ایک غیر جانبدار ، اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت کا حامل اور معتبر میڈیا قوموں کے لئے ہمالیہ سے بھی زیادہ بڑا محافظ ہوتا ہے جونہ صرف انہیں ہر آفت سے بچاتا ہے بلکہ ان کی سماجی ، تہذیبی ، ثقافتی قدروں کی بھی حفاظت کرتا ہے اور سیاسی بحرانوں کو بھی روکتا ہے ۔ اس ہمالہ کو گرا یا جائے تو کسی بحران ، کسی آفت اور کسی طوفان کو روکنے کی کوئی صورت بھی باقی نہیں رہتی ہے ۔بیدار قومیں اس بات سے واقف ہوتی ہیں، اسی لئے وہ ہر قیمت پر آزاد اور غیر جانبدار میڈیا کی حفاظت ایک ایسی دیوار کی طرح کرتی ہیں جسے گرانا ممکن ہی نہیں ہوتا ۔کشمیری عوام کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ رہی کہ ان میں میڈیا کی آزادی اور غیر جانبداری کی اہمیت کا شعور کبھی پیدا نہیں ہوسکا ۔میڈیا کی آزادی اور غیر جانبداری کی سمجھ ہمیشہ اس حد تک محدود رہی کہ وہ وقت کے عام رحجانات اور جذبوں کی ترجمانی کا حق ادا کرے جبکہ رحجانات اور جذبوں سے زیادہ اہم وہ زمینی حقائق ہوتے ہیں جن کے اندر موجود تضادات انہیںکبھی بھی پلٹ کر رکھ سکتے ہیں ۔ میڈیا کا کام ان حقائق کو سامنے لانا اور ایسے راستے تلاش کرکے سامنے رکھنا ہے جو رحجانات کو مثبت اور جذبوں کو بامقصد بنانے میں رہنمائی کرسکتے ہیں ۔ رحجانات اورجذبوں کے جنون میں خود عوام آزاد اور غیر جانبدار میڈیا کی بنیادیں کھڑی کرنے کی ہر کوشش کی راہ میں رکاوٹ بنے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وقت کی ہر بالادست قوت نے اسے اپنا غلام بنانے میں کافی حد تک کامیابی حاصل کی ۔
مہاراجہ ہری سنگھ کے الحاق کے سمجھوتے پر دستخط کے بعد جب بھارت کی فوج جموں و کشمیر میں داخل ہوگئی اور قبائلیوں کو پیچھے دھکیل دیا گیا تو شیخ محمد عبداللہ ،جو اس وقت کشمیریوں کے دلوں پر راج کرتے تھے ،کو ایڈمنسٹریٹر مقر ر کیا گیا۔ کشمیر کی آبادی کی اکثریت ان کے ساتھ تھی اور وہ الحاق ہند کے حامیوں میں شمار ہوتے تھے ۔وہ کھل کر قبائلی حملے کی مخالفت کرتے تھے اور پاکستان کی تقریباً ہر تقریر میں تنقید کیا کرتے تھے۔تقسیم سے پہلے بھی مسلم لیگ کے ساتھ ان کے اختلافات تھے کیونکہ لیگ ڈوگرہ حکمرانی کیخلاف تحریک آزادی کی اس طرح سے حمایت نہیں کرتی تھی جس طرح سے انڈین نیشنل کانگریس کیا کرتی تھی حالانکہ ڈوگرہ حکمراں ایک غیر مسلم مہاراجہ تھا ۔ مسلم لیگ کی نگاہ میں مسلم کانفرنس کو نیشنل کانفرنس میں کانگریس کے مشورے سے ہی تبدیل کیا گیا تھا اور یہ دوقومی نظرئیے پر پہلی بڑی چوٹ تھی ۔