حالیہ عرصہ میں عرب دنیا سے متعلق کئی واقعات اور امریکہ میں قیادت کی تبدیلی نے عرب دنیا اور مغرب کے درمیان تعلقات کے محاذ پر نئے اتحاد اور شیرازہ بندی کی راہ ہموار کی ہے۔ ایسی ہی تبدیلیوںکا ایک نتیجہ فلسطینیوں کے بقیہ عرب دنیا خاص طور سے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات ہیں۔ حال ہی میں سعودی شہزادہ پرنس بندر بن سلطان بن عبدالعزیز نے العربیہ ٹیلی ویژن پر نشر کئے گئے اپنے انٹرویو کے دوران فلسطینی حکام کی غیر معمولی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور اس کے شہری فلسطینیوں کو احسان فراموش تصور کرتے ہیں ۔ انٹرویو کے دوران پرنس نے جو امریکہ میں سعودی عرب کے سابق سفیر بھی رہ چکے ہیں کہا کہ فلسطینی کاز ایک سچا مقصد ہے لیکن اس کی وکالت کرنے والے ناکام ہورہے ہیں جب کہ اسرائیلی کاز غیرمنصفانہ اور مجرمانہ ہے لیکن اس کی وکالت کرنے والے کامیاب ثابت ہورہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ فلسطینی حکام عرب مخالف ایران اور ترکی کے ساتھ قربتیں بڑھا رہے ہیں اور انہیں متحدہ عرب امارات اور بحرین کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے لئے موردالزام ٹہرانے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے فلسطینیوں پر سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کے تئیں احسان فراموشی اور وفاداری کے فقدان کا بھی الزام عائد کیا جو کئی دہوں سے ان کی مدد کررہے ہیں۔
انٹرویو میں جس طرح کے خیالات کا اظہار کیا گیا ہے ان سے عرب دنیا پر نظر رکھنے والے سیاسی محققین ، مبصرین اور کالم نگاروں کو فلسطینیوں اور ان کی قیادت اور خاص طور سے فلسطینی اتھارٹی (پی اے ) کو کنٹرول کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بنانے کا موقع مل گیا ہے۔ کئی ایک نے پرنس بندر بن عبدالعزیز کی فلسطینیوں پر تنقید کی تائید کی ہے۔ کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک نئی فلسطینی قیادت کے آگے آنے کا وقت آگیا ہے جو عوام کے مفادات کو ترجیح دے نہ کہ عرب ممالک اور مغرب کی جانب سے انہیں بھیجی جانے والی مالیاتی امداد سے اپنی جیبیں بھرے۔ سعودی عرب کے سیاسی مبصر عبدالرحمن الملحم نے الیوم اخبار میں لکھے گئے اپنے مضمون میں رائے ظاہر کی کہ فلسطینی قیادت فلسطینی عوام کو بھیجی جانے والی امداد کا سرقہ کرکے واشنگٹن ، پیرس اور لندن میں محلات تعمیر کرتی ہے اورفلسطینی عوام کی پریشانیوں کو نظرانداز کرتی ہے۔
سعودی محقق اور کالم نگار الشقرین نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کو یہ باور کرانا ہوگا کہ سینکڑوں اربوں ڈالر کی رقم جو ان کے قائدین سعودی عرب سے اپنے کاز کی تائید کے لئے وصول کرتے رہے ہیں ان سے فلسطین میں کئی بڑے شہر تعمیر کئے جاسکتے تھے۔ الشقرین نے کہا کہ اس کے بجائے فلسطینی قائدین نے اس رقم کا استعمال نجی طیارے اور یورپ و امریکہ میں شاندار عمارتیں خریدنے میں کیا۔ فلسطینی قیادت کے خلاف اس طرح کے ردعمل کو مختصر طور پر اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ سوچ میں تیزی سے تبدیلی آرہی ہے اور حقیقت میں جہاں تک سعودی عرب کا تعلق ہے فلسطینی ان سے دور ہورہے ہیں۔ حقیقت میں انھیں بیدار ہوکر یہ سمجھنا چاہیے کہ پوری دنیا بشمول عرب دنیا میں حالات بہت تیزی کے ساتھ تبدیل ہورہے ہیں اور نئی عبارتیں رقم ہورہی ہیں۔
العطیبی ان عرب مبصرین میں سے ایک ہیں جنہوں نے حال ہی میں عرب ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ معاملہ اپنے ہاتھوں میں لے لیں اور اسرائیل ۔ عرب تنازعہ کو حل کرنے کی اپنے طور پر کوشش کریں اور اس میں فلسطین کی بدعنوان اور ناکام قیادت کو شامل نہ کریں۔ یہ وہ مطالبہ ہے جو گذشتہ چند دہوں میں کوئی عرب کرنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ماننے والے عربوں میں اضافہ ہورہا ہے کہ عرب ۔ اسرائیل تنازعہ کا حل اس وقت تک نہیں نکل سکتا جب تک فلسطین کی موجودہ قیادت اقتدار میں ہے۔
