سرینگر/ / حکومت نے 3جنوری سے 9جنوری تک بھاری برفباری کو ایس ڈی آف ایف ضوابط کے تحت ’’ ریاست مخصوص قدرتی آفت‘‘ قرار دینے کا اعلان کرتے ہوئے جمعرات کو حکم نامہ جاری کیا۔ وادی میں امسال کے آغاز میں ہی3 سے9جنوری تک جموں کشمیر کے بالائی و زمینی علاقوں میں قہر انگیز برفباری دیکھنے کو ملی،جس کے نتیجے میں وادی سمیت چناب اور پیر پنچال خطوں میں عام زندگی کی رفتار کئی روز تک تھم گئی،جبکہ مکانات،سرکاری عمارات اور میوہ درختوں کو کافی نقصان پہنچا۔ سرکار نے اس برفباری کو اب با ضابطہ طور پر قدرتی آفت قرار دیا ۔اس سلسلے میں آفات سماویٰ سے نپٹنے اور ریلیف،باز آبادکاری و تعمیر نو سے متعلق محکمہ کے سیکریٹری سمرن دیپ سنگھ نے با ضابطہ طور پر جمعرات کو ایک حکم نامہ جاری کیا،جس میں اس برفباری کو قدرتی آفت قرار دیا گیا۔سرکاری حکم نامہ زیر نمبر02-JK(DMRRR) of 2021محررہ28جنوری2021 کے تحت جاری حکم نامہ میں ریاستی ایگزیکٹو کونسل کی11جنوری کو منعقدہ میٹنگ میں’’ مینٹس‘‘ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ حکم نامہ میں کہا گیا ہے’’3جنوری سے لیکر 9جنوری2021تک بھاری اور انتہائی برف بھاری کو وزارت امور داخلہ،حکومت ہند کی جانب سے جاری رہنما خطوط زیر نمبر33-5/2015-NDMمحررہ30جولائی2015 کے تحت ریاستی آفات سمایٰ انتظامیہ ریسپانس فنڈ کی پیرا3(ii) ضوابط کے تحت’’ ریاست مخصوص آفت‘‘ قرار دینے کو منظوری دی جاتی ہے۔‘‘مرکز کی جانب سے یہ گائڈ لائنس متاثرہ کنبوں اورمحکموں کو ایس آر ڈی ایف کی جانب ریلیف کی فراہمی کیلئے جاری کیا گیا تھا۔