خوش حال و خوش گوار معاشرہ اُسے کہتے ہیں جہاں لوگ امن و سکون اور چین سے زندگی گزارتے ہوںاور جو پوری طرح سے برائیوں سے پاک و صاف ہو۔جہاں لوگ مہذب ہوں ،خوش حال ہوں ،برائی کو برائی سمجھنے والے ہوں۔ہمارا معاشرہ برائیوں سے بھرا پڑا ہے جس سے معاشرہ انتشار اور بکھراؤ کا شکار ہوگیا ہے۔ان برائیوں نے ہمارے نظا م کو کھوکھلا کر رکھا ہے اور معاشرہ تنزل کی راہ پر گامزن ہو گیا ہے۔جھوٹ ،بدگمانی،جاسوسی،مذاق اُڑانا،سود رشوت، سفارش، جہیز، منشیات، ناجائزمنافع خوری، غیبت جیسی برائیوں سے ہمارا معاشرہ بھرا ہوا ہے۔
جھوٹ تمام برائیوں کی جڑ ہے۔جب انسان کو جھوٹ کی لت لگ جاتی ہے ، باقی ساری برائیاں خود بخود ہی جنم لیتی ہے۔ایک جھوٹ کو چھپانے کے لئے سو طرح کے جھوٹ کا سہارا لینا پڑتا ہے نتیجتاً انسان جھوٹ بولنے کا عادی بن جاتا ہے۔جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہے۔اس لئے اس برائی سے بچنے کی ضرورت ہے۔ ؎
جن کی خوشبو سے مہک اٹھے زمانے کی فضا
زندگی کو ایسے ہی پھولوں سے سجانا چاہئے
بدگمانی ایسی برائی ہے جس سے انسان کا سکون چھن جاتا ہے۔بدگمانی یعنی کسی کے بارے میں کوئی ایسی رائے قائم کرنا جو ظاہراً صحیح نہیں ہوتی ہے۔چونکہ آج کل ہم انٹرنیٹ کی دنیا میں رہتے ہیں اور آسانی سے کسی کے بارے میں بھی کوئی بھی بدگمانی پال لیتے ہیں۔بدگمانی کی جڑ منفی سوچ ہے۔جب انسان کی سوچ منفی ہوجاتی ہے تو وہ بدگمانی کا شکار ہو جاتا ہے۔ہمارے مذہب میں ہمیں بدگمانی سے پرہیز کرنے کا سبق دیا گیا ہے۔لہٰذا ہمیں اس سے پرہیز کرنا چاہئے۔انسان جس قدر اپنی سوچ کو مثبت رکھتا ہے اس قدر وہ اس برائی سے بچ جاتا ہے۔لہذا کسی کے بارے میں رائے قائم کرتے ہوئے ہمیشہ مثبت سوچ کا ہی استعمال کرنا چاہئے۔
جاسوسی ایک ایسی بُرائی ہے جس میں آج کل ہر کوئی ملوث نظر آتا ہے۔جاسوسی یعنی دوسروں کی ٹوہ میں لگے رہنا۔کسی کا کوئی عیب معلوم ہو جائے یا کوئی عیب ہاتھ آئے تو ہم اس کو بدنام کرنے میں لگ جاتے ہیں۔حضورﷺ کا ارشاد مبارکہ ہے ’’ جو دنیا میں کسی کے عیب پر پردہ ڈالے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیب پر پردہ ڈالے گا۔اس لئے ہمیشہ عیب جوئی کے بجائے عیب پوشی ہی کرنی چاہئے۔کسی کا مذاق اُڑانا یا طعنہ زنی کرنا بہت زیادہ گناہ ہے۔کیا پتہ جس کا ہم مذاق اُڑا رہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں ہم سے بہتر ہو۔اللہ تعالیٰ کے یہاں نہ ہی شکل دیکھی جاتی ہے اور نہ ہی مال دیکھا جاتا ہے بلکہ اعمال دیکھے جاتے ہیں۔لہٰذا ان سب برائیوں سے ہر وقت بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اسی طرح کی ایک برائی جو ہمارے معاشرے میں ہرجگہ ہر طرف پائی جاتی ،غیبت ہے۔