اس مضمون کا حوالہ انگریزی اخبار گریٹر کشمیر میں 10 اکتوبر کو شائع ایک کہانی "کوئیڈ 19 کے درمیان ٹیلی نفسیاتی علاج نے کشمیر میں ذہنی صحت کے بحران کو ختم کردیا"کی نسبت ہے۔ کہانی سے پتہ چلتا ہے کہ گورنمنٹ میڈیکل کالج سری نگر میں انسٹی چیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز (آئی ایم ایچ این ایس) کے مریضوں کو آن لائن مشاورت کرنے سے کشمیر میں ذہنی صحت کے بحران سے بچا جاسکا تھا۔ جن کی کاوشوں میں900 ویڈیو کالز ، 2500 ٹیلیفونک مشاورت وغیرہ شامل ہیں۔دراصل یہ بہت اچھے اقدامات تھے، اگرچہ مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور مشاورت کے لئے توقع زیادہ ہے لیکن متعدد قسم کی ’وقت کی ناکہ بندیوں‘ کے درمیان یہ کوشش قابل تعریف ہے۔ تاہم یہ کہانی ایمرجنسی کے دوران مریضوں کی دیکھ بھال کے بارے میں متعدد سوالات کو جنم دیتی ہے ، جیسے آج کے کویڈ 19 وبائی مرض کی بات کی جائے، خاص طورپرانفارمیشن ٹکنالوجی (آئی ٹی) کے دورمیں اور ٹیلی میڈیسن شعبے میں ہونے والی پیش رفت۔ معاشرے کو اس میں ڈھال لینا۔ بدقسمتی سے مختلف وجوہات کی بنا پر قدامت پسندانہ سوچ سے لیکر مادی مفادات تک اس نئے شعبے کی جانب راغب ہونے میں دشواریاں حائل ہیں، شرم کی بات ہے! ، اسے ایک بدقسمتی ہی کہا جاسکتا ہے کہ ٹیلی میڈیسن سے، زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح معاشروں نے بھی اتنا فائدہ نہیں اٹھایا اور ہمارے معاشرے کوبھی اس میں کوئی استثنیٰ نہیں ہے کہ ڈاکٹر و دیگر طبعی ماہرین کلنکوں پر تشخیصات وغیرہ کے لئے تو مشین پرہی انحصار کرتے ہے۔ لیکن آج کل ایک غریب فرد کی ملکیتی مشین( اسمارٹ فون) معالج کو کچھ نتائج بھیجنے کے لئے استعمال نہیں کیا جاتا ہے کیونکہ ہمارے پاس ایسا 'کلچر' نہیں ہے۔ نفسیاتی علاج اور شایدصحت کے بہت سے دوسرے شعبوں کا علاج اب ٹیلی میڈیسن سے کیا جاسکتا تھا ، حالات معمول کے مطابق ہوں یا ہنگامی صورتحال کے تحت۔ اس سے پہلے ہی حد سے زیادہ دباؤ والے اسپتالوں میں او پی ڈی کا بوجھ کم ہوجائے گا اور شاید جن مریضوں کو جسمانی مشاورت کی ضرورت ہو گی ، وہ اپنی باری کے لئے قریب ترین تاریخ حاصل کریں گے۔ لیکن اس کے لئے ہمارے اسپتالوں کے نظامِ صحت میں ہمہ وقت ایک بنیادی ڈھانچہ بنانا ہوگااور ٹیلی میڈیسن ایکسٹینشن کے قیام کی ضرورت ہے اور اگر جی ایم سی سری نگر میں (آئی ایم ایچ این ایس) نے اس کا تجربہ کیا ہی ہے اور خبروں کے مطابق نتائج روشن ہیں تو اس تجربے کے لئے پائلٹ پروجیکٹ بنایا جانا چاہئے۔ دوائیوں کے دوسرے شعبوں کے لئے جو روشنی میں لایا جاسکتا ہے۔
