سرینگر //چلہ کلان کے رخصت ہونے سے قبل وادی یخ بستہ ہوائوں اور بادلوں کی لپیٹ میں ہے اور کڑاکے کی ٹھنڈنے لوگوں کو بے حال کر دیا ہے۔جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب سرینگر میںدرجہ حرات منفی7.7ڈگری جبکہ شوپیان میں منفی 14.1ڈگری سیلسیش ریکارڈ کیا گیا ۔جمعہ کی صبح شدید سردی سے آبی ذخائر بشمول شہرہ آفاق جھیل ڈل منجمد پائے گئے اور نل اور پانی کی ٹینکیوں میں بھی پانی جم گیا تھا ۔ گھروں میں موجود پانی کی ٹنکیاں منجمند ہوگئیںاور جمے ہوئے برف سے سرد لہریں اٹھ رہی تھیں۔ وادی مٰن پہلی بار دن کے قریب 3بجے تک جمی ہوئی برف ذرا سی بھی نہیں پگلی تھی۔سردی کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رات کے علاوہ د ن کے درجہ حرارت میں بھی شدید گراوٹ آگئی ۔جنوبی کشمیر کے قاضی گنڈ علاقے میں جہاں شابہ درجہ حرات منفی 10.8ڈگری سیلسیش ریکارڈ کیا گیا وہیں دن کا درجہ حرارت 2.5ڈگری تک پہنچ گیا ۔ایسا ہی حال سیاحتی مقام پہلگام کا بھی تھا۔ یہاں رات کا کم سے کم درجہ حرات منفی 12.0ڈگری تک جا گرا وہیں دن کا درجہ حرارت 1.0ڈگری سیلسیش ریکارڈ کیا گیا ۔سیاحتی مقام گلمرگ میں رات کا درجہ حرارت منفی 11.5ڈگری سیلسیش اور دن کا منفی 4.2ڈگری سیلسیش ریکارڈ کیا گیا ۔کوکرناگ میں شبانہ درجہ حرات منفی 11.4اور دن کا 2.0ڈگری سیلسیش ریکارڈ کیا گیا ۔کپوارہ ضلع میں رات کا کم سے کم درجہ حرارت منفی 3.0اور دن کا منفی 6.2ڈگری سیلسیش ریکارڈ کیا گیا ۔جنوبی کشمیر کا ضلع شوپیاں ان دنوں سرخیوں میں ہے اور وہاں شبانہ درجہ حرارت میں شدید گراوٹ آنے کے نتیجے میں لوگوں کی حالت خراب ہو رہی ہے۔ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات یہاں رات کا کم سے کم درجہ حرارت منفی 14.1ڈگری سیلیش ریکارڈ کیا گیا ۔ اننت ناگ میں شبانہ درجہ حرارت منفی 10.8ڈگری، پلوامہ میں منفی 9.2ڈگری ، کولگام میں منفی 11.8ڈگری تک گر گیا ہے ۔قابل ذکر ہے کہ چالیس روزہ شدید سردی کے ایام یعنی ’چلہ کلان‘ اختتام ہونے والے ہیں لیکن سردی کی شدت میں کوئی کمی واقع نہیں ہورہی ہے۔اس دوران محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ یکم سے 3تک پہاڑوں پر ہلکی برف باری ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں شبانہ درجہ حرات میں معمولی گراوٹ آئے گی ۔