سعودی سیاسی مبصر فہیم الحامد نے لکھا ہے کہ گذشتہ کئی دہوں سے فلسطینیوں نے اسرائیل کے ساتھ اپنے تنازعہ کا حل تلاش کرنے کے کئی مواقع کھودیئے ہیں۔ انہوں نے مغربی کنارہ میں برسراقتدار فتح گروپ اور غزہ پٹی میں حماس کے درمیان اقتدار کی جدوجہد کا حوالہ دیا۔ الحامد نے الزام عائد کیا کہ دونوں فریقین فلسطین کے مسئلہ میں سودے بازی کررہے ہیں۔ عالمی ایوارڈ یافتہ صحافی خالد ابوتوما کے مطابق فلسطینی قیادت ایسا لگتا ہے کہ پرنس بندر کے سنگین الزامات کا جواب دینے سے خوف کھارہی ہے۔ ان قائدین نے پرنس اور دیگر سعودیوں کی جانب سے کی گئی تنقید کے خلاف احتجاج میں سعودی پرچموں کو نذرآتش کرنے کے لئے اپنے لوگوںکو سڑکوں پر نہیں بھیجا۔ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور ان کے عہدیدار اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ متحدہ عرب امارات یا بحرین کے برخلاف سعودی عرب ایک طاقتور ملک ہے ۔ وہ جانتے ہیں کہ سعودی عرب کی تائید سے محرومی کا مطلب دیگر عرب ممالک کی تائید سے محرومی حاصل کرنا ہے جو سعودی عرب کے قریبی ساتھی ہیں۔
اسی دوران جنیوا میں موجود یوروپ ۔ بحر روم انسانی حقوق کی نگران کار ، نوجوانوں کی زیر قیادت ایک آزادانہ تنظیم نے جو یورپ اور مشرق وسطی ا نسانی حقوق کی وکالت کرتی ہے ، کہا کہ اس نے سعودی عہدیداروں کی جانب سے حال ہی میں گرفتار کئے گئے 60 فلسطینیوں کے ناموں کی ایک فہرست مرتب کی ہے،لیکن فلسطینی اتھارٹی نے اپنی حالیہ بات چیت میں سعودی عرب کے عہدیداروں سے اس معاملہ کا ایک مرتبہ بھی ذکر نہیں کیا۔ عرب ممالک میں کئی لوگ اب یہ کہہ رہے ہیں کہ فلسطینیوں کو اپنے ذاتی مفادات پر توجہ دینے اور اپنے بچوں کے لئے بہتر مستقبل تعمیر کرنے کے بارے میں سوچنا شروع کردینا چاہئے۔ ایسا لگتا ہے کہ عرب دنیا فلسطینیوں سے یہ کہنا چاہ رہی ہے کہ’’ ہم آگے جانا چاہتے ہیں ، آپ جتنا چاہیں پیچھے جاسکتے ہیں۔‘‘
سوشیل میڈیا پر چند عرب قلم کاروں اور صحافیوں نے فلسطینیوں پر مجوزہ امن معاہدے کی مخالفت کرنے کی بنا پر بھی اپنے غصہ کااظہار کیا ہے۔واضح رہے کہ امریکی انتظامیہ نے ابھی تک ’’ صدی کا معاہدہ ‘‘ کا اعلان یا اس کی تفصیلات عام نہیں کی ہیں۔ انہوں نے فلسطینیوں پر بے شمار مواقع کھونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ صدی کا معاہدہ فلسطینیوں کے لئے ایک مملکت کے حصول کا بہترین اور آخری موقع ہوگا۔مجموعی طور پر ایسا لگتا ہے کہ فلسطینیوں پرعرب دنیا کی تنقیدبعض غلط فہمیوں کا نتیجہ ہے۔اکثر عرب ممالک کا ماننا ہے کہ گزشتہ 70برسوں میں جس طریقے سے انھوں نے فلسطینی حکام اور عوام کی مدد کی ہے اس کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔ بلکہ فلسطینی حکام احسان فراموشی کے مرتکب ہوئے ہیں۔چند برس پہلے تک عرب دنیا میں صرف مصر ہی فلسطینیو ںکے خلاف مہم چلانے والا ملک تھا۔اب ایسا گمان ہوتا ہے کہ اب سعودی عرب کی باری ہے کہ وہ فلسطینیو ںکو آئینہ دکھائے۔ علاوہ ازیں اس طرح کی تنقید صرف سعودی عرب سے ہی نہیں آرہی ہیں بلکہ دیگر عرب ،خلیجی اورمسلم ممالک کی جانب سے بھی آرہی ہے۔ مجموعی طور پر سعودی عرب کے ذرائع ابلاغ کی جانب سے فلسطینیوں کی تنقید کو یو اے ای اور بحرین کی طرح اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے لئے راہ ہموار کرنے کی ایک سعودی کوشش کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ ان حالات میں ایسا لگتا ہے کہ فلسطینی قیادت کو فلسطینی کاز کے لئے مکمل پابند عہد دکھائی دینے کے لئے محتاط رہنا ہوگا اور عام فلسطینیوں کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لئے نئے منصوبے بنانے ہوں گے۔ اس کے حصول کے لیے انہیں اپنے چند مطالبات میں نرمی بھی لانا ہوگی تاکہ ایک ایسی بنیاد رکھی جاسکے جس پر نئی فلسطینی عمارت تعمیر ہوسکے، بصورت دیگر فلسطینی تحریک دم توڑدے گی اورصرف فلسطینی عوام ہی نہیں بلکہ بے شمار مسلمان وہ حاصل نہیں کرپائیں گے جو حاصل کرنا ان کا مقصد تھا۔
(مضمون نگارسینئر سیاسی تجزیہ نگار ہیں ۔ ماضی میں وہ بی بی سی اردو سروس اور خلیج ٹائمز ،دبئی سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں۔)
ای میل۔[email protected]