چانہ رتہ چھپہ نیرء تر از یا پگاہ چمنس اندر
دیدہ ور بے خوف وڈر بییہ آسہ توشان غم مہ بر
ہاں! آپ نے اچھی طرح سے پہچانا کہ یہ شعر بزرگ استاد، قلمکار اور محقق عبدالاحد فیاضؔ کا ہے۔وسطی ضلع بڈگام کے قصبہ ماگام کے بغل میں نالہ سکھ ناگ کے کنارے ایک پسماندہ گائوں ہانجی بگ کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے عبدالاحد فیاض ؔ کا شمار وادی ٔ گلپوش کے نامور ادیبوں ،قلم کاروں اور ماہرین تعلیم میں ہوتا ہے۔ آپ خوش اخلاق، خوش لحن، خوش گفتار اور مہمان نوازی میں مشہورعصر حاضر کے شاعر ہیں۔ آپ کی تخلیقات کا مطالعہ کرنے سے انسان کو ان کی علمی سطح کے بارے میں پتہ چلتا ہے۔ آپ نے اپنی تخلیقات میں انسان کا کرْب واضح کیا ہے اور اس کرب کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا راستہ بھی دکھایا ہے۔ آپ کی نظروں میں انسانیت سے بڑھ کر کوئی چیز معنی نہیں رکھتی۔ اسی لئے انہوں نے ڈاکٹر اقبال کی طرح انسان کی اندرونی خودی کو جگانے کی پوری کوشش کی ہے اور اس کوشش میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔
شاعری کے صنف میں انہوں نے باطل نظروں کو للکارا ہے اور انسان کو شیطانی وسوسوں سے دور رہنے کی تلقین بھی کی ہے۔ بحیثیت استاد آپ نے علاقہ ماگام، بیروہ اور کھاگ کے ہزاروں نوجوانوںکو تعلیم کے نور سے آراستہ تو کیا ہی مگر بحیثیت ایک خطیب بھی آپ نے بہت سارے لوگوں کودین مبین کی جانب راغب کیا۔ یہی وجہ ہے کہ فیاض صاحب اس علاقے کے جانے پہچانے عالموں میں بھی شمار ہوتے ہیں اور اس علاقے کے چہیتے خطیبوں میں بھی ان کا شمار ہورہا ہے۔ اگرچہ بزرگی اور جسمانی صحت ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے آپ اس وقت تبلیغ دین کرنے سے قاصر ہیں مگر پھر بھی آپ کے خطبات ہمارے ہاں "خطبات فیاض" کی صورت میں موجود ہیں اور قاری کو ایسا محسوس ہورہا ہے کہ وہ کتاب کا مطالعہ نہیں کررہا ہے بلکہ فیاض صاحب منبرنبویؐ پر رونق افروز خطبہ پیش کررہے ہیں اور وہ سامعین میں بیٹھا سن رہا ہے۔
واہ! کیا کتاب ہے۔ الفاظ سیدھے سادھے، عام فہم زبان، اور پْرمغز گفتگو… ایک ایک خطبہ کا مطالعہ کرنے سے علم کے نئے نئے دروازے وا ہو جاتے ہیں۔ خطبات اس کتاب میں اس طرح سجائے گئے ہیں کہ چاندی کے برتن میں دْردانوں کو سجایا گیا ہے اور قاری اس برتن سے ایک ایک در دانہ کو نکال کر بازار حْسن میں سے نکلتا ہے اور اس دْر کو سبھی خریدنے کے مشتاق ہیں مگر قیمت چْکانے سے قاصر ہیں کیونکہ یہ دُر بیش قیمت ہے ۔یا یہ کہا جائے کہ اس کتاب میں صرف دُر شہوار بھرے ہیں اور ان دُروں کو صرف ایک علمی شخصیت ہی پرکھ اورسمجھ سکتی ہے۔
بحیثیت زونل ایجوکیشن آفیسر فیاض صاحب نے اپنے ماتحتوں کو کبھی محسوس ہونے نہ دیا کہ وہ کوئی آفیسرہیں بلکہ اپنے ماتحتوں کے ساتھ اپنے فرزندان کی طرح پیار و محبت سے پیش آتے تھے اور ان کے اوپر اپنا دست شفقت رکھ کر ان کی تربیت اور رہنمائی کرتے تھے اور کامیابی کا راستہ دکھاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ نرم طبیعت کے اس پیکرکی اس علاقے کے بڑے بڑے اکابر و معلم عزت کرتے ہیں اور سبھی چھوٹے بڑے پیار و محبت کی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ آپ کی ندامت، خود داری، انسان دوستی، اور غریبوں کے ساتھ ہمدردی دیکھ کر لوگ ان پر ناز کرتے ہیں۔
فیاض صاحب بحیثیت ڈراما نویس بھی ریڈیو اور ٹی وی کی دنیا میں مشہور ہوئے ہیں اور ان کے ڈراموں کے خاصے چرچے ہوئے۔ خاص کر ان کا ایک ڈراما"زادراہ"مقبول عام ہوا اور عوامی سطح پر اس کو کافی پزیرائی حاصل ہوئی اور اس پر ان کو ملکی سطح پر دوسری پوزیشن کا ایوارڈ حاصل ہو۔ااس کے علاوہ آپ کی بہت ساری تصانیف شائع ہو چکی ہیں جن میں "ڈالیٔ، خطبات فیاض، ناگہ راد، نْورہ منزْل،اور غزلوں کا مجموعہ’ذکر جہر‘ قابلِ ذکر ہیں۔ فیاض صاحب کو ہر صنف سخن خاص طور سے ڈراما نویسی، غزل گوئی اور نعت گوئی پر کافی دسترس حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ آپ نے ہر فن میں طبع آزمائی کی ہے۔
