سیاست کی دنیا میں بے لوث ، بے غرض ، انسانیت نواز ،بلند فکر اور وسیع النظرلوگوں کے لئے کوئی جگہ اب باقی نہیں رہی ہے ۔ اتفاق سے اگر کوئی ایسا انسان سیاست کے میدان میں اتربھی جاتا ہے تو ناکام ہوکر لوٹ جاتا ہے۔ بیسویں صدی میںبہت سے پرخلوص رہنماوں نے سیاست کی دنیا میں اپنی چھاپ چھوڑ دی لیکن اس کے بعد سیاست نہ خدمت خلق کا شعبہ رہا ، نہ مثبت سوچ اور جذبوں کا بلکہ ذاتی خواہشوں ، جذبوں اور مفادوں کی تکمیل کا ایک ذریعہ بن کر رہ گیا ۔اکیسویں صدی کے آتے آتے سیاست کا میدان ان ہستیوں سے خالی ہوگیا جنہوں نے انسانیت اور انسانی سماجوں کو سنوارنے کے لئے اپنی زندگیاں وقف کردی تھیں۔اب بالادستی اور برتری کی لڑائی لڑنے کا عزم و ارادہ سیاست میں کامیابی و کامرانی کی واحد سند ہے ۔اس لئے اب ایثار و قربانی کا کوئی مجسمہ کہیں موجود نہیں ۔ خلق خدا کی خدمت میں اپنا سب کچھ لٹادینے والے کسی نام کا ذکر اگر آج ہوتا ہے تو لوگ اسے دیوانہ سمجھتے ہیں ۔ ایسا ہی ایک دیوانہ کرشن دیو سیٹھی تھا جو جمعرات کی صبح 93سال کی عمر میں جموں کے مکان میں جو اس کا اپنا مکان بھی نہیں تھا میں اس دنیا کو الوداع کہہ گیا ۔جموں کشمیر کی تاریخ اور سیاست کا یہ سرگرم کردا ر اپنے پیچھے اپنے دو بچوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں چھوڑ گیا ۔ نہ کوئی بینک بیلنس ، نہ کوئی کوٹھی یا مکان ، نہ گاڑی نہ کوکوئی اور ساماں لیکن اس کی موت پر آنسو بہانے والے ایسے بے شمار لوگ تھیجن میں اکثر وہ تھے جونہ اس کے دھرم ، نہ اس کے قبیلے نہ اس کے لسانی و نسلی گروپ اور نہ اس کے آبائی وطن سے تعلق رکھتے تھے ۔اس کی پہچان کوئی نہیں تھی سوائے اس کے کہ وہ ایک انسان تھا جو سب سے محبت کرتا تھا اور سب کا بھلا چاہتا تھا ۔
کرشن دیو سیٹھی 1928ء میں میر پور کے ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوا ۔جموں و کشمیر ایک مسلم اکثریتی ریاست تھی جس کا حکمراں ایک ہندو تھا ۔ اسلئے اس کا مستقبل ہر طرح سے محفوظ تھا ۔ اگر وہ صرف میٹرک پاس کرکے سرکار میں نوکری کی درخواست کرتا تو اسے فوری طور پر نوکری مل سکتی تھی ۔ شاید یہی اس کے والدین کی تمنا بھی ہوتی ۔لیکن اس کے اندر کوئی اور آگ تھی ۔جب وہ سکول میں ہی تھا تو اس نے ڈوگرہ شاہی کے خلاف تحریک میں سرگرم حصہ لینا شروع کردیا ۔اس حرکت پر اسے اپنے گھر اور خاندان کی کتنی ملامت سہنی پڑی ہوگی اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے لیکن اس نے کوئی پرواہ نہیں کی ۔میر پور میں نیشنل کانفرنس کے لیڈران کے شانہ بشانہ اس بچے نے کام کیا جس کے نتیجے میں اسے جیل بھیج دیا ۔جب ملک تقسیم ہوا تو وہ جیل میں ہی تھا ۔جیل سے چھوٹ جانے کے بعد وہ جموں میں مقیم ہوگیا ۔1951ء میں وہ نوشہرہ سے اسمبلی انتخاب جیت کر اسمبلی کا ممبر بن گیا ۔ اسمبلی نے جموں و کشمیر کا آئین تشکیل دینے کے لئے جو کمیٹی بنائی اس میں کرشن دیو سیٹھی کو بھی شامل کیا گیا ۔ظاہر ہے کہ اس کی ذہانت اور صلاحیت نے ہی اسے اس کمیٹی کا ممبر بنادیا ورنہ وہ کم عمر بھی تھا اور اس کے پیچھے کوئی سیاسی وزن بھی نہیں تھا ۔کہا جاتا ہے کہ زرعی اصلاحات کا قانون بنانے اور اسے روبہ عمل لانے میں اس کا بہت ہی اہم کردار تھا ۔وہ بنیادی طور پر سماج کے پچھڑے ہوئے اور کمزور لوگوں کو دوسرے طبقوں کے برابر لانے کے لئے مسلسل اور انتھک کوشش کررہا تھا ۔ٹریڈ یونین کے تصور کو ریاست میں عملی شکل دینے اور اس کے اعتبار اور وسعت کے لئے اس نے بہت کام کیا ہے ۔اس کا نتیجہ یہ تھا کہ بہت کم وقت میں جموں و کشمیر میں ٹریڈیونین کلچر مضبوط ہوتا گیا ۔تقسیم کے بعد ریاست جموں و کشمیر میں یکے بعد دیگرے جو حالات پیدا ہوئے وہ ہر کسی کے بس سے باہر تھے ۔ قبائلی حملہ ، الحاق کی دستاویز ، بھارتی افواج کی آمد ، دو ملکوں کے درمیان پہلی جنگ ، اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر پر بحث ، یہ بہت غیر معمولی واقعات تھے جوبہت تیزی کے ساتھ رونما ہوئے اور ان میں خود ریاست کے باشندوں کا کوئی کردار نہیں رہا لیکن صرف اور صرف وہی بری طرح سے لپیٹ میں آرہے تھے ۔ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم نے خاندانوں کے خاندانوں کو ایک دوسرے سے جدا کردیا ۔اس تقسیم کا زخم کرشن دیو سیٹھی کے سینے میں بھی پیوست تھا چنانچہ وہ آخری وقت میں بھی اس خواہش کا اظہار کئے بناء نہیں رہ سکے کہ وہ پھر ایک بار اپنے آبائی وطن میر پور کو دیکھنا چاہتے تھے ۔وہ چاہتے تھے کہ مسئلہ کشمیر کو عوام کی خواہش کے تحت حل کیا جائے اور اس کے لئے وہ ہمیشہ جو بھی اور جیسا بھی ہوسکا کام کرتے رہے ۔شیخ محمد عبداللہ کی گرفتاری کے بعد جو بھی حکومتیں بنیں انہوں نے کرشن دیو سیٹھی کو وزارت میں لانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن انہوں نے کبھی کسی حکومت کا حصہ بننے کی حامی نہیں بھری ۔ہر حکومت کے ساتھ ان کا اختلاف رہا کیونکہ وہ جو چاہتے تھے وہ نہیں ہورہا تھا اور جو ہورہا تھا وہ اسے پسند نہیں تھا ۔وہ حکومت ہندسے بھی خفا رہے ۔ ریاست کی حکومتوں سے بھی اور شیخ محمد عبداللہ سے بھی جنہوں نے اکارڈ کے بعد انہیں اہم عہدے کی پیش کش کی لیکن وہ راضی نہیں ہوئے ۔اور جب فاروق عبداللہ کی حکومت بنی تو انہوں نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ نیشنل کانفرنس اپنے زوال کی طرف گامزن ہوچکی ہے ۔ان کی دور بین نگاہیں دیکھ چکی تھیں کہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے ۔
