امتداد زمانے کے ساتھ ساتھ سیرت سید المرسلین ؐکی اہمیت کے ان گنت پہلو اور نئی نئی جہتیں رونما ہوتے جارہے ہیں۔ سیرت کے مطالعہ کی تہذیبی، علمی، تاریخی ،بین الاقوامی اہمیت ہے۔ شرط یہ ہے کہ آج کا انسان بالخصوص مسلمان خواص و عوام اس کا سنجیدگی سے مطالعہ کر نا چاہئے اور عملی زندگی میں اسے عملا کر فیضیاب ہو جائے اور دنیائے انسانیت کے سامنے اس کا نمونہ پیش کریں۔سیرت ایک لامتناہی اور متلاطم سمندر ہے۔ یہ محض ایک شخص کی سوانح عمری نہیں ہے بلکہ یہ ایک تہذیب ، ایک تمدن، ایک قوم ،ایک ملت اور ایک الٰہی پیغام کے آغاز اور ارتقاء کی ایک انتہائی دلچسپ اور مفید و سبق آموز داستان ہے۔قران مجید کے بارے میں اللہ کے رسولؐ کی ایک طویل حدیث میں ایک اہم وصف بیان ہوا ہے جس کی روایت حضرت علی ؓنے کی ہے۔مذکورہ حدیث مبارک میں اللہ کے رسولؐ نے قرآن پاک کے دس اوصاف بیان کئے ہیں۔ ان میں ایک وصف یہ بیان کیا گیا ہے کہ’’قرآن مجید کے عجائب و غرائب کبھی بھی ختم نہیں ہوں گے‘‘۔ قران مجید سے ہمیشہ نئے نئے مطالب اور معانی نکلتے جائیں گے اور ہر آنے والا دن قرآن پاک کے حقائق اور معارف کی ایک نئی دنیا لے کر آئے گا۔ قران کے نزول سے لے کر آج تک بلا ناغہ ترجمے اور تفاسیر کا سلسلہ جاری ہے۔علماء و مفسرین کلام اللہ کے نئے معانی و مفاہیم سامنے لارہے ہیں۔ علامہ اقبالؒنے اس حقیقت کو اپنے پیرایہ میں یوں بیان کیا ہے۔ لکھتے ہیں کہ عالم قرآنی ہر دور میں اپنے آپ کو بے نقاب کرتا ہے اور نہیں کہہ سکتے کہ قرآن کے بطن میں ابھی کتنے عوالم قرآنی پنہاں ہیں۔ اسی طرح صاحب قرآن ؐکی سیرت اور ارشادات میں پنہاں حقائق و معارف بھی کم از کم ہم محدود انسانوں کی بساط کے لحاظ سے لامتناہی ہیں۔
علامہ اقبال ؒ کا قرآن اور صاحب قران سے تعلق اور لگاو کا اندازہ اس کی شاعری سے خوب جھلکتا ہے۔ نعت گوئی اور تذکرہ سیرت سے اس کی شاعری کوممتاز اور منفرد مقام حا صل ہوا ہے۔ شان رسو ل اقدسؐ میں نعت کہتے ہوئے آپ لکھتے ہیں؛
لوح بھی تو، قلم بھی تو ،تیراوجودالکتاب
یہ کوئی شاعرانہ مبا لغہ آرائی نہیں ہے۔ بلکہ’ تیرا وجودالکتاب‘ وہی بات ہے جو ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے فرمائی تھی۔آپؓ سے کسی نے پوچھا؛ پیارے رسولؐکے اخلاق کیسے تھے؟ تو آپؓ نے جواب میں فرمایا؛کیاتم نے قرآن نہیں پڑھا ؟ پوچھنے والے نے عرض کیا ؛جی ہاںپڑھا ہے۔ارشاد فرمایا ؛ کان خلقہ القران ،آپ کے اخلاق عین قرآن تھے۔یعنی قرآن کی عملی تفسیر تھے۔ لہٰذا قرآن اگر قرآن صامت ہے تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا وجود گرامی قرآن ناطق ہے۔اگر قرآن صامت کے عجائب و غرائب لامتناہی ہیں تو قرآن ناطق کے عجائب و غرائب کیسے متناہی ہوسکتے ہیں۔وہ بھی لامتناہی ہیں۔اس کی ایک دلیل یہ ہے کہ سیرت نگاروں کا سیلاب نما سلسلہ پہلی صدی ہجری سے لے کر آج تک بغیر کسی تعطل کے چلا آرہا ہے اور ہر سیرت نگار کو یہ احساس ہوتا ہے کہ شاید ابھی کام کا آغاز ہی ہوا ہے اور ابھی تو ایک نئی دنیا موجود ہے جس کو سرکرنا ہے۔
