ہمیں اللہ نے دنیا میں اشرف المخلوقات بناکر بھیجا ہے یعنی جتنے بھی مخلوق ہیں، جانور ، پرندے ، کیڑے مکوڑے اُن پر اللہ نے ہمیں بڑی فضیلت دی ہے کہ ہمیں شعور،عقل ، مہم ، احساس دیا اور سب سے بڑی بات یہ کہ ہمیں مسلمان گھروں میں پیدا کیا، تاکہ ہمیں دین کی رہنمائی جنم لینے کے فوراً بعد دستیاب ہو۔ اِس میں کچھ شک نہیں کہ ہمارے آباء و اجداد دنیاوی علوم سے زیادہ واقف نہ تھے اور نہ سائنس نے اُس زمانے میں اتنی ترقی کی تھی۔ اس لئے ہماری خوش نصیبی یہ بھی ہے کہ ہم جدید دور کے تقاضوںکو پورا کرنے کے لئے پہلے ہی تیار بیٹھے ہیں اپنے آباء و اجداد کا میں خصوصی طور ذکر اس لئے کر رہا ہوں کہ وہ کم تعلیم یافتہ ضرور تھے مگر اِنسانیت اور دین کی فہم بہت رکھتے تھے ۔ ان کو رشتوں ، پڑوسیوں ، دوست و احباب کا لحاظ تھا۔ اپنے گھر کا نظم و ضبط مستحکم بنانے کے علاوہ وہ اپنے معاشرے، سماج و برادری کا بھی بھر پور خیال رکھتے تھے۔ نتیجہ یہ کہ شرم و حیا، بڑے چھوٹے کی پاسداری ، شفقت و محبت کے علاوہ خلوص نیت کے ساتھ زندگی گزارنا اُن کا شیوہ تھا۔
اُن کے پاس روپیہ پیسہ کم تھا مگر امانت داری ،دیانت داری ، ایمانداری اور بھروسہ کرنے کی خاص صلاحیتیں اُن میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھیں۔ وہ وعدہ کے پکے تھے۔ وعدہ خلافی نہیں کرتے تھے۔اپنے قوم کی آن بان شان کے لئے سر کٹانے کے لئے تیار ہوتے تھے ۔ہمت و حوصلہ کی دولت سے مالا مال تھے۔ کسی بھی مشکل صورتحال میں صبر کا پیمانہ لبریز نہیں ہوتا تھا۔ ایک دوسرے کے لئے پیار ، محبت ، اخوت اور خلوص اُن کا خاصا تھا۔
اُن لوگوں کے مقابلے میں آج کے لوگ کتنے خود غرض ، لالچی اور خود سر ہو گئے ہیں۔ تھوڑی سی دولت ، عہدہ اور اثرو رسوخ آج کے لوگوں کا دماغ خراب کر ڈالتے ہیں۔اُنکو کسی بھی ر شتے کا احترام نہیں یہاں تک کہ بھائی بہن ، ماں باپ و دیگر اقربأ کے ساتھ تبھی رشتہ رکھتے ہیں جب وہ بھی انکے ہم پلہ ہوں ورنہ اُنکی سلام کا جواب بھی نہیں دیتے ۔ حد یہ ہے کہ یہ لوگ ہر دوسرے تیسرے برس ۔ بیت اللہ کا طواف کرنے کے لئے حج اور عمرہ کے فرائض بھی انجام دیتے ہیں بلکہ تمام اہل خانہ کے ساتھ سفر محمود پر روانہ ہوتے ہیں اور صحت و سلامتی کے ساتھ حاجی صاحب کا Titleحاصل کر کے لوٹتے ہیں ۔ پھر اگر کو ئی انہیں خالص اُن کے نام سے بلائے تو خفا ہوتے ہیں کہ بنام کے ساتھ حاجی نہیں جوڑا۔ یہ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ جب میرا ایک معزز پڑوسی اپنی والدہ کو چھوڑ کے اپنی اہلیہ کے ساتھ سفر محمود مکمل کر کے واپس لوٹے تو میں نے اُنہیں اُن کے نام سے بلایا۔ اُنہوں نے خفگی کا اظہار کرتے ہوئے مجھے حاجی صاحب بلانے کی ہدایت دی۔
یہ حال ہے ہمارے معاشرے کا لوگوں کے دل تنگ ہوچکے ہیں، نظروں میں عداوت ، نفرت ، حسد ، بغض اور خود غرضی کے سوا کوئی اور صفت اُن میں موجود نہیں ۔
کسی نے کیا خوب کہا ہے ؎
درد دل کے واسطے پید ا کیا اِنسان کو
