گزشتہ قسط میں مقامی میڈیا کے سفر کی کہانی کوکہ پرے کی قیادت میں اخوان کے ظہور اوران کی طرف سے دو سینئرصحافیوں کے اغوا کے بعد مقامی صحافیوں سے ان کی رہائی کے بدلے اس تنظیم کے پریس نوٹ نمایاں طور پر شائع کرنے کے وعدے تک پہنچی تھی ۔اس کے آگے پاپا کشتواڑی اورجاوید شاہ ،جو اس تنظیم سے الگ ہوئے تھے ،کے ناز اٹھانا بھی مقامی میڈیا کی مجبوریوں میں شامل ہوا ۔یہ وہ خونخوار قوتیں تھیں جنہوں نے میڈیا کے ان زخموں کو بھلا دیا جو بندوق کی آمد کے بعد اس کا مقدر بنے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان سب کے مین سٹریم کے جمہوری قائدین سے ذاتی مراسم تھے ۔یہ کشمیر کا سب سے بڑا المیہ رہا ہے کہ قایدین نے نہ انسانی قدروں اور نہ ہی انسانی ، جمہوری یا اخلاقی اصولوں کوکبھی خاطر میں لایا ۔شاید اس لئے کہ ان کی فکری سطح اتنی بلند نہیں تھی کہ ان کے پاس قدروں اور اصولوں کا کوئی تصور ہوتا۔یہی وجہ ہے کہ مقامی میڈیا کی اہمیت کا بھی انہیں کوئی اندازہ نہیں تھا اور انہوں نے اس کی آزادی ، اس کے ارتقاء اور اس کی مضبوطی کے لئے اپنا کردار اداکرنے کے بجائے اسے اپنی حقیر منفعتوں کی بھینٹ چڑھانے کے لئے اپنے اقتدار و اختیار کا استعمال کیا ۔اسی کی دہائی شروع ہونے کے ساتھ یہ کوششیں کھلے عام اور بے دریغ انداز میں شروع ہوئیں ۔اس سے پہلے مقامی میڈیا کے عزت و وقار کا یہ عالم تھا کہ اخبار کی ہر خبر کا فوری اثر ہوتا تھا ۔مجھے اپنا ایک واقعہ یاد آتا ہے۔ میں اسلامیہ سکول کا طالب علم تھا ۔ ہمدرد اور آفتاب میں کبھی کبھی مراسلے بھیجا کرتا تھا ۔ان دنوں میرے گھر میں بجلی محکمے کے اہلکار آئے تھے ۔ فیس ادا نہ کرنے پر انہوں نے کنکشن کاٹ دیا تھا لیکن انہوں نے ایک تو دروازے پر لاتیں ماری تھیں اوردوم دروازے کے باہر سے میری ماں سے بہت سخت الفاظ کہے تھے جس پر وہ روئی تھی ۔ میں نے شام کو یہ واقعہ سنا تو دوسرے روز ہمدرد اخبار کے ایڈیٹر کو ایک مراسلہ دیا جو ایڈیٹر کے نام خطوط کے کالم میں دوسرے روز شائع ہوا ۔مراسلے کا شائع ہونا تھا کہ وہ سارے اہلکار جو بجلی کنکشن کاٹنے کے لئے آئے تھے اپنے دوافسروں کے ساتھ گھر پہنچے ۔ماں کو بلایا ۔ اس سے ہاتھ جوڑ جوڑ کر معافی مانگی اور فیس دئیے بغیر بجلی بحال کردی۔یہ اخبار کی تحریروں کا اثر تھا ۔ اُن دنو ں شاید غلام رسول کار بجلی کے وزیر تھے ۔ انہی دنوں انہوں نے بجلی فیس میں چند روپوں کا اضافہ کیا تھا ۔ اخبار ات میں اس کے خلاف جلی سرخیوں کے ساتھ خبریں شائع ہوئیں اور لوگ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنے نکل پڑے ۔صبح خبر شائع ہوئی ۔ دوپہر کو احتجاج ہوا اور چار بجے فیس میں اضافے کا یہ حکم واپس لیا گیا ۔