سڈنی //آسٹریلیا نے اوپنر میتھیو ویڈ (80) اور آل راؤنڈر گلین میکسویل (54) کی شاندار سنچریوں اور لیگ اسپنر مچل سویپسن (23 وکٹ پرتین وکٹ) کی عمدہ گیندبازی کی بدولت آسٹریلیا نے تیسرا اور آخری ٹی 20 مقابلہ منگل کو 12 رنز سے جیت کر ہندوستان کو کلین سوئپ کرنے سے روک دیا ۔ ہندوستان نے سیریز1-2 سے جیت لی۔آسٹریلیا نے 20 اوور میں پانچ وکٹ پر 186 رنز کا چیلنجگ اسکور بنایا جبکہ کپتان وراٹ کوہلی کی 85 رنز کی عمدہ اننگز کے باوجود ہندوستان 20 اوور میں سات وکٹوں پر 174 رنزہی بناسکا۔ آسٹریلیا نے آخری میچ جیت کر ہندوستان کو اسی طرح ٹی 20 سیریز میں کلین سوئپ کرنے سے روک دیا تھا جس طرح ہندوستان نے آسٹریلیا کو آخری ون ڈے میں شکست دے کر ون ڈے سیریز میں کلین سوئپ کرنے سے روکا تھا۔ آسٹریلیا نے ون ڈے سیریز 2-1 سے جیتی تھی۔ اب دونوں ٹیمیں 17 دسمبر سے شروع ہونے والی چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلیں گی۔ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے ہندوستان نے مایوس کن آغاز کیا اور اوپنر لوکیش راہول نے بغیر کھاتہ کھولے گلین میکسویل کی گیند پر اسٹیواسمتھ کو کیچ دے دیا۔ ہندوستان کا پہلا وکٹ دوسری گیند پرہی گرگیا۔ شکھر دھون اور وراٹ نے دوسرے وکٹ کے لئے 74 رن کی شاندار شراکت قائم کی۔لیگ اسپنر مشیل سویپسن نے شکھر کو آؤٹ کرکے شراکت توڑ دی۔ شکھر نے 21 گیندوں پر 28 رنز میں تین چوکے لگائے ۔ سنجو سیمسن نے نو بالز پر بغیر باؤنڈری کے 10 رن بناکر تیسرے وکٹ کے طور پر 97 رن کے اسکور پو آوٹ ہوئے ۔ سویپسن نے سیمسن کا بھی شکار کیا۔ اس کے بعد سویپسن نے شرییس ائیر کو ایل بی ڈبلیو کیا۔ ائیر کا بھی کھاتہ نہیں کھلا اور ہندوستان اپنی چوتھی وکٹ 100 رنز پر گنوا بیٹھا۔وراٹ اور پچھلے میچ کے ہیرو ہاردک پانڈیا نے پانچویں وکٹ کے لئے 44 رنز کا اضافہ کیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ پانڈیا پچھلے میچ کاکارنامہ دہرائیں گے لیکن لیگ اسپنر ایڈم زیمپا نے پانڈیا کو کپتان آرون فنچ کے ہاتھوں کیچ کرادیا۔ پانڈیا نے 13 گیندوں پر 20 رنزبنائے جس میں ایک چوکا اور دوچھکے شامل ہیں۔ہندوستان کی امیدیں اب وراٹ پرمرکوز تھیں لیکن اینڈریو ٹائے نے 19 ویں اوور کی پہلی گیند پر وراٹ کا وکٹ حاصل کرکے ہندوستان کی امیدوں کو توڑدیا۔ وراٹ نے 61 گیندوں پر 85 رن بنائے جس میں ان کے چارچوکے اور تین چھکے شامل ہیں۔ وراٹ کا وکٹ 151 کے اسکور پرگرا۔ واشنگٹن سندر آخری اوور میں سات رن بنا کر شان ایبوٹ کا شکار بنے ۔ شاردال ٹھاکر نے تیسری گیند پر ایک چھکا لگایا لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ ٹھاکر سات گیندوں پر 17 رنز بنانے کے بعد ناٹ آؤٹ رہے ۔ آسٹریلیائی ٹیم کے لئے سویپسن کے تین وکٹوں کے علاوہ میکسویل، ایبوٹ ٹائے اور زیمپا نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ہندوستان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ اس میچ میں باقاعدہ کپتان آرون فنچ آخری الیون میں واپس آئے اور کپتانی سنبھالی لیکن ان کی واپسی خوشگوارثابت نہیں ہوئی اور وہ کھاتہ کھولے بغیر ہی ہاردک پانڈیا کو واشنگٹن سندر کی گیند پر کیچ دے بیٹھے ۔پچھلے میچ کی کپتانی کرنے والے ویڈ نے لگاتار دوسرے میچ میں نصف سنچری بنائی۔ ویڈ نے 53 گیندوں پر 80 رن کی شاندار اننگز میں سات چوکے اور دو چھکے لگائے ۔ ویڈ نے اسٹیون اسمتھ کے ساتھ دوسری وکٹ کے لئے 65 رنز کی شراکت قائم کی۔ اسمتھ نے 23 گیندوں پر 24 رنز میں ایک چوکا لگایا۔ اسمتھ کو سندر نے بولڈ کیا۔اس کے بعد ویڈ نے تیسری وکٹ کے لئے میکسویل کے ساتھ 90 رنز کی عمدہ شراکت قائم کی۔
اوپنر پکوسکی کے سرمیں چوٹ لگی | پہلے ٹیسٹ میں کھیلنا مشکوک
سڈنی //آسٹریلیا اے اور انڈیا اے کے مابین منگل کوڈرا ختم ہوئے تین روزہ پریکٹس میچ میں تیز گیندباز کارتک تیاگی کی گیند آسٹریلیا اے کے سلامی بلے باز ول پکوسکی کے ہیلمیٹ پرلگی جس کے بعد انہیں ریٹائر ہرڈ ہونا پڑا۔ پکوسکی ایک بارپھر سے کنکشن کے شکارہوئے ہیں جس سے ان کا 17دسمبرکوایڈلیڈ میں ہونے والے پہلے ٹیسٹ میں کھیلنا مشکوک نظرآرہاہے ۔پکوسکی کی کنکشن سے متعلق چوٹوں کی پرانی تاریخ رہی ہے ۔ اس بار گیند ہیلمٹ پر لگتے ہی وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے جس کے بعد ان کی آگے کی جانچ کے لیے میڈیکل ٹیم انہیں میدان سے باہر لے گئی۔ حالانکہ سڈنی میدان میں موجود ہنگامی پیرامیڈک ٹیم نے اشارہ دیا کہ یہ چوٹ بہت شدید نہیں ہے ۔ بعد میں یہ بتایا گیا کہ انہیں ہلکا کنکشن تھا اوروہ شاید اگلے پریکٹس میچ کا حصہ نہ بن پائیں۔ پکوسکی نے 39 گیندوں میں 23 رن بنائے اور ریٹائرہرڈ ہوئے ۔سلامی بلے باز دیوڈوارنرکے زخمی ہونے کے بعد ہندوستان اور آسٹریلیا کے درمیان ایڈیلیڈ میں 17 دسمبر سے شروع ہورہے پہلے ٹیسٹ میچ کے لیے پکوسکی ٹیم کے ممکنہ سلامی بلے بازوں میں فہرست میں سب سے آگے چل رہے تھے ۔پکوسکی اس طرح کی چوٹوں کا سامنا اس سے پہلے کیرئر میں آٹھ مرتبہ کرچکے ہیں اور ٹیسٹ ٹیم میں شامل کیے جانے سے قبل انہیں بہت زیادی احتیاط کرنے کی ضرورت ہے ۔یواین آئی۔