ابو بشر سے لے کر آج تک اگر انسانی تاریخ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو زمین کے ہر خطے میں تعلیم و تدریس اور علم و ادب کے روشن تارے نمودار ہوئے ہیں، اُن میں ایسے بھی روشن ستارے ہیں جو سورج کی طرح رہتی دنیا تک چمکتے رہیں گے اور اپنی کرنوں اور کارناموں سے دنیا کو آگے لے جانے میں کارگر ثابت ہوئے اور ہوتے رہیں گے۔دنیا میں تمام علوم اور عالموں نے یہ بات بھی تسلیم کی ہے کہ دنیا میں سماجی ،اقتصادی ،سیاسی ،مذہبی ،تہذیبی ،سائنسی ،انسانی ، ذہنی ترقی اور خوشحالی کے لئے تعلیم و تربیت اتنی اہمیت رکھتی ہے جتنی انسانی زندگی کے لئے آکسیجن کی ہے۔تعلیم کی برکت سے ہی اخلاق ساز ،دیندار،باضمیر اور ایک دوسرے کا دُکھ درد بانٹنے والے انسان بن جاتے ہیںاور تعلیم کی بدولت ہی قوم اور معاشرے کو اچھے رہنما ،اچھے طبیب ،اچھے اُستاد،اچھے کاریگر، اچھے سائنسدان اور اچھے سیاست دان ملتے ہیں۔
حصول ِ تعلیم کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے اور یہی رہے گا کہ دنیا میں اچھے لوگوں کا کارواں آتا رہے اور بہتر تعلیم کے نور سے منور ہوکر بُلند پایہ اُستاد ،ڈاکٹر ،انجینئر ،فلاسفر ،شاعر،ادیب ،محقق ،سیاست دان اور رہنما کی شکل میںاقوام اور معاشروں کو ترقی اور خوشحالی کی راہوں پر گامزن کرسکیں۔ہمارے یہاں بھی یہ سلسلہ کسی حد تک اُمیدوں اور ضرورتوں کے مطابق چل رہا ہے،تاہم بہتر اور سود مند نتائج کے حصول کے لئے تعلیمی نظام کو بیچ بیچ میں جانچ لینا ،پرَکھنا اور اَپ ڈیٹ کرنا،نیزتعلیمی نظام میں خامیوں اور کمزوریوں کی نشاندہی کرکے بر وقت علاج کرنا بے حد ضروری ہے۔موجودہ تعلیمی نظام پر اگر طائرانہ نظر دوڑائی جائے تو یہ بات بلا جھجک کہی جاسکتی ہے کہ آج کے اس جدید کمپیوٹرائزڈ ور میں بھی تعلیم سے انسان کو جو توقعات اور اُمیدیں وابستہ ہیں وہ پوری نہیں ہوپاتیں۔اچھے لیڈر ،اچھے اُستاد ،اچھے سیاست دان ،اچھے ڈاکٹر ،اچھے انجینئر ،اچھے فلاسفر ،بہترمُبلغ ،شاعر ،ادیب بہت کم نظر آتے ہیں جو اتنی بڑی دنیا میں اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے لئے کافی تو نہیں البتہ قلیل تعداد میں موجود ان لوگوں میں اکثر شخصیات محض شہرت اور مادیت کے ہی پیروکار بن جاتے ہیں اور پھر وہ اپنے فرائض سے انصاف نہیں کرپاتے، جس کے باعث عام انسانوںکے دِلوں میں ایسے لوگوں کے لئے نہ کوئی جگہ رہتی ہے، نہ ہمدردی بلکہ نفرت ہی پیدا ہوجاتی ہے ۔
