گذشتہ تقریباً دس پندرہ برسوںیا اس سے کچھ زیادہ عرصے سے مدارس کے تئیں دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے اور تعلیمی و تحقیقی دونوں ہی حلقوں میں نیز میڈیااور عوامی اور سیاسی حلقوںمیں مدرسہ تعلیم کے موضو ع پر کافی بحث ہوتی رہی ہے۔ہندوستان میں مدارس کے آغاز کے بعد سے اس کے نصاب میں بہت کم تبدیلیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔اس کے ساتھ ہی آج کے مسائل کا مدلل جواب دینے کے لیے مدارس کا موجودہ نصا ب ناکافی نظر آتا ہے۔گوکہ یہ بات بڑی حد تک عمومی ہوسکتی ہے لیکن یہ بہر حال ایک حقیقت ہے کہ اس ضمن میں جب کبھی بھی کوئی نئی تبدیلی کی بات کی گئی تو ابتدا میں ہی اس کی مزاحمت شروع ہوگئی ۔ اداروں کے ارباب حل و عقد کسی نئی تبدیلی کے لیے آسانی سے آمادہ نہیں ہوتے اور وہ یہی سمجھتے ہیں کہ جو کچھ اور جیسا کچھ بھی چل رہا ہے اسے چلتے رہنے دینا چاہئے، خواہ یہ چیزیں ازکار رفتہ ہی کیوں نہ ہوچکی ہوں۔
یہ بات تاہم باعث اطمینان ہے کہ تاخیر سے ہی سہی، بعض مدارس نے جدید تعلیم کی ضرورت اور اہمیت کا ادراک کیا اور اپنے نصاب میں سائنس، انگلش اور کمپیوٹر کی تعلیم کو بھی شامل کیا۔ مثال کے طور پر ہندوستان کے دو بڑے مدارس دارالعلوم دیوبند اور ندوۃ العلماء لکھنئو نے خود کو اس تبدیلی کا علمبردار ثابت کرتے ہوئے اپنے تعلیمی نصاب میں انگلش اور کمپیوٹر اسکل کو شامل کرلیا۔ تاہم دونوں مدارس اپنے طلبہ کودی جانے والی تعلیم کے معیار میں کوئی قابل ذکر بہتری پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔
یہ دلیل اکثر دی جاتی ہے کہ اگر جدید تعلیم اتنی ہی پراثر ہے تو یہ ان مدارس میں کوئی قابل ذکر بہتری کیوں نہیں لاسکی جنہوں نے اسے اختیار کیا تھا؟ اس کی ایک وجہ جس کی نشاندہی کی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ بیشتر مدارس کے پاس خاطر خواہ تربیت یافتہ اور اہل تدریسی عملے کی کمی ہے۔
ملاپ پروگرام
مختلف تحقیقی مطالعات اور ہندوستانی مدارس میں صلاحیت سازی کی ضرورتوں کے پیش نظر دہلی کی ایک غیر سرکاری تنظیم مائناریٹیز انیشی ایٹیو فار لرننگ، ایڈوانسمنٹ اینڈ پارٹنرشپ (ملاپ)۔ www.milapindia.orgنے مدارس کے اساتذ ہ اور طلبہ کی صلاحیت سازی کا ایک پروگرام شروع کیا تھا۔
مدارس کی صلاحیت سازی(سی بی ایم) کا یہ پروگرام مدارس کے اساتذہ ، منتظمین ،علمائے دین اور ماہرین تعلیم کے مشوروں پر مبنی ہے۔ مدارس کے اساتذہ اور طلبہ دونوں کی حقیقی ضرورتوں پرغوروخوض کے لیے 2008میں ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں تمام مسلک کے علمائے دین ، منتظمین اور اساتذہ کو مدعو کیا گیا۔ اس دو روزہ مشاورتی ورکشاپ میں مدارس کے اساتذہ اور طلبہ کی ضرورتوں اور امنگوں ، جدید ماہرین تعلیم سے استفادہ کے طریقہ کاراور مدارس سے وابستہ افراد کے لیے ایک بہتر جامع پروگرام کی تیاری پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاپ پروگرام میں سب سے پہلے اساتذہ کی تربیت پر توجہ مرکوز کی گئی اوران امور کی نشاندہی کی گئی جن میں اصلاحات کے لیے جدید ماہرین تعلیم کی مدد کی ضرورت ہے اور دوسرے یہ کہ اس پروگرام کے شرکاء کو کس طرح مناسب تربیت دی جائے۔مدارس کے طلبہ کے پروگرام پر بھی انہیں اصولوں کا اطلاق کیا گیا۔
علمائے دین اور مدارس کے منتظمین کے ابتدائی مشوروں کی بنیاد پر مدارس میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے جو لائحہ عمل تیار کیاگیا اس کا ایک اہم نکتہ یہ تھا کہ ایسے نئے طریقہ کار تیا رکیے جائیں، جوکہ موجودہ ذرائع اور مہارت کو مزیدمستحکم کرسکیں تاکہ مدارس کے اندر ہی اساتذہ کی مجموعی تدریسی صلاحیت بہتر ہوسکے۔مدرسہ صلاحیت سازی پروگرام کو ایک ’پروفیشنل ڈیولپمنٹ/کوچنگ ماڈل ‘ پر تیار کیا گیا تھا۔ اس کا مقصدتدریس اور سیکھنے کے عمل میں پائی جانے والی کمی کو دور کرنے میں مدد کرنا تھا۔ سی بی ایم پروگرام سے پورے ملک کے مدارس کے اساتذہ اور طلبہ استفا دہ کرسکتے ہیں اور ا س سلسلے میں اب تک نئی دہلی، علی گڑھ، ممبئی، حیدرآباد ، پونے اور گوہاٹی میں ملاپ پروگرام مختلف مدارس اور سماجی تنظیموں کے اشتراک سے منعقد کیا جاچکا ہے۔
اس پروگرام کے تحت اساتذہ کو جن موضوعات سے واقف کرایا جاتا ہے ان میں ہندوستانی ثقافت اور مذاہب کے علاوہ اقلیتوں کے آئینی اور قانونی اور انسانی حقوق شامل ہیں۔اس پروگرام کے مشمولات میں تدریس کے مختلف طریقہ کارکاتعارف، مدارس کے طلبہ کے سماجی اور تعلیمی پس منظر کی تفہیم ، بچوں کی نفسیات ، ایک موثر استاد کا رول اور ذمہ داریاں، اسباق کی منصوبہ بندی اور اس کے اصول او ر طریقہ کار ، طالب علم اور استاد کے مابین مکالمے کی تفہیم ، انگلش بولنے اور لکھنے پر توجہ کے علاوہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے استعمال کے مبادیات اور اساتذہ کے ذریعہ اسباق کی منصوبہ بندی کی تیاری شامل ہیں۔
نتائج اور مواقع
ان تربیتی پروگراموں کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ہر پروگرام کے بعد ایک بیرونی کنسلٹنٹ کے ذریعہ فیڈ بیک سروے کا انتظام کیا گیا تھا اور کل ہند بنیاد پر اس کی تفصیلات یکجا کی گئیں۔ فیڈ بیک سروے سے پتہ چلا کہ مذہب اساتذہ، طلبہ اور منتظمین کی زندگی میں اہم رول ادا کرتا ہے ۔ زیادہ تر طلبہ کا یہ خیال تھا کہ مدارس کے طلبہ آج کی ہائی ٹیک دنیا میں اپنی معنویت کھوتے جارہے ہیں۔اس کے علاوہ مدارس میں مذہبی اور جدید دونوں مضامین پڑھانے والے اساتذہ نے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ سماج کی ترقی کے لیے جدید تعلیم ضروری ہے۔مزید برآں یہاں پر یہ بات بھی کہی جاسکتی ہے کہ آج کے ٹکنالوجی کے ماحول میں مدارس کے طلبہ ٹکنالوجی کے شعبوں میں تکنیکی(سافٹ ویئر او رہارڈ ویئر دونوں) مہارت حاصل کرکے خود کو زیادہ باصلاحیت بناسکتے ہیں۔
