ادیبوں کی طرف منسوب بہت ساری باتوں میں سے ایک بات ان کی طرف بخالت کی نسبت بھی ہے۔عرب وعجم کے بے شمار ادباء پر کنجوسی کا الزام لگایاگیا۔ ہمارے ایک ساتھی تھے۔ انہیں لوگ کنجوس کہتے تھے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ لوگ ان کے بارے میں ایسا سوچتے ہیں تو انہوں نے کوشش کی کہ وہ اس الزام سے خود کو بری ثابت کرسکیں۔عرب وعجم کے بے شمار ادباء ایسے ہیں جن پر کنجوسی کا الزام لگایا گیا۔
احمد حسن زیات عربی کے بہت بڑے ادیب تھے۔ ان کی کتاب تاریخ ادب عربی ہندوستان میں بہت مقبول رہی ہے۔عصری جامعات سے وابستہ شاید باید ہی کوئی ایسا طالب علم ہو جس نے اس کتاب سے استفادہ نہ کیا ہو۔ان پر کنجوسی کا الزام لگایاگیا۔ان کی کنجوسی کے بارے میں ڈاکٹر طہ حسین کہتے ہیںکہ ’’ان کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ کنجوس یا بخیل تھے درست نہیں ہے۔ میں نے کتنی مرتبہ ان کے یہاں شام کا کھانا کھایا ہے۔ ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ غیر ضروری خرچ سے احتراز کرتے تھے‘‘۔(معنی الکلام از انیس منصور)
توفیق الحکیم عربی کے بہت بڑے ادیب بلکہ ڈرامہ نگاری کے موسس تسلیم کیے جاتے ہیں۔ ان کے بے شمار ڈراموں کو نہ صرف مصر میں اسٹیج کیاگیا، انہیں فلمایاگیا بلکہ مختلف زبانوں میں ان کے ڈارموں کے ترجمے بھی کیے گئے۔ ان کے بارے میں بھی لوگوں کا خیال ہے کہ وہ کنجوس تھے۔انیس منصور ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ’’ انہیں لوگ بخیل سمجھتے تھے لیکن وہ بخیل نہیں تھے بلکہ ان کے پاس خرچ کرنے کے لیے کچھ تھا ہی نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے انہیں مجلہ اکتوبر کے لیے مضمون لکھنے کے لیے کہا تو کہنے لگے۔ اعزازیہ کتنا دوگے؟ پوچھا کتنا لیں گے؟ کہا سوجنیہ۔ کہا ٹھیک ہے۔ کہا کل سو جنیہ لانا اور مضمون لے جانا۔اور اس طرح وہ ان سے مضمون لکھوانے لگے۔ ایک مرتبہ توفیق الحکیم نے انیس منصور سے کہا؟ سو جنیہ اور دو؟ کہا کیوں؟ کہا تاکہ میں تمہیں ایک اور مضمون طہ حسین، ام کلثوم، عبد الوہاب اور عقاد کی کنجوسی کے بارے میں بھی لکھ کر دوں۔(ایضاً)
حطئیۃ اسلامی دور کا مشہور ترین شاعرتھا۔ بہت خطرناک مدح اور ہجو کرتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے گھر کے سامنے بیٹھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں عصا تھی۔ ایک صاحب آئے اورکہا کہ میں آپ کا مہمان ہوں۔ اس نے اپنی عصا کی طرف اشارہ کیا اور کہا میں اپنے مہمانوں کی اس سے ضیافت کرتا ہوں۔ (وکیبیدیا)
لبنان کے بہت بڑے ادیب ڈاکٹر عمر فروخ اپنی خود نوشت غبار السنین میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ایک دن میرے ایک ساتھی نے کہا کہ ’’آپ ایک کنجوس آدمی ہیں‘‘۔ میں نے کہا کیسے؟ کہا کہ آپ پرانے اسٹائل کا ٹائی پہنتے ہیں۔ عمر فروخ کہتے ہیں میں نے اس سے کہا (اور یہ ۱۹۱۸۱ء کی بات ہے) کہ جو آدمی ہر ماہ بارہ ہزار لیرہ خرچ کردیتا ہواس کو آپ کنجوس کیسے کہہ سکتے ہیں۔ (دیکھیے غبار السنین)ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ میں غیر ضروری خرچ سے احتراز کرتا ہوں اور جہاں ضرورت ہوتی ہے تو میں بے دریغ خرچ کرتا ہوں۔ اتنا کہ جب میں جرمنی میں رہتا تھا تو میرے رہن سہن کو دیکھ کر لوگ مجھے عربی شہزادہ سمجھتے تھے۔( ایضاً)