ورنہ عطاعت کے لئے کم نہ تھے کروبیاں
مجھے اِس بات کا یقین ہے اور ایمان ہے کہ اگر ہم سب لوگ صحت و تندرستی کی زندگی گزار رہے ہیں یا ہمیں رزق ملتا ہے ، اِس میں ہمارا کوئی کمال نہیں کیوں کہ ہم اس قابل ہی نہیں کہ ہم پر اللہ تبارک تعالیٰ اِتنا مہربان ہو ۔
یہ سب تمہارا کرم ہے آقاﷺ
کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے
اُن کے علاوہ دنیا میں دیگر پاک سیرت اور حقیقی معنوں میں نیک اطوار کے مالک لوگوں کی دعائوں کا ثمرہے ، جو ہمیں رزق کی فراوانی حاصل ہے اور ہم امن و سکون کی زندگی گزار رہے ہیں ساتھ میں اپنے ایل و عیال کے ساتھ آرام و سکون کے ساتھ رہتے ہیں۔
اِس پس منظر میں میری مود بانہ گزارش ہے کہ ہم پہلے اچھے اِنسان بنیں جیسا کہ اللہ تبارک تعالیٰ کا تقاضہ ہے پھرمسلمان ہونے کا دعویٰ کریں کیوں کہ اچھا اِنسان ہی کسی مذہب کی صحیح طریقے پر پیروی کرسکتا ہے ۔ جب ہم اِنسانی صفات سے ہی بے خبر ہوں ، پھر ہم وحشی درندوں سے بدتر زندگی گزار رہے ہیں ۔ اِن حالات میں ہم کیسے قرآن حکیم کی تعلیمات اور رسول پاکؐ کے اسوۂ حسنہ سے استفادہ کرسکتے ہیں ؟ ہمیں نماز ، روزہ، زکوٰۃ و حج سے کیا فائدہ ہوگا؟
ہم پر حقوق اللہ اور حقوق العباد من و عن ادا کرنے کا حکم ہے لیکن عام حالات میں دیکھا گیا ہے کہ ہم حقوق اللہ ادا کرنے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھتے لیکن حقوق العباد مکمل طور پر ادا کرنے رہ جاتے ہیں۔ہم سب پر لازمی ہے کہ ہم دونوں حقوق برابر برابر ادا کرتے ر ہیں تب جاکر ہم اچھے اِنسان ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے مسلمان ثابت ہوں گے ۔
گھر میں والدین و دیگر اقربأ کے ساتھ بدسلوکی کریں اور مسجد شریف میں پہلے صف میں کھڑے ہو کر پانچ وقت باجماعت نماز ادا کریں۔ پڑوسیوں کے ساتھ نفرت، تکبر، حسد و بغض و کینہ رکھیں اور حج بیت اللہ اور عمرہ کی سعادت بار بار حاصل کریں۔
اس صورت حال میں ظاہر ہے کہ ہم کیسے فلاح پائیں ؟بلکہ روزمرہ نازل ہونے والے آفاتِ سماوی میں ہم مبتلا رہتے ہیں۔ طرح طرح کی مہلک بیماریوں کے شکار ہوتے ہیں۔کبھی سیاسی آوارہ گردی اور کبھی موسموں کے تغیر و تبد ل اور کبھی ناگہانی آفتوں جیسے کووِڈ۔19 جیسی وباہمیں گھیر لیتے ہیں ۔ ابھی سیلاب کا خطرہ بھی ہمارے سروں پر منڈ لارہا ہے ۔ پچھلے سیلاب سے ہوئے نقصان کی ابھی برپائی پوری طرح نہیں کر پائے ہیں کہ دوسرے سیلاب سے متعلق خطرے کی گھنٹی بج گئی۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمیں اللہ نے ایک آدمؑ کے اولادوں کے بطور معرض وجود میں لایا۔ اس طرح سے ہم سب بھائی بھائی ہیں ۔ کوئی غیر نہیں ۔ یہاں تک کہ مختلف طبقوں کے مختلف عقیدے ضرور موجود ہیں۔ لوگوں کے تہذیب و تمدن بھی جد اجدا ہوسکتے ہیں، رنگ و نسل بھی الگ الگ ہیں لیکن سب لوگ ایک ہی خدا کی طرف سے تخلیق کردہ آدم ؑ کی اولاد ہیں۔ اگر کوئی شخص دیگر لوگوں سے مختلف اور خاص ہے تو وہ اچھے اخلاق اور پرہیز گاری کو وجہ سے بلند و برتر ہے ورنہ مال و متاع، عہدہ اور اثر و رسوخ کا اُن کے پاس موجود ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا۔