مسلم لیگ نے اس کے بعد اس دھڑے کی حمایت کی جس نے مسلم کانفرنس کا جھنڈا تھا مے رکھا لیکن شیخ محمد عبداللہ کی مقبول قیادت کے سامنے وہ بہت محدود اور کمزور دھڑا رہا ۔ میر واعظ خاندان کے ہاتھ میں اس کی قیادت تھی لیکن عین اس وقت جب بھارت کی فوج کشمیر میں داخل ہوچکی تھی، میر واعظ محمد یوسف شاہ ،جنہوں نے شیخ صاحب کو بھی عوام میں لیڈر کی حیثیت سے متعارف کرایا تھا ،کے پاکستان چلے جانے کے بعد اس دھڑے کی حیثیت اور بھی کمزور ہوگئی ۔پھر بھی سرینگر کے کئی علاقوں میں اس کے حامیوں کی اچھی خاصی تعداد تھی اور دیگر اضلاع میں بھی اس کے حامی کہیں کہیں موجود تھے ۔یہ ڈوگرہ شاہی سے آزادی کی تحریک کے بعد پہلی بڑی نظریاتی تقسیم تھی جسے بعد میں رفتہ رفتہ کافی فروغ ملا۔بخشی غلام محمد نے اس تقسیم کو بڑی چابک دستی کے ساتھ اپنے حق میں استعمال کرکے ٹکرائو کی حد تک پہنچایا ۔ وہ ہر حال میں شیخ صاحب کے سیاسی اثر و رسوخ کو کمزور کرنا چاہتے تھے ،اس لئے میر واعظ کے حامیوں کو شیخ صاحب کے حامیوں کے خلاف ایک قوت بنانا ان کی مجبوری تھی اور میڈیا کو بھی اس کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی ۔
پھر آگے چل کر جب شیخ محمد عبداللہ محاذ رائے شماری کے رہنما بن گئے اور دو قومی نظرئیے کی مخالفت سے دستردار ہوکر وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت مسئلہ کشمیر کے حل کے علمبردار بن گئے ،تب یہ نظریاتی ٹکرائو بے معنی ہوکر شخصی ٹکرائو کی شکل میں جاری ہی نہیں رہا بلکہ اور زیادہ وسعت اختیار کرگیا۔سرائے بالا میں میر واعظ مولوی محمد فاروق کا ایک بہت بڑا حامی غلام محمد سالا ر تھا جس نے ایک روز گائو کدل پُل پراُس وقت خواجہ ثناء اللہ بٹ پر قاتلانہ حملہ کرنے کی کوشش کی جب وہ اپنے گھرسے دفتر کی طرف آرہے تھے ۔ اس حملے میں خواجہ صاحب بال بال بچ گئے ۔وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ خواجہ صاحب نے میر واعظ کے متعلق کچھ لکھا تھا جو ان کے حامیوں کو برا لگا تھا ۔اس کے بعد جب شخصیات کا یہ ٹکرائو عسکری تحریک کے بعد وسیع تر سیاسی اور نظریاتی ٹکرائوکی صورت میں سامنے آیا تو اسی ثناء اللہ بٹ پر ملارٹہ چوک میں، جب وہ اپنی گاڑی میں صورہ میں واقع اپنے گھر کی طرف جارہے تھے، پتھر برداروں کا ایک اور قاتلانہ حملہ ہوا۔اس میں بھی وہ بال بال بچ گئے ۔عسکری تحریک کے عروج میں صوفی غلام محمد نے ایک اداریہ تحریر کیا جس میں انہوں نے بٹہ مالو علاقے کی عسکری تحریک کے لئے اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا کہ یہ علاقہ شہر کے چاروں طرف پھیلے علاقوں کے ساتھ کس طرح جڑا ہوا ہے اور کیسے وہاں سے کسی طرف بھی آسانی کے ساتھ باہر بھی نکلا جاسکتا ہے اور اندر بھی آیا جاسکتا تھا۔ اس پر جنگجو تنظیموں نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خلاف بیان بھی جاری کیا اور انہیں طلب بھی کرلیا ۔ انہیں بعد میں نہ چا ہتے ہوئے بھی معافی مانگنی پڑی۔غلام نبی شیداء نے ’’ وادی کی آواز ‘‘ نام سے ایک اردو رونامہ جاری کیا جس میں ایک مضمون شائع ہوا جو ایک مسلم مخالف مضمون کے جواب میں لکھا گیا تھا ۔ انتہائی تلخ اور ترش زبان کے ساتھ شائع کئے گئے اس مضمون پر شیدا ء صاحب کو جیل ہوئی۔ بعد میں عدالت نے انہیں رہائی دلائی ۔
قابل غور بات یہ ہے کہ خواجہ ثناء اللہ بٹ پر قاتلانہ حملوں کی صرف میر واعظ مخالف دھڑے نے مخالفت کی جبکہ غلام نبی شیداء کی گرفتاری پر ان کی جرات اور ہمت کو ہر طرف سے داد ملی ۔یہ میڈیا کے متعلق عوام کا ایک جانبدارانہ رویہ تھا جس نے میڈیا کی آزادی اور غیر جانبداری پر کافی اثر ڈالاکیونکہ آگے چل کر جذباتی ، مذہبی ، شخصیاتی ، نظریاتی ، اور عسکری دھڑے بندیاں بہت وسعت اختیار کرگئیں اور ان کے درمیان ٹکرائو نے خونریزیوں کی نوعیت اختیار کی ۔عسکری تحریک کے آغاز میں اعظم انقلابی صاحب کا نام عسکری قاید کی حیثیت سے سامنے آیا ۔ انہیں اس سے پہلے ایک شریف النفس انسان اور اعلیٰ پایہ کے دانشور کی حیثیت سے جانا جاتا تھا ۔مقامی صحافی ایک دن اولڈ سیکریٹریٹ کے باہر کسی زیادتی پر احتجاج کرتے ہوئے دھرنے پر بیٹھے تھے کہ صوفی غلام محمد نے ایک خط پڑھ کر سنایا۔ یہ اعظم انقلابی کا ان کے نام خط تھا۔ خط کے ساتھ تین گولیاں بھی تھیں اور خط میں لکھا گیا تھا کہ میں اعظم انقلابی سطح سمندر سے بیس ہزار فٹ کی اونچائی پر بیٹھا مشاہدہ کررہا ہوں۔ آپ کی وساطت سے میں میڈیا کو متنبہ کرتا ہوں کہ اگر وہ موجودہ عسکری تحریک، جو ایک ہمہ گیر اسلامی تحریک کا حصہ ہے، کی بھر پور اور کھلی حمایت کیلئے سامنے نہیں آئے گا، تو یہ تین گولیاں جو میں بھیج رہا ہوں، سینوں کے پار بھی ہوسکتی ہیں ۔حالانکہ اعظم انقلابی نے کبھی کسی کو کوئی گزند نہیں پہنچائی اور جہاں تک بھی ان سے ہوسکا، انہوں نے میڈیا کیخلاف اٹھنے والی آوازوں کیخلاف اکثر و بیشتر بیانات بھی جاری کئے لیکن اس کے باوجو د بھی ان کا خط تاریخ کا ایک حصہ بن چکا ہے اور اسے میڈیا کی آزادی اور غیر جانبداری کا راستہ روکنے کی کوششوں میں شمار کیا جائے گا۔
