جموں و کشمیر اپنے ادبی سرمائے کی بدولت بر ِ صغیر میں اپنا ایک الگ مقام رکھتا ہے جہاں اس سرزمین نے شیخ العام ؒاور لل دید کو جنم دیا ہے وہیں دوسری طرف کلہن ، ارن مال اور ابھینو گپت جیسے دانشوروں اور قلمکاروں نے اپنے ادبی کا وشوں سے دنیائے ادب کو مالامال کیا ہے ۔ جموں و کشمیرکے ادیبوں نے خاص طور سے تین زبانوں یعنی فارسی ،کشمیری اور اردو زبان میں ادب تحریر کیا ہے ۔اردو ادب کی بیشتر اصناف کو اس خطے نے وسعت عطا کی ہے اور خاص طور پر اردو فکشن کو یہاں کے ادباء نے نئے نئے ممکنات سے ہمکنار کیا ہے ۔ جس طرح سے اردو ناول اور افسانہ نے یہاں کے قلم کاروں کو اپنے طرف متوجہ کیا ہے اسی طرح ’’ناولٹ ‘‘ جیسی نئی صنف میں بھی یہاں کے تخلیق کاروں نے اپنے جوہر دکھائے ہیں ۔وحشی سعید ساحل بھی ایک فکشن نگار کی حیثیت سے اردو ادب میں متعارف ہوئے ہیں۔ انہوں نے ناول اور افسانہ کے ساتھ ساتھ کئی اچھے ناولٹ بھی تحریر کیے ہیں ۔ان کے ناولٹوں کا مجموعہ ’’ماضی اور حال ‘‘ ۲۰۱۵ء میں شائع ہوچکا ہے جس میں پانچ ناولٹ شامل ہیں حالانکہ انہوں اس میں وہی تحریریں شامل کی ہیں جو انہوں نے دور شباب میں قلم بند کی تھیں لیکن وحشی سعید نے اپنے ماضی کی نگارشات کو حال سے ملانے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے ۔ ان میں شامل ایک ناولٹ ’’قحط ‘‘ کو چھوڑ کر باقی چار ناولٹ کا نام بھی تبدیل کر کے ایک نیا حسن پیدا کیا ہے جس کی وضاحت انہوں نے اس کے پیش لفظ میں بیان کی ہے ۔ اس کے علاوہ ان کے دو ناولٹ ’’ پتھر پتھر آئینہ ‘‘ اور ’’ایک موسم کا خط ‘‘ بھی منظر عام پر آچکے ہیں ۔حقیقی معنوں میں یہاں بے ساختہ حالی کا قول یاد آجاتا ہے کہ انہوں نے کہاتھا کہ جس طرح ریچھنی اپنے بدصورت بچے کو چاٹ چاٹ کر خوبصورت بنا دیتی ہے اسی طرح شاعر کو چاہئے اپنی شاعری کی نوک پلک کو بار بار سنوارے تاکہ شعر خوبصورت بن جائے ۔اس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ یہ قول صرف شاعروں یا ادب تک محدود نہیں ہے بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں اس کو بروئے کار لایا جاسکتا ہے ۔وحشی سعید نے بھی اپنی زندگی کے حسین ماضی کو نکھار کر حال کے نئے تناظر میں ڈالنے کی ایک بہترین کوشش کی ہے ۔
’’عجب زندگی ۔۔ ۔غضب موت ‘‘ وحشی سعید کا ایک اچھا ناولٹ ہے جس کا نبیادی موضوع حسن و عشق کی داستان ہے ۔کہانی کو انہوں نے رومانوی انداز اور سادہ بیانیہ کی تکنیک میں پیش کیا ہے ۔اس ناولٹ کا جو موضوع ہے اصل میں دو حصوں پر منقسم ہے یعنی ’’عجب زندگی ‘‘ اور دوسرا حصہ ’ ’ غضب موت ‘‘ ۔ اس کہانی کی شروعات اس کے مرکزی کردار ’’جبار ‘‘ سے ہوتی ہے جو جیل کی سلاخوں میں زندگی کے آخری دن کاٹ رہا ہے ۔