ٹنگمرگ//ڈگری کالج ٹنگمرگ کے طلاب نے 28 جنوری کو لئے گئے ٹورازم اینڈ اکالوجی پرچے کو نصاب سے باہرقرار دیتے ہوئے کہا کہ پرچہ حل کرنے میں طالب علموں کو زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔مذکورہ طلاب نے کہا کہ جب کالج میں تعینات پروفیسر صاحبان یہ پرچہ حل کرنے میں ہاتھ کھڑا کردیتے ہیں تو طالب علموں کو کس طرح اس قدر دماغ کو بدحواس کرنے والا پرچہ حل کرنا آیا ہوگا۔احتجاجی طلاب نے کہا کہ سال 2019 میں کورونا وائرس کے سبب تمام اسکول اور کالج بند تھے پھر بھی کشمیر یونیورسٹی نے پڑھائی کے بغیر ہی تھریڈ ائیر چھٹے سمسٹر کا ٹورازم اینڈ اکالوجی پرچہ اسقدر سخت بنایا جو کہ کسی بھی طالب علم کو حل کرنا نہیں آیا ۔اس سلسلے میں طلاب نے سرینگر گلمرگ شاہراہ پر جمع ہو کر کشمیر یونیورسٹی کے خلاف جم کر نعرے بازی کی اور اس پرچے کو یا تو منسوخ کرنے یا اس میں رعایت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔احتجاجی طلاب نے دھرنا دیکر آدھے گھنٹے تک ٹریفک کی نقل و حمل مسدود کردی۔ اس دوران سب ڈویژنل مجسٹریٹ گلمرگ شبیر الحسن اور تحصیلدار ٹنگمرگ نثار رسول نے احتجاجی طلاب کو معاملہ یونیورسٹی حکام کی نوٹس میں لانے کا یقین دلایا جس پر احتجاجی طلاب پرامن طور منتشر ہوگئے جس کے بعد ٹریفک کی نقل و حمل دوبارہ شروع ہوگئی۔