رب کائنات نے حضرت انسان کو جس مقدس مقصد کیلئے پیدا کیا تھا، آج وہ دنیا کی رنگ رلیوں اور نمائشوں میں غلطاں و پیچاں ہو کر اپنی مقصد تخلیق کو فراموش کربیٹھا ہے۔جسے رب تعالیٰ نے اشرف المخلوقات کہہ کر پکارا ہے، وہ آج ایسے جرائم میں مبتلا ہے جسکا اندیشہ فرشتوں نے ظاہرکیا تھا کہ:’’ کیا آپ زمین میں ایسا نائب بنائیں گے جو اس میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا‘‘۔
آج ہمارا معاشرہ تباہی کی دہلیز پہ کھڑا ہے۔ ہمارے نوجوان جنہیں شاہینی صفت کا ہونا چاہئے تھا، آج وہ ایسے جرائم میں مبتلا ہیں جو انہیں کئی برائیوں پر ورغلاتی ہیں۔ہمارے نوجوانوں میں پھیلی منشیات کی لت نے ہمارے معاشرے اور سماج کو کھوکھلا کر دیاہے۔روزبروز بڑھتے منشیات کے واقعات اور منشیات سے پیدا ہونے والے شرمناک قصے جہاں سنجیدہ لوگوں کو پریشان کر رہے ہیں وہیں اس کے روک تھام کی ہر ممکن کوشش بھی جاری ہے۔عالمی سطح پر کئی دانشوروں نے اس کی روک تھام کیلئے اقدام کرتے ہوئے اپنی نیک رائے بھی پیش کی لیکن تعصب کے اس دور میں بے ضمیروں کی بے ضمیری سے ان بہی خواہوں کی نیک سعی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکی اور کچھ درندہ صفت انسانوں کے ایجاد کردہ نت نئے نشیلی مشروبات و ماکولات کے استعمال میں اضافہ در اضافہ ہونے لگا۔مثال کے طور پر شراب،بیئر ،چرس ،گانجا ، افیم ،تمباکو اور دوسری چیزیں جن کا نام تک لینا سنجیدہ لوگ پسند نہیں کرتے، دور حاضر میں مہذب و غیر مہذب لوگوں میں ان کی کھپت روز بروز بڑھتی ہی جارہی ہے۔
منشیات کا نشہ ایک ایسا دھیمک ہے جو سکون کے دھوکے سے تو شروع ہوتا ہے لیکن انسان کو تباہی کی دہلیز پہ لا کھڑا کردیتا ہے۔یہ دھیمک صرف سوسائٹی کے عیش پرستوں میں عام نہیں ہے بلکہ ہر شعبے اور ہر ادارے،یہاں تک کہ معصوم بچوں میں بھی فیشن کے طور پر استعمال کیا جانے لگا ہے جس کے انتہائی مضر اثرات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔آج چاروں طرف ایک الگ فضا ہے ،ہرطرف ہر عمر کے مرد و زن سگریٹ کا دھواں اڑاتے دکھائی دے رہے ہیں،پوری دنیا منشیات کے خوفناک زہر کے حصار میں ہے،نئی نسل اپنے تابناک مستقبل سے لاپرواہ ہوکر نشے میں دھت دکھائی دے رہی ہے۔شراب نوشی یہ ایسی لت ہے جو انسان کو دنیاوآخرت سے بیگانہ کر دیتی ہے۔ اسے استعمال کرنے والا ہر شخص حقیقت سے ناآشنا ہوتا ہے یا عادت سے مجبور۔ یہ ایک ایسی عادت ہے جسے لگ جاتی ہے تاعمر وہ اس سے دور نہیں رہ سکتا اور عمر ڈ لتے ہی وہ شخص دردناک کرب سے لمحہ لمحہ مرتا ہے اور اس کی موت اس کی نہیں بلکہ اس کے خوشیوں کی،خواہشات کی،تمناؤں کی موت ہوتی ہے کیونکہ یہ نشہ انسان کی صحت خراب کرنے کے ساتھ ساتھ اسے ذہنی طور پر بھی مفلوج کردیتا ہے۔ ایسی نشیلی اشیاء کو بنانے والے درندہ صفت انسانوں کا مقصد ہی یہی ہے کہ نئی نسل سے پیسے بٹور کر ان کو تباہی کی طرف دھکیلا جائے۔ایسے نشیلی اشیاء کے تاجر نئی نسل کو مختلف نشوں کی عادت میں مبتلا کرکے اپنے ہدف میں بہت حد تک کامران ہوتے نظر آرہے ہیں۔
وجوہات و نقصانات