اسی درمیان فلش بیک تکنیک کا سہارا لے کرناول نگار نے کردارکو اپنی زندگی کے ماضی میں غوطہ زن کیا ۔ اس طرح سے موصوف نے مرکزی کردار کے ذریعے کہانی کو اختتام تک پہنچایا ہے۔جبار اپنے بچپن کی زندگی اور اپنی ہم جولی ’’گلابو ‘‘ کو یاد کرکے اپنے عالیشان گھر، جس میں نوکر چاکر اور کھیتی باڑی اور گلابو کے ساتھ صبح و شام کھیلنا اور پھر جوانی تک پہنچنا۔ یہ سب ان کی زندگی کا مشغلہ تھا ۔ اچانک ’’یوسف ‘‘ نامی گنڈے کی وجہ سے ان کی زندگی اجیرن بن جاتی ہے۔ گلابو اور پھر شہری لڑی ’’نسرین ‘‘ کا داخل ہونا بھی کسی مصیبت سے کم نہیں ہے ۔ جب جبار کو اس بات کا علم ہوجاتا ہے کہ گلابو کو یوسف نے طلاق دیا ہے اور جس کی تاب نہ لاکر انہوں نے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا ہے ۔اسی جوش میں انہوں نے آخر پر یوسف کا قتل کیا ہے اورقتل کے الزام میںانہیں پھانسی دی جاتی ہیں اور کہانی کو ناولٹ نگار نے متذکرہ نام دے کر اس کو خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے ۔
ناولٹ کا موضوع اچھوتا نہیں ہے لیکن وحشی نے جس انداز سے اسے برتا ہے وہ نرالا اور اچھوتا ہے ۔کہیں کہیں قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ناولٹ نہیں پڑھ رہا ہے بلکہ وہ کسی فلم کا سین دیکھ رہا ہے ۔ dialouge delivery بھی کچھ اس انداز کی دیکھنے کو ملتی ہے کہ قاری اکتا نہیں جاتا بلکہ اس کا تجسس برقرار رہتا ہے ۔وحشی سعید کو منظر نگاری ،مکالمہ نگاری ، اور کردار نگاری پر ایک اچھی خاصی دسترس حاصل ہے ۔انہوں نے سادہ پلاٹ اور عام فہم لفظیات کا خوبصورت استعمال کیا ہے ۔ جہاں تک اس ناولٹ کے پیغام کا تعلق ہے تو اس حوالے سے وحشی سعید قاری کو مطلع کرانا چاہتا ہے کہ انسان کو ہمیشہ ایک صحیح راستہ اختیار کرنا چاہئے کیونکہ جس طرح سے جبار کے گھر میں برے حالات آنے کے بعد ان کو دور کرنے کے لیے دل میںغلط یعنی چوری کرنے کا ارادہ کرتا ہے اور اس ایک غلطی کی بدولت ان کی زندگی کا اختتام غضبناک موت پر ہوجاتا ہے ۔ دوسری اہم بات یہ بھی ہے کہ انہوں نے ان عورتوں کی نفسیات کو بھی واضح طور پر عیاں کیا ہے جن کا مقصد شادی بیاہ یا ازدواجی زندگی نہیں ہوتی ہے بلکہ انہیں عیش و عشرت سے غرض ہوتی ہے ۔ ناولٹ نگار نے اس میں شہری لڑکی کا نقشہ کھینچا ہے جس کی زندگی شہر کے آزاد فضا میںگزری ہوئی تھی اور جس کے خواب بڑے تھے جس کا غرض اپنے سسر اور ساس کے مقابلے میں اپنے شوہر سے ہوتا ہے لیکن حقیقی معنوں میں یہ صرف شہری لڑکیوں تک محدود نہیں ہے بلکہ گائوں کی لڑکیاں بھی اس مرض کی شکار ہوگئی ہیں ۔ دوسرے معنوں میں یہ کہانی اس سماج پر بھی طنز کرتی ہے جس نے ایسے سخت اصول مرتب کیے ہیں جس میں کئی جبا ر اور گلابو کی محبت نے دم توڑا ہوگا ۔