ہندوستان میںعلامہ عبد العزیز میمنی کی طرح صاحب اسلوب انشاء پرداز اور محقق پیدا نہیں ہوا۔ عرب علماء انہیں علامۃ الہند کہتے تھے۔ اپنی مثال آپ تھے۔ ادیب تھے۔ عربی کے شاعر اور پروفیسر تھے۔بے شمار وبے مثال نادر کتابوں کے محقق۔ان کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ بہت بخیل تھے۔ لیکن یہ بات درست نہیں ہے۔
مولانا محمد اسحاق بھٹی نے مولانا محمد حنیف ندوی کے حوالے سے لکھا ہے کہ ایک مرتبہ وہ علی گڈھ گئے۔ ایک دن مولانا میمنی کے پاس جانے کا پروگرام بنایاتو ایک دوست نے کہا، آپ چائے یہیں سے پی کر جائیے۔ میمنی صاحب آپ کو چائے پانی بالکل نہیں پوچھیں گے۔ مشہور تھا کہ ملاقات کے لیے آنے والوں کو وہ چائے وغیرہ پیش نہیںکرتے تھے۔ مولانا نے فرمایا: میں نے ان دوست سے کہا مجھے وہ ضرور چائے پلائیں گے۔تھوڑی دیر بعد وہ میمنی صاحب کے مکان پر پہنچے اور ان سے ملے۔ وہ نہایت گرم جوشی سے پیش آئے او ران کی آمد پر اظہار مسرت کیا۔ مولانا میمنی نے چائے وغیرہ کے علاوہ مختلف قسم کے کھانے کی چیزوں سے ان کی ضیافت کی۔(دیکھیے قافلۂ حدیث ص ۳۱۸)
میمنی صاحب کے شاگرد ڈاکٹر ظہور احمد اظہر اس حوالے سے لکھتے ہیں کہ ایک بار میں نے میمنی صاحب سے کہا کہ لوگ آپ کو کنجوس سمجھتے ہیں۔ میمنی صاحب ناراض ہوگئے اور کہا میں اپنا علم اور مال نالایقوں پر خرچ نہیں کرتا۔اظہر صاحب نے مزید لکھا ہے کہ میمنی صاحب اکثر انہیں اپنے ساتھ کھانے کے لیے اصرار کرتے تھے۔ وہ ان کے ساتھ چائے اور کافی بھی پیتے تھے۔ اسی طرح میمنی صاحب نے مجمع اللغۃ العربیہ، ندوۃ العلماء اور پنچاب یونیورسٹی کی لائبریریوں کو بھاری چندہ دیا۔ ندوۃ العلماء کو تین لاکھ اور پنجاب یونیورسٹی کی لائبریری کو ایک لاکھ روپیہ چندہ دیا۔(جوانب مجہولۃ ۱۶۷) بلکہ وہ اپنے خرچ پر ترکی اور عالم عرب کا سفر بھی کرتے تھے تاکہ وہاں جاکر مخطوطات کی تلاش کرسکیں۔ علم وادب کی خدمت کرسکیں۔ اگر وہ کنجوس ہوتے تو اپنے خرچ پر سفر کرنے کی جرات نہیں کرسکتے تھے۔
الزام تو اہل علم وادب کے سر آتے ہی آتے ہیں اور وہ بھی طرح طرح کے۔ یہ الزام کوئی اور نہیں ان کے معاصر اہل علم لگاتے ہیں۔کچھ نہیں ملتا تو بخالت کا ہی الزام چسپاں کردیتے ہیں۔علم اور کنجوسی کا کوئی آپسی ربط تو مجھے سمجھ میں نہیں آیا۔ اگر کوئی بڑا عالم کنجوس ہے تو اس سے اس کی علمیت میں کیا فرق پڑتا ہے۔اہم اس کا علم وفضل ہے۔ اس کی کنجوسی نہیں۔لیکن بالعموم یہ ایک مذموم صفت ہے۔ اگر اللہ تعالی کسی کو مال ودولت کی نعمت سے نوازتا ہے تو اسے مستحق لوگوں پر خرچ بھی کرنا چاہیے۔
رابطہ۔صدر شعبۂ عربی، اردو، اسلامک سٹیڈیز، بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری
موبائل نمبر۔9086180380