دنیاکی سب سے مشہور پینٹنگ ’’مونالیزا‘‘کہلاتی ہے۔اس شہرہ آفاق تصویرمیں ایک عورت کو مسکراتے ہوئے دکھایا گیاہے ۔حسینوں کی مسکراہٹ کومغربی اورمشرقی شعراء’’مونالیزا‘‘کی مسکراہٹ سے تشبیہ دیتے ہیں۔کہتے ہیں کہ جوخاتون اس مصور کے پاس ماڈل کے طور آیا کرتی تھی،وہ ماں بننے والی تھی اور جس لمحے وہ اپنے ہونے والے بچے کوتصور سے بشاش تھی وہ لمحہ مصور نے ہمیشہ کیلئے روغنی تصویر میں محفوظ کرلیا۔ا س سحر انگیزتصویر کودیکھ کر کئی افراد نے خود کشی کی۔’’مونالیزا‘‘کے بارے میںہمیں بہت کچھ معلوم بھی ہے اور وقتاًفوقتاًسننے اور پڑھنے کوبھی آتاہے،لیکن ’’مونالیزا‘‘کے خالق Leonardo-de-Vinciکی زندگی سات پردوں کے پیچھے چھپی ہے۔ان کے متعلق بہت کم سننے اورپڑھنے میں آیا ہے۔وہ کہاں پر پیداہوئے ؟کن حالات میں پلے بڑھیَ؟مصوری کے علاوہ ان کے کیاکیاشوق تھے؟اعلیٰ دماغ لیونارڈوکے اورکیاکیاکارنامے ہیںجوانہوں نے اپنے پیچھے چھوڑے ہیں ؟ان سب سوالوں کاجواب اس عظیم مصورکی تصویر کاایک مکمل خاکہ پیش کرتا ہے۔
Leonardo-De -Vinciسن1452عیسوی میں اٹلی میں واقع جمہوریہ فلورینس میں پیدا ہوئے۔وہ اٹلی کے نشاۃ ثانیہ کے عظیم ترین فنکاروں میں سے ایک تھے۔فلورینس اس وقت اٹلی کی تمام جمہوریائوں میں سے سب سے خوشحال جمہوریہ تھی اوروہاں کے حکمران فن کے بڑے دلدادہ اور سرپرست تھے۔اس لئے فلورینس میں مختلف شعبوں کے مشہور ومعروف فنکار آکر بسنے لگے ۔ان ہی دنیا کے تین عظیم فنکاروں نے یہاں سولہویں صدی کے اوائل میں کام کیا اوراپنی عظمت کے نقش ثبت کئے۔اِ ن میں لیونارڈو ڈی ونسی کے علاوہ مائیکل اینگلو اورریفل بھی شامل ہیں۔
جہاں تک لیونارڈوکے بچپن کا تعلق ہے ،اس کاباپ ایک وکیل تھا۔بچپن سے ہی لیونارڈوکو قدرتی نظاروں سے کافی لگائوتھا،اکثروہ اپنی پڑھائی چھوڑ کرقدرتی مناظر کی تصویریں بنانے میں مشغول ہوجاتا۔اُس نے ہر اُس چیزکو کینواس پر اُتارا جو اُس نے دیکھی اوراُسے اچھی لگی۔
کہتے ہیں کہ ایک دن لیونارڈوکے باپ نے اُسے لکڑی کاایک شیلڈ پینٹ کرنے کو کہا،لیونارڈونے ایک دیو کو منہ سے آگ اگلتے ہوئے کینواس پر اُتارا۔تمثیلات کیلئے اُس نے چھپکلیاں ،پتنگے،سانپ اورچمگاڈرجمع کئے ۔ایک دن اُس کاباپ یہ دیکھنے کیلئے کہ لیونارڈوکیا بنارہا ہے ،اُس کے کمرے میں گیا تووہاں قسم قسم کے جانوروں اورشیلڈ پر بنی تصویر کودیکھ کر وہ خوفزدہ ہوا۔لیکن یہی وہ موقعہ تھا جب اُسے احساس ہواکہ اُس کے بیٹے میں خداداد صلاحیت موجود ہے اور اس صلاحیت کواُبھارنے کیلئے اُ س کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔
سن1466عیسوی کی بات ہے لیونارڈو ڈی ونسی اُس وقت کے ایک مشہور مصورAntonio Verrocchioکے پا س اُس کے اسٹیڈیومیں فن مصوری کے پیچ وخم اور باریکیاں سیکھنے کیلئے گئے۔Verrocchioایک باکمال استاد تھے ۔اُس وقت وہ تیس کا سن پار کرچکے تھے ۔لیونارڈوکے علاوہ اُس کے کئی اور شاگرد بعدمیں بہت مشہور ہوئے جن میں BotticalliاورPeriginoکے نام قابل ذکر ہیں۔
لیونارڈو نے وریچیوکی شاگردی میں چھ سال کاعرصہ گزارا۔ا س دوران انہوں نے چاندی،کانسی ،سنگ مرمر،اورلکڑی پر کام کرنا سیکھا۔اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہ تصویروں کیلئے خاکے کیسے بناتے ہیں ۔صحیح معنوں میںیہیں پرلیونارڈوکا فن بلندیوں کی طرف گامزن ہوا۔
