زبان کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ موجو دہ دور میں جو زبان اردو کے نام سے موسوم ہے ، اسے ماضی میں ہندی ،ہندوی ، ہندوستانی،دکنی ،ریختہ اور اردوئے معلی جیسے ناموں سے بھی پکارا جاتا رہا ہے۔ چونکہ اردو مخلوط معاشرے کی پیداوار ہے ،یہی وجہ ہے کہ اس زبان کے زیر اثر نشوونما پانے والی مخلوط تہذیب’’ مشترکہ تہذیب‘‘ یا ’’گنگا جمنی تہذیب ‘‘ کہلاتی ہے۔ اور اسی تہذیب کی بنا پر ہندوستان محبت، اخوت اور خوشحالی کا گہوارہ بن گیا تھا۔ اس بات پر سبھی محققیں او ماہرین لسانیات متفق ہیں کہ اردو خالصتاً ہند آریائی زبان ہے۔اس کی جڑوں کا تعلق ہندوستان کی قدیم زبان سنسکرت سے کافی گہرا ہے۔اس کی پیدائش اسی سرزمین پہ ہوئی ہے۔اور اسی سرزمیں میں نشوونما بھی پائی ہے۔نواح دہلی کو اس کا مولد ومسکن قرار دیا جاتا ہے۔ کھڑی بولی یا ہندوستانی کو اردو اور ہندی کی ماں قرار دیا جاتا ہے۔اس پر ہریانوی ،گجراتی ،پنجابی اور دکنی بولیوں کے اثرات بھی مرتسم ہوئے ہیں۔علاوہ از ایں جب ہندوستان میں مسلمان وارد ہوتے ہیں تو اردو زبان پر عربی ،فارسی اور ترکی کے اثرات بھی مرتب ہونے لگتے ہیں۔اور یہ زبان رابطہ عامہ کی زبان بن جاتی ہے۔اور شمالی ہند کو جنوبی ہند (دکن)سے جوڑنے کا اہم ترین کام انجام دیا۔
اردو زبان کی نشوونما میں صوفیائے کرام کے ساتھ ساتھ مسلمان حکمرانوں کا بھی اہم رول رہا ہے۔ اس زبان کی ترقی میں جہاں مسلمان شعرا و ادباء نے اہم کردار نبھایا وہیں غیر مسلم شعرا و ادباء بھی اس کو فروغ دینے میں پیش پیش رہے ہیں۔اس سلسلے میں مختلف ادبی و سماجی انجمنوں اور اداروں نے بھی ناقابل فراموش رول ادا کیا ہے۔گو اس زبان کو عوام و خواص نے قبول کیا۔ اس طرح سے یہ زبان پورے ہندوستان میں رائج ہوتی گئی اور واحد رابطے کی زبان بن گئی۔
انگریز حکمرانوں نے بھی اس زبان کو سیکھنے اور سکھانے کے لئے اسکولوں اور کالجوں میں متعارف کروایا۔فورٹ ولیم کالج میں گلکرائسٹ کی نگرانی میں بیسیوں ادیبوں نے متعدد سنسکرت ،فارسی اور انگریزی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا۔ان تمام مساعی کا مقصد نو آموز انگریزوں کو اردو زبان سے روشناسی کرانا تاکہ انہیںہندوستانی عوام کے ساتھ سیاسی، سماجی ،تجارتی اور ثقافتی رشتے استوار کرنے میں آسانی ہوجائے ۔ جہاں وہ ایک طرف اس مقصد کو پانے میں کافی حد تک کامیاب ہوئے وہیں دوسری جانب اردو زبان کو بھی بر صغیر میں اپنے پاؤں پسارنے کا بھر پور موقع ملا۔اور اس دوران اردو کو ہندوستان کی کئی ریاستوں کی دفتری زبان ہونے کا شرف بھی حاصل ہوا ہے۔مگرآزادی کے بعد مختلف سیاسی و سماجی تبدیلوں کے سبب سے اس زبان کو مختلف رکاوٹوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
انگریزوں سے آزادی پانے کے بعد ہندوستان دو حصوں میں بٹ گیا جس کے نتیجے میں ہندوستان اور پاکستان وجود میں آگیا۔تو زبانوں کو بھی بٹوارے اور ہندو مسلم فسادات کا شکار ہونا پڑا اور اس طرح سے اردو کو مسلمانوں اور ہندی کو ہندوؤں سے منسوب کیا گیا۔جہاں ایک طرف پاکستان میں اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا۔وہیں دوسری طرف ہندوستان میں اردو زبان کے ساتھ سوتیلا رویہ اختیار کیا جانے لگا۔اس طرح سے اس زبان کو سیکھنے اور سکھانے کے راستے روز بہ روز مسدود کئے جاتے رہے۔وقت یہاں تک آن پہنچا کہ اردو دان طبقے کو اردو کو ہندوستانی زبان ثابت کرنے کے لئے بار بار ثبوت پیش کرنے پڑتے ہیں۔
جہاں تک جموں و کشمیر کا تعلق ہے ،یہاں اردو کو1889میں باضابطہ طور پر سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا تھا۔عوام وخواص نے اسے وظیفہ حیات سمجھ کر قبول کیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس زبان کو یہاں کافی فروغ ملا اور ساتھ ہی ساتھ اردو دان طبقے کے لئے روزگار کے وسائل میں بھی اضافہ دیکھنے کو مل رہا تھا۔مگر بعض لوگوں کو یہ بات آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتی رہی اور اردو کا یہ درجہ گوارا نہیں ہوا۔ اورکم وبیش130 سال بعد بالآخر اس زبان کی بنیادی حیثیت کمزور کرنے کے لئے مزید چار زبانوں کو اس کے ساتھ دفتری زبان کا درجہ دیا گیا ہے۔اس ترمیم کا مقصد اردو زبان کے تناور درخت کی جڑیں کمزور کر کے اسے ہندوستان کی دیگر ریاستوں کی طرح جموں و کشمیر سے بھی اکھاڑ پھینکنا ہے۔اردو زبان کے ساتھ اس ناروا سلوک کی مندرجہ ذیل وجوہات ہوسکتی ہیں۔
۱۔صوفیائے کرام کا اردو کو تبلیغ اسلام کا کا ذریعہ بنانا۔
۲۔اردو کا مسلمان حکمرانوں کے زیر اثرنشوونما پانا۔
۳۔اردو میں عربی ،فارسی اور ترکی الفاظ شامل ہونا۔
۴۔اردو کا رسم الخط دیوناگری کے بجائے نستعلیق ہونا۔
۵۔اردو کا پاکستان کی سرکاری زبان ہونا۔
۶۔اردو میں اسلامی علم وادب کا سیکھنا سکھانا۔
یہی وہ وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر کچھ شر پسند اور فرقہ پرست عناصر اردو کو غیر ہندوستانی زبان اور خالصاتاً مسلما نوں کی زبان قرار دینے پر مصّر ہیں۔لیکن اس حقیقت کو چھپایا نہیں جاسکتا ہے کہ اردو کے تار ہند آریائی زبان سے ہی ملتے ہیں۔اور اس زبان کی بنیادی ساخت سے یہ بات مترشح ہے کہ اردو ہندوستانی زبان ہی ہے۔چاہے اردو دشمن عناصر کو یہ بات کتنی ہی ناگوار کیوں نہ گزرے!
(مضمون نگار ریسرچ سکالر جموں یونیورسٹی ہیں اور ان سے برقی پتہ[email protected] پر رابطہ کیاجاسکتا ہے)
���������������