سرینگر //40 دنوں پر محیط سرد موسم کا شہنشاہ چلہ کلان ایک سال کے لئے رخصت ہوگیا ہے۔اب سردی کے دوسرے مرحلے چلہ خورد کا آغاز ہوگیا ہے جس کی مدت 20روز ہیں جس کے بعد 10روز پر مشتمل تیسرا مرحلہ چلہ بچہ کا ہوگا۔امسال چلہ کلان نے کچھ اچھی یادیں نہیں چھوڑیں۔ برف باری کے 3مرحلے پیش آئے اور سردیوں کا 29سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ۔ چلہ کلان میںبرف باری کے دوران مختلف حادثات کے دوران 8افراد کی موت واقع ہوئی،اور 277آگ کی وارداتیں رونما ہوئیں۔ ان وارداتوں کے دوران87رہائشی مکان ،28 دکانیں ،32گائو خانے ،5سرکاری عمارتیں ،13شاپنگ کمپلیکس، 9کار خانے خاکستر ہوئے۔چلہ کلان میں ہوئی برف باری کے نتیجے میں 100 سے زیادہ مکانوں اورتعمیراتی ڈھانچوں کو شدید نقصان ہوا ۔ رواں موسم میں 14جنوری کو 29 سال بعد درجہ حرارت میں سب سے زیادہ گراوٹ دیکھنے کو ملی اور بڑیٖ پیمانے پر بجلی او ر پانی کی سپلائی متاثرہوئی ۔ نہال پورہ پٹن علاقے میں اسی ماہ کے دوران ایک ہی کنبہ کے 3افراد دم گھنٹے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے ۔ان افراد کی موت گرمی کرنے کے دوران گیس کے اخراج کی وجہ سے ہوئی ۔ادھر بانہال میں کپوارہ کے دو شہری گاڑی میں دم گھٹنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے ۔ یہ افراد بھی گاڑی میں گرمی کرنے کی غرض سے بیٹھے تھے۔ ترہگام کپورہ میں ایک معمر خاتون اسی ماہ کے دوران چھت سے اچانک برف گرنے کے نتیجے میں لقمہ اجل بن گئی تھی۔ شہر کے نوشہرہ علاقے میں جواہرہ بیگم نامی ایک خاتون کی موت بھی چھت سے برف گرنے کے نتیجے میں واقع ہوئی ۔ کولگام میں ٹھنڈ کی وجہ سے ایک بکروال لڑکی کی موت واقع ہوئی ۔چلہ کلان میں بھاری برفباری سے قریب1500 بجلی ٹرانسفارمر خراب ہوئے اور 958 فیڈروں میں سے 600کو نقصان پہنچا ۔محکمہ پی ایچ ای کے مطابق چلہ کلان میں ہوئی برف باری کے سبب 450سے زیادہ بجلی کی سکیمیں متاثر ہوئیں۔ چلہ کلان میں سردی نے سبھی ریکارڈ توڑ ڈالے۔1986کے بعد جھیل ڈل مکمل طور پر منجمند ہوا اور لوگ اس پر کرکٹ کھیلتے ہوئے اور سیاح مستی کرتے ہوئے دیکھے گئے۔ 13اور14جنوری کی درمیانی رات شہر میںکم سے کم درجہ حرات منفی 8.4 ڈگری ریکارڈ کیا گیا جو 29برس کے ریکارڈ سے زیادہ تھا۔ اس سے قبل سال 1995 میں شبانہ درجہ حرارت منفی 8.3 ڈگری ریکارڈ ہوا تھا۔ 1991 میں شبانہ درجہ حرارت منفی 11.8 ڈگری تک گر گیا تھا۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ چلہ کلان کے آخری روز تک شہر سرینگر میں 142ملی میٹر بارش کے برابر برفباری ہوئی ۔چلہ کلان میں تین مرتبہ برف باری ہوئی اور سب سے زیادہ 3جنوری سے 6جنوری تک ہوئی جبکہ دوسری مرتبہ 13اور14جنوری اور تیسری مرتبہ 23اور24کو ہوئی ۔ پہلی برف باری میں سب سے زیادہ متاثر جنوبی کشمیر ،سرینگر اور وسطی کشمیر ہوا ،دوسری برف باری میں میں بھی انہی علاقوں میں زیادہ برف پڑی اور تیسری برف باری کے نتیجے میں سرینگر سمیت شمالی کشمیر میں سب سے زیادہ برف ریکارڈ کی گئی ۔برف باری کے نتیجے میں جموں سرینگر شاہراہ 15دن تک بند رہی ۔پہلے یہ شاہراہ 3جنوری سے 10جنوری اور پھر 13جنوری سے 21جنوری تک گاڑیوں کی آمد ورفت کیلئے بند رہی جبکہ مغل روڑ سرینگر لداخ ، گریز بانڈی پورہ سڑکیں ہنوز بند پڑی ہیں ۔برفباری کے نتیجے میں فضائی سروس پہلے 3روز تک معطل رہی اور اسکے بعد مزید ایک روز تک بھی معطل کی گئی۔
سرینگر میں منفی 7.2
شوپیان میں منفی14.3ریکارڈ
اشفاق سعید
سرینگر // چلہ کلان کے آخری دن بھی سردی کی شدت ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے اور درجہ حرارت میں مسلسل گراوٹ کے نتیجے میں لوگ انتہائی مشکلات سے دوچار ہیں ۔سردی کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جمعہ اور سنیچر کی درمیانی رات سرینگر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی7.2ڈگری سیلشیس درج کیا گیا ۔ قصبہ شوپیان سرد ترین رہا ۔جہاں کم سے کم درجہ حرارت منفی14.3ڈگری سیلشیس ریکارڈ کیا گیا۔سنیچر کو بھی وادی بھر کے آبی ذخائر بشمول جھیل ڈل منجمد رہے اور نل اور گھروں کے اندرپانی کی ٹینکیاں بھی جمی رہیں۔محکمہ موسمیات کے ترجمان کے مطابق پہلگام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 12.5ڈگری اور گلمرگ میں منفی10ڈگری،قاضی گنڈ میں منفی8.8 ،پلوامہ میں منفی8.6،اننت ناگ میں منفی 9.4 اور،کولگام میں منفی9.7 سیلشیس ریکارڈ کیا گیا۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ یکم فروری سے3فروری کے بیچ پہاڑی اور بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری ہو سکتی ہے ۔