جہاں تک معلوم ہوسکا ہے لیونارڈو نے اپنی پہلی تصویریہی پربنائی تھی ۔یہ تصویروریچیوکی’Baptism of Christ‘تھی۔لیونارڈو نے اِس تصویرمیں ایک فرشتے کوبنایاتھا،جبکہ باقی تصویر وریچیو نے بنائی تھی ۔تصویرجب مکمل ہوئی تولیونارڈوکا فرشتے کابنایا ہواپیکر باقی تصویر کے مقابلے میں بے حد خوبصورت نظرآرہاتھا۔کہاجاتا ہے کہ وریچیواپنے شاگرد کے کام سے اتنا متاثر ہوئے کہ انہوں نے مصوری کے فن کوچھوڑ کرسنگ تراشی کے فن کو اپنایا۔لیونارڈو کو اپنے اُستاد سے بہت لگائوتھا،اس لئے جب اُس کی شاگردی کاعرصہ بھی پوراہو ا،اس کے باوجود وہ وریچیوکے پاس ہی رہا۔
سن1472عیسوی میں لیونارڈونے اٹلی کے فنکاروں کی انجمن میں شمولیت اختیار کرلی۔لیونارڈو اُس وقت ایک نوجوان تھا اور اس زمانے کے نوجوان اپنازیادہ تر وقت سیر وتفریح اور سجنے سنورنے میں گزارتے تھے۔ اس کے برعکس لیونارڈواپنا زیادہ تر وقت پڑھائی اورتحقیق میں گزارتے تھے۔انہیں علم ریاضی اور علم جغرافیہ میں بہت دلچسپی تھی ۔اس کے علاوہ وہ فطرت کے ہرپہلو پر غور کرتے رہتے لیونارڈوڈی ونسی ایک بے مثال مصور ہونے کے علاوہ ایک ذہین سائنس دان،قابل انجینئر،منجم،ماہرارضیات اور ماہر تشریح الاعضاء بھی تھے۔ان شعبوں میں جوکارنامے اُس نے انجام دیئے وہ فرانس میں واقعClo's-luceکے مقام پر دیکھے جاسکتے ہیں۔یہیں پر لیونارڈو نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے تھے۔یہاں پر ان کی بنائی ہوئی ڈرائینگ اورSketchsکوModelsکی شکل میں رکھاگیا ہے۔ Clo's-luceکایہ میوزیم ہر سال لاکھوں لوگوں کی توجہ کا مرکزبنتاہے ۔یہاں پر اُ ن کے بنائے ہوئے تقریباًچالیس قلمی Sketchsکو Modelsکی شکل میں دیکھاجاسکتا ہے ۔ان میں پیراشوٹ،ہیلی کاپٹر اور ٹینک کے ماڈل بھی شامل ہیں۔
لیکن اس سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ لیونارڈوکوصرف ہتھیار بنانے کاشوق تھابلکہ بنی نوع انسان کی فلاح بہبود کے کاموں سے بھی اُسے کافی لگائو تھا۔پہلی بار ٹائون پلاننگ کاخیال اسی کے دماغ میں آیا۔اُس کے تصور میں ایسے پلوں کی تعمیر شامل تھی جوپہیوں کی مددسے ایک جگہ سے دوسری جگہ لیجاسکتے ہوں۔
Clo's-luceکے میوزیم میں جب لوگ اُس کے کارناموں خوداپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں توانہیں حیرت ہوتی ہے کہ آخر اس شخص کو وہ عظیم سائنس دان کہیں،یاعظیم انجینئر،عظیم ماہرارضیات کہیں یاعظیم موسیقار،عظیم ڈاکٹر کہیں یاعظیم ماہرریاضی دان ۔اُنہیں یہ چیزبھی حددرجہ حیران کردیتی ہے کہ اس عظیم شخص کو مصوری کیلئے کیسے وقت دستیاب ہوتا تھا۔لیکن شو ق کیلئے وقت کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
سن1482عیسوی کی بات ہے لیونارڈو فلورینس سےMilanچلاگیا۔میلان کادربار بہت طاقتور اورمالدارتھا۔یہاں پرمصور کے بجائے لیونارڈوکو موسیقار اور تہواروںکے منتظم کے طور شہرت ملی۔ان ہی دنوں میلان میں طاعون کی وباء پھیلی ہوئی تھی اور میلان کی تہائی آبادی اس کی بھینٹ چڑھ چکی تھی ۔لیونارڈوکے پاس ٹائون پلاننگ کے نئے نئے منصوبے تھے۔انہوں نے میلان کے Dukeکو اپنے منصوبوں سے آگاہ کیا۔لیونارڈوکی ہمہ جہت شخصیت کے اتنے پہلوتھے کہ وہ خود پریشان ہوگیا کہ وہ کیاکرے اورکہا نہ کرے۔