دُنیا میں کتنے لوگ آئے جنہوں نے روپیہ پیسہ و دیگر مال و مسروق اکٹھا کر کے بادشاہت ، حکمرانی اور دنیاوی طور پر اعلیٰ مرتبہ حاصل کیا ۔ آج کہاں ہیں ؟ہر عروج کو زوال ہے۔ لیکن اگر عروج کے دور میں یہ شخص بھرپور انسانیت کا اِظہار کرے، بلا امتیاز رنگ و نسل، مذہب و ملت لوگوں سے پیش آئے تو اُسے رہتی دنیا تک لوگ یاد کرتے ہیں ورنہ اُس کے خاتمے کے بعد اُن کا نام تک لینا لوگ گوارہ نہیں کرتے ۔ بقول شاعر ؎
مٹادے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہیے
کہ دانہ خاک میں مل کر گل و گلزارہوتا ہے
میرا بہرحال اس بات کا تقاضا ہے کہ ہم کم از کم اِنسان بنیں ۔ مسلمان ہونا یا بننا بڑی بات ہے ۔ ہم اِنسانیت کے تقاضے پورے کریں۔اِنسانیت ہمیںپیارو محبت کا درس دیتی ہے ، شفیق و رفیق ہونا سکھاتی ہے، محسن اور احسان کرنے والا بننے کی تاکید کرتا ہے ۔ ایک دوسرے کے کام آنا بالخصوص ضرور ت کے وقت آزمائش کے وقت بغیر کسی لالچ یا خود غرضی کے ضرورت مندوں کی اعانت کرنا۔ مفلس ، بے چاروں ، غریبوں ، ناداروں ، حاجت مندوں ، مفلوک الحال لوگوں ، بزرگوں اور جسمانی طور ناخیز لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کا درس دیتا ہے۔
جہاں تک موجودہ حالات کا تعلق ہے ۔ ہم سب نفسا نفسی کے عالم میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اللہ کا قہر باقاعدگی کے ساتھ نازل ہوا ہے۔ کیا امیر کیا غریب سب پریشان ہیں۔ موت سامنے کھڑی نظر آتی ہے اور وہ بھی ہیبت ناک طریقے پر ۔ کیوں کہ جس وائرس نے پورے عالم کو اپنے لپیٹ میں لیا ہے وہ نہ ذات دیکھتا ہے نہ پات۔ نہ امیر نہ غریب، نہ ہندو نہ مسلمان۔ خوانخواستہ جس کو یہ وائرس لگ جائے، اُس کو اپنی جان بچانا مشکل ہی نہیں ناممکن دکھائی دیتا ہے اور پھر موت کتنی بُری۔ قبرستان بھی ایسے لوگوں کے لئے الگ بنائے جارہے ہیں۔ قبر کی گہرائی 8فٹ سے زیادہ تجویز کی جاتی ہے۔ میت کو اُٹھانے والے اِنتہائی risk سے کام لیتے ہیں۔ اپنے کنبے کے لوگ، رشتہ دار ، پڑوسی و احباب جو اب تک بہت قریب تھے، سبھی ایسے مریض سے کنارہ کرتے ہیں ۔ پھر اگر سرکاری ورکر یا کوئی رضا کار تنظیم دستیاب ہو ، وہی ایسی میت کو کسی گہری جگہ پھینک کر آتے ہیں۔
اس پس منظر میں ہمیں کیا سبق ملتا ہے ؟ وہ بتانے کی ضرورت نہیں بلکہ تمام ذی شعور اور ذی حس لوگ بخوبی سمجھ گئے ہوں گے ۔ ہمیں اپنی جاہ و حشمت ، جوانی، عہدہ داری اور دنیا وی شان و شوکت کو بُھلا کر ںنہتے ، مفلوک الحال ، مفلس ، غریب و دیگر ضرورت مندوں سے رابطہ کرنا چاہیئے اور اُنکی ضرورتیں پوری کرنی چاہئیں۔بصورت دیگر موت آئے گی اچانک سے او ر سارا مال و متاع وارثوںکے ہاتھوں میں چلاجائے گا اور اُن کو جو مرضی وہ آپ کی دولت و جائیدادکے ساتھ کریں گے۔
جناب ۔ کہیں دیر نہ ہوجائے۔
ای میل۔[email protected]