کوویڈ 19 کا چھ ماہ کے عرصے کا صدمہ (اب بھی رواں) اور اس کے دوسرے قسم کے متاثر مریض ہم سب کے سامنے ہیں۔ وقت اور جگہ مجھے یہاں اس مسئلے پر گفتگو کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے جو کم و بیش ہر باشعور فرد کو معلوم ہے۔ اس کے علاوہ الزامات کا کھیل ذایقہ خراب کردیتا ہے۔ اس کے بجائے ہم دنیا بھر کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے حقیقی بہادروں کی ستایش کرتے ہیں جنہوں نے اس وبائی مرض میں اپناکردار نبھایا ، اور ان میں سے کچھ نے اپنی جانیں قربان کردیں۔ وبائی مرض نے بہت تیزی سے سفر کیا تاکہ 'جانکار انسانوں ، سائنس دان اور تازہ محققین کو کوئی وقت نہ دیا جاسکے اور ماہرین ایک بھی مناسب ہدایت نامہ برقرار نہیں رکھ سکے بلکہ چیزیں بدلتی رہیں۔ اس سے عام طور پرڈاکٹر سے لے کر عام انسان تک ایک عام لیکن شدید نفسیاتی خوف پھیل گیا ، بجا طور پر جب دنیا کے لئے کوئی بھی چیز نئی بن کر سامنے آجائے تو ایسا ہی ہوتا ہوگا۔
کسی ہنگامی صورتحال کے دوران ایک مریض جو خود ایمرجنسی میں ہوتا ہے گرچہ درجہ بندی میں،تو کیا وہ علاج کا انتظار کرسکتا ہے؟ یہاں ٹیلی میڈیسن کا کردار سامنے آتا ہے جس کے لئے متعلقین کو بے حسی اور سست روی سے باز آنا چاہئے اور اس کو جموں و کشمیر کے صحت کے شعبے کے نظام میں شامل کرنے کے لئے پالیسی کی حکمت عملی بنانی ہوگی۔ حکومت کو بھی ایک یقینی پالیسی کے تحت سرکاری ہسپتالوں کے ساتھ ساتھ نجی صحت کے شعبے کے لئے بھی آن لائن 'اسٹیٹ آف آرٹ میکانزم' کے انتظامات رکھنے میں لچکداررویہ اپنانا چاہئے تاکہ دونوں فریقین، ڈاکٹرز،نیم طبعی عملہ اورمریضوں اور ان کے سرپرستوں کا آمدنی، معاشی اور قیمت پر قابو رکھنے والے ایک انضباطی اتھارٹی کے اصولوں کے تحت فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔
یہ کہاوتیں ، "وقت کا ٹانکا سلائی کا کام دیتا ہے" یا "بْرائی کوجڑ میں ہی ختم کریں‘‘یہاں موزوں ہیں ، واٹس ایپ کے ذریعے اپنی جلد کی خارش کا فوٹو بھیجنا یا لاک ڈاؤن کے دن ڈاکٹر کو ای میل کرنا آپ کی جسمانی پریشانی ، چھوٹی یا بڑی اور نفسیاتی صدمے کا علاج شروع کرنے کے لئے ایک مناسب تشخیص ہوسکتاہے۔
اگر آپ انتظار کریں تو مہینوں کا لاک ڈاؤن ختم ہوتا بھی ہے پھر دنوں کا انتظار آپ کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ بات تجربہ شدہ ہے۔ یہ تب ہی ممکن تھا اور قابل عمل تھا جب ہمارے نظامِ صحت نے اس طرح کا ایک بنیادی ڈھانچہ تیار کیا ہوتا۔ لیکن ہم بہت پیچھے ہیں۔ ہمارے ڈاکٹڑس کے پاس "ڈائل پورٹلز" پر پروفائلز موجود ہیں لیکن یا تو یہ پروفائل محض تعارفی ہیں یا ٹیلی سسٹم کی ضروریات مریض دوست نہیں ہیں۔