منشیات کا استعمال کوئی مجبوری نہیں بلکہ ہم عصروں اور دوستوں کو دیکھ کر دل میں انگڑائی لینے والا ایک جذبۂ اشتیاق ہے جو تباہی کی بنیادی سیڑھی ہے۔بچوں و نوجوانوں کو ضروریت سے زیادہ دیا جانے والا پیسہ( money pocket) بھی کسی حد تک اس جرم کا ایک پہلو ہے جسکاحساب والدین اپنے بچوں سے لینے اور ضروریات کے بارے میں پوچھنے سے کتراتے ہیں جو آگے جاکر بچے کی آزادی کا آخری درجہ ثابت ہوتا ہے اور وہ اس فعل حرام میں مبتلا ہو جاتے ہیں جن کا تصور والدین نے کبھی نہیں کیا تھا ۔دور حاضر میں بڑھتی ہوئی بے روز گاری،حالات کا جبر،روزافزوں مہنگائی جو سب انسان کے امیدوں کو چور چور کر دیتی ہے باعث بن رہی ہے۔منشیات کے استعمال سے انسانی جسم میں تو نقصانات پیدا ہوتے ہی ہیں مگر اس کے اثر سے معاشرے میں جو خرابیاں پیدا ہوتی ہیں، وہ فکری المیہ ہے۔گلیوں کوچوں میں نشے سے لت پت بدمعاشوں کی وجہ سے ہر سو خوف و دہشت کا سما ںہوتا ہے۔ اس میں مبتلا لوگوں نے کئی معصومین کی جان لی ہے،ان کی وجہ سے کئی عصمتیں تار تار ہوئی ہیں ،نشے میں دھت شخص مدہوشی کے عالم میں کسی بھی حد تک گزر سکتا ہے۔اس کی وجہ سے سماج میں چوری،ڈکیتی،قتل و غارت زیادہ ہوگئی ہے کیونکہ اس میںمبتلا لوگوں کو اپنی ضروریاتی نشہ کو حاصل کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جانا منظور ہوتا ہے۔
منشیات اسلام کی روشنی میں
اسلام نے انسان کوبے شمار مواقع پر تدبر اور تفکر کی دعوت دی ہے۔ یعنی انسان جن چیزوں کا مشاہدہ کرے اور جو کچھ سنے اور جانے، عقل کو استعمال کر کے اس میں غور و فکر کرے اور انجانی حقیقتوں اور ان دیکھی سچائیوں کو جاننے اور سمجھنے کی سعی کرے۔اسلام میں جن کاموں کی شدت کے ساتھ مذمت کی گئی ہے اور جن سے منع فرمایا گیا ہے ، ان میں ایک نشہ کا استعمال بھی ہے۔ قرآن مجید نے نہ صرف یہ کہ اس کو حرام بلکہ نا پاک قرار دیا ہے ( المائدہ :90)؛ کیونکہ انسان کا سب سے اصل جوہر اس کا اخلاق و کردار ہے۔نشہ انسان کو اخلاقی پاکیزگی سے محروم کر کے گندے افعال اور ناپاک حرکتوں کا مرتکب کر دیتا ہے اور روحانی و باطنی ناپاکی سے بھی زیادہ انسان کے لئے ضر ررساں ہے۔احادیث میں بھی اس کی بڑی سخت وعید آئی ہے اور بار بار آپ ؐنے پوری صفائی اوروضاحت کے ساتھ اس کے حرام اور مضر ہونے کو بتایا ہے۔آپ ؐنے ارشاد فرمایا کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے ، (بخاری عن عائشہ ، حدیث نمبر : 5585) حضرت جابر بن عبد اللہ سے آپؐ کا ارشاد مروی ہے کہ جس شئے کی زیادہ مقدار نشہ کا باعث ہو ، اس کی کم مقدار بھی حرام ہے (ترمذی، حدیث نمبر : 1865) ۔یہ نہایت اہم بات ہے کیونکہ عام طور پر نشہ کی عادت اسی طرح ہوتی ہے کہ معمولی مقدار سے انسان شروع کرتا ہے اور آگے بڑھتا جاتا ہے ، یہاں تک کہ بعض اوقات اتنا آگے بڑھ جاتا ہے کہ زہر آمیز انجکشن کے بغیر اس کی تسکین نہیں ہوتی۔
غرض نشہ جسمانی، مالی، سماجی اور اخلاقی ہر پہلو سے انتہائی ضرررساں چیز ہے۔اس وقت منشیات کی کثرت اور اس کے استعمال میں جو عموم پیدا ہو رہا ہے وہ حددرجہ تشویش ناک بات ہے۔لوگوں نے منشیات کو نئے نئے خوبصورت نام دے دئے ہیں ، گٹکے ، چاکلیٹ اور مختلف دوسری اشیاء کے ساتھ نشہ کا نام لئے بغیر تھوڑا تھوڑا نشہ آور اجزاء کا طلبہ اورنوجوانوں کو عادی بنایا جاتا ہے اور یہی چیز ان کو آئندہ منشیات کا باضابطہ خوگر بنا دیتی ہے۔
اس برائی سے سماج کو بچانے کی تدبیر یہی ہے کہ ایک طرف لوگوں کو نشہ کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے۔دوسری طرف ان اسباب پر روک لگائی جائے جو منشیات کے پھیلنے میں ممدو معاون ہیں۔ اللہ رب العزت ہم سب کو منشیات سے دور رہنے اور صحیح پیغام رسائی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
رابطہ ۔کپوارہ کشمیر،7006317932