیا جاتا ہے۔ اس سے پہلے کہ لوگ اسلام کے بارے میں پرھیں ، بہتر ہے کہ اسلامی رسومات کو غلط ٹھہرایا جائے۔ اس سے پہلے کہ محسن انسانیت ﷺ کے بارے میں لوگ جانیں یہ توہین آمیز کارٹون بنائے جائیں۔ اس سے پہلے پوری دنیا میں اسلام کا نور پھیلایا جائے، مغرب اپنے پھونکوں سے اس اُبھرتے چراغ کو بجھانا چاہتا ہے۔
مغرب کی بالادستی آسمان سے نہیں اتری ہے۔ اس کے لیے انہوں نے اپنے آپ کو تیار کر لیا، اپنے آپ کو اس نہج پر چلایا ، وہ تعلیم و تربیت حاصل کرلی، علم کے میدان میں اتنے بالغ ہوگئے کہ باقی سب باسی بچے دکھائی دینے لگے۔ قدرت کا قانون ہے کہ آگ جلا دیتی ہے اور پانی سے پیاس بجھ جاتی ہے۔ یہ قانون جتنا خدا کے نیک بندے پر صادق ہے، اتنا ہی کارگر یہ اس کے نافرمان بندوں پر بھی ہے۔ اس میں کوئی استشناء نہیں ہے۔ انسان کتنا بھی ذکر و اذکار میں مشغول رہے، اگر وہ دن کو میدان عمل میں روزگار کمانے کی فکر نہ کرے، کوئی اس کے گھر میں اوپر سے من و سلویٰ نہیں ڈال سکتا۔ کھانا حاصل کرنے کے لیے دن میں محنت و مزدوری کرنی ہے، ضروری ساز و سامان خریدنا اور اس کے بعد کھانا تیار کرنا ہے اور اپنی بھوک مٹانی ہے۔
مغرب شیطانی خصائل کی بنیادوں پر دنیائے انسانیت پر راج کر رہا ہے۔ شیطان کو خدا نے تادمِ قیامت مہلت دی ہے۔ شیطانی کاموں میں اللہ نے کشش رکھی ہے۔ اس کی طرف انسان مرعوب ہوجاتا ہے۔ اپنی عقل تک کھو بیٹھتا ہے۔ شیطانی حربے بڑی خطرناک قسم کی چیزیں ہیں۔ یہاں ایک پہنچے ہوئے انسان کی عقل مات کھا جاتی ہے۔ اب جہاں شیطان بحیثیت ایک قوم کے ، ایک فکر کے، ایک نظریے کے کام کررہا ہو، وہاں اُسے ہرانا نہایت ہے سنگین معاملہ بن جاتا ہے۔
مغرب کو اپنی تاریخ دنیا کے سامنے لانی تھی، تو روایتی کتابوں سے ہٹ کر میڈیا کا استعمال کیا۔ مغرب کو جب اپنی خبیث سماج کی تشہیر کرنی تھی تو اپنے ایجنٹ باقی ملکوں میں بھیج دئے۔ مغرب کو جب اپنے منحوس اقدار کی ترویج کرنی تھی تو میڈیا کا استعمال کر دیا۔ ان کی اس حوالے سے ایک بہت بڑی صنعت ہالی وڈ ہے۔ اس صنعت کا کمال یہ ہے کہ جہاں کسی قحط،قدرتی آفت یا فطرت کے غضب کو دکھانا ہوتا ہے تو اس کو اس طرح ایک عشقیہ ماحول میں فلماتے ہیں کہ انسان کے ذہن میں ایک تو آفت کے بارے میں جانکاری مل جاتی ہے، وہی دوسری طرف وہ مغرب کے اس عشقیہ کلچر کا شکار ہوجاتا ہے۔ ہالی وڈ کی فلموں میں جس طرح سے واقعات کو پیش کیا جاتا ہے ، اس سے انسان کی عقل دھنگ رہ جاتی ہے۔ انسان پر اس کا نفسیاتی اثر اتنا گہرا ہوتا ہے کہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ سرطان کی بیماری کہاں سے اتری اور کہاں سے اثر کر گئی۔
اس پس منظر میں مسلمانوں کو یہ بات بھی جان لینی چاہیے کہ ابھی اِس سے بھی زیادہ سنگین حالات اسلام کو بدنام کرنے کے لیے آنے والے ہیں۔ آخری پیغمبر ﷺکے بارے میں ابھی بھی بہت کچھ زہر اگلوا جائے گا۔ مسلمانوں کے تشخص کو بگاڑنے کی خاطر کسی بھی حد تک جانے سے دریغ نہیں کیا جا سکتا ۔ اس لیے پوری دنیا کے مسلمانوں کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اسلام اور اسلام کے آخری نبی ﷺکے ماننے والوں کا جذبہ انتہائی قابل قدر ہے۔ یہ بات نہ صرف ان کے عقیدے تک محدود ہے ، بلکہ وقت وقت پر مسلمانوں نے اس بات کا والہانہ ثبوت پیش کیا کہ اسلام اور اس کے آخری نبیﷺ کی ناموس انہیں ان کی جان، ان کے والدین اور دنیا کی تمام چیزوں سے پیاری ہے، جس کے لیے وہ اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی نہیں چوک جائیں گے۔ لیکن جیسا کہ عرض کیا گیا کہ مغرب نہایت ہی شاطر ہے۔ وہ یہ چاہتا ہے کہ مسلمان کوئی ایسا اقدام کریں جس سے کہ انہیں بدنام کرنے کا ایک جواز مل جائے۔ ایسے وقت میں مسلمانوں کو جذباتی کم ، علمی اور عملی زیادہ ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ بات محض ایمان کی حد تک ہی نہیں محدود نہیں رہنی چاہیے کہ وہ اسلام اور اس کے آخری نبی ﷺکے ساتھ کتنا پیار کرتے ہیں، بلکہ انہیں اپنے عمل سے اس بات کا ثبوت پیش کرنا ہوگا کہ ہم جس نبی ﷺکے ماننے والے ہیں اس کی تعلیمات کا گوہر ہماری زندگیاں ہیں۔ یہ وہ زندگیاں ہیں جو سنجیدہ مزاج ہیں، جو جذباتی کم عملی زیادہ ہیں۔ جن کے رگ و پے میں علمی صلاحتیں ہیں۔ ایسے حالات میں کتابیں لکھنے کی ضرورت ہے، علمی انداز میں جواب دینے کی ضرورت ہے، میڈیا کا استعمال کر کے ان کے وارے نیاروں کا توڑ کرنے کی ضروت ہے ، تحقیقی کام کرکے مغرب کو اس کی اوقات دکھانے کی ضرورت ہے۔ اس سے بھی زیادہ اپنی نجی و سماجی زندگی کو بھی اس سطح پر پہنچانے کی ضرورت ہے کہ اسلام کی حقیقی خوشبو سبوں کے سامنے مہک اٹھے ۔استاد کے تئیں اظہار عزت تو قابل ستائش ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ تکریم استاد کے لیے یہ ہو گی کہ اس کے دروس کے مطابق اپنی زندگی کو سنوارا جائے۔ اُسی کے مطابق اس استاد کی پہچان ہوگی۔ مسلمان اس سلسلے میں اگر آگے بڑھیں تو وہ دن دور نہیں کہ پوری دنیا امن و امان کا گہوارا بن جائے ۔
ای میل۔ [email protected]
موبائل۔ 9622939998