’’جائز ۔۔۔ناجائز ‘‘بھی ناولٹ ہے جس میں رومانیت اور انقلاب ِفکر کا خوبصورت امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے ۔ایک طرف ایک عام رومانی کہانی ہے توسری طرف ایک احتجافی فکر ،انقلابی ذہن ،جوش اور ولولہ کہانی کو نئے نئے ممکنات سے ہموار کردیتی ہیں ۔کہانی کا پلاٹ سپاٹ ہے اور اس میں بھی بیانیہ تکنیک سے کہانی کو پرکشش بنایا گیا ہے ۔یوں تو اس کا قصہ ایک بڑے گھرانے کے لڑکے ’’انورخان ‘‘ سے ہوتی ہے جس کے اندر آزادی کا جذبہ پنپ رہاتھاجوہر وقت اسی بات کی رٹ لگائے ہوئے تھا کہ ’’آزادی انسان کا بنیادی حق ہے ‘‘ لیکن گھروالوں کے کہنے پر رقیہ سے منگی کرنے کے بعد انہیں حکومت کے خلاف سازشیں اور بغارت کے عوض پھانسی پر لٹکایاجاتا ہے لیکن شادی سے پہلے انورنے اپنی منگیتر ’’رقیہ ‘‘ سے جوانی کے شراروں کو قابو میں نہ لاکر انہیں حاملہ کردیا ۔اب رقیہ کے گھر والوں نے رقیہ کے حرام بچے کو اپنے نوکر ’’جمال ‘‘ کے سپرد کر دیا اور ساتھ ہی ساتھ انہیں اس گناہ کو چھپانے کے لیے پانچ لاکھ روپیے بھی دیے ۔جمال کو پہلے سے ہی ایک بیٹا ’’بشیر ‘‘ نام کا تھا اور اب اس بچے کو انہوں نے ’’افضل ‘‘ نام رکھا ۔اب جمال وہ جمال نہیں رہا تھا بلکہ جمال سیٹھ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ’افضل ‘ اب فوج میں کپٹین بن گیا تھا اور اسی اثنا میں ایک دن چٹھی پر آتے ہوئے دونوں بھائی بشیر اور افضل سیٹھ رحت اللہ کی پارٹی میں جاتے ہیں جو انہوں نے بیٹی ’’رخسانہ ‘‘ کی سالگرہ پر رکھی تھی ۔بشیر کا دل پہلے سے ہی رخسانہ پرآگیاتھا لیکن رخسانہ نے انہیں یہ کہہ کر جوش دلایا کہ ان کا چھوٹا بھائی بھی انہیں پسند کرتا ہے ۔بشیر کا خون ابل اُٹھا انہوں نے ماں سے سنا تھا کہ افضل ان کا بیٹا نہیں ہے بلکہ کسی حرام کا ناجائز اولاد ہے جو ان کے گلے پڑگیا ۔اب اسی غصے کو برقرار رکھتے ہوئے بشیر نے اپنی ماں کو ورگلا کر افضل کو گھر سے ہمیشہ کے لئے نکال دیا۔ جمال کو اس بات کا علم بخوبی تھا کہ وہ جو کچھ ہے آج ’افضل ‘کے دیے ہوئے پانچ لاکھ روپئے کی بدولت ہیں جس سے انہوں نے اتنا بڑا کاروبار کھڑا کیا ہوا ہے ۔افضل اس صدمے کی وجہ سے کئی دنوں تک پیدل چلتے چلتے ایک دن ایک جھونپڑی کے باہر گر پڑا اور وہاں ’ناصر ‘ نام کے آدمی نے انہیںبے ہوش پاکر اُٹھایا اور جھونپڑی کے اندر رکھ دیا ۔