سیرت یعنی حضور الصلوٰۃواتسلیم کارویہ اور طریقہ زندگی گویا قرآن مجید پر عمل کرنے کا طریقہ کار ہے۔اگر قرآن صامت اللہ کی کتاب ہے اور انسانوں کے عمل کرنے کے لئے ہے تو اس پر عمل کرنے کا طریقہ کار بھی انسانوں کے سامنے آنا چاہئے۔اللہ تعالی نے محض نظری ہدایت پر اکتفا نہیں فرمایا ، بلکہ اپنی رحمت کاملہ سے ایک عملی نمونہ بھی بھیجا جو ہمارے پاس سیرت کی شکل میں موجود ہے۔آپؐ کی زندگی کا ہر ہر پہلو اور گوشہ سیرت کے کْتب میں مثل آفتاب کے روشن ہے۔ لہٰذا اسوہ حسنہ ؐ جس کو ہم آج کل کی زبان میں قرآن اِن ایکشنQuran in Action))کہہ سکتے ہیں ،کو جاننے ا ور قرآن صامت کوسمجھنے کے لئے بنیادی اور لازمی ضرورت ہے کہ دونوںیعنی قرآن اور صاحب قرآن سے گہرا تعلق جوڑ ا جائے ۔ ہمارے لئے دونوں کو ایک دوسرے کے بغیر سمجھنا نا ممکن ہے۔
ماضی کی طرح دور ہ حاضرمیں بھی انسانی سماج اور زندگی کو کئی مسائل درپیش ہیں۔اس ضمن میں مسائل کی ایک طویل فہرست تیار کی جاسکتی ہے جو حل طلب اور فوری تشخیص کے متقاضی ہے ان میں سے چند ایک نہایت ہی حساس اور سنجیدہ نوعیت کے ہیں جن کو ترجیحی بنیادوں پر ایڈرس کرنے کی ضرورت ہے۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ اسلام ایک کامل نظام حیات ہے جو انسان کے جملہ مسائل کا حل پیش کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خاتم النبینؐکا اسوہ حسنہ ہر زمانے میںانسان کے مسائل کا حل پیش کرتا ہے۔ بلاشبہ اس میں کوئی دورائے نہیں ہیں اور ایک شعوری اور با عمل مسلمان ایسا کہنے میں حق بجانب ہے۔ خاتم النبینؐ کا مطلب ہی یہ ہے کہ اگر آپ دنیا و آخرت میں کامیاب ہونا اور دنیا کے پچیدہ سے پچیدہ تر مسائل کو حل کرنے کی آرزو و تمنا رکھتے ہیں تو آپ کو لازماً خاتم النبینؐ کی اتباع و پیروی کرنا ہو گی۔زندگی کے تما م شعبہ جات اور معاملات کی رہنمائی کے لئے آپؐ کو امام اور رہبر تسلیم کرکے آپؐ کی تعلیمات کو عملانا ہو گا۔ خاتم النبینؐ کے اسوہ حسنہ سے وہ رہنمایانہ اصول فراہم ہوجاتے ہیں جن کی روشنی میں آج کے مسائل کی تصفیہ اور حل نکالا جا سکتا ہے۔ رحمۃ للعالمین کی اُمت ہونے شرف اور اعزاز حا صل ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ یہ اُمت رحمۃ للعالمین ہو۔
ذیل میں ہم چند ایسے مسائل کا تذکرہ کریں گے جو دور حاضر کے انسانوں کو درپیش ہیں۔ان مسائل کو پیغمبرانہ رہنمائی کی روشنی کی ضرورت ہے تاکہ ان کو حل کرکے دنیائے انسانیت کو راحت اور اطمینان ن نصیب ہو جائے۔
کورونا وائرس ایک عالمی وباء
