سرینگر //پچھلے 9ماہ کے دوران جی وی سی اسپتال میں 1541کورونا وائرس مریضوں کا علاج و معالجہ کیلئے داخل کیا گیا جن میں 80متاثرین وائرس کی وجہ سے فوت ہوگئے۔ سکمز میڈیکل کالج بمنہ کے پرنسپل ڈاکٹر ریاض ایتو نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’31مارچ 2020کو اسپتال کو مکمل طور پر کورونا وائرس مریضوں کیلئے مخصوص رکھا گیا اور 9ماہ کے دوران اسپتال میں 1541کورونا وائرس مریضوں کو داخل کیا گیا جن میں 80متاثرین کی موت ہوگئی جبکہ دیگر 1461مریض صحتیاب ہونے کے بعد اپنے گھروں کو لوٹ گئے ہیں۔انہوں نے کہا ’’ اسپتال میں داخل ہونے والے متاثرین میں 302حاملہ خواتین بھی شامل تھیں‘‘۔ ڈاکٹر ریاض نے بتایا ’’ 107حاملہ خواتین کو بچوں کو جنم دینے کیلئے جراحیوں سے گزرنا پڑا جبکہ 46خواتین نے قدرتی طور پر بچوں کو جنم دیا ‘‘۔ڈاکٹر ریاض نے بتایا ’’ 149حاملہ خواتین وبائی بیماری سے صحت یاب ہونے کے بعد اپنے گھروں کو لوٹ گئیں‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ سیکمز میڈیکل کالج بمنہ لیبارٹری میں 1لاکھ 1475تشخیصی ٹیسٹ کئے گئے جن میں 9391افراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں۔ ڈاکٹر ریاض نے بتایا ’’ عام مریضوں کے داخلے کیلئے 76بستروں کو مخصوص رکھا گیا ہے جہاں جراحی کیلئے داخل ہونے والے مریضوں کودئے جائیں گے جبکہ 15بستروں کوایسے مریضوں کیلئے مختص رکھا گیا ہے جنکی رپورٹیں مثبت آئیں گی کیونکہ علیل مریضوں کو دیگر اسپتالوں میں منتقل نہیں کیا جاسکتا ہے‘‘۔ جی وی سی بمنہ کی میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر شفا دیوا’’ نے کہا کہ اسپتال میں 9ماہ تک عام مریضوں کیلئے بند رہنے کے بعد دوبارہ کھول دیا گیا ہے اور ابھی اسپتال میں 76مریض زیر علاج ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ اسپتال میں ہڈیوں کے شعبہ اور شعبہ ایمرجنسی و حادثات میں جراحیوں کا سلسلہ جاری ہے اور اوپی ڈی میں بھی مریضوں کا رش بڑھ رہا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اسپتال آنے والے عام لوگوں میں اگر کوئی وائرس سے متاثر ہوگا تو اسکے علاج کیلئے بھی خدمات میسر ہیں۔