اکیسویں صدی ذرائع ابلاغ کی صدی ہے ۔ذرائع ابلاغ نے جس تیزی سے ترقی کی ہے، اسے دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس کی گرفت سماج پر مزید مستحکم ہو جائے گی۔ ذرائع ابلاغ سماج میں اطلاعات کی فراہمی، رائے عامہ کو ہموار کرنے اور واقعات کی تحقیق و جستجو میں جس طرح کا کردار ادا کر رہاہے، اس کے پیش نظر آج اسے جمہوری نظام کا چوتھا ستون تسلیم کیا جاتا ہے۔ آج کل کسی ملک کی ترقی کا اندازہ اس کے ذرائع ابلاغ سے لگایا جاتاہے۔ ہمارے لئے یہ جاننا بے حد اہم ہوجاتا ہے کہ ترسیل کا جذبہ باقی ہے اور انسانی زندگی میں اسے مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
ذرائع ابلاغ کے کئی ایک وسائل ہیں جن میں سب سے زیادہ اہم اور گھریلو استعمال میں اخبارات، رسائل، کتابیں ،ریڈیو ،ٹی وی، فلم اور جدید ترین وسائل ہیں۔ اس کے علاوہ سیٹلائٹ، ڈش ٹی وی، کیبل ٹی وی اور عہد حاضر میں مختلف سماجی رابطہ گاہیںجن میں واٹس ایپ، فیس بک، ٹوئٹر اور انسٹاگرام قابل ذکر ہیں۔ ذرائع ابلاغ کو عام طور سے دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، اول پرنٹ میڈیا اور دام الیکٹرانک میڈیا۔
پرنٹ میڈیا یاطباعتی ذرائع میں اخبارات، رسائل، کتابیں اور دیگر قسم کی طباعتی چیزیں شامل ہیں اور یہ طویل عرصہ سے پڑھے لکھے لوگوں کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ اخبارات ایک خاص گروہ کو ذہن میں رکھ کر تیار کیے جاتے ہیں۔ ان ہی کے اعتبار سے خبریں ،تبصرے ،فیچر، فوٹو، اداریہ، کالم ،اشتہارات شائع کیے جاتے ہیں۔ غرض مقامی تہذیبی روایات کو ملحوظ نظر رکھا جاتا ہے۔ ایک اخبار مختلف حصوں پر مبنی ہوتا ہے جن میں خبروں کا حصہ، اشتہارات کی جگہیں، اداریہ کی خاص جگہ، کالم نویسی کا مخصوص صفحہ ،کھیل خبروں کا الگ حصہ وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔
کالم اخبار کا ایک اہم جز ہے۔ اس کے بغیر اخبار مکمل تصور نہیں کیا جاسکتا۔ اخبارات میں کالم شائع کرنے سے اس کی چاشنی میں اضافہ ہوتا ہے۔عالمی سطح پر مختلف اخبارات ایسے موجود ہیں جن میں کالم نگار کالم لکھنے کی خاطر زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہیں تب جا کر کالم ہفتہ وار،پندرہواڑہ یا ماہانہ شائع ہوجاتا ہے ۔جن اخبارات کے کالم بین الاقوامی ، قومی یا ریاستی سطح پر پسند کیے جاتے ہیں یا یوں کہے کہ ایک قومی سرمایے کی حیثیت رکھتے ہیں ان میں لندن ٹایمز،نیویارک ٹائمز،ہندوستان ٹائمز،دی ٹائمز لندن،گلوبل ٹائمز(چین)اردو ٹائمز نیویارک،روزنامہ ڈان،زوزنامہ جنگ،ٹائمز آف انڈیا،انقلاب ممبئی،سیاست (حیدر آباد)،گریٹر کشمیر اور کشمیر عظمیٰ(جموں کشمیر)وغیرہ شامل ہیں۔کسی اخبار میں کالم لکھنا دل گردے کا کام ہے جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں ۔ کالم نویسی کے لیے بلند تخلیقی اپچ،مطالعہ ، مشاہدہ ، علم کی وسعت اور تجربے نیز زبان دانی کا ہونا نہایت لازمی ہے ۔ اسلوب کے لحاظ سے ان کالموں کی دو قسمیں ہوتیںہیں، سنجیدہ کالم اور مزاحیہ کالم۔ اس حوالے سے نامی انصاری رقمطراز ہیں ؛’’اخبارات کے کالم دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک تو وہ جن میں روزمرہ کے سیاسی سماجی حالات پر طنزیہ مزاحیہ تبصرہ ہوتا ہے۔بعض اوقات تہذیبی و تمدنی معاملات کی مضحکہ خیز یو ں کوبھی کالم نگاراجاگر کرتا ہے اور ان حقیقتوں کو بھی طنز کا نشانہ بناتا ہے جن کا راست تعلق روزمرہ کی عمومی زندگی کے واقعات و حادثات سے ہوتا ہے اور اس طرح اخبار کے قاری اور کالم نگار کے درمیان ایک ذہنی رشتہ ہموار ہو جاتاہے لیکن ہر دن ایک مزاحیہ کالم لکھنا آسان نہیں ۔دوسری قسم کی کالم نگاری وہ ہے جس میں مزاح کے ساتھ ادبی حسن بھی ہوتا ہے، اس لیے اس کی مستقل حیثیت بن جاتی ہے۔ یہ کالم کبھی باسی نہیں ہوتے اور ایک اخبار سے دوسرے اخبار میں نقل ہوتے رہتے ہیں ۔بعض اوقات ان کا انتخاب کتابی صورت میں بھی شائع ہوتا ہے ۔خواجہ عطاالحق،مجتبیٰ حسین اور محمد خالد اخترایسے ہی کالم نویسوں کے زمرے میں آتے ہیں ‘‘ (نامی انصاری ،آزادی کے بعد اردو نثر میں طنز و مزاح،معیار پبلی کیشنز ،دلی، ۱۹۹۷ ،ص۱۶۱)
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اردو صحافت نے ہی اردو میں طنز و مزاح کو فروغ بخشا جس کا آغاز سرشارا ور سجاد حسین سے ہوتا ہے جنہوں نے اپنے مزاحیہ مضامین کی ابتدا اخبار’’ اودھ پنچ‘‘ ۱۸۷۷ء سے کی ۔ سجاد حسین، تربھون ناتھ ہجر ،رتن ناتھ سر شار ، مچھو بیگ، ستم ظریف، جوالا پرشاد برق، منشی احمد علی اسی زمانہ کے نامور مزاح نگار تھے ۔
بعد کے طنز و مزاح نگار رشید احمد صدیقی ،ملارموزی، پطرس بخاری ،کنہیا لال کپور کتابی طنز و مزاح نگار ہیں۔ چراغ حسن حسرت، ابراھیم جیلس ،ابن انشا، نصراللہ خان، مجید لاہوری ،فکرتونسوی، طفیل احمد جمالی وغیرہ نے اردو صحافت کے ذریعے اپنی تخلیقات کو جلا بخشی ور عوام تک پہنچایا۔
مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ اردو اخبارات میں آزادی سے پہلے اخباری کالم نگاری کی ایک معتبر حیثیت قائم ہوچکی تھی۔ خواجہ حسن نظامی، چراغ حسن ،عبدالمجید سالک، قاضی عبدالغفار جیسے مستند ادیبوں نے اخبارات کے لئے بہترین کالم لکھے۔
آزادی کے بعد اردو اخبارات میں کالم نگاری کو کچھ اور زیادہ فروغ حاصل ہوا ا۔ن اخبارات میں سرفہرست روزنامہ ’’سیاست ‘‘حیدرآباد ہے جس میں شاہد صدیقی طنزیہ ومزاحیہ کالم لکھتے تھے۔ سیاست کے ہفتہ وار ادبی میگزین میں ’’ہمارا کالم ‘‘کے عنوان سے مجتبیٰ حسین نے کالم لکھے۔
( مقالہ نگار ڈگری کالج حاجن بانڈی پورہ میں شعبہ اردو کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں )
ای میل۔ [email protected]