دینی علوم کا ایک باب گزشتہ دنوں اس وقت ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا جب جنوبی کشمیر کے سب ضلع ترال سے تعلق رکھنے والا جید عالم دین مولانا نور احمد ترالی داعی اجل کو لبیک کہہ کرخالق حقیقی سے جا ملے۔یہ خبر اگر چہ مرحوم کے چاہنے والوں کے لئے ناقابل برداشت تھی مگر قانون قدرت یہی ہے کہ موت کا ذائقہ ہر نفس کوچکھنا ہے۔مرحوم کی دین کے تئیںخدمات نہ صرف ناقابل فراموش ہیں بلکہ اس کانعم البدل بھی نا ممکن ہے۔مرحوم اپنے آپ میں علم کاایک باب تھے ۔
مولانانور احمد ترالی نے اپریل 1942ء میںاپنے ننہال ترال بالا میں جنم لیا ہے۔والدین کا پہلا بچہ ہونے کی وجہ سے کافی لاڈ پیار سے پالا گیا۔مولانا نورالدین ترالی ؒ کی سخت ریاضت اوروعظ نصیحت کی مجالس کا اثر آپ پر کافی حد تک پڑا ۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ تعلیم اسلام ترال سے حاصل کی ہے اور1961ء میںوالد صاحب نے مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے مدینہ العلوم حضرت بل سرینگر بھیجاجہاں انہوں نے مولوی فاضل کی ڈگی حاصل کی اور مولاناعبد الکریم کی صحبت میں رہے۔1966ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا…(آئینہ ترال)۔مولانا سال 1968 میںمحکمہ تعلیم میں بطور مدرس تعینات ہوئے جس دران ان کی پہلی پوسٹنگ خطہ چناب کے کھڑی بانہال میں ہوئی ۔گھر میں علمی ماحول اوردل میں دینی علوم پھیلانے اور دین کی خدمت کرنے کا جو جذبہ ان کے دل میںموجود تھا ،اُس نے انہیں سکون سے بیٹھنے نہیں دیا۔وہ وہاں بھی اپنی نوکری کے فرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ دینی خدمات سے جڑے رہے اور بانہال میںوعظ و تبلیغ کرتے رہے۔علاقے میں وعظ و تبلیغ سے متاثرہو کر یہاں کے کچھ ذی عزت اور دین پسند لوگوں نے یہاں ایک دارلعلوم قائم کیا جہاں مولانا اکثروبیشتر سالانہ اجتماعات میں بطور مہمانِ خاص موجود رہتے تھے ۔جبکہ علاقے سے تعلق رکھنے والے وہاں کے متعدد بچیوں نے دارلعلوم نور االسلام ترال میں دینی تعلیم حاصل کرنے کیلئے داخلہ لیااور آج تک بھی مذکورہ علاقے کے بچے شوق سے یہاں دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے آتے ہیں ۔
نور احمد ترالی مرحوم بانہال میں تعیناتی کے کئی سال بعداپنے آبائی علاقہ ترال واپس تبدیل ہوئے جہاں وہ سنٹرل سکول ترال میں درس و تدریس کے کام کے ساتھ وابستہ ہوئے۔مذکورہ تعلیمی ادارے سے انہیں ایک اور تعلیمی ادارہ جو ترال پائین میں واقع تھا، تبدیل کیا گیا اور یہاں کچھ مدت تک تعینات رہنے کے بعد1973میں والد مرحوم کے اصرارپر نوکری کوخیرباد کہہ دیا ۔ مدرسہ تعلیم اسلام ترال میںوالدکے عہدے پر کام کرتے رہے ۔ ایک سابق استاد نے بتایاکہ مرحوم نے انہیںایک بار انہیں بتایاکہ سرکاری نوکری کو خیر باد کہنے کی کئی وجوہات تھیںجن میںایک وجہ یہ تھی کہ جودینی علم جو میرے پاس تھا، اس کوسرکاری نوکری میں رہ کر اس مقام تک نہیں پہنچا سکتا ہے جس مقام تک میں مجھے اس کو پہنچانے کا شوق تھا اوردوسری وجہ ان کے والد مولانانور الدین قاسمی ؒکااصرار تھا۔