ہندوستان کے گیارہ شہروں میں ان تربیتی کورسز کے انعقاد سے حاصل ہونے والے تجربات کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ مدارس کے طلبہ اور اساتذہ دونوں ہی میں ایسے جدید مضامین کو سیکھنے کی زبردست چاہت اور لگن ہے جو مدارس میں نہیں پڑھائے جاتے ہیں۔ مدارس کے اساتذہ کو جدید تعلیمی تکنیک اور مینجمنٹ سے زیادہ واقفیت نہیں ہے۔کس طرح اسباق کی منصوبہ بندی سے ان کے تدریسی ہنر کو بہتر بنایا جاسکتا ہے، کس طرح وہ اپنے طلبہ کے نفسیاتی حالت کے بارے میں جان کر کچھ طلبہ پر زیادہ اور کچھ پر کم توجہ مرکوز کرسکتے ہیں۔ مدراس کے اساتذہ کو یہ جان کر بھی خوشی ملی وہ حدیث اور قرآن جیسے مضامین کو پڑھانے کے لیے کس طرح کمپیوٹر کا استعمال کرسکتے ہیں۔ ملک بھر کے تمام طلبہ گروپ اپنی ذاتی کمیونیکیشن اسکل کو بہتر بنانے اور ٹائم مینجمنٹ، بہترانگلش لکھنے اور بول چال جیسے مضامین کو سیکھنے کے خواہش مند نظر آئے۔
ان میں سے بیشتر تربیتی پروگرام 15 سے 21دنوں پر مشتمل تھے اور اگر اتنے مختصر وقفے کے دوران ، موثر طریقہ کار کے استعمال سے شرکاء کی سوچ میں تبدیلی لائی جاسکتی ہے اور انہیں ایسے ہنر موضوعات سکھائے جاسکتے ہیں ، جو ان کے لیے سودمند ہیں تو اس ماڈل کو مدارس کی ان کی معمول کی تعلیم میں ایک اضافی نوعیت کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے اور ان کے بہتر مستقبل کے لیے اس طرح کے کورسیز منعقد کیے جاسکتے ہیں۔
اس کے علاوہ اگر مدارس کی انتظامیہ لازمی مذہبی تعلیم کے ساتھ اس ماڈیول کو اپنانے کے لیے تیار ہو تو مدارس کے ایسے ناقدین کا منہ بھی بند ہوسکتا ہے جو یہ کہتے نہیں تھکتے کہ مدارس وقت کے ساتھ خود کو بدلنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔مزید برآں ہمیں یہ بات بھی سمجھنی چاہئے کہ اسلام کوئی جامد مذہب نہیں بلکہ ایک متحرک مذہب ہے اور ہم اس کے بنیادی اصولوں کو پوری طرح سے برقرار رکھتے ہوئے اس کے عملی اطلاق میں وسعت پیدا کرسکتے ہیں۔یہ لائحہ عمل نہ صرف مسلم کمیونٹی کے لیے سود مند ہوگا بلکہ طویل مدت میں یہ مسلمانوں کے لیے گیم چینجر بھی ثابت ہوسکتا ہے۔اس ضمن میں اگر ملاپ جیسے پروگراموں کواقلیتی امور کی وزارت یا مولانا آزاد نیشنل فاونڈیشن جیسے مرکزی حکومتی اداروں کی جانب سے حوصلہ افزائی کی جاسکے تو اس سے نہ صرف مدارس بلکہ حکومت اور اقلیتی سماج کے ساتھ اس کے روابط بھی بہتر ہونے کی امید کی جاسکتی ہے۔
(مصنف سیاسی تجزیہ نگار ہیں۔ وہ بی بی سی اردو سروس اور خلیج ٹائمز دوبئی سے وابستہ رہے ہیں)
ای میل۔ [email protected]