کوئی بھی جگہ نہیں جو اس سے پاک ہو۔ہر محفل ، ہر کالج و سکول ،بازار ،گھر ہر جگہ پائی جاتی ہے۔دو چار آدمی جمع ہوئے تا لگے دوسروں کی برائیاں بیان کرنے خواہ اس میں موجود ہو یا نہ ہو۔اگر موجود ہے بھی تو غیبت اور اگر نہیں تو بہتاں۔دونوں ہی ہمارے معاشرے میں عام پائے جاتے ہیں۔یہ دونوں بہت بڑے جرم ہیں ان دونوں سے اجتناب کرنا چاہئے۔غیبت کرنے والے کی مثال ایسی ہے کہ جیسا اس نے اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھایا ہو۔اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا تو کسی کو گوراہ تو نہیں ہے لیکن غینت کو اتنا مرغوب بنایا ہے کہ پتہ نہیں چلتا ہے کب ہم یہ کام انجام دیتے ہیں۔
سود کا بازار ہر سو ہمارے معاشرے میں گرم ہے ۔کاروبار ہو یا لین دین سود کے بغیر کوئی کام ہوتا نہیں ہے۔سود کھانا حرام ہے۔اسلام نے جہاں سود کو حرام قرار دیا ہے وہاں ساتھ ہی ساتھ اس کے چور دوازے بھی بند کر دئے ہیں تاکہ مسلم معاشرے میں اس کی ذرا بھی آرائش باقی نہ رہنے پائے۔
سودی کاروبار کے ساتھ ساتھ جس برائی نے ہمارے معاشرے میں جڑ پھیلائے ہے وہ رشوت اور سفارش ہے۔جس کی وجہ سے کم ظرف اور نا اہل لوگ اپنے ذر کے بل بوتے پر ایسے ایسے مقامات پر فائز ہوتے ہیں جس کے وہ اہل ہی نہیں ہوتے۔بے مائے وکم ذر اہل حضرات محروم رہتے ہیں۔ ؎
جو گراں تھے سینہ ٔ خاک پر ،وہی بن بیٹھے ہیں معتبر
جنھیں زندگی کا شعور تھا انہیں بے ذر نے مٹا دیا۔
منشیات نے ہمارے معاشرے کو کھوکھلا کرکے رکھا ہے۔ تقریباً 70 فی صد نوجواں اس برائی کا شکار ہے۔چرس ، گانجا، افیون ،تمباکو نوشی وغیرہ جیسی منشیات نے ہمارے معاشرے کو برباد کر کے رکھا ہے۔
جس طرح سود ، رشوت اور منشیات نے ہمارے معاشرے میں اپنے جڑ استور کئے ہیں اسی طرح ایک اور آفت ہے جس نے ہزاروں والدین کی نید اُڑا دی ہے اور ہزار ہا لڑکیوں کے موت کا سبب بن چکا ہے جس سے ہم جہیز کے نام سے جانتے ہیں۔امیر لوگ تو اپنی امیری کی نمائش کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑتے مگر جو بے چارہ اس شکنجے میں پِس جاتا ہے وہ ہے عام اور غریب آدمی ۔جس کی عمر گزر جاتی ہے جہیز کا سامان تیار کرتے کرتے ۔یہ وہ لعنت ہے جس نے زِنا کوسستا اور شادی کو مہنگا کر دیا ہے۔فحاشی کا بازار اس وجہ سے تابناک ہے۔اس کا سد باب تلاش کرنا وقت کا ایک اہم تقاضہ ہے۔
الغرض وہ کوئی برائی نہیں ہیں جو ہمارے معاشرے میں نہ پھیلی ہوئی ہو۔ ان سب سے ایک ہی ذریعہ سے چھٹکارا مل سکتا ہے اور وہ ہے اسلامہ لائحہ عمل ۔کیونکہ یہی ایک بہترین طریقہ ہے جس کی وجہ ان سب برائیوں کا سد باب کیا جاسکتا ہے۔
رابطہ ۔بارہمولہ کشمیر۔khanqurat708@gmail