سال ۲۰۲۰ کے آغاز سے کورونا نامی وائرس کے پھیلاو نے ایک عالمی وباء کی صورت اختیار کی ہوئی ہے ۔ یہ وائرس بڑی تیزی کے ساتھ پھیل کر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ لے چکا ہے۔ پوری دنیا میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ اس بیماری کا شکار بن کر موت کی آغوش میں چلے گئے ہیں۔لاکھوں کی تعداد میں اس مرض سے متاثر ہوئے ہیں اور ہنوز اس کی قہر ساما نی کا سلسلہ جاری ہے۔ جہاں انسانی جانوں کے لئے یہ وائرس مہلک ثابت ہواہے وہیں اس نے دنیاکی معیشیت کو بری طرح متاثر کرکے رکھ دیا ہے۔ ایک طرف وائرس سے متاثر ہو کر انسانی جانیں تلف ہو تی جا تی ہیں تو وہیں دوسری طرف تباہ حال معیشیت کے نتیجے میں وسائل ، زرائع آمدن اور روزگارکے مواقع میں کمی واقع ہوکے لوگ فاقہ مستی کے شکار بن چکے ہیں ۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے جب عیسائی یورپ میں وبائی بیماریوں کو قدرت کی طرف سے پھٹکار سمجھ کر لوگوں کو ان بیماریوں کے رحم کرم پر چھوڑ دیا جاتا تھا تو مسلمان اپنے پیغمبر ؐ کی تعلیمات کی رہنمائی اورہدایات پر عمل پیرا ہو کر ایسے مریضوں کو بقیہ آبادی سے الگ کرکے (جسے آج قرنطینیہQuarantineکہتے ہیں) ان کے علاج ومعالج کا انتظام کرتے تھے اور متاثرہ علاقوں اور آبادیوں میں آنے اور جانے سے منع کرتے۔ متاثرہ مریضوں سے مو جودہ زمانے کی طرح اچھوت اوداغ داربنانے کے برعکس ان سے ہمدردی اور حوصلہ افزائی برتنے کی نہ صرف تعلیم بلکہ اس کا آپ خود عملی نمونہ پیش کرتے۔ بد حال معیشت کو سہارا دینے کے لئے لوگوں کو زکوٰۃ ، خیرات ، صدقات اورجذبہ ایثار کے لئے اُبھارتے ۔یہ وہ اسوہ ؐ ہے جو بنیادی طور آفاقی،کامل اور جامعیت کا مظہر ہے جو ہر دور اور زمانے کے لئے قابل تقلید اور مشعل راہ ہے۔
غیریقینیت
انسانیت کو جو سب سے بڑا مسئلہ آج کے زمانے میں درپیش ہے وہ بد امنی اور غیر یقینیت کا ہے۔بد امنی اور غیر یقینیت کے اس دور کا آغاز شاندار اور عظیم یقینیت کے بلند بانگ دعویٰ سے ہوا ہے۔ نشاۃ ثانیہ کے وقوع پذیر ہو نے کے ساتھ ہی مغربی علم و حکمت نے یہ دعوی کیا کہ انسانیت کو با لآخر وہ قطعی اور کامل لائحہ عمل دریافت ہو گیا ہے جسے سچائی و حقیقی تعبیر حاصل کی جاسکتی ہے۔اس لائحہ عمل کو سائنٹفیک طریقہ کار (Scientific Method )کا نام دیا گیا۔یہ طریقہ کار مشاہدات اور تجربات پر مبنی تھا اور یقین دلایا گیا کہ اس کی وساطت سے فطرت اور کائنات کے سربستہ رازوں کا انکشاف ہوگا۔ اسی پر قیاس کرکے یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ انسان کے سماجی مسائل کو انسانی دماغ اور فہم و فراست کے مناسب استعمال سے نکالا جائے گا۔ اس نعرے کو بڑی تابانی اور طمطراق کے ساتھ بلند کیا گیا۔لیکن آج چار صدیاں گزر جانے کے بعد اب یہ سائنٹفیک طریقہ کار دنیائے انسانت کو یقینیت کا ماحول فراہم کرنا کجا بلکہ اپنے دعوی سے ہی فرار اختیار کر چکا ہے۔ انسانی عقل اور فہم و شعور تن تنہا ایک انسان اور اس کے سماجی طور طریقہ کے لئے رہنمایانہ اصول فراہم کرنے سے نہ صرف قاصر رہابلکہ اپنی ناکامی کا اعتراف بھی کرلیا۔ اس ناکامی کا احساس اب دانش مغرب کو بخوبی ہوگیا ہے۔ اس بات کو احسن طریقہ سے فلسفہ ما بعد جدیدیت (Postmodernism) سے بیان کیا جاسکتا ہے۔