کرشن دیو سیٹھی نظریاتی طور پر کمیونسٹ تھالیکن یہ لادین کسی دین اور کسی دھرم سے نفرت نہیں کرتا تھا بلکہ ہر عقیدے کو عزت بخشنا اس کا شعار تھا ۔وہ کمیونسٹ اس لئے تھا کہ انسانوں کی غربت ، کسمپرسی ، لاچاری اور استحصال اس کے لئے ناقابل برداشت تھے اس لئے و ہ مساوات کے فلسفے کا قائل ہوا تھا ۔مجھے ایک بار اس شخص سے ملاقات کا شرف نصیب ہوا ۔ جموں میں اس کی رہائش گاہ پر گزرا ہوا ایک گھنٹہ میں نہ کبھی بھول سکا نہ بھول سکوں گا ۔اس سے باتیں کرتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ وہ ایک دانشور ہے اور جانتا ہے کہ اس دنیا کو پیدا کرنے والا کوئی ہے لیکن اسے شدت کے ساتھ یہ احساس بھی ہے کہ اس کی بندگی کا دعویٰ کرنے والے نہ استحصال کو روک سکے نہ غربت ، بے بسی اور لاچاری اور ظلم کواس لئے وہ مساوات قائم کرنے کیلئے کمیونسٹ تھا ۔سادہ زندگی گزارنے والا یہ درویش چھوٹی سی چھوٹی بات پر بھی نظر رکھتا تھا اور مسلسل غور و فکر میں غرق رہا کرتا تھا ۔اس سے ملاقات کی خواہش رکھنے والے لاتعداد تھے اور اس سے ملنے والوں میں شدت پسند بھی تھے ، اعتدال پسند بھی ، بھارت نواز بھی ، پاکستان نواز بھی ، سب اس سے فیض حاصل کرتے تھے اور جب اس کی موت کی خبر عام ہوئی تو مجھے حیرت یہ ہوئی کہ دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر پوسٹوں کا ایک سیلاب آگیا ۔میں حیران ہوا کہ بہت کم لوگ ہیں جو آج اس شخص کے نام سے واقف ہیں ۔ نئی نسل کو تو معلوم ہی نہیں کہ کرشن دیو سیٹھی کون تھا پھر کیسے نوے کے بعد پیدا ہونے والے بھی افسوس اور دکھ کا اظہار کررہے ہیں ۔میں اس بات کا ایک بار پھر قائل ہوگیا کہ اچھائی اور سچائی کو کسی پبلسٹی کی ضرورت نہیں ہوتی ہے ۔ وہ ہوا کے دوش پر خوشبو کی طرح پھیلتی ہے اور نتھنوں میں گھس کر اپنا وجود ثابت کرتی ہے ۔بڑا انسان ہونے سے اچھا انسان ہونا زیادہ اہم ہوتا ہے ۔ خالی الذہن انسان کتنی بھی کامیابیاں اور کامرانیاں حاصل کرے وہ ایک دانشور کا مقام حاصل کرہی نہیں سکتا ہے ۔ ایک سچا دانشور خود بخود دلوں میں گھس جاتا ہے اور اپنی جگہ بنا لیتا ہے ۔ کرشن دیو سیٹھی نے بھی دلوں میں جگہ بنائی تھی اور بڑی گہری جگہ بنائی تھی ۔ ان کے جانے سے جموں و کشمیر کی تاریخ کے ایک دور کا اختتام ہوا ہے ۔ ایک باب بند ہوا ہے ۔ان کی یاد ان دلوں میں ہمیشہ رہے گی جو چاہتے ہیں کہ انسانوں کا بھلا ہو ۔ کچھ ایسا ہو کہ کوئی انسانی مجبوری اور لاچاری کی حالت میں نہ رہے ۔ کرشن دیو سیٹھی کشمیر عظمی کے لئے مستقل طور پر کالم لکھا کرتے تھے اور ہر موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے تھے ۔یہ کالم نہ صرف معلومات میں اضافے کا باعث ہوتے تھے بلکہ غور و فکر کی دعوت بھی دیتے تھے ۔انہوں نے ایک کتاب بھی لکھی ہے جو ان کے متعلق ہی نہیں بلکہ جموں و کشمیر کی تاریخ کے مختلف گوشوں پر بھی روشنی ڈالتی ہے ۔ بے شک دوسرا کرشن دیو سیٹھی پیدا نہیں ہوسکتا لیکن وہ کرشن دیو سیٹھی جو اب اس دنیا میں نہیں آنے والے دنوں میں بھی اگلی نسلوں کو روشنی اور راستہ دکھا سکتا ہے ۔