عسکری تحریک کے بعد کشمیر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ایک ہاٹ سپاٹ بن گیا ۔ دنیا بھر کے میڈیا کی وادی کے ساتھ دلچسپی بڑھنے کے بعد ہر بڑی نیوز ایجنسی اور اخبار نے سرینگر میں اپنے نمایندوں کے علاوہ فوٹو گرافروں اور ویڈیو گرافروں کی بھرتی شروع کردی ۔ کشمیر ی پنڈت جو صحافت کے پیشے پر چھائے ہوئے تھے، وادی چھوڑ چکے تھے۔ اس لئے تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کے لئے مواقع دستیاب ہوئے اور اس کے بعد ہی فوٹو گرافر اور ویڈیو گرافر صحافیوں کے زمرے میں شمار ہونے لگے لیکن جب کریک ڈائونوں ، فورسز کی زیادتیوں ، عسکری معرکوں کی تصویریں بین الاقوامی میڈیا میں شائع اور نشر ہونے لگیں تو دہلی کے ارباب اقتدار کے لئے کئی گھمبیر مسائل پیدا ہوئے ۔ اس کے بعد فوٹو جرنلسٹ ملک دشمنوں میں شمار ہوئے اور ان کی مار پیٹ کے واقعات آئے روز سامنے آنے لگے ۔فورسزکے کئی افسران زیادتیوں پر بھی اتر آئے لیکن کئی افسران نے میڈیا کا وہ اعتماد حاصل کیا جو شاید ہی دنیا میں کہیں بھی کسی فوجی افسر کو حاصل رہا ہو ۔ کشمیر میں ایک میجر پرشوتم میڈیا کا وہ دوست تھا جس نے کبھی بھی کسی خبر یا فوٹو گراف پر کوئی اعتراض نہیں کیا ۔صرف واقعات کے متعلق فوج کے نقطہ نظر کو شائع کرانے تک ہی ان کی دلچسپی محدود رہی ۔وہ ہر مقامی اخبار کے دفتر میں جاتے تھے ۔ اور ہر ادارے کے کنبے کا حصہ بن چکے تھے ۔بادامی باغ کنٹونمنٹ پر عسکریت پسندوں کے حملے کے وقت ان کے دفتر میں کئی صحافی موجود تھے جن کی جانیں بچاتے ہوئے انہوں نے اپنی جان نچھاور کی۔عسکری تنظیموں میں بھی کئی ایسے کمانڈر تھے جو میڈیا کے ساتھ کسی بھی قسم کی زیادتی کے خلاف تھے لیکن وہ چند ایک ہی تھے ۔ مجموعی طور پر ہر سرکار ، ہر عسکری تنظیم ، ہر سیاسی قوت ، ہر دھڑے اور ہر گروہ کی نظر میں مقامی میڈیا غداروں اور دشمنوں کا کردار ادا کررہا ہے کیونکہ وہ کسی کا بھی ترجمان نہیں ہے ۔
آج بیک وقت ایک مقامی اخبار کیخلاف سوشل میڈیا پر دھمکیو ں کی بھرمار ہورہی ہے اور سرکار کی طرف سے بھی اسی پر عتاب نازل ہورہا ہے۔آج بھی ایسے اخباروں کو کھڑا کرنے کی کوشش ہورہی ہے جو سرکارکی ترجمانی میں بہت دور تک جاسکیں ۔عوام کا ہر طبقہ آج بھی میڈیا کو اپنی نظر سے دیکھنا اور پرکھنا چاہتا ہے اور اسے کوئی بھی میڈیا ادارہ خالص اپنے جذبات کا ترجمان نظر نہیں آتا ۔میڈیا میں ایسے افراد کی اب بھرمار ہے جو صرف اور صرف دولت کمانے کی تگ و دو میں مصروف ہیں اور ہر برسر اقتدار قوت کا اعتماد حاصل کرکے سرکاری اشتہارات حاصل کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں ۔ بااعتبار اور معیاری میڈیا کی کہیںبھی حوصلہ افزائی نہیں ہورہی ہے ۔نتیجہ یہ ہے کہ حقیقی میڈیا کی جگہ ایک مصنوعی میڈیا فروغ حاصل کررہا ہے جو ملک ، ریاست ، سماج ، قوم اور دانش کیلئے بہت ہی خطرناک ہے ۔