عام فہم اور سادہ زبان میں ’مابعد جدیدیت‘ کا مطلب یہ ہے کہ’’فطرت، قدرت،انسانی سماج وغیرہم غیر یقینی ہیں اور ان سے متعلق کوئی بات قطعی طور پر نہیں کہی جاسکتی‘‘۔ غیریقینیت لابدی طور یاس و قنوط، نا امیدی،پراگندگی،اْداسی اور مایوسی کی طرف لے جاتی ہے۔ آج انسانی سماج کے اندر یہ عنصر رائج ہوئے پائے جارہے ہیں۔پیغمبرانہ دعوت و پیغام ایسے حالات کے اندر اْمید کے نئے دریچے و اکرتا ہے۔اللہ کے رسولؐ نے دنیائے انسانیت کے سامنے یہ اعلان کردیا کہ وحی، علم اور رہنمائی کا حتمی اور قابل اعتبار زریعہ ہے۔ حق وایقان کا برملا اعلان کرنا پیغمبرانہ مشن کا مہر تصدیق ہوتاہے۔ اللہ کے رسولؐ پر نازل آسمانی کتاب قرآن پاک اپنے آغاز میں ہی اس بات کا اعلان کرتاہے کہ ’’بلاشبہ یہ اللہ کی طرف سے رہنمائی کی وہ کتاب ہے جس میں کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے ‘‘(القران ،البقرہ،آیت۲)۔ اپنے بارے میں بھی رسول پاکؐ نے یہ اعلا ن کردیا کہ ’’فی الواقع میں اللہ کا پیغمبر ہوں،میرے اس دعوی میں جھوٹ کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔‘‘پوچھنے والا یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ ’’چلو مانتے ہیں کہ پیغمبر کا یہ کہنا کہ علم وحی حق اور سچ ہے،لیکن ہم پیغمبر کے اس دعوی کو کیونکر تسلیم کرے۔اس فطری سوال کا قرآن تفصیلی جواب فراہم کرتا ہے۔ پیغمبر کے اس دعوی کو پانچ بنیادوں پر تسلیم کیا جا نا چاہئے۔
ا۔ پیغمبر ایک مثالی کردار کاشخص ہو تا ہے۔ جو کبھی جھوٹ نہیں بولتاہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ فہم و شعور اور حکمت ودانش کے سب سے اعلیٰ مقام پر فائز ہو تا ہے۔آپ کی بات کسی عام اور سطحی شخص کی بات مان کر مسترد نہیں کی جاسکتی۔
۲۔ پیغمبر کے مدنظر مالی یا کوئی دیگر مفادنہیں ہوتا۔وہ کسی حاکم وقت، بادشاہ ادارے یا انجمن سے کسی انعام و اکرام حاصل کرنے کے لئے کام نہیں کرتا۔آپ اپنے مشن میں بے غرض اور کسی لالچ کے بغیر ہمہ گوشہ و تن منہمک ہو تا ہے۔
۳۔ تما م پیغمبر حضرات ایک ہی پیغام کے علمبردار ہوتے ہیں۔ اگر اْن کا پیغام جھوٹ پر مبنی ہوتا وہ کیونکر ایک دوسرے کے ساتھ اتفاق کرتے۔
۴۔ پیغمبر کا پیغام بامعنیٰ اور وزن دار ہوتا ہے کیونکہ اس کا ماخذ مستند اور انسانوں کے فہم و عقل بخشنے والے خالق کی طرف سے ہوتا ہے۔
۵۔ پیغمبرانہ تعلیم اور پیغام کو جب عملایا جاتا ہے تو اسے انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کی تطہیر واقع ہوتی ہے۔
آج کی سسکتی بلکتی زندگی جو غیر یقینیت کے دلدل میں پھنس چکی ہے، کو ضرورت ہے کہ وہ ربانی رہنمائی کی روشنی کی طرف آجائے۔ ظاہر و باطن کو لگی عارضں کا اسے علاج کرائیں۔یہی روشنی و ہ اکسیر خاص ہے جو یقینیت کا منبع اور مصدرہے۔ اسی لئے قرآن دنیائے انسانیت کو ’’ففروالی اللہ‘‘ کی منادی دیتا ہے۔
(مضمون جاری ہے ۔اگلی قسط انشاء اللہ اگلے جمعہ کو شائع کی جائے گی)