اس کے بعد جو سیاسی انقلاب آئے انہوں نے کیا کچھ نہیں بدلا ۔-87 1986ء میں پولیس نے راجوری کدل میں پتھرائو کے دوران میرے مکان کی تین منزلوں کے شیشے چکنا چور کردئیے ۔ روزنامہ عقاب ان دنوں کافی مقبول اخبار تھا ۔ یہاں تک کہ کئی بار اس کی کاپیاں بلیک میں بھی سو سو روپے میں فروخت ہوئیں ۔ اس میں تین کالمی خبر فرنٹ پیج پر شائع ہوئی کہ ایڈیٹر عقاب کے گھر کے شیشے بلا وجہ پولیس اہلکاروں نے توڑ ڈالے لیکن کسی کے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگی ۔یہ فاروق عبداللہ صاحب کے اقتدار کا دور تھا جو عقاب کو مسلم متحدہ محاذ کا ترجمان سمجھ رہے تھے ۔ مسلم متحدہ محاذ حال ہی میں قائم ہوا تھا اور اس کے جگہ جگہ جلسے ہورہے تھے جن کی رپورٹ وضاحت کے ساتھ عقاب میں شائع ہورہی تھی ۔اخبارکی چھپائی ’’ ہمدرد‘‘ پریس میں ہوتی تھی ۔پریس کے منیجر نے ایک روز اچانک اخبار چھاپنے سے انکار کردیا ۔بعد میں پتہ چلا کہ ہمدرد کے مالک و مدیر غلام رسول عارف کو متنبہ کیا گیا تھا کہ اگر اس پریس میں عقاب چھپتا رہا تو بجلی کاٹ دی جائے گی ۔چنانچہ کئی ہفتے عقاب کی اشاعت معطل رہی ۔اس کے بعد جماعت اسلامی کے فلاح عام پریس میں اس کی چھپائی ہوئی ۔مسلم متحد ہ محاذ کی مقبولیت سے حکومت کافی خائف تھی ۔چنانچہ دیگر اخبارات پر بھی اس کی سرگرمیوں کو اچھالنے سے باز رکھنے کے لئے کئی طرح کے حربے اختیار کئے جارہے تھے ۔خاص کر سید علی شاہ گیلانی کی شعلہ بار تقریروں کی کوریج سے حکومت کو پریشانی تھی لیکن اخبارات کم یا زیادہ تقریروں کو جگہ ضرور دیتے تھے ۔ گیلانی صاحب اسی دور میں مقبولیت کے ذینے تیزی کے ساتھ طے کرتے رہے ۔پروفیسر غنی کے تیز و طرار اور تیکھے جملے بھی زبان زد عام و خاص ہورہے تھے ۔ایک نیا سیاسی ماحول بن رہا تھا ۔ مقامی اخبارات حقائق اور واقعات کو سچائی اور دیانتداری کے ساتھ سامنے لانے کا حق ادا کرتے تھے ۔انہی دنوں مقامی میڈیا کے متعلق متضاد آرائیں پیدا ہونے لگیں ۔ سرکاری حلقوں میں کچھ اخبارات کے لئے پاکستان نواز کی ٹرم استعمال ہونے لگی اور عوامی حلقو ں میں کچھ اخبارات پر بھارت نوازی کی لیبل چسپا ں ہونے لگی اور جب عسکری تحریک شروع ہوئی تو میڈیا کا سنگین امتحان شروع ہوا ۔دونوں طرف سے میڈیا کو کھینچنے کی کوششیں ہوئیں ۔اور جب عسکریت کی قوت میں بے پناہ اضافہ ہوا تو میڈیا لاچار ہوا لیکن جہاں ایک طرف میڈیا پر لاچاری کا دور آیا وہیں اخباروں کی اشاعت میں ریکارڈ توڑ اضافہ بھی ہوا۔ ہفت روزہ چٹان میں معرفت قادری کے قلم سے ’’ عسکریت کی درپردہ کہانی ‘‘ کے عنوان سے ایک سلسلہ وار صفحہ شائع ہوتا تھا جس کو پڑھنے کے لئے لوگ بے تاب ہوتے تھے ۔