سال2002ء میں مولانا نے والد کی وفات کے نو سال بعد دار لعلوم نورالاسلام ترال کا قیام عمل میں لایااور آپ اس کے مہتمم مقرر ہوئے۔2013میںہائر سکنڈری سکول بجونی ترال اور اسلامیہ اورینٹل کالج خواتین کے لئے شروعات آپ کی سربراہی میں ہی ہوئی۔مذکورہ اداروں کا بطور پرنسپل یا مہتمم رہنے کے دوران ان اداروںنے شاندار کار کردگی کا مظاہرہ کیا اور ان تعلیمی اداروں کی شہرت آسمان کو چھونے لگی جس کا ثبوت ادارے سے منسلک سکولوں کی تعدارکم وقت میں64 تک پہنچ جانا ہے،جہاں سینکڑوں کی تعداد میں بچے زیر تعلیم ہیں ۔مرحوم کی زیر نگرانی چلنے والے ادارے مدرسہ تعلیم الاسلام ،اسلامیہ اورینٹل کالج،کڈس کیئر،جامعۃ البنات چلتے رہے ہیں جنہوں نے جموں و کشمیر کے کونے کونے سے تعلق رکھنے والے خواہش مند طلباء کو علم کے زیور سے آراستہ کیا۔دارلعلوم اور جامعۃ البنات میں رہائش کا بھی معقول انتظام کیا گیا ہے ۔ بیشترنوجوانوں کو دینی علوم حاصل کرنے کے بعد روز گار کے حوالے سے جو پریشانی آتی تھی، اس کا اندازہ مولاناکو تھا،اسی لئے انہوں نے دار العلوم میں دینی علوم کے ساتھ ساتھ مروجہ تعلیم فراہم کرنے کا بھی انتظام کیاتھا جہاں ایک حافظ یا عالم بننے کے بعد ایم اے یا گریجویشن کی ڈگری بھی حاصل ہوتی ہے جو کشمیر یونیورسٹی سے تسلیم شدہ ہے جبکہ لور ڈگریاں باقی بورڑ آف سکول ایجو کیشن سے تسلیم شدہ ہیں ۔مدرسہ تعلیم الاسلام ترال کا ترال میںمعیاری تعلیم فراہم کرنے میں ایک عظیم کردار رہا ہے جبکہ درجنوں سرکاری و غیر سرکاری محکموں میں ملازمین یا افسران کی ایک خاصی تعداد اسی دارے سے فارغ ہیں ۔
والد محترم مولانا نورالدین ترالی ؒکی حیاتی میں نور احمد ترالی وعظ و تبلیغ انجام دیتے تھے تاہم والد کی وفات کے بعد1993سے تاحال اپنے والد کے مشن کی وہ آبیاری کرتے رہے ۔مولانا نے دینی خدمات خاص کر وعظ و تبلیغ کا جو کام کیا ہے وہ بے مثال تھا ۔والد محترم کی وفات کے بعد جب سے والد کی جگہ مولانا نور احمد ترالی نے وعظ و تبلیغ شروع کی تولوگ خاص کر نوجوانوں میں دین کی طرف زیادہ دلچسپی بڑھنے لگی ہے۔نور احمد ترالی کے وعظ میں ایک اثر تھا جہاں سامعین دن بھر مسجد میں بیٹھنے کے باجود تنگ نہیں آتے تھے۔وہ ہر بات کو ایک مثال کے ساتھ سلیس انداز میں سمجھاتے تھے۔ دوران تبلیغ ان کا مسکراتا چہرہ سامعین و حاضرین کو اُن کی جانب متوجہ کرکے رکھتا تھا۔ علامہ اقبالؒ کے ساتھ ساتھ فارسی اور کشمیری شعر خاص طورپر استعمال کرتے تھے۔ جہاں سے بھی گزرتے تھے تو ہر کسی کی نظریںاحتراماً جھک جاتی تھیں۔