’’وحشت محبت ‘‘ ایک خوبصورت ناولٹ ہے جس میں نالٹ نگار نے ایک عورت کی نفسیات کو بیا ن کیا ہے کہ کس طرح سے ’’رانی ‘‘ اصلی نام صنوبر نے ایک سادہ لڑے ’اصغر ‘ جو گائوں سے شہر میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے آتا ہے لیکن شہر کی گہماگہمی اور ’رانی ‘ کی چالبازی کو دیکھ کر ان کا دیوانہ ہوجاتا ہے۔ یہاں تک کہ جو خواب اس کے غریب ماں باپ نے دیکھے تھے وہ سب چکنا چور ہوجاتے ہیں ۔وحشی سعید نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح سے ایک معصوم لڑکے نے اپنا مقصد بھول کر محبت (جسے موصوف نے ’’وحشت محبت ‘‘ کے نام سے موسوم کیاہے )کی رنگ رلیوں میں اپنی خوبصورت زندگی کو اجیرن بنا دیا۔ ’رانی ‘ جس نے پہلے اصغر کو اپنے جھوٹے پیار کا جامع پہنایااور اپنی والدہ کی انتقال کے فوراً بعد ایک نئے عاشق سے شادی کی اور جب اس خاوند کا انتقال ہوگیا تو واپس اپنے پرانی محبت ’اصغر ‘ کے پاس آجاتی ہے ۔اصغر پیٹ میں بچے سمیت پھر اسے اپناتا ہے اس طرح ’رانی ‘ پھر سے روپیوں کی لالچ میں آکر اصغر کے دوست کے ساتھ جسمانی تعلقات بنانے میں مصروف ہوگئی ۔ جب اس نے دھوکا دے کر ایک ہوٹل کے مالک کے حوالے کیا جہاں پر ان کی عصمت کو تار تار کیا گیا ۔تب اسے احساس ہوا کہ اس نے بھلے انسان ’اصغر ‘ کو دھوکہ دیا ہے۔ وہاں سے بھاگ کر پھر ایک مرد اور بعد میں فٹ پاتھ پر سو رہے بھکاریوں کی رات کی زینت بن گئی ۔اس طرح سے ان کی نفسیاتی حرس اور لالچ سے ان کا حسین چہرہ مسخ ہوگیا ۔آخر افسوس کرتے کرتے اسپتام میں دم توڑدیتی ہیں اور اصغر بھی اپنے گائوں لڑکھڑاتے ہوئے اپنی دہلیز پر جان دیتا ہے ۔
وحشی سعید کے ان متذکرہ ناولٹوں سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ انہیں اردو فکشن کی شعریات پر ایک خاص دسترس حاصل ہے ۔زبان و بیان میں ایک خاص قسم کی چاشنی اور دلکشی ہے ۔اسلوب اور ڈکشن کا خوبصورت امتزاج انہیں اپنے معاصرین سے ممتاز کر تا ہے ۔مکالمہ نگاری میں ایک اچھوتا پن دیکھنے کو ملتا ہے اور کہیں کہیں قاری بھول جاتا ہے کہ وہ ناولٹ پڑھ رہا ہے بلکہ اسے یہی گمان ہوتا ہے کہ وہ کسی فلم کا سین دیکھ رہاہے ۔لیکن مثبت پہلوئوں کے ساتھ ساتھ کہیں کہیں منفی پہلو بھی دیکھنے کو مل جاتے ہیں خاص طور پر اگر ہم ان کے ناولٹوں کا مقابلہ ان کی افسانہ نگاری سے کریں گے تو یہاں پر ہمیں یہ با ت ماننی پڑتی ہے کہ ان کے ناولٹوں کے کینواس افسانے کے کینواس سے محدو د ہیں۔ جہاں ان کے ناولٹوں میں رومانیت کا غلبہ ہے وہیں ان کی افسانوی کائنات میں موضوت کا تنوع ہے ۔ ان کے ناولٹ میں معنی کی تکثیریت نہیں ہے اور کہیں کہیں ضمنی موضوعات نے ا ن کے ناولٹوں میں پھیکاپن پیدا کیا ہے اور جہاں تک آخری ناولٹ ’’قحط ‘‘ کا تعلق ہے تو اس میں پہلے قاری کا ذہن اس بات پر تیار ہوجاتا ہے کہ اس کا تانا بانا قحط پر پھیلا ہوگا لیکن آ خر پر قحط کو سرسری طور پر دکھا کر جاوید اور انور کی پریم کہانی لفظ ’قحط ‘ پر فوقیت پاجاتے ہیں ۔
(مضمون نگار جامعہ کشمیر کے محقق ہیں)
ای میل۔[email protected]
فون نمبر۔9622701103