انگریز ی صحافت کو گریٹر کشمیر نے دیکھتے ہی دیکھتے بلندیوں پر پہنچایا ۔ اس اخبار کا یہ کنٹری بیوشن صحافت کی تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی کہ اس نے کشمیری مزاج کو بدلنے کی کوشش کی ۔اس نے جھیل ڈل کی شان رفتہ بحال کرنے کیلئے وسیع پیمانے کی ایک مہم شروع کی ۔ پائین شہر کی تاریخی عظمتوں کا احساس زندہ و تازہ کردیا ۔کشمیر کی علمی شخصیتوں ،تہذیبی رفعتوں اور تاریخی عظمتوں پر محققوں اور ماہرین کے مضامین شائع کرکے صحافت کو ایک نئے دور سے آشنا کردیا ۔اس نے کشمیریت کے روایتی معنی بدل کر اس کی اصل روح سے عوام کو آشنا کیا ۔اس وقت تک صرف صوفی ازم کشمیریت کی پہچان تھا، گریٹر کشمیر نے اسے کشمیر کی تہذیب اورتاریخ کے ساتھ جوڑ دیا۔یہی اس اخبار کی کامیابی و کامرانی کا سبب بنا ۔یہی آگے چل کر اس کی مشکلات و مصائب کا بھی باعث بنا۔ اس کشمیریت کو ساری متحارب قوتیں اپنے لئے خطرہ سمجھ رہی ہیں، اس لئے اس کی علمبرداری ہمیشہ ممنوع ٹھہری ۔صدیوں کی غلامی میں کچلی ہوئی یہ قوم سوائے حساس اور بیدار افراد کے خود بھی یہ تسلیم کرنے سے کترا رہی ہے کہ وہ اپنے آپ میں ایک قوت اور عظمت ہے ۔بہرحال گریٹر کشمیر کی مقبولیت نے صحافت کااثر اور وقار کسی حد تک بحال کیا۔
اخوان کا دور شروع ہونے کے ساتھ عسکری معرکہ آرائی کا خونین باب بھی شروع ہوا جو مقامی میڈیا کے لئے بھی امتحان کا باعث تھا ۔پریس کالونی میں واقع بی بی سی کے دفتر میں ایک زوردار دھماکہ ہوا ۔ یہ دھماکہ ایک پارسل کو کھولتے ہوئے ہوا ۔ یہ پارسل ایک برقعہ پوش خاتون لائی تھی اور دفتر کے اندر یہ کہہ کر دیا تھا کہ اسے یوسف جمیل کو دیا جائے اور اسے بتایا جائے کہ یہ بہن جی نے بھیجا ہے ۔یوسف جمیل اس وقت بی بی سی کے نامہ نگار تھے اور بی بی سی کا سیر بین کشمیر کا مقبول ترین ریڈیو پروگرام تھا ۔پارسل کو دفتر میں موجود فوٹو جرنلسٹ مشتاق علی نے کھولا لیکن کھولتے کھولتے ہی اس میں دھماکہ ہوا اور مشتاق خون میں لت پت زمین پر گرگیا ۔صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں اس خوبصورت اور معصوم سے نوجوان کو بچانے کی بہت کوشش کی گئی لیکن وہ بچ نہیں سکا۔ قاتلوں کا منصوبہ بھی پورا نہیں ہوسکا کیونکہ ان کا نشانہ یوسف جمیل تھا۔کار ساز دوجہاں کو اس کی زندگی باقی رکھنی تھی سو رکھ دی ۔اس واقع نے میڈیا کی اس دہشت میں اور زیادہ اضافہ کردیا جو پہلے ہی چھائی ہوئی تھی ۔اس کے کافی عرصے بعد اسی پریس کالونی میں ایک اور سانحہ ہوا ۔کالم نگار ، نامہ نگار ، ایڈیٹر پروازمحمد سلطان کو اپنے کوارٹر سے نیچے اترتے ہوئے گولیوں سے چھلنی کردیا گیا ۔وہ اپنے گھر کا واحد کفیل تھا ۔ بہت محنت کش تھا ۔ بہن بھائیوں کو پالا کرتا تھا ۔ اس کے بعد اس کا خاندان بکھر کر رہ گیا ۔صحافت ایسے دلدوز سانحوں کو جھیلتے ہوئے اپنے ارتقائی سفر پر آگے بڑھتی رہی ۔مقامی میڈیا کو سب اپنا اسیر اور غلام بنانا چاہتے تھے ۔ ان میں سے کوئی اتنا دور اندیش نہیں تھا کہ یہ اندازہ کرسکتا کہ میڈیا کی آزادی چھین لینے کی ہر کوشش خود ان کے لئے تباہی کا پیغام بن سکتی ہے ۔درگاہ حضرت بل میں جنگجوئوں کے ایک گروپ کا پناہ لینا کشمیر کی روایتوں ، عقیدوں ، محبتوں کی توہین کے برابر تھا ۔ لیکن کسی اخبار کے لئے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ ایک لفظ بھی لکھ پائے ۔ موئے پاک کی گمشدگی کے وقت کشمیر کی پوری آبادی میں جو اضطراب پیدا ہوا تھا، اس کی یاد ابھی ذہنوں میں تازہ تھی لیکن آج کوئی حرف شکایت بھی زبان پر لانے کی جرأت نہیں رکھتا تھا ۔ فورسز آپریشن سے اس گروپ کا ہی خاتمہ ہوگیا ۔اخبارات صرف واقعات کی رپورٹنگ کررہے تھے ۔اگر کوئی تبصرہ کرنے کی کوشش بھی کرتا تھا تو صرف اشاروں اور کنایوں میں بات کرتا تھا ۔اُس وقت تک کشمیر میں اسلام کا وہ نظریہ کافی حد تک پھیل چکا تھا جو صدیوں سے موجود کشمیری عقاید کو مسمار کررہا تھا۔ سب کچھ بد ل رہا تھا ۔سوچیں بدل رہی تھیں ،جذبے بدل رہے تھے ، سماج بدل رہا تھا ۔سماجی قدریں بدل رہی تھیں ، عقیدے بدل رہے تھے۔گوکہ تبدیلی ہی قوموں کی زندگی ہوتی ہے لیکن تبدیلیوں کے پیچھے فکر اورسوچ کا ایک عمل ہوتا ہے جو آہستہ آہستہ اپنی بنیادیں استوار کرتا ہے ۔ ہمارے بدلائو میں ہمارا کوئی دانستہ عمل نہیں تھا ۔ غیر محسوس طریقے پر سب کچھ ہورہا تھا اور ہم ہر بدلائو کو قبول کرتے چلے جارہے تھے ۔ درگاہ حضرت بل واقعہ کے بعد متعدد آستانوں میں آگ زنی کی وارداتیں بھی ہوئیں اور پھرحضرت شیخ نور الدین نورانیؒ جنہیں علمدار کشمیرکا لقب حاصل ہے ،کے آستانے میں مست گل ،جو ان دنوں ایک ہیرو کا درجہ رکھتے تھے، اپنے ساتھیوں کے ساتھ پناہ گزین ہوئے۔ فورسز نے آستانے کا محاصرہ کیا اور یہ تاریخی یادگار،جو صدیوں سے عقیدت کا مرکز رہی تھی، نذر آتش ہوئی اور مست گل فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ۔ان واقعات کا جو بیانیہ عام ہوتا تھا، اسے ہی قبولیت کا شرف حاصل ہوتا تھا ۔ ایسے اہم واقعات پر کسی دانشور کا کوئی مقالہ کسی اخبار میں شائع نہیں ہوا ۔ کیا اچھا ہورہا تھا کیا برا ہورہا تھا ،اس پر بات کرنے کا حوصلہ کسی میں بھی نہیں تھا ۔ایسی صورتحال جو ذہنوں کی کھڑکیاں بند کردے ،قوموں کے لئے کتنی خطرناک ہوتی ہے، اس کی بے شمار مثالیں تاریخ میں موجود ہے ۔میڈیا کا کردار اسی لئے قوموں کی تقدیر سنوارنے کا باعث ہوتا ہے کہ وہ ذہنوں کی کھڑکیاں کھول دیتا ہے اور لوگ سوچ سمجھ کر فیصلے کرتے ہیں ۔