معروف صحافی خورشید وانی کہتے ہیں’’مولانا نور احمد ترالی کا فن خطابت موثر اور یکتا تھا۔ قرآن و حدیث کی تشریح کے دوران مولانا روم، علامہ اقبال اور شیخ نور الدین نورانی کے اشعار کا بروقت استعمال انکے تبحر علم کا آئینہ دار تھا۔ وہ بے باکی کے ساتھ کشمیر کے حالات کے پس منظر میں عالموں اور عوام کے رول پر بات کرتے تھے۔ جب کبھی بھی انکا خطبہ جمعہ یا عیدین سننے کا موقعہ ملا تو ذہن کے دریچے وا ہوئے۔نور احمد مرحوم ، گزشتہ صدی کے ولی کامل حضرت مولانا نور الدین ترالی کے فرزند تھے لہٰذا انہیں علم و حلم، فصاحت و بلاغت اور تدبر و حکمت ورثے میں ملی تھی۔ مجھے دور دور تک انکی سطح کا کوئی دینی عالم۔نظر نہیں آتا جنہیں عوام میں اتنی قبولیت حاصل ہو۔‘‘مولانا میں ایک خوبی یہ تھی کہ وہ سیاست یا تفرق میں یقین نہیں رکھتے تھے۔ ان کی مسجد میں ہر کسی مسلک کا انسان نماز شوق سے ادا کرتاتھا۔ انہوں نے ہمیشہ مسلم امہ کی یکجہتی کے لئے کام کیا ۔ مرحوم حالات کے نشیب و فراز کے باجود اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹے جس دوران انہیں طرح طرح کے مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ مسجد شریف کے احاطے میں کھڑے ایک نوجوان نے بتایاکہ وہ ہر سال تیس کلو میٹر دور رہنے کے باجود شب قدراسی مسجد شریف میں گزارتے تھے جہاں کسی بھی سنگ دل انسان کا دل موم بنتا تھا اور ا نسان کو اس بات کا تسکین ہوتا تھا کہ اسکی دعا قبول ہوئی۔
ترال ایک ایسا علاقہ ہے جہاں مختلف مذاہب کے لوگ رہتے ہیں۔نور احمد ترالیؒ مرحوم کو علاقے کا ہر ایک انسان چاہے ،وہ کسی بھی مکتبہ فکر ، فرقے ، مذہب سے کیوں نہ ہو،عزت کی نگاہ سے دیکھتاتھا ۔علاقے میںاگر کبھی غیر مسلموں ،جو یہاں اقلیت میں رہتے ہیں، کو کوئی مسئلہ درپیش آتا ، تو وہ فوری طور مولانا کے ساتھ رابطہ قائم کرتے تھے اور ان کے فیصلے کو تسلیم کرتے تھے حتیٰ کئی بار ان اقلیتوں کے حقوق پر بھی وہ جمعہ کے روز تبلیغ فرماتے تھے ۔جب جب علاقے میں شر پسندوں نے اقلیتی فرقے کو پریشان کرنے کی کوشش کی تو مولانا نور احمد ترالی از خود لوگوں اورخاص کر نوجوانوں کو ان کی حفاظت کیلئے اقدام اٹھانے کی صلاح دیتے تھے ۔مرحوم کی وفات کے بعد سکھ اور پنڈت برادی کے لوگ بھی پر نم آنکھوں سے انہیں الوداع کہہ رہے تھے ۔جنازہ گاہ میں موجود اوجل سنگھ نامی ایک سکھ نے بتایا کہ مشکلات کے باجود مرحوم نے اقلیتوں کے لئے جو کام کیااور اقلیتوں کے لئے جو قربانیا پیش کیں،اُنہیں وہ کبھی فراموش نہیں کر سکتے ہیں ۔گزشتہ جمعہ کو جب مولانا کی میت کو قبرستان کی طرف لے جایاجارہا تھا توہر محلے اور ہر گھرکے اندر خواتین رو رہی تھیں اور پورا علاقہ سوگوار تھا ۔گوکہ سوگواریت ابھی باقی ہے تاہم کاروبارِ زندگی چلتا رہتا ہے لیکن اب ترال کی فضاء مزید ایسی نہیں رہے گی اور جو خلاء پیدا ہوچکا ہے ،اُس کو پُر کرنا محال ہی نظر آرہا ہے تاہم اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مرحوم کو جنت نصیب کرنے کے علاوہ علاقہ ترال کو اس صدمہ جانکاہ کا بہترین نعم البدل عطا فرمائے۔آمین
مضمون نگار کا تعلق ناگہ بل ترال سے ہے اور آپ روز نامہ کشمیر عظمیٰ کے ضلعی نامہ نگار برائے ضلع پلوامہ ہیں
رابطہ ۔9596302379،[email protected]