وادیٔ کشمیر کو عرصہ دراز سے ہی "ریشہ وار " یا " پیرِ وار" ( ریشیوں اور پیروں کی سرِ زمین) کہا جاتا رہا ہے اور یقینا ً اس سر زمین نے ہر زمانے میں ریشیوں، صوفیوں، سنتوں وغیرہ کو جنم دیا، جنھوں نے ہر دم لوگوں کو راہِ راست پر گامزن کیا اور خدا پرستی کا درس دیا۔ یہی وجہ ہے کہ وادی کشمیر میں بھائی چارہ، رواداری،ہمدردی،غریب پروری وغیرہ جیسے اقدار زمانہ قدیم سے ہی ہمکنار رہے ہیںلیکن جوں جوں زمانہ آگے بڑھتا گیا،بہت ساری تبدیلیاں بھی رونما ہوتیں رہیں ، جن میں بدقسمتی سے کئی تبدیلیاں نا خوشگوار بھی ہیں۔دراصل مذکورہ تبدیلیاں خود بخود معرض وجود میں نہیں آتیں، بلکہ اِن کے پیچھے وہ لالچی اور خود غرض لوگ ہوتے ہیں جو اِن سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ایسی ہی برائیوں میں افواہ بازی بھی ایک ہے۔یہ وہ مرضِ لا علاج ہے جس نے ہر زمانے میں سماج کو کافی نقصان پہنچایا۔
وادیٔ کشمیر کے لوگ فطرتاً نرم مزاج اور سیدھے سادے ہیں۔خود غرض لوگوں نے ہمیشہ اِس چیز کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی بھر پور کوشش کی اور اکثر کامیاب بھی ہوئے۔ایسے لوگ افواہوں کا بازار گرم کرکے اپنا مقصد حاصل کر لیتے ہیں۔اکثر یہ بات مشاہدے میں آئی کہ کشمیری لوگ ہر مرتبہ اِن افواہ بازوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مختلف طریقوں سے افواہوں کو قائم کرکے یہاں کے لوگوں کا استحصال کیا گیا۔
نوے کی دہائی میں بد نامِ زماں" بھوت" کی افواہ اْڑائی گئی جس سے وادی کے لوگ کافی خوف و ہراس میں مبتلا ہوئے اور یہاں تک کہ لوگوں نے رضاکارانہ طور پر اپنے اپنے علاقوں کا شبانہ پہرہ بھی قائم کیا تا کہ اس جعلی تیار کردہ بھوت کے شر سے محفوظ رہ سکیں۔اِن افواہوں سے نہ صرف وہ لوگ اپنے ناپاک مقاصد حاصل کر لیتے ہیں ، جو ان کو قائم کرتے ہیں بلکہ موقعہ پرست لوگ بھی اس کی آڑ میں اپنے کالے کارنامے انجام دیتے ہیں۔ایک زمانے میں یہ افواہ بھی گرم تھی کہ بچوں کو چرانے کا گروہ سرگرم ہے، تب بھی افرا تفری پھیلائی گئی۔آج سے چند ہی برس پہلے جب حسب ِ معمول بچوں کو پو لیو بیماری سے بچنے کیلئے مخصوص دوائی قطرے (Drops Polio)پلائے گئے، تو اچانک کہیں سے ایک افواہ جنگل کے آگ کی طرح پھیلنے لگی کہ مذکورہ دوائی قطروں سے بچوں کو خطرہ ہے۔یہ خبر پھیلتے ہی ہر سمت قیامت کا سا نظارہ دیکھنے کو ملا۔لوگ اپنے لخت ِ جگروں کو اپنے سینوں سے لگائے ہوئے ہسپتالوں کی طرف اضطرابی صورتحال میں دوڑ رہے تھے۔اس کی وجہ سے ہسپتالوں میں لوگوں کی ایک غیرمعمولی بھیڑ جمع ہوئی، سڑکوں پر ٹریفک جام ہوا اور پوری وادی میں لا اینڈ آرڈردرہم برہم ہوگیا۔کئی جگہوں پر لوگوں کو قابو کرنے کے لئے پولیس کی مدد لینی پڑی۔ حالانکہ یہ ایک بے بنیاد افواہ تھی، کسی بھی بچے کو کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔
اِسی طرح ان شر پسند افواہ بازوں نے ایک مرتبہ نمک کے حوالے سے بھی یہ افواہ پھیلائی کہ نمک کے کارخانے بند ہوجائیں گے اور آئندہ نمک کی بہت قلت ہوگی۔لوگ حسب ِ دستور افواہ بازوں کے جھانسے میں آگئے اور بے جا طریقے سے نمک کو ذخیرہ کرلیا اور پوری وادی میں ایک بے چینی کی لہر دوڑ گئی۔
ایسے ہی کئی مرتبہ یہ افواہیں گردش میں تھیں کہ ایک خاص قسم کے سکوں (Coins) اورکرنسی نوٹوں( Notes Currency) کے بدلے میں ہزاروں روپے حاصل ہوتے ہیں۔افواہ بازوں نے افواہ پھیلانے سے پہلے ہی اس قسم کے سکوں اور نوٹوں کو اپنے پاس جمع کر رکھا تھا۔کچھ لوگوں نے بِنا سوچے سمجھے ایسے سکے اور نوٹ موٹی موٹی داموں میں خریدنے شروع کیے اور افواہ باز بھی اِسی فراق میں تھے اور انھوں نے جمع شدہ سکوں اور کرنسی نوٹوں کو اپنے پلان کے مطابق بیچ کر اچھی خاصی رقم حاصل کرلی اور اس طرح سیدھے سادے لوگوں کو نقصان اٹھانا پڑا۔اسی طرح عورتوں کی چوٹیاں کاٹنے کی افواہیں بھی گردش میں تھیں اور اس زمانے میں بھی افواہ بازوں کی ہی جیت ہوئی۔
آج بھی ہماری وادی میں ایک ایسی افواہ گرم ہے ، جو شمال و جنوب لوگوں کو پریشان کر رہی ہے کہ ایک چْڑیل انسانی بستیوں میں گھوم رہی ہے۔اس وجہ سے پوری وادی میں لوگ ایسی سنی سنائی باتوں کو سوشل میڈیا ( media social) پر وایرل (Viral)کر رہے ہیں۔وادی کے کونے کونے میں رہنے والے ہر گھر یہ خبر لوگوں کیلئے دردِ سر بنی ہوئی ہے۔
دراصل وادیٔ کشمیر میں قدیم زمانے سے ہی یہ من گھڑت قصے کہانیاں سنائی جاتی ہیں کہ موسمِ سرما میں جب برفباری ہوتی ہے تب مختلف قسم کے مخلوقات جن میں 'جن' ،' چْڑیل' وغیرہ شامل ہیں گھومتے رہتے ہیں۔افواہ بازوں نے اِن ہی خیالوں کو ذہن میں رکھ کر اس افواہ کو ہوا دی کہ چڑیل کئی جگہوں پر دیکھی گئی ہے۔ چونکہ لوگوں کے ذہنوں میں پہلے سے ہی یہ بات تھی ،اس لئے یہ افواہ بہ آسانی دور دور تک پھیل گئی۔حالانکہ محکمہ وائلڈ لائف کی طرف سے بھی ایک بیان جاری ہوا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے اور اس میں کوئی بھی حقیقت نہیں ہے ، لہٰذا لوگوں کو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
وقت کی ضرورت یہ ہے کہ لوگوں کو متحد رہ کر ایسے افواہ بازوں کے ناپاک مقاصد کو خاک میں ملانے چاہئیںاور اپنے دماغ کا بھر پور استعمال کرنا چاہے تا کہ آج اور آئندہ ایسی افواہ پھیلنی نہیں چاہئے۔ایسی افواہوں کی آڑ میں اکثر چوری کی وارداتیں رونما ہوتی ہیں۔ لہٰذا ہمیں ڈرنا نہیں چاہے بلکہ بہادری اور حاضر دماغی سے ایسے ناپاک ارادوں کو ناکام بنانا چاہئے، لیکن کشمیری لوگ ہمیشہ دھوکہ ہی کھاتے ہیں۔
پتہ۔ستورہ ترال، پلوامہ کشمیر
فون نمبر۔ 9797013883