ڈاکٹر لوگ نجی کلینک چلاتے ہیں اور بیمار خْدا کے بعد حکیم پر بھروسہ کرتا ہے۔ ڈاکٹر ایک مخصوص برانڈ کی دوائی لکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک خواندہ مریض بھی اسی دوائی کا متبادل نام مارکیٹ سے لینے سے انکار کرتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ! وہ ڈاکٹر پر اپنے اعتماد کو برقرار رکھتا ہے۔ راقم نے مریضوں کو ڈاکٹروں کے سامنے زندگی کے راز افشا کرتے دیکھا ہے جو وہ اپنے کنبہ کے ممبروں پر بھی ظاہر نہیں کرتے ہیں۔ ڈاکٹروں کودیگر ملازمیں کی طرح الیکشن ڈیوٹیوں پر اضافی اسائنمنٹس نہیں دیئے جاتے ہیں کیونکہ جب مریض ان سے مشورے یا سرجری کے لئے پہنچ جاتے ہیں تو انہیں ہمیشہ زندگی اور موت کے مابین ایک دھار کی طرح موجود رہنا ہوتا ہے۔ اور اگر کوئی ڈاکٹر مہینوں تک اپنا کلینک بند کر دیتا ہے اور اسپتال عالمگیر وبا کے اوقات میں او پی ڈی بند کردیتے ہیں ، عام مریضوں کے لئے تو پھرایسے مریض کو کہاں جانا چاہئے۔ کیااسے انتظار کرنا چاہئے؟ وبائی مرض کے شکار کے افراد کو چھوڑ کر ، کیا تمام قسم کے دیگر مریض مہینوں تک انتظار کر سکتے ہیں۔ ایک ملین ڈالر سوال؟ اس بحث کو چھوڑ کر، ہم ایک بار پھر تباہ کن انتظامی نظام کے نتیجے پر پہنچ گئے، بحران سے نمٹنے کے لئے صحت کے شعبے میں ایک پہلے سے مقرر کردہ بنیادی ڈھانچے والے نظام پر!
خدا کا شکر ہے، اب یہ ساتواں مہینہ ہے ، صورتحال قابو سے باہر نہیں ہے ، خدا ہمارے ساتھ بہت مہربان رہا۔ آنے والے وقت کا کچھ پتہ نہیں ، ہم نہیں جانتے، امید ہی علاج معالجہ ہے۔ نفسیاتی خوف میں واقعی ایک کمی آگئی ہے جو کہ ایک اچھی علامت ہے ، کیوں کہ خوف کے عالم میں ہم اپنوں کے جنازوں کے ساتھ بھی انصاف نہیں کرسکے۔ جو اسی بیماری سے ہم سے رخصت ہوگئے تھے۔ اب وقت بدل گیا ہے کہ ہم ایس او پیز کے ساتھ تحفظ پر یقین رکھتے ہیں دفاتر، بازاراوراسی طرح جنازوں میں بھی۔پیشہ ور افراد کی اب ہر جگہ ہم درجہ بندی کرتے ہیں ’اچھے نہیں‘ اور ’بہت اچھے‘۔ 'اچھے نہیں' پیشہ ورافراد کے لئے ہمیشہ موقع ہوتا ہے کہ وہ 'نہیں' کی صفت ہٹائیں اور بہت اچھے کے درجے میں تبدیل ہوجائیں۔
کچھ معروف ڈاکٹروں کے کلینک ابھی بھی بند ہیں اور ان کے عشرے پرانے مریض انتظار کر رہے ہیں کہ وہ اس اہم موڑ پر آگے آئیں کیونکہ ایک فیملی ڈاکٹر مریض کی تاریخ اور مریض کے پس منظر کو ایک نئے ڈاکٹرکے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر جانتا ہے۔ اگرآپ اب بھی ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں تو کم از کم فاصلاتی علاج کے ڈومین میں داخل ہوجائیں، جتنا جلد ممکن اْتنا ہی بہتر ہوگا۔
این جی اوز فاصلاتی علاج کو ایک پائیدار نظام متعارف کروانے میں معاون کا کردار ادا کرسکتے ہیں جس کے نتیجے میں معاشرے کے نظامِ صحت کے ماحول کو بونس ملے گا تاکہ گھروں تک جدید تشخیصی آلات پہنچ سکیں۔ صحت اور حفظان صحت کے حوالے سے یہی وقت کا تقاضا ہے۔
رابطہ۔ [email protected]
موبائل نمبر۔7006551196