لیکن یہاں بھی وہ مصوری کے فن سے زیادہ دیر دور نہ رہ سکے اورانہوں نے مصوری کاکام پھر سے شروع کردیااوریہیں پر انہوں نے شہرہ آفاق ’’Madonna of the rocks‘‘ بنائی ۔یہ شاہکار نمونہ آج کل لندن کی نیشنل گیلری میں دیکھا جاسکتا ہے۔سن1495عیسو ی سے1497عیسوی تک نے ایک ایسے شاہکار پر کام کیا جس نے انہیں اٹلی کے سب سے بہترین فنکار کی صف میں لاکھڑاکیااوروہ شاہکار تھا،’’The last Supper‘‘۔مصوری کا یہ نمونہ30 فٹ لمبے اور14فٹ چوڑے دیوارپر بنایاگیاجب یہ بے مثال شاہکار بن کرتیار ہواتویہ عیسائی دنیا کی سب سے مشہور تصویر بن گئی ۔فرانس کا بادشاہ اس تصویر کو دیوار سمیت فرانس منتقل کرنے کا متمنی تھالیکن دیوار اس حالت میں نہ تھی کہ اُسے فرانس منتقل کیاجاسکتا۔آج کل مصوری کایہ شاہکار کافی خراب حالت میں موجود ہے۔اس تصویرمیں عیسی مسیح کے آخری طعام کی منظر کشی کی گئی ہے اور اس میں وہ شخص بھی دیکھاجاسکتا ہے جس نے ان کی مخبری کی تھی۔سن1500عیسوی میں لیونارڈو اپنے وطن فلورینس بیس سال کے طویل عرصے کے بعدواپس آگئے ۔اب وہ چالیس سال کے بہت مشہورآدمی بن گئے تھے جن کے پا س نوکر چاکر اوردھن دولت کی کوئی کمی نہیں تھی ۔یہیں پر ان کی زندگی کاوہ عظیم اور پرشکوہ دور شروع ہوا جس کے دوران انہوں نے مصوری کے وہ عظیم نمونے بناکراپنی عظمت کاسامان پیدا کیا۔یہاں لیونارڈکی ملاقات ایک اور عظیم فنکار مائیکل اینگلوسے ہوئی جو اُ س وقت ستائیس سال کاس ایک اُبھرتا ہوامصور اورسنگ تراش تھا۔فلورینس کے بادشاہ نے ان دونوں کو فلورنس کے ٹائون ہال کی دیواروں کو نقش ونگار سے آراستہ کرنے کاحکم دیا۔ان دونوں نے کئی مہینوں میں یہ کام پورا کیا۔اپنے آخری ایام میں لیونارڈونے ایک ایسا شاہکار بنایا جس نے رہتی دنیا تک ان کا نام زندہ جاوید کردیااور یہی ان کی عظمت کی نشانی بنی اور یہ شاہکار ہے،’’Mona-Lisa‘‘۔شاید یہ دنیا کی سب سے قیمتی اورمشہور پینٹنگ ہے ۔ایک زمانے میں اس کی قیمت کاتخمینہ10کروڑ ڈالر لگایا گیا۔اس تصویر کے متعلق ہزاروں کہانیاں اورلاکھوں افسانے مشہور ہیں۔’مونالیزا‘یعنی ایک مسکراتی عورت ایک نواب کی بیوی کی تصویر ہے۔مصوری کے اس شاہکار میں ایک عورت کو مسکراتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور یہی مسکراہٹ اس کی جان ہے۔ایک بار یہ تصویر چرائی گئی تو سارے فرانس میں غم وغصے کی لہردوڑ گئی۔کچھ سال پہلے یہ تصویر امریکہ بھیجی گئی توکروڈوں ڈالر میں اس کا بیمہ کرایاگیاجوبذات خودایک ریکارڈ ہے اور جب وہاں کے میٹروپالیٹن میوزیم میں اس کی نمائش کی گئی تولوگوں کی اتنی تعداد اس کو دیکھنے آئی کہ ہر شخص کو صرف دس سکینڈ کی ایک جھلک دکھائی گئی۔لیونارڈوکے نزدیک مونالیزاکی کتنی اہمیت تھی تواس کااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ تصویر لیونارڈونے آخر وقت تک اپنے پاس رکھی۔1518سن عیسوی میں لیونارڈبیمار پڑگیا اور اس کے داہنے ہاتھ پر فالج کاحملہ ہوا،اورتب اُسے احساس ہواکہ اب اُس کی زندگی کے دن گنے چنے ہیں اوراس نے وصیت کی اوراپنی جائیداداورادھوراکام اپنے شاگرد Melziکے سپردکیا۔2مئی1519سن عیسوی کواس عظیم فنکار کاانتقال ہوا۔ایسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں اوراپنے کارناموں سے صدیوں تک زندہ رہتی ہیں۔