فیاض صاحب کا حمد و نعت کا پیش کرنے کا انداز بھی کافی نرالا ہے اور انہوں نے اس صنف پر اس طرح سے خامہ فرسائی کی کہ پڑھنے اور سننے والے کی آنکھوں سے بے ساختہ آنسوں نکل آتے ہیں۔ آپ نعتوں کو الفاظ سے اس طرح آراستہ کرتے ہیں کہ عام لوگ بھی آپ کے نعتوں کو گنگناتے ہیں۔ آپ کے پاس الفاظ کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ہے اسی وجہ سے نعت گوئی میں بھی آپ بے بہا ہیں
معلم کامل چْھ بس اکھ عالم اْمی لقب
سْے دانائے سبل، سرچشمہ آب حیات
تس ہران کوسم کتھن چھس یوسمن بو کونکلن
چھس وتن مشک ختن تس گتھ کران چھی دوہہ تہ رات
آپ کی نعتوں سے پتہ چلتا ہے کہ آپ پیغمبر آخرالزمان ؐسے کتنا پیار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو ہمیں اپنے لیے نمونہ بنانا چاہئے ۔راقم کو بھی ان کی ملاقات نصیب ہوئی اور آپ کی نعتوں کے بارے میں بات ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ "نعت گوئی کوئی آسان کام نہیں ہے اس کے لیے دل کو پاک ہونا چاہیے ، ذہن تمام آلودگیوں اور خرافات سے پاک ہونا چاہیے، اور سرور کائنات نبی برحق ؐ کے ساتھ والہانہ محبت ہونی چاہیے،جبھی نعت زبان پر آتے ہیں"
پچھلی کئی دہائیوں سے نامساعد اور دگرگوں حالات کی وجہ سے اگرچہ کشمیر کے ہر فرد کی زندگی کسی نہ کسی طرح متاثر ہوئی ہے وہیں فیاض صاحب بھی اس نرغے میں آئے اور ان حالات نے ان کی گھریلو اورامن وامان میں گزری زندگی کو جھنجھوڑ کے رکھا ہے مگر اپنی مستقل مزاجی، صبرو استقامت اور حلم کی وجہ سے آپ نے اس کو اپنے اوپر حاوی ہونے نہ دیا اور فیاض صاحب ایک مستحکم پہاڑ کی طرح ان آندھیوں کا مقابلہ کرتے رہے اور فرماتے ہیں کہ"میں نے خود کو خدا کے حوالے کیا تھا "۔
فیاض صاحب چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کو اثردار اور پْر جوش زندگی گزارنی چاہیے اور دنیا میں سر اْٹھا کر جینا چاہیے۔ اسی لئے آپ کی اکثر غزلوں، رباعیوں اور نظموں میں مسلمانوں کو جگانے کی تحریک پیش کی گئی ہے۔ آپ کی شاعری نصیحتوں سے بھری ہوئی ہے اور جب ایک عام انسان بھی آپ کی تالیفات کا مطالعہ کرتا ہے تو کتاب چھوڑنے کا نام ہی نہیں لیتا ہے۔ میرا ایک ذاتی تجربہ ہے کہ جب بھی میں کوئی کتاب ہاتھ میں لیتا ہوں تو میں اونگنا شروع ہوجاتا ہوں، مجھے جسمانی وروحانی کمزوری محسوس ہوتی ہے مگر فیاض صاحب کی تالیفات کا مطالعہ کرنے سے روح معطر ہوتا ہے اور جو ذہن دنیاوی خرافات سے بھرا پڑا ہوتاہے، اس کو بیدار رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔فیاض صاحب کی شاعری میں انقلاب اور فلسفے کی خوشبو بھی آ رہی ہے اور انسان کو اکثر اشعار سوچنے پر مجبور کررہے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ
آدمیٔ خونخوار آدم زاد از
شوقہ کلہیرین کران باپار وُچھ
فیاض صاحب کی تخلیقات میں سے ایک بڑا حصہ ابھی بھی تشنہ اشاعت ہے جن میں "جوان مرگ" ایک ناول اور مقالات فیاض قابل ذکر ہیں۔ فیاض صاحب نے ادب کی آبیاری کیلئے کئی ادبی انجمنوں میں رہ کر بہت کام کیا ہے اور بزم ادب بٹہ پورہ کانہامہ کشمیر کے بانی ممبران میں آپ کا نام سرفہرست ہے۔آپ نے ادب کی خاطر جو کام کیا ہے وہ قابل داد اور سنہرے الفاظ سے لکھنے کے قابل ہے۔مختصریہ آپ کی پوری زندگی ادب اور تبلیغ دین اور اتالیق کے طور پر گزری ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اس اتالیق، قلمکار اور ادب نواز شخصیت کو دین و ادب کی مزید خدمات انجام دینے کی قوت عطا فرمائے۔ آمین
رابطہ۔7006259067