سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر مصطفی کمال نے کہا ہے کہ موجودہ مرکزی سرکار نے جموں و کشمیر کو خصوصی پوزیشن سے محروم کرکے جمہوریت کا قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک جموں وکشمیر میں دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کو بحال نہیں کیا جا ئے گا تب تک یہاں امن کی فضا قائم ہونا ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف ملک یوم جمہوریہ کی تقریبات منانے میں مصروف ہے جبکہ دوسری طرف جموں وکشمیر اور لداخ کے لوگوں کو جمہوری و آئینی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مودی سر کار نے جموں وکشمیر کو دفعہ 370اور دفعہ 35اے سے محروم کرکے جمہوریت کا قتل کیا ہے۔ کمال نے کہا کہ آ نجہانی ہری سنگھ نے جن تین شرائط پر بھارت کے ساتھ الحاق کیا تھا ،ان کو منسوخ کرناآ ئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جب تک جموں وکشمیر میں ان دفعات کو بحال نہیں کیا جائے گا تب تک یہاں امن کی فضا قائم ہونا نا ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی قائدین کی تنگ طلبی اور ملک کے مختلف جیلوں میں کشمیری نوجوانوں کونظربند رکھنے پر لوگوں میں ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم گپکار اعلامیہ پر چٹان کی طرح کھڑے ہیں اور اس کو تینوں خطوں جموں، کشمیر اور لداخ کے لوگوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مرکزی حکومت کو چاہیے کہ وہ جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو بحال کرے جس کو طاقت کے بل پر چھینا گیا۔ مصطفی کمال نے کہا کہ جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کی بحالی سے نہ صرف جموں وکشمیر میں امن کی فضا قائم ہوگی بلکہ بر صغیر کے امن کا راز بھی اسی میں مضمر ہے۔انہوں نے کہا کہ جب تک یہاں خصوصی حیثیت کو دوبارہ بحال نہیں کیا جاسکتا تب تک جموں و کشمیر میں امن و امان کی باتیں دعووں تک ہی محدود رہ سکتی ہیں۔