کپوارہ//اشرف چراغ //کرالہ پورہ کپوارہ کا دردپورہ علاقہ جس کو یتیموں کی بستی بھی کہاجاتا ہے،انتظامیہ کی مسلسل عدم توجہی کاشکار ہے جس کے باعث یہاں کی آبادی کو گوناں گومشکلات کا سامنا ہے۔چارپنچایتوں کو مشتمل دردپورہ جس کی آبادی14270نفوس پر مشتمل ہے ،میں گزشتہ ستر سال کے دوران کوئی قابل ذکر ترقی نہیں ہوئی اور یہ ضلع کا پسماندہ ترین علاقہ ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق علاقہ میں زون ریشی واٹر سپلائی اسکیم ،ستہ بونی سکیم اورراشن پورہ واٹر سپلائی اسکیمیں لوگوں کو صاف پانی مہیا رکھنے کیلئے بنائی گئیں لیکن یہ تینوں اسکیمیں ناکام ہوئیں،جس کی وجہ سے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں ۔مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ علاقہ کو بڈنمبل واٹرسپلائی اسکیم سے جوڑ دیا جائے تاکہ علاقہ میں سارا سال پینے کا پانی مہیا رہے۔مقامی لوگوں کے مطابق علاقہ میں جن سڑکوں کی تعمیر کاکام ہاتھ میں لیاگیا ان کو ادھورا چھوڑ اگیا جس کی وجہ سے درد پورہ علاقہ میں بہتر سڑک رابطے نہیں ہیں ۔مقامی لوگوں کے مطابق سال1974میں پنزگام راشن پورہ سڑک کاافتتاح کیاگیا جو دردپورہ کے بیچوں بیچ گزر کر راشن پورہ پہنچ جاتی لیکن 47سال گزرنے کے باوجودیہ سڑک محض ٹھنڈی پورہ تک تعمیر کی گئی اور وہاں سے آگے اس سڑک کو تعمیر کرنے کا کوئی بھی کام ہاتھ میں نہیں لیاگیا۔ مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ اس طرح سے گھاسلہ درد پورہ سڑک کا کام 2003میں ہاتھ میں لیا گیا لیکن تا حال یہ سڑک بھی تعمیر نہ ہو سکی ۔لوگو ں نے کشمیر عظمیٰ کو بتا یا کہ درد پورہ میں جو رابطہ سڑکیں ہیں، وہ خستہ حال ہو چکی ہیں اور ان پر عبور و مرور مشکل بن گیا ہے جبکہ گا ڑیو ں کی آوا جاہی بھی مشکل سے ہی ہوتی ہے ۔لوگو ں کا کہنا ہے کہ درد پورہ علاقہ میں محکمہ صحت نے 3ڈسپنسریا ں قائم کی ہیں لیکن کسی بھی ڈسپنسری میں مریضو ں کو بہتر طبی سہو لیات میسر نہیں ہیں جس کی وجہ سے مریضوں کو ضلع کے دیگر اسپتالو ں کا رخ کرنا پڑتا ہے ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ ان ڈسپنسریو ں میں کسی بھی ڈاکٹر کو تعینات نہیں کیا گیا ۔لوگو ں کے مطابق اگر ان تین ڈسپنسریو ں کے بجائے اس علاقہ میں ایک پرائمری ہیلتھ سینٹر کو قائم کیا جاتا تو یہا ں کے مریضوں کو در در کی ٹھوکریں نہیں کھانی پڑتی ۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ گز شتہ 30سال کے نا مساعد حالات کے دوران درد پورہ علاقہ میں دوسو کے قریب خواتین بیوہ ہو چکی ہیں جن کے شوہر نا مساعٖد حالات کے دوران جا ں بحق ہوئے جبکہ 3سو بچے یتیم ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے اس گائو ں کو یتیمو ں کی بستی بھی کیا جاتا ہے لیکن تا حال ان یتیم بچو ں اور ان کی بیوہ مائو ں کی با زآباد کاری کے لئے کوئی بھی قدم نہیں اٹھا یا گیا ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ کئی بار سرکاری نمائندوں نے یہا ں آکر ان بیوہ خواتین اور ان کے یتیم بچو ں کو یہ تسلی دی کہ ان کی باز آباد کاری کے لئے اقدامات کئے جائیں گے لیکن تا حال ان بیوہ خواتین یا ان کے یتیم بچو ں کی باز آ بادکاری کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا گیا ۔عوامی حلقوں کا ماننا ہے کہ ان یتیم بچو ں میں اب متعدد لڑکیا ں جوانی کی دہلیز پر پہنچ چکی ہیں لیکن ان کی شادی کرنے کے لئے ان کے پاس کچھ نہیں ہے، نتیجے کے طور یہ جو اں یتیم لڑکیا ں بے یا ر و مدد گار ہیں ۔مقامی لوگو ں نے سرکار سے مطالبہ کیا کہ وہ درد پورہ علاقہ کی طرف توجہ مبذول کریں اور یتیمو ں اور بیوائو ں کی باز آ باد کاری کے لئے ضروری اقدامات کئے جائیں ۔