موجودہ تعلیمی نظام اور سماجی زندگی کے دونوں پہلوؤں کو دیکھ لیں تویہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سب کچھ آسانی سے میسر ہونے اور سب کچھ ٹھیک چلنے اور تعلیم کی بہتات ہونے کے باوجود اچھے لوگوں کی تعداد دن بہ دن کم ہوتی جارہی ہے ۔کیا تعلیم اورنظامِ تعلیم میں خامیاں ہیں،کیا اُستاد ،شاگرد اور والدین اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں؟کیا اس میں فطرت کا کہیں دخل تو نہیں؟کیا اس میں عالمی اقتصادی بحران ،سیاسی بحران ،ذہنی تنائو یا مادی کشمکش کا اُلٹا اثر تو نہیں؟الغرض کارن جو بھی ہو، اس صورت حال ذمہ دار تو انسان ہی ہے اور خمیازہ بھی قوم یاسماج میں رہنے والے انسان ہی بھگت رہے ہیں ۔
اگر تعلیمی نظام کو ہی لے لیں تو اس کے اہم ستونوں میں والدین ،اُستاد ،طلاب اور نصاب شامل ہیں اوریہی چاروں سماج کی ترقی ،خوشحالی،،انسان اور انسانیت کی عظمت ،سائنسی اور ٹیکنالوجی کی رفتار ،تعلیم اورا قدار کی ترقی و وسعت اور بہتری کے ذمہ دار ہیں۔اگر یہ سب مل کر تعلیمی نظام کو بہتر اور بامقصد بنانا چاہیں توتمام اقوام کا فلاح و بھَلا ہوگا اور پوری دنیائے انسانیت میں انقلاب آئے گا ۔امن ،خوشحالی ،ترقی،حق پرستی ،انصاف اور انسانیت کا دور دورہ ہوگا ۔ہر انسان خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوگا اور پھرکوئی بھی عارضی طوفان اس عظیم تعلیمی عمارت کا کچھ بگاڑ نہیں پائے گا ۔ہاں !ذمہ داریوں میں اُستاد کا نام سر فہرست ہے۔کیونکہ انسان کی ہرنئی پودکے لئے یہ نام اُستاد ہونے کے ساتھ ساتھ رہبر ،رہنما اور والد کا رول بھی نبھا تا ہے ۔شائد آپ سب اس بات سے متفق ہوں گے کہ بچے اپنے والدین کی باتوںکو ٹال دیتے ہیںلیکن اپنے اساتذہ کی بات کو پتھر کی لکیر مانتے ہیں۔لہٰذا اُستاد کے کندھوں پر تین گنا بوجھ ہوتا ہے ۔اس لئے اُستاد کو اپنے اعلیٰ اقدار،پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کو برقرار رکھنے کے لئے بھر پور مطالعہ کے ساتھ ساتھ عالمی اور مقامی حالات و واقعات سے باخبر رہتے ہوئے موجودہ ٹیکنالوجی سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی ہر وقت ضرورت ہے۔ اُستاد کے لئے آسان زبان کا استعمال کرکے آسان اور دستیاب چیزوں اور سامنے والے مواد اور مثالوں سے طلاب کو سمجھانے کی صلاحیت ہونی چاہئے ۔اگر ضرورت پڑے تو بات کو پوری طرح ذہن میں اُتارنے کے لئے مادری زبان کا سہارا بھی لیناچاہئے ۔اُستاد کے لئے کلاس روم کا ماحول ،موقع محل ،مضمون اور موضوع کے عین مطابق بنانا لازمی بن جاتا ہے اور بچوں کی دلچسپیوں میں نکھار اور نیا پَن لانے کا ہُنر ہونا ضروری ہے۔بچوں کی نفسیات ،ذہنی صلاحیتوںو دل چسپیوں کو زیر نظر رکھنا اہمیت کا حامل ہے۔ایک اُستاد کے لئے اپنے زیر تعلیم بچوں کا نبض شناس ہونا بھی ضروری ہے ،کبھی کبھی ایک طالب کی عدمِ توجہی ،نادانی ،گُستاخی یا شیطانی حرکت پورے کلاس کے کام اور وقت کو ضائع کرتی ہے ،اس لئے اُستاد کو اُستاد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ماہر نفسیات ،ماہر تعلیم ،نبض شناس ،اداکار ،مزاحیہ نگار ،ہنس مُکھ اور رنگین شخصیت کی خصوصیات کا مالک ہونا چاہئے۔
بہت سارے اساتذہ ایسے ہوتے ہیں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ،تربیت یافتہ ،قابل،محنتی ،ایمان دار ،پُر خلوص،ذہین اور ہمدرد تو ہوتے ہیں لیکن وہ اپنے مقدس پیشے سے مطمئن نہیں ہوتے اور اکثر بچوں اوراُن کے والدین کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ایسے اساتذہ کوچاہئے کہ وہ صرف اپنے کام اور کلاس روم میں صَرف کرنے والے وقت کا محاسبہ کریں، انہیں مثبت نتائج ملیں گے اور اُمیدیں بھی بھر آئیں گی۔اگر آج سے پچاس سال پہلے اساتذہ کو دیکھیں جو کم تعلیم یافتہ تھے ،تربیت اور پیشہ ورانہ تعلیم سے بھی پوری طرح باوصف نہیں تھے مگر پھر بھی وہ اپنے پیشے میں کامیاب ثابت ہوتے تھے ۔اُن کے پاس وسائل ،رسائل اور سہولیات نہ ہونے کے برابر تھیں مگر پھر بھی کامیابی اُن کے قدم چومتی تھی۔وہ آمدنی سے زیادہ فرض شناسی کی طرف دھیا ن دیتے تھے ،وہ اسکول سے باہر بھی سماج ،گھر اور بچوں سے جُڑے رہتے تھے۔وہ روبوٹ کی طرح کام نہیں کرتے تھے بلکہ جو کچھ دماغ ،ہاتھ اور زبان سے کرتے تھے اُس کا وہ خود محاسبہ کرتے تھے اور نتائج پر بھی نظر رکھتے تھے،اس لئے والدین اور بچے بھی اُن کی شکایت نہیں کرتے تھے۔
آج کے اس کمپوٹر دور میں والدین خون پسینہ ایک کرکے اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا چاہتے ہیں مگر سماج میں والدین سے ایک بڑی بھول یہ بھی ہوجاتی ہے کہ اُن کے بچے تعلیم حاصل کرکے اُن کے لئے نوٹ چھاپنے کی مشین بن جائیں۔وہ یہ کبھی نہیں چاہتے ہیں کہ اُن کے بچے اعلیٰ اقدار حاصل کرکے انسانیت کے اعلیٰ مقام تک پہنچ جائیں ۔ظاہر ہے کہ بچے نابالغ اور ذہنی طور پر کچے ہی تو ہوتے ہیں اور وہ والدین کے خیالات اور چاہتوں سے ناواقف ہوتے ہیں۔انہیں یہ پتہ نہیں ہوتا کہ والدین اُنہیں کس بھٹی میں ایندھن کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دونوں طرف سے ناخوشی ،افسوس،نااُمیدی اور بے اطمینانی کا احساس پیدا ہوتا ہے اور پھر ناکامی کا سبب بن جاتا ہے۔اکثر والدین بچوں کو حصول تعلیم کے لئے اپنی نظروں سے دور بھیجتے ہیں، جہاں پر بچے والدین کی شفقت کے ساتھ ساتھ اپنے کلچر ،تہذیب وتمدن ،زبان ،رہن سہن ،کھانا پینا ،اٹھنا بیٹھنا ،چال چلن اور اقدار سب کچھ کو خیر باد کہتے ہیں ،جس کے براہ راست اثرات اُن کے والدین اور رشتہ داروں پر بھی پڑتے ہیں اور بعد میںاُنہیں لینے کے دینے پڑتے ہیں۔سچ تو یہ بھی ہے کہ زیر تعلیم بچوں کے والدین ہی نہیںبلکہ پوری قوم مادیت پرستی کے نہ تھمنے والے سیلاب میں ڈوب چکی ہے ۔والدین جن میں سرکاری کارکن ،تاجر اور پیشہ ور مزدور بھی شامل ہیں، وقت کے ہر لمحہ کو تقسیم کرتے ہیں اور اپنے اور اپنے بال بچوں کے لئے بہت کم وقت نکالتے ہیں۔جبکہ کم وقت میں زیادہ آمدنی کے خواب ہر کوئی دیکھتا ہے اورنتیجہ یہ نکلتا ہے کہ فرائض کے ساتھ کھلواڑ ،کام کے ساتھ اور معیار کے ساتھ نا انصافی ،اپنی فیملی ،سماج اور خود کے ساتھ بھی ظلم ہوجاتاہے۔ہمارے یہاں سماج میں ایک عا م تاثر یہ پنپ رہا ہے کہ جتنے زیادہ شہرت یافتہ اسکولوں میں بچوں کو داخلہ کروایا جائے ، اُتنا ہی ہم بے فکراور ہمارے بچے محفوظ رہ جائیں گے ۔ فکر و خیال کی ضرورت نہیں رہے گی اوربچوں کی تعلیم بھی اچھی ہوگی۔تمام والدین اس خام خیالی پر دوبارہ غور کریں اور گہرائی تک جانے کی کوشش کریں۔ہمارے یہاں سماج میں ایک اور ُرجحان پنپ رہا ہے کہ پرائیویٹ تعلیم ،پرائیویٹ علاج وغیرہ زیادہ اچھا رہتاہے، اس بات پر بھی سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔انسانی فطرت ہے کہ ڈاکٹر یا اُستاد جب پرائیویٹ اداروں میں کام کرتا ہے تو بیماروں اور بچوں کی زیادہ تعداد دیکھ کر بہت خوش ہوتا ہے مگر جب یہی تعداد سرکاری ادارے میں دیکھتا ہے تو ناراض ہوتا ہے ،تھکاوٹ کا بہانہ بناتا ہے۔یہاں بھی والدین تساہل پسندی سے کام لیتے ہیں۔ہمارے اساتذہ صاحبان خلوص ِ دل ،خلوصِ نیت ،فرائض ِ اول اورغور و فکر سے کام کریں تو قوم کو روشن خیال ،روشن ضمیر ،انسانیت ساز اور درد مند پڑھے لکھے لوگ ملیں گے ۔ہم سب سماج کا ہی ایک حصہ ہیںاور اسی سماج میں رہ کرہمیشہ اپنے ہی سماج کی تنقید توکرتے رہتے ہیں مگر کبھی بھی اپنی طرف انگلی اٹھاتے کے بجائے دوسروں کی طرف انگلی اٹھاتے رہتے ہیں اوراپنے آپ کی وکالت کرتے ہوئے خود کو ہر چیز اور ہر معاملے میں ہر سطح پر آزاد سمجھتے ہیں ۔میں یہاں یہ بات بے خوف ہوکر کہوں گا کہ ایسی کئی خامیاں ہماری تعلیم،نظام ِ تعلیم اور نصاب میں ضرور ہیں جو روپ بدل کر سماج میں سَر اٹھاتی رہتی ہیں۔
کتنا اچھا اور کار گر کام ہوتا اگر والدین ،استاد ،سرکاری مشینری اور دیگر ذمہ دار ان اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھتے ، اپنے آپ کو ٹٹولتے اور سنجیدگی کے ساتھ سوچ بچار کرکے مسائل کو حل کرنے کے لئے بہتر فیصلے لیتے تو مستقبل میں ضرور نئی روشنی کی کرن نظر آتی ۔اگر ایسا کرنے کی سعی نہ کی گئی تو ایسا ممکن ہے کہ نہ صرف ہماری مصیبت کی زنجیریں مزیدسخت اور مضبوط ہونگی بلکہ ہم اپنی تاریخ تک کو بھی یاد نہ رکھ پائیں گے ۔
بدلتی دنیا اور بدلتی ٹیکنالوجی میں حصول ِ تعلیم ،آکسیجن کے بعد دوسری اہم ضرورت ہے اور تعلیم یافتہ قوم کو اجتماعی طور پر خدا کی طرف تیسری آنکھ ملتی ہے ۔اس تیسری آنکھ سے وہ سب کچھ دیکھا جاسکتا ہے جو ناخواندہ قوم نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی محسوس کرتے ہیں۔یہاں پھر فریقین کے درمیان تال میل ،اتحاد ،غور و فکر ،نظم و ضبط ہونا بے حد ضروری ہے۔اساتذہ اور انتظامیہ کو بنیادی اور ثانوی سطح کی تعلیم پر از سر نو سوچنا ہوگا اور ایسا لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا کہ اعلیٰ تعلیم کے درجے تک پہنچنے سے پہلے اُن تمام خامیوں ،دشواریوں اور کمزوریوں کا خاتمہ کرنا ہوگا جو کہ بعد میں بحرانی کیفیت اختیار کرتی ہیں ۔
اساتذہ کو اعلیٰ تعلیمی تربیت ،پیشہ وارانہ ذمہ داریاں ،انفرادی صلاحیتیں ایک ساتھ استعمال کرنی ہیں ،جس کے لئے جواب دہی اور محاسبہ ضروری ہے ،نیز اساتذہ کرام اُستاد ہونے کے ساتھ ساتھ مطالعہ کا شوقین بنے رہے۔یہ وہ واحد پیشہ ہے جو لگاتار تلاش ِ علِم کے بغیر نامکمل ہے اور معمار بننا بھی ناممکن ہے ۔میری یہ ذاتی رائے ہے اور تمنا بھی کہ محکمہ تعلیم ایک آزادانہ ادارہ بن کر اُبھرے ،اس میں نااہل سیاست دانوں (جو خود اپنے پیشے سے بھی لاعلم ہوتے ہیں) کا اثر و رسوخ نہ ہو۔محکمہ کے افسران خود اعلیٰ تعلیم یافتہ ،ماہر ِ تعلیم ،تحقیق دان ،تخلیق کار ،تنقید نگار اور فلاسفر ہوں ۔اقرباء پروری ،رشوت خوری ،کنبہ پروری کو جڑ سے اُکھاڑ دیا جائے اورایسی بے جا مداخلت کے لئے الگ سے قانون بنایا جائے۔
پہلے سماج میں خاندان مِل جُل کر رہتے ہیں، افراد خانہ کی ایک بڑی تعداد ہوتی تھی اور گھر ہی پہلے ایک دانشگاہ (مدرسہ) بنتا تھا ۔اکیلا پن ،تنہائی جیسے مسائل نہیں ہوتے تھے ۔بزرگوں سے بلواسطہ یا بلا واسطہ کچھ نہ کچھ سیکھنے کو ملتا تھا اور ایک طرح سیابتدائی تعلیم گھر سے ہی شروع ہوتی تھی اور بچے بھی ذہنی طور اسکول کے لئے تیار ہوجاتے تھے۔آج کے دور میں والدین گھروندوں میں ہی کشمکش کے شکار ہوجاتے ہیں اور بچوں کی پرورش ،تعلیم ،نگہداشت اور اخلاقی اور تہذیبی ذمہ داریوں کا کام بھی نوکروں اور غیروں کو ہی سونپ دیتے ہیں،نتیجے یہ سامنے آتے ہیں کہ بچوں اور والدین کے قدرتی رشتے بھی کمزور اور زنگ آلود ہوتے جارہے ہیں۔دوسری اور نئی ٹیکنالوجی اور سائنسی ایجادات نے انسان اور انسانی ذہنوں کو غلام بنا کے رکھا ہے ،اب اچھی سوچ ،اچھے خیالات کم اور غصہ ،خاموشی اور فرسودہ خیالات زیادہ آتے ہیں۔طریقہ درس و تدریس کے بعد ایک اور اہم ستون یہ ہے کہ کیا پڑھا یا جائے ،کیسے پڑھائیںاورکیوں پڑھائیں؟ ان سوالات کا جواب اُستاد کو دینا ہے مگر کیا پڑھانا ہے، نصاب میں کیا کچھ شامل ہونا چاہئے اس میں والدین اور والدین مل کر کام کرسکتے ہیں۔نئے نظام تعلیم اور تعلیمی پالیسی ۲۱۔۲۰۲۰ء میں اس بات کی گنجائش ہے کہ ہم اخلاقی تعلیم ،ادبی تعلیم ،سماجی تعلیم اعلیٰ اقدار کی تعلیم بھی بغیر کسی رُکاوٹ اور انکار کے دے سکتے ہیںمگر یہاں بھی والدین اور اساتذہ کی عدم دلچسپی اور تساہل پسندی سامنے آتی ہے ،جس کا کسی نہ کسی طرح اولین اوقات میں توڑ کیا جانا چاہئے اور اس کی اشد ضرورت ہے ۔
آخر میں میری یہی مودِبانہ گذارش ہوگی کہ والدین اور اساتذہ پڑھنے ،پڑھانے اور پڑھائی کے علاوہ بچوں کو قریب سے پڑھیں ،اُنہیںجان لیں ،جانچ لیںاوراُن کے تاثرات معلوم کر لیں ۔بچوں کی سُنیںاور اُن میں سُننے اور سُنانے کی عادت ڈالیں،بچوں کی کمزوریوں ،عادتوں کو جان لیںاور اُنہیں تنہائی پسندی سے روک لیں۔بچوں کو کبھی احساس کمتری کا شکار نہ ہونے دیں ،والدین اور اساتذہ بھی اپنی برتری کا غیر شعوری یا شعوری طور پر احساس نہ دلائیں ۔بچوں کو صرف کتابوں پر زیادہ وقت گزارنے کا دبائو نہ ڈالیں ،کھیل کود اور دوستوں سے ملنے جُلنے کا موقع بھی فراہم کریں ،اتنا جان لیں کہ دوست کون اور کیسے ہیں؟ بچوں میں دھیان اور خاموشی سے سُننے ،تنقید کرنے،سوال کرنے کی عادت ڈالیں ۔بچوں میں لیڈر شپ کے اسرار ورموز پیدا کریں۔نفرت ،منفی رول ،بے عزتی سے مکمل طور پر پرہیز کریں ۔کسی بھی قوم اور سماج میں استاد اور قائد (لیڈر)کو زیادہ ذمہ دار مانا جاتا ہے،اگر اُستاد اور لیڈر سے کہیں غلطی ہوجائے تو اس کے نتائج ایک کو نہیں بلکہ پوری قوم کو بھگتنے پڑتے ہیں اور کبھی یہی غلطی قوم کی تاریخ کو داغدار بنا دیتی ہے۔
’’ایک شاگرد نے اُستاد سے پوچھا کہ آپ ہر وقت میرے سوال کا جواب دیتے ہیں اور تیار بھی رہتے ہیں۔۔۔۔اُستاد نے بولا کہ میں یہ اس لئے کرتا ہوں کہ میں خود ایک اچھا اُستاد بنوں،رہبر بنوںاور خامیوں کو پرکھ لوں۔لہٰذا بچے کو ٹالنا ،دبانا یا عدم دلچسپی دکھانا پورے قوم کی بربادی ۔۔۔۔ایسے ہی اساتذہ آئیڈل اور ماڈل بنتے ہیں۔‘‘ ؎
باد نسیم مدھم مدھم ہر سُو چمن میں چلے
مہک بھی بکھر جاتی ہے اور پھول ہی کِھلے
اگر سچ کا کوئی دوسرا نام ہے تو عرفِ عام میں اس کا دوسرا نام کھٹا میٹھا ہے ،مگر بیچ کا اصل اور دوسرا کھرا نام زہر ہے۔نہ بولنے والے کو کہتے وقت کڑوا لگتا ہے اور نہ سُننے والے کو مگر مجبوراً اُف کئے بغیر پی لینا پڑتا ہے ۔
رابطہ۔ پرنسپل ہائر سکینڈر ی سکول پنگلنہ پلوامہ